عمل اور نیّت

مکمل کتاب : قلندر شعور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=9192

برائی یا بھلائی کا جہاں تک تعلّق ہے، کوئی عمَل دنیا میں بُرا ہے نہ اچھا ہے۔ دراصل کسی عمَل میں معانی پہنانا، اچھائی یا برائی ہے۔ معانی پہنانے سے مراد نیت ہے۔ عمَل کرنے سے پہلے انسان کی نیت میں جو کچھ ہوتا ہے وہی خیر یا شر ہے۔
آگ کا کام جلا نا ہے ایک آدمی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے آگ کو کھانا پکانے میں استعمال کرتا ہے تو یہ عمَل خیر ہے۔ وہی آدمی اس آگ سے لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالتا ہے تو یہ برائی ہے۔
جن قوموں سے ہم مرعوب ہیں اور جن قوموں کے ہم دستِ نگر ہیں، اُن کی طرزِ فکر کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سورج کی طرح رَوشن ہے کہ سائنس کی ساری ترقی کا زور اس بات پر ہے کہ ایک قوم اقتدار حاصِل کرے اور ساری نَوعِ انسانی اس کی غلام بن جائے…. یا ایجادات سے اتنے ما لی فوائد حاصِل کئے جائیں کہ زمین پر ایک مخصوص قوم یا مخصوص ملک مال دار ہو جائے اور نَوعِ انسانی غریب اور مَفلوکُ الحال بن جائے…. کیونکہ اس ترقی میں اللہ کے ذہن کے مطابق نَوعِ انسانی کی فلاح مُضمِر نہیں ہے اس لئے یہ ساری ترقی نَوعِ انسانی کیلئے اور خود اُن قوموں کیلئے جنہوں نے جدّوجہد اور کوشش کے بعد نئی نئی ایجادات کی ہیں، مصیبت اور پریشانی بن گئی ہے۔ مصیبت اور یہ پریشانی ایک روز اَدبار بن کر زمین کو جہنم بنا دے گی۔
جب تک آدمی کے یقین میں یہ بات رہتی ہے کہ چیزوں کا مَوجود ہونا یا چیزوں کا عدم میں چلے جانا اللہ کی طرف سے ہے، اس وقت تک ذہن کی مَرکزیت قائم رہتی ہے اور جب یہ یقین غیر مستحکم ہو کر ٹُوٹ جاتا ہے تو آدمی ایسے عقیدے اور ایسے وسوسوں میں گرفتار ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ ذہنی اِنتشار ہوتا ہے، پریشانی ہوتی ہے، غم اور خوف ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ بات با لکل سامنے کی ہے کہ انسان کا ہر عمَل، ہر فعل، ہر حرکت کسی ایسی ہستی کے تابع ہے جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ ماں کے پیٹ میں بچے کا قیام، نَو مہینے تک نشونما کے لیے غذا کی فراہمی، پیدا ہونے سے پہلے ماں کے سینے میں دودھ، پیدائش کے بعد دودھ کی فرا ہمی، دودھ کی غذائیت سے ایک اعتدال اور توازن کے ساتھ بچے کا بڑھنا، چھوٹے سے بچے کا بڑھ کر سات فٹ تک ہو جانا، جوانی کے تقاضے، ان تقاضوں کی تکمیل میں وسائل کی تکمیل، وسائل فراہم ہونے سے پہلے وسائل کی مَوجودگی۔ اگر اللہ زمین کو منع کر دے کہ وہ کھیتیاں نہ اُگائے تو حصولِ رزق مَفقود ہو جائے گا۔ شادی کے بعدوالدین کے دل میں یہ تقاضا کہ ہمارا کوئی نام لینے والا ہو، اس درجے میں اِنتہائی درجہ شدّت اور اس کے نتیجے میں ماں باپ بننا، ماں باپ کے دل میں اولاد کی محبّت پیدا ہونا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر اللہ والدین کے دل میں محبّت نہ ڈالے تو اولاد کی پرورش کیسے ہو سکتی ہے؟ اولاد کی پرورش کیلئے ماں باپ کے دل میں اولاد کی محبّت صرف آدمیوں کیلئے مخصوص نہیں بلکہ یہ جذبہ اللہ کی ہر مخلوق میں مُشترَک ہے اور اسی محبّت کے سہارے ماں باپ اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ نگہداشت کرتے ہیں اور ان کیلئے وسائل فراہم کرتے ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 63 تا 65

قلندر شعور کے مضامین :

ِ 0.01 - رباعی  ِ 0.02 - بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم  ِ 1 - معرفت کی مشعل  ِ 2 - قلندر کا مقام  ِ 3 - جسم اور روح  ِ 4 - جیتی جاگتی تصویر  ِ 5 - ذات کا مطالعہ  ِ 6 - تخلیقی سانچے  ِ 7 - جنسی کشش کا قانون  ِ 8 - ظاہر اور باطن  ِ 9 - نَوعی اِشتراک  ِ 10 - زمین دوز چوہے  ِ 11 - طاقت ور حِسّیات  ِ 12 - سُراغ رساں کتے  ِ 13 - اَنڈوں کی تقسیم  ِ 14 - بجلی کی دریافت سے پہلے  ِ 15 - بارش کی آواز  ِ 16 - منافق لومڑی  ِ 17 - کیلے کے باغات  ِ 18 - ایک ترکیب  ِ 19 - شیر کی عقیدت  ِ 20 - اَنا کی لہریں  ِ 21 - خاموش گفتگو  ِ 22 - ایک لا شعور  ِ 23 - مثالی معاشرہ  ِ 24 - شہد کیسے بنتا ہے؟  ِ 25 - فہم و فراست  ِ 26 - عقل مند چیونٹی  ِ 27 - فرماں رَوا چیونٹی  ِ 28 - شہد بھری چیونٹیاں  ِ 29 - باغبان چیونٹیاں  ِ 30 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31 - انجینئر چیونٹیاں  ِ 32 - درزی چیونٹیاں  ِ 33 - سائنس دان چیونٹیاں  ِ 34 - ٹائم اسپیس سے آزاد چیونٹی  ِ 35 - قاصد پرندہ  ِ 36 - لہروں پر سفر  ِ 37 - ایجادات کا قانون  ِ 38 - اللہ کی سنّت  ِ 39 - لازمانیت (Timelessness)  ِ 40 - جِبِلّی اور فِطری تقاضے  ِ 41 - إستغناء  ِ 42 - کائناتی فلم  ِ 43 - ظرف اور مقدّر  ِ 44 - سات چور  ِ 45 - ٹوکری میں حلوہ  ِ 46 - اسباق کی دستاویز  ِ 47 - قومی اور اِنفرادی زندگی  ِ 48 - انبیاء کی طرزِ فکر  ِ 49 - اللہ کی عادت  ِ 50 - عمل اور نیّت  ِ 51 - زمین کے اندر بیج کی نشوونما  ِ 52 - اللہ کی ذَیلی تخلیق  ِ 53 - صحیح تعریف  ِ 54 - کائنات کی رکنیت  ِ 55 - جنّت دوزخ  ِ 56 - توکّل اور بھروسہ  ِ 57 - قلندر شعور اسکول  ِ 58 - سونا کھاؤ  ِ 59 - آٹومیٹک مشین  ِ 60 - انسان، وقت اور کھلونا  ِ 61 - آسمان سے نوٹ گرا  ِ 62 - ساٹھ روپے  ِ 63 - گاؤں میں مرغ پلاؤ  ِ 64 - مچھلی مل جائے گی؟  ِ 65 - پرندوں کا رزق  ِ 66 - درخت اور گھاس  ِ 67 - مزدور برادری  ِ 68 - آدم و حوّا کی تخلیق  ِ 69 - لہروں کا نظام  ِ 70 - رنگوں کی دنیا  ِ 71 - روشنیوں کے چھ قمقمے  ِ 72 - ترکِ دنیا کیا ہے  ِ 73 - زمان و مکان  ِ 74 - خواب اور مراقبہ  ِ 75 - مراقبہ کی قسمیں  ِ 76 - زندگی ایک اطلاع ہے  ِ 77 - مراقبہ کی چار کلاسیں  ِ 78 - پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی  ِ 79 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 80 - لوحِ محفوظ  ِ 81 - اللہ کی تجلّی  ِ 82 - کائنات پر حکمرانی  ِ 83 - روشنی کی چار نہریں  ِ 84 - نیابت اور خلافت  ِ 85 - آدم اور ملائکہ  ِ 86 - دوربین آنکھ  ِ 87 - گوشت پوست کا وجود  ِ 88 - اللہ میاں کی جیل  ِ 89 - روحانی بغدادی قاعدہ  ِ 90 - روح اور کمپیوٹر  ِ 91 - سائنس اور خرقِ عادات  ِ 92 - قانون  ِ 93 - معاشرہ اور عقیدہ  ِ 94 - دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ  ِ 95 - مذہب  ِ 96 - سائنسی نظریہ  ِ 97 - تخلیقی فارمولے  ِ 98 - رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 99 - آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ  ِ 100 - وقت کی نفی  ِ 101 - آکسیجن اور جسمانی نظام  ِ 102 - دو سَو سال کی نیند  ِ 103 - سانس کے دو رُخ  ِ 104 - توانائی اور روح  ِ 105 - زندگی میں سانس کا عمل دخل  ِ 106 - رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے  ِ 107 - روشنیوں کے گودام  ِ 108 - رنگین شعاعیں  ِ 109 - کرنوں میں حلقے  ِ 110 - برقی رَو کیمرہ  ِ 111 - اَعصابی نظام  ِ 112 - مراقبہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)