عفو درگزر

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=418

ہجرت کے گیارہویں سال ربیع الاول کے مہینے میں سیّدنا علیہ الصلوٰۃ واالسلام علیل ہوگئے۔ ایک روز مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ اۤنے والے مسلمانوں کو مخاطب کیا:

” اے مہاجرو !جو  مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ اۤئے ہو، میں تمہیں نصحیت کرتا ہوں کہ انصار سے جو مدینہ کے اصل باشندے ہیں انتہائی نیک برتاؤ کرو کیونکہ مجھے انصار پر بہت بھروسہ ہے۔جب ہم ہجرت کرکے مدینہ اۤئے تھے تو ان لوگوں نے ہمارے لئے بڑی قربانیاں دیں اور ازحد فداکاری کا مظاہرہ کیا۔لہذا اگر انصار سے کوئی خطا ہوجائے تو درگزر سے کام لینا کیونکہ انصارمیرے لئے میرے جسم کی پوشاک کے مانند ہیں ۔ انہوں نے اۤج تک اپنے فرائض بخوبی انجام دیئے ہیں اور اب ان پر کوئی فرض باقی نہیں رہتا مگر تم لوگوں پر ان کا بہت حق بنتا ہے۔

اے لوگو! جب میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں اور تم مجھے سپرد خاک کردو تو میری قبر کے سامنے سجدہ نہ کرنا۔رکوع و سجود کے لائق صرف خدائے وحدہ کی ذات ہے۔”

جب سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس دنیا کے مال و متاع میں ایک خچر (جو حبشہ کے بادشاہ نے تحفتہ ً پیش کیا تھا) اور چند تلواروں کے سوا کچھ نہ تھا۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام کو وہیں سپردخاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا جہاں اۤپؐ نے وفات پائی تھی۔ جب مسجدمیں جمع عام مسلمانوں کو یہ علم ہوا کہ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام رحلت فرما چکے ہیں تو ان میں کہرام مچ گیا اور سب لوگ بے اختیار ہوکر رونے لگے۔ حضرت عمرؓ بن خطاب مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو روتا دیکھ کر گرجدار اۤواز میں بولے، ”کیوں روتے ہو یہ شیون زاری کیا ہے؟” پھر انہوں نے میان سے اپنی تلوار نکال لی اور بہت رعب دار اۤواز میں بولے! ” جو کوئی یہ کہے گا کہ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام فوت ہوچکے ہیں تو میں اس کی گردن اڑادوں گا۔ ہمارے رسول ؐ فوت نہیں ہوئے بلکہ اللّٰہ کے پاس گئے ہیں اور جلد ہی واپس اۤجائیں گے اور ہم انہیں دوبارہ دیکھ سکیں گے۔ ابھی یہ مکالمہ جاری تھا کہ حضرت ابوبکرؓ مسجد میں تشریف لائے اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کرکے فرمایا،” یا عمرؓ ! خاموش رہو اور اپنی تلوار میان میں رکھ لو”۔ پھر انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرکے کہا۔ ” اے لوگو! تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ ؐ کی عبادت کرتاتھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے اور جوشخص تم میں سے اللہ کی پرستش کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔ پھر سورۃ اۤل عمران کی اۤیت تلاوت فرمائی۔

ترجمہ :

” اور محمدؐ تو ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرماجائیں یا شہید ہوجائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر ادا کرنے والوں کو اجر دے گا۔”

( اۤل عمران ۔۱۴۴ )

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 177 تا 179

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)