سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب

مکمل کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=25419

ربیع الاوّل کے مبارک مہینہ میں بمقام ایوانِ اقبال لاہور میں مراقبہ ہال لاہور کے زیرِ اہتمام حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ پر مورخہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ء کو ایک شاندار اجتماعی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ سیرت طیبہ کے اس پروگرام میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز کے پروفیسر صاحبان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ تقریب میں مہمانانِ گرامی کی تعداد تقریباًہزار افراد سے زائد تھی جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ میاں مشتاق احمد عظیمی صاحب نگران مراقبہ ہال لاہور نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں مرشدِ کریم کی خدمات پر مختصر سا تعارف پیش کیا اور آنے والے تمام معزز مہمانانِ گرامی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانانِ گرامی حضرات کی تواضع کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ پروگرام مرشدِ کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

مرشدِ کریم نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:
یہ جو مجلس منعقد کی گئی ہے، اس کے پیچھے سلسلۂِ عظیمیہ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات، طرزِ فکر اور اخلاقِ حسنہ کا ذکر کیا جائے۔
انبیاء علیہم الصّلوٰۃ و السّلام نے:
• نوعِ انسانی کو توحید کا سبق دیا ہے….
• اچھائی و برائی کے تصور کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی ہدایت فرمائی….
• برے کام کرنے سے منع فرمایا….
یہ کام اللہ کے انبیاءؑ اور رسولوں کے ذریعہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک جاری رہا۔
اب نبوت ختم ہوچکی ہے۔ اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے امتیوں اور خاص طور پر اہلِ علم کی ہے۔ جتنے اولیاء اللہ ہیں۔ یہ سارے حضرات دراصل اللہ کے پیغام کو پہنچانے والے وہ کارندے ہیں جنہوں نے….
• رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے عشق کیا….
• ان کی تعلیمات سیکھیں….
• اُن پر عمل کیا…. اور
• رسول اللہ ﷺ کے مشن کو آگے بڑھایا

اس سلسلہ میں ایک بزرگ حضور قلندر بابا اولیاءؒ تشریف لائے جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا۔ جنہیں سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کا فیض نصیب ہوا۔ قلندر بابا اولیاء ؒ نے بھی وہی کام کیا جو چَودہ سو سال سے اس اُمّت کے اولیاء اللہ کر رہے ہیں۔ ایک رُوحانی سلسلہ…. سلسلۂِ عظیمیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ سلسلۂِ عظیمیہ اسی طرح کا ایک سلسلہ ہے جس طرح قادریہ سلسلہ ہے، نقشبندیہ سلسلہ، چشتیہ سلسلہ، سہروردیہ سلسلہ، فردوسیہ سلسلہ اور بہت سارے دوسرے سلاسل ہیں۔ یہ جتنے بھی سلاسل ہیں ان کا مقصد یہی ہے کہ اللہ کے پیغام اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو بار بار دہرایا جائے لوگوں کو یاد کرایا جائے کہ:
• جب آدمی اچھا کام کرتا ہے تو اللہ کے قریب تر ہو جاتا ہے…. اور
• جب کوئی برا کام کرتا ہے تو شیطان کے قریب ہو جاتا ہے….

آج اس نشست کا مقصد انبیاءِ کرامؑ کی تعلیمات ہیں۔ انبیاءِ کرامؑ کی تعلیمات وہی ہیں جو قرآن و حدیث ہے:
• اچھے کام کرو….
• برے کاموں سے بچو….
• نماز قائم کرو….
• روزے رکھو….
• حج کرو…..
• زکوٰۃ ادا کرو….
• کسی کا حق نہ مارو….
• کسی کی دل آزاری نہ کرو….
• غصہ نہ کرو….
• عفو و درگزر سے کام لو….
• لوگوں کو معاف کردو….
• لوگوں کی خدمت کرو….
• لوگوں کے کام آؤ….
• سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کے علاوہ کسی کو معبود نہ جانو….
• اللہ ہی پیدا کرتا ہے
• اللہ ہی رزق فراہم کرتا ہے…
• اللہ کے پاس ہی ہمیں لَوٹ کر جانا ہے….

انبیاء علیہم الصّلوٰۃ و السّلام کی زندگی کا یہ رخ بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ جب انبیاء علیہم الصّلوٰۃ والسّلام نے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا تو بہت سے لوگوں نے انہیں جھٹلایا، کسی نے ان کو مجنوں کہا، کسی نے پتھر مارے انتہا یہ کہ بعض پیغمبروں کو تو لوگوں نے قتل تک کر دیا۔
اللہ کے پیغمبروں کو، ان مقدس ہستیوں کو کس جرم میں قتل کردیا گیا؟․․․․․
اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ کو ایک مانو…. بتوں کو نہ پوجو۔ وہ کہتے تھے دولت کی پرستش نہ کرو…. اَنا کے خول سے باہر آجاؤ…. غرور نہ کرو…. تکبر نہ کرو…. کس بات پر غرور کرتے ہو؟ تمہارے پاس کچھ تو ہو، آج مرجاؤ گے کچھ بھی ساتھ نہیں لے جاؤ گے۔

ایک دلچسپ مشاہدہ یہ ہے کہ مُردہ اکڑتا ہے…. زندہ شخص میں لچک ہوتی ہے۔
اب آپ دیکھئے جب آدمی مرجاتا ہے اس کے ہاتھ کو آپ سیدھا نہیں کر سکتے۔ آدمی مر جاتا ہے اس کی گردن اکڑ جاتی ہے، اس کی گردن کو آپ اِدھر اُدھر نہیں گھما سکتے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر زندہ آدمی کے اَندر بھی اکڑ مَوجود ہو تو کیا اس کی حیثیت مُردہ جسم جیسی نہیں ہوگئی․․․․․!!!
جس آدمی کے اَندر اکڑ نہیں ہے، جس آدمی کے اَندر جُھکنا ہے…. عاجزی ہے…. انکساری ہے…. وہ زندہ ہے۔ مُردہ آدمی کبھی جھکتا نہیں، مُردہ آدمی کی جو اکڑی ہوئی گردن ہے اکڑی رہتی ہے وہ جھکتی نہیں ہے۔ تو جو آدمی اس دنیا میں غرور تکبر میں مبتلا ہے…. اَنا کے خول میں بند ہے…. غیر اسلامی روایات میں…. تکبر اور اکڑ لئے ہوئے ہے، آپ یقین کریں وہ آدمی مُردہ کی طرح ہے۔

• اللہ نے کِبر کو منع فرمایا ہے….
• اللہ نے کسی کی غیبت کو منع فرمایا ہے….
• اللہ نے حق تلفی کو منع فرمایا ہے…..
فرمایا کہ دو گناہ معاف نہیں․․․․ ایک شرک معاف نہیں اور ایک حق تلفی معاف نہیں۔ اس کا مطلب ہے یہاں جو بندہ کسی بندے کی حق تلفی کرتا ہے وہ شرک کے برابر گناہ کرتا ہے اور جو بندہ اپنے حقوق کی طرح دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے وہ اللہ کے نزدیک برگزیدہ بندہ ہے۔

الٰہی مشن کو پھیلانے میں انبیاء علیہم الصّلوٰۃ و السّلام نے جو کچھ کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ حضور پاک ﷺ کی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ کیا کچھ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں کیا، بائکاہٹ کردیا، شعب ابی طالب میں حضور پاک ﷺ اور آپ ﷺ کے خاندان کو قید کردیا۔ طائف میں اتنے پتھر مارے کہ رسول اللہ ﷺ کے پیر خون خون ہوگئے اور جوتے خون سے بھر گئے۔ مکہ سے ہجرت کر کے حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔

وہ لوگ جن کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو آپ ﷺ کے مشن کو لوگوں تک پھیلائیں گے، آگے بڑھائیں گے، ان کے اَندر یہ ساری خوبیاں ہونی چاہئیں:
• ان میں کِبر نہیں ہونا چاہئے….
• انہیں کسی کی حق تلفی نہیں کرنی ہے….
• جھوٹ نہیں بولنا….
• تکبر نہیں کرنا ہے….
• اللہ کو اپنا خالق و مالک، قادرِ مطلق سمجھنا ہے…. اور
• لوگوں کی خدمت کرکے خوش ہونا ہے….

کسی مشن کی ترویج کیلئے کئی باتیں ضروری ہیں، ایک تو یہی بات ضروری ہے کہ آپ قرآن و حدیث کی رہنمائی میں اپنی تقریر کے ذریعہ لوگوں تک اپنی بات پہنچائیں، تقریر کے بعد سوال و جواب کے ذریعے لوگوں کی تسلی، تشفی کریں، آج کل میڈیا کا دَور ہے…. میڈیا سے بھی کام لیا جائے۔
اب کوئی آدمی ریڈیو پر بات کہہ سکتا ہے، وہ ریڈیو پر کہہ دے۔ کوئی آدمی مضمون لکھ کر کوئی بات کہہ سکتا ہے، وہ مضمون لکھ دے۔ کوئی آدمی سلسلہ کا لٹریچر تقسیم کردے۔

اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ:
*** تحریر و تقریر میں ایسی کوئی بات کبھی نہیں کہنی چاہئے جس سے کسی کی دل آزاری ہو ***

آپ نے اپنے بزرگوں سے یقیناً سنا ہوگا اور آپ کے تجربہ میں بھی یہ بات ضرور ہوگی کہ بظاہر پانی کے قطرے کی کوئی وقعت ہے نہ اس میں کوئی وزن ہے۔ اس کی چوٹ بھی قابل ذکر نہیں ہوتی لیکن قطرہ مسلسل کسی ایک جگہ گرتا رہے تو اس سے پتھر میں سوراخ ہوجاتا ہے اور وہ سوراخ بڑا ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بعض جگہ اتنا بڑا بھی ہوجاتا ہے کہ اس میں سے آدمی گزر جاتا ہے۔

اِدھر اُدھر بکھری ہوئی لکڑیوں کو جمع کر کے ترتیب سے دیواروں پر رکھ دیں․․․․․ اور ان پر پھوس ڈال دیں تو چھت بن جاتی ہے، اس میں سے دھوپ نہیں آتی نہ ہی بارش کا قطرہ کمرے میں آتا ہے۔

جُوٹ (JUTE) ایک قسم کی گھاس ہے۔ جُوٹ کے ریشے اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ معمولی دباؤ سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ لیکن اس ہی جوٹ کو باہم دِگر ایک دوسرے میں پیوست کردیا جائے یعنی انہیں متحد کردیاجائے تو ایک رسہ بن جاتا ہے اور اس رسے سے سمندر میں پانی کے جہاز کو باندھ دیا جاتا ہے تو سمندر کی بڑی بڑی لہریں پانی کے جہاز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

اب اور زیادہ اس نقطہ پر غور کریں․․․․․دُھنیہ روئی دُھنتا ہے تو روئی اتنے باریک ریشوں میں تبدیل ہوجاتی ہے کہ آپ زور سے پھونک ماریں تو روئی کا بڑا گالہ اِدھر سے اُدھر چلا جاتا ہے لیکن جب آپ اسی روئی کو اکھٹا کرکے اس کا دھاگہ بنا لیتے ہیں تو ان دھاگوں کے تانے بانے سے اتنا مضبوط کپڑا بن جاتا ہے کہ آپ اس کی ترپال بنا لیتے ہیں۔ بوریاں بُن کر گندم اور چاول کا ذخیرہ کرتے ہیں۔

آپ غور فرمائیے․․․․․ آپ کے سامنے درخت ہے ․․․․․جب تک درخت کا تنا نہیں بنتا․․․․․ چٹکی سے ٹوٹ جاتا ہے لیکن جب درخت کے عناصر اور درخت کے اَندر کا سسٹم یکجا ہوجاتا ہے تو بیس بیس آدمی بھی درخت کو زمین سے اکھاڑ نہیں سکتے۔
درخت کیوں مضبوط ہوا؟․․․․․
اسلئے کہ درخت نے اپنے سسٹم کو قبول کر لیا اور اسے متحد کرکے جڑوں، تنے اور شاخوں پر قائم کردیا۔

حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ ہر مسلمان کے سامنے ہے۔
حضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے توحید کا پرچار کیا ہے ․․․․․ وحدانیت کا پرچار کیا ہے ․․․․․
اللہ کی یکتائی اور ربوبیت کا اعلان کیا ہے ․․․․․ اللہ نے اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے نفاق کو ناپسند کیا ہے ․․․․․ تفرقہ بازی سے منع فرمایا ہے ․․․․․توحید کے پلیٹ فارم پر اجتماعی زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے ․․․․․

رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں ہم اتحاد کی دعوت دیتے ہیں اور تفرقہ کی مذمّت کرتے ہیں۔
ہم اپنی قوم سے پیغمبرانہ طرزِ فکر کو اپنا کر اللہ کی رسی کو متحد ہو کر مضبوطی کے ساتھ تھام لینے کی درخواست کرتے ہیں․․․․․․
ہم یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ مضبوط رسی سے بڑی بڑی طاغوتی طاقتوں اور بڑی سے بڑی شیطنت کو باندھ کر ان کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔

ہم پوری دنیا کو ایک قافلہ تصور کرتے ہیں․․․․․․ قافلہ میں جو لوگ جا رہے ہیں ان کی ساری ضروریات بھی ان کے ساتھ جارہی ہیں․․․․․ مثلاً انہیں بھوک بھی لگے گی، ان کو کپڑوں کی بھی ضرورت ہے، قافلہ میں شریک لوگوں کو جوتے پہننے ہیں، جب کہیں پڑاؤ ہوگا تو وہاں رہائش کا انتظام کرنا بھی ضروری ہے، رہائش کے لئے مکان کی، چھولداریوں کی، قناتوں کی اور خیموں کی ضرورت ہوگی ․․․․․ قافلہ میں کمزور بھی ہیں، طاقتور بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، پڑھے لکھے بھی ہیں اور کم پڑھے لکھے لوگ بھی ہیں۔ قافلہ میں موچی، درزی، کارپینٹر،․․․․․ غرض ہر وہ بندہ ہے جس کی ضرورت قافلہ کو پیش آسکتی ہے ․․․․․ قافلہ میں امیر بھی ہے، نائب امیر بھی ہے، قافلہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدمت گزاری میں مصروف ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو لوگوں سے خدمت لینے پر مامور ہیں۔
ہمیں سوچنا یہ ہے کہ قافلہ میں سے کسی ایک کڑی کو اگر نکال دیا جائے ․․․․․ تو کیا قافلہ چلتا رہے گا؟․․․․․․
ہر گز نہیں !
کام رک جائے گا…. مربوط نظام ٹوٹ جائے گا…. شناخت ختم ہوجائے گی….
قافلہ نہیں رہے گا تو اسے منتشر گروہ کہا جائے گا․․․․․

میرے دوستو! ہمارا مشن رسول اللہ ﷺ کا مشن ہے ․․․․․ رسول اللہ ﷺ نے جو طرزِ فکرہمیں عطا فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ:
• جو اپنے لئے چاہو․․․․․ وہی اپنے بھائیوں کیلئے بھی چاہو….
• جو بات اپنے لئے ناپسند ہے…. وہ بات اپنے بھائیوں کیلئے بھی ناپسند کرو….

رسول اللہ ﷺ کے رُوحانی مشن کو چلانے والے حضرات اور خواتین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نفی کر کے دوسروں کا اِثبات کریں۔ اِثبات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خود ایثار کریں․․․․․ خود قربانی دیں، لوگوں کی غلطیاں پکڑنے کے بجائے اپنی غلطیاں تلاش کریں۔ لوگوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی طرف بھی توجّہ دیں․․․․․
• اصلاح کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ کرکے، برا بھلا کہہ کر اصلاح کی جائے۔ خامیوں اور کوتاہیوں کا تلاش کر کے بار بار اس کا احساس دلایا جائے ․․․․․
• دوسرا طریقہ ہے کہ آپ خود اپنی اصلاح کریں، دوسروں کا تزکیہ اس طرح کرنے کی کوشش کی جائے کہ ان کی ذات کی خامیاں اور کوتاہیاں ان کیلئے شرمندگی کا سبب بنے بغیر ان کی شخصیت سے مِنہا ہوجائیں اور خامیوں کی جگہ اعلیٰ اوصاف شخصیت میں نمایاں ہوجائیں، ایسی تربیت سے آدمی کے اِنّر (INNER) میں تبدیلی آجاتی ہے۔
یہ انسانی جبلّت ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو چھپاتا ہے۔ دوسروں کی غلطیوں پر تادیبی کاروائی کرتا ہے ․․․․․ تادیبی کاروائی بھی ضروری ہے لیکن اس وقت جب بغیر تادیب کے اصلاحِ احوال کی گنجائش نظر نہ آئے اور اجتماعی نظم بگڑنے کا خطرہ ہو، پانی سر سے اونچا ہونے لگے۔ جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو اس وقت تک اصلاح کا طریقہ ہے کہ نہایت خوبصورت اور مؤثر پیرائے میں غلطیوں کی نشاندہی کی جائے۔ ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس غلطی پر ہم تادیبی کاروائی کر رہے ہیں ․․․․․ وہ غلطی ہمارے اَندر تو نہیں ہے ․․․․․؟

ہر آدمی دوسرے آدمی کی غلطی کی کھوج میں مصروف رہتا ہے، وہ کبھی نہیں سوچتا کہ میرے اَندر بھی کمزوریاں ہیں․․․․․ رسول اللہ ﷺ کی طرزِ فکر، تمام انبیاء علیہم الصّلوٰۃ و السّلام کی طرزِ فکر، اللہ کی طرزِ فکر پر ہے ․․․․․

• اللہ ستار العیوب ہے ․․․․․․ عیبوں کو چھپاتا ہے ․․․․․
• اللہ غفار الذّنوب ہے…. لوگوں کی کوتاہیوں، غلطیوں اور لغزشوں کو معاف فرماتا ہے ․․․․․․
اگر رُوحانی مشن میں کام کرنے والے کسی شخص میں معافی اور در گزر کے جذبات مَوجود نہیں ہیں تو اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ستار العیوب اور غفار الذنوب والی صفات کی پیروی سے اِنحراف کا مرتکب تو نہیں ہو رہا….!!

اللہ ایک ہے ․․․․․ اللہ خالق ہے ․․․․․ یکتا ہے ․․․․․ اس نے محبت کے ساتھ آپ کو بنایا ہے۔ سب کو بنایا ہے۔ سب کو تخلیق کیا ہے لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ مخلوق اللہ سے شکوہ کرتی رہتی ہے ․․․․․
آپ کو اللہ کی قسم ہے…. !
آپ بتائیں کہ ․․․․
اللہ نے کبھی پانی بند کیا ہے ․․․․؟
ہَوا بند کی ہے ․․․․؟
آپ کے اَندر دل، گردے، پھیپھڑوں پر مشتمل مستعدی سے کام کرنے والی مشینری کبھی بند ہوئی ہے….؟
رات دن ہم سے غلطیوں سرزَد ہوتی ہیں ․․․․․․ کیا اللہ نے سورج کو منع کیا ہے کہ دھوپ اور روشنی نہ دے ․․․․؟
چاند کو منع کیا ہے کہ روشن نہ ہو․․․․؟
بارش کو نہ برسنے کا کبھی حکم دیا ہے ․․․․؟
اللہ تعالیٰ لوگوں کو معاف کرتا ہے….
لوگوں سے محبت کرتا ہے….
لوگوں کو ہر طرح کے وسائل فراہم کرتا ہے ․․․․
لوگوں کی حفاظت کرتا ہے….
نہ صرف لوگوں کی حفاظت کیلئے اللہ نے ایک پروگرام ترتیب دیا ہے تاکہ لوگوں تک افہام و تفہیم کا سلسلہ قائم رہے ․․․․․ اور افہام و تفہیم کے ذریعے لوگ اللہ کی باتیں سنتے رہیں ․․․․․ اس ربط کا، اس تعلق کا یہ تقاضہ ہے کہ جب ہم اللہ کی طرف مُتوجّہ ہوں تو خالی الذہن ہوجائیں ․․․․․ اللہ کے علاوہ کوئی بات ذہن میں نہیں آنی چاہئے․․․․
یہاں صورت یہ ہے کہ جب ہم دنیاوی کام کرتے ہیں تو یکایک یکسو ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کا معاملہ ہوتا ہے تو یکسوئی غائب ہوجاتی ہے ․․․․

ہمیں کاروبار کرتے وقت کیوں دوسرے خیالات پریشان نہیں کرتے ؟
دکان پر منتشر خیال کیوں نہیں ہوتے ؟
ملازمت میں اِدھر اُدھر کی سوچیں کیوں یلغار نہیں کرتیں․․․․؟
اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے غیر حاضر دماغی سے کام کیا تو ہمیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا….

یاد رکھئے!
رُوحانی بندہ کو مرتبۂ احسان حاصل ہونا چاہئے ․․․․․․ سالک کو جب تک مرتبۂ احسان حاصل نہ ہو اُسے سجھنا چاہئے کہ ابھی اس کی رُوحانی طرزِ فکر پختہ نہیں ہے۔ مرتبۂ احسان تب حاصل ہوتا جب انسان اپنی رُوح سے واقف ہو۔
مرتبۂ احسان یہ ہے کہ تم دیکھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے…. یعنی یا تو اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے…. یا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو…. لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہے کہ جب آپ اپنی رُوح سے واقف ہوں…. کیونکہ رُوح ازل میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ چکی ہے…. اللہ کی آواز سن چکی ہے…. تو جب آپ اپنی رُوح سے واقف ہوجائیں گے تو آپ اللہ تعالیٰ سے بھی واقف ہوجائیں گے ․․․․․

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (سورۃ الذاریات – 21)
میں تو تمہارے اَندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں ․․․․․․ ہم اللہ کو اس لئے نہیں دیکھتے کہ ہم اپنی اصل سے یعنی رُوح سے اور اپنے مفروضہ جسم کی حقیقت سے واقف ہی نہیں ہیں۔
جب ہم رُوح کو پہچان لیں گے تو ہم اس حقیقت سے آشنا ہوجائیں گے کہ ہمارا جسم رُوح کے تابع ہے، روح جسم کے تابع نہیں ہے۔
رُوح کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رُوح اَمرِِ ربّی ہے۔ یعنی رُوح کا رابطہ اللہ سے قائم ہوتا ہے۔

سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی زندگی کا ہر فعل ہر قول اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ملتا ہے۔ اسلئے کہ جب بندہ یہ دیکھ لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے تو پھر وہ اپنا ہر کام ہر قول منجانب اللہ کردیتا ہے۔
یہی سیرتِ طیبہ کا سب سے اہم پہلو ہے اور اسی بات کا سیرت طیبہ ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم زندگی کا ہر فعل اور ہر قول کا رخ اللہ کی جانب موڑ دیں۔

اب جب ہم علماً…. قَولاً…. فعلاً…. زبان کے اقرار کے ساتھ، دل کے اقرار کے ساتھ با ہوش و حواس رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا پیغمبر مان کر اسلام میں داخل ہوگئے ہیں تو اس مشن کو چلانے کیلئے ہمارے اوپر بھی وہی زمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں جن ذمہ داریوں کو حضور پاک ﷺ نے پورا کرکے دکھایا۔
اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کا جو حال ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ذِلّت و رسوائی اور ساری برائیاں مسلمانوں کے کھاتے میں ہی کیوں آگئی ہیں….!!!
جب آپ سوچیں گے تو آپ کو ایک ہی جواب ملے گا کہ….
رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار تو ہم کرتے ہیں…. لیکن جب رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کا معاملہ آتا ہے تو ہمارا فعل ہمارے قَول کے برعکس ہوتا ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں کتاب کا علم عطا فرما دیا۔ ہمارے لئے قوانین وضع کر دئیے اور زندگی گزارنے کیلئے خود عمل کرکے دکھا دیا ہے۔

سیرت طیبہ کو بغور پڑھا جائے تو ہم باآسانی اس بات سے باخبر ہو جاتے ہیں کہ….
حضور پاک ﷺ کیسے شوہر تھے ؟
باپ کی حیثیت سے آپ ﷺ نے کس طرح زندگی گزاری ؟
حضور ﷺ نے تجارت فرمائی تو سوداگری کے کیا اصول اختیار کئے ؟
رسول اللہ ﷺ کے اَندر عفوّ و درگزر بےانتہا تھا․․․․․
ہر مسلمان جانتا ہے کہ جنگِ احد میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت امیر حمزہ ؒ شہید ہوئے اور ہِندہ نے حضرت امیر حمزہ ؓ کا کلیجہ چبایا اور آپ ؓ کے کان، ناک اور اعضاء کو کاٹ کر دھاگے میں پرویا اور گلے میں پہن کر میدان جنگ میں رقص کیا․․․․․ لیکن جب فتحِ مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے دربار میں آکر ہِندہ اسلام قبول کرتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ظالمانہ، گھناؤنہ، وحشیانہ اور درندگی پر مبنی عمل بھی معاف فرما دیا۔

ہم جب مسلمانوں کی زندگی کا مطالعہ کرے ہیں تو واضح نظر آتا ہے کہ….
بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے ․․․․․
حسد کی آگ بھڑکی ہوئی ہے ․․․․․
شوہر بیوی سے نالاں ہے ․․․․․
بیوی شوہر سے ناراض ہے ․․․․․
بچے والدین سے سہمے ہوئے ہیں ․․․․․
والدین کو بچوں پر اعتماد نہیں رہا ․․․․․
ایک عجیب نفسانفسی کا عالم ہے ․․․․․
جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی قدریں ہی پامال ہوگئی ہیں ․․․․․
اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ تو بہت کرتے ہیں…. رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے سلسلہ میں محافل بھی سجاتے ہیں…. بڑے بڑے پروگرام بھی منعقد کرتے ہیں…. ان پروگراموں میں دامے، دَرمے، قَدمے، سُخنے شامل بھی ہوتے ہیں…. بلاشبہ یہ بہت اچھا کام ہے…. لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہمارے اعمال میں حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کے پہلو فراموش ہوجاتے ہیں….

مسلمانوں کے لئے نہایت آسان راستہ میری دانست میں یہ ہے کہ….
ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا بھرپور اور بار بار مطالعہ کرنا چاہئے….

رسول اللہ ﷺ کے اخلاق حسنہ پر عمل کر کے ہمیں یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سچے شیدائی اور مخلص پیروکار ہیں۔ سیرت طیبہ جتنی زیادہ پڑھی جائے گی، اسی مناسبت سے رسول اللہ ﷺ کی طرزِ فکر ہمارے اَندر منتقل ہوگی اور جس قدر رسول اللہ ﷺ کی طرزِ فکر ہمارے اَندر منتقل ہوجائے گی، اسی مناسبت سے تمام پیغمبرانِ کرامؑ کی طرزِ فکر ہمارے اَندر منتقل ہوجائے گی، اس لئے کہ جو بات ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے بتائی وہی بات حضور پاک ﷺ نے فرمائی اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے کوئی نئی بات نہیں کی…. جو بات میرے بھائی پیغمبروںؑ نے کہی، وہی دہرا رہا ہوں….

تمام پیغمبروں نے یہی فرمایا کہ:
اللہ وحدہٗ لا شریک ہے….
اللہ کے علاوہ کوئی پرستش کے لائق نہیں ہے….
ایمان لاؤ اللہ پر….
ایمان لاؤ فرشتوں پر….
ایمان لاؤ رسولوں پر….
ایمان لاؤ کتابوں پر…. اور
ایمان لاؤ نیک اور بَد تقدیر پر…. اس لئے کہ سب کچھ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے….

یہی بات ہمارے آقا، ہمارے مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمائی کہ مؤمن کی علامت یہ ہے کہ….
اس کا ایمان ایک اللہ پر ہو، مؤمن کی شناخت یہ ہے کہ…. وہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ اللہ کے تمام پیغمبروں اور رسولوں پر اس کا ایمان ہو۔ فرشتوں پر اس کا ایمان ہو اور یومِ آخرت پر اس کا ایمان ہو۔

الحمد للہ …. !
ہمارے ذہن میں رسول اللہ ﷺ کا عشق مَوجود ہے۔
آپ ﷺ کی محبت مَوجود ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق حسنہ پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں ․․․․․ لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہماری ذاتی خواہش، ہمارا خاندانی وقار، ہمارے اَندر شیطان کا پھونکا ہوا غرور ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ ان تمام دیواروں کو منہدم کرنے، ان تمام برائیوں سے بچنے اور ان تمام اونچی اونچی دیواروں کو پھلانگنے کیلئے ایک ہی نسخہ ہے…. اور وہ یہ ہے کہ الحمدللہ ہم حضور پاک ﷺ کے امتی ہیں…. ہمارے دلوں میں حضور پاک ﷺ کی محبت بھی ہے…. ہمارے اَندر حضور پاک ﷺ کا عشق بھی ہے…. لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ فرض بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی کو سیرت طیبہ کی کتابوں میں پڑھیں گے ․․․․․ ایک دفعہ پڑھیں گے، دو دفعہ پڑھیں گے، تین دفعہ پڑھیں گے ․․․․․ اس میں غور و فکر کریں گے تو انشاء اللہ ․․․․․․ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا ہمارے اوپر نفاذ ہوجائے گا۔ ہماری زندگی میں رسول اللہ ﷺ کے اعمال کا عکس نظر آنے لگے گا اور جب ایسا ہوجائے گا تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سچے پکے مسلمان بن جائیں گے۔

جب حضور ﷺ کے امتی، حضور ﷺ کے نام لیوا، حضور ﷺ کے عشّاق، حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں․․․․․ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی بندہ میرے محبوب بندے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے جتنی محبت کرتا ہے…. مَیں اس محبت سے کہیں زیادہ اس بندے سے محبت کرتا ہوں۔

سب تعریفیں اللہ ربّ العالَمین کیلئے ہیں، جو عالَمین کی خدمت کرتا ہے، جو عالَمین کو رزق دیتا ہے اور جو عالَمین میں آباد مخلوق کو زندہ رکھنے کیلئے وسائل فراہم کرتا ہے۔ جس بندے کا اللہ سے تعلق قائم ہوجاتا ہے اس کے اَندر اللہ کی طرف سے خدمت کا وصف منتقل ہوجاتا ہے۔ بندہ کا جتنا زیادہ اللہ کی مخلوق کی خدمت میں اِنہماک بڑھتا ہے اسی مناسبت سے بندہ اللہ کے قریب ہوجاتا ہے۔ اللہ سے اس کی دوستی ہوجاتی ہے۔ جو بندہ مخلوق سے نفرت کرتا ہے اور تفرقہ ڈالتا ہے وہ اللہ کا دوست نہیں۔ اللہ کا دوست خود غرض نہیں ہوتا۔ اللہ کا دوست خوش رہتا ہے اور سب کو خوش دیکھنا چاہتا ہے۔

ماں باپ بچے کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہوتے ہیں اسی طرح اللہ بھی اپنی مخلوق کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہوتا ہے ایسی باتوں سے جن کے پیچھے خلوصِ نیت اور مطمعِ نظر صرف اللہ ہو۔
اللہ اپنی مخلوق کی خدمت گزاری میں مصروف ہے، ہر بندہ پر لازم ہے کہ وہ شکر گزار بندہ بن کر اللہ کی مخلوق کی خدمت کرے اور اللہ کا دوست بن جائے۔

حضرت ابراہیمؑ سے پیغمبرانہ تعلیمات رسول اللہ ﷺ تک مسلسل اور تواتر کے ساتھ جاری رہیں۔ تمام پیغمبروں نے نوعِ انسانی کو یہی پیغام پہنچایا ہے کہ اللہ ایک ہے ․․․․․ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ اللہ کو ایک مانو․․․․․
ہمارے اَندر اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ ہمارا خالق و مالک اللہ ہے، پیدا بھی اللہ کرتا ہے، حیات بھی اللہ عطا کرتا ہے اور موت بھی اللہ دیتا ہے ․․․․․ یعنی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو آپ کو ذاتی شعبہ ہو ․․․․․ مثلاً ہم کھا پی کر ہی جوان ہوتے ہیں ․․․․․ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھوک ہی نہ لگے تو ہم کھائیں گے کیسے ․․․․․؟ نیند نہ آئے تو آدمی سوئے گا کیسے؟ ․․․․․ نیند سے بیدار نہ ہو تو آدمی اپنے خواب سے جاگ ہی نہیں سکتا ․․․․․
اپنی زندگی کا جب ہم محاسبہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہی بات آتی ہے کہ ہم سو فیصد حالتِ مجبوری میں ہیں ․․․․․ ہمیں کوئی بھی اختیار کسی بھی صورت میں حاصل نہیں ․․․․․ مثلاً ہم اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہو سکتے، اتنی بھی چوائس ہمارے پاس نہیں ہے کہ ہم کہیں، اللہ میاں! ہمیں کسی بادشاہ کے گھر پیدا کردے، ہم غریب کے ہاں پیدا نہیں ہونا چاہتے ․․․․․ پیدائش کے بعد آپ کی زندگی کتنی ہے ؟ ․․․․․ وہ بھی اللہ جانتا ہے ․․․․․ دس سال کی ہو، پچاس سال کی ہو، ہو سکتا ہے آپ سو سال زندہ رہیں ․․․․․ آپ جوان ہوتے ہیں آپ کو جوان ہونے میں کیا کرنا پڑتا ہے ؟ ․․․․․ اور اگر آپ کھا پی کر، کھیل کود کر جوان ہوجاتے ہیں تو پھر بوڑھے کیوں ہوجاتے ہیں ؟․․․․․

پیغمبرانہ تعلیمات کا نچوڑ ہے کہ انسان کے اَندر ایک ایسی طرزِ فکر قائم ہوجائے کہ انسان ہمہ وقت اللہ کی طرف مُتوجّہ رہے، وہ کچھ بھی کرے Care of Allah کرے۔
پیغمبرِ آخِرُ الزّماں، سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کا ذہن اس طرح بنا دیا جا ئے کہ وہ کوئی بھی کام کرے…. پہلے اس کا ذہن اللہ کی طرف جائے…. پھر کام کی طرف․․․․․
مسلسل اس مشق سے وہ بندہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے اور اس کے اوپر سے خوف اور غم ختم ہوجاتا ہے۔ جب خوف اور غم ہی ختم ہو گیا تو زندگی جنّت کے سِوا اور کیا ہوگی؟․․․․․

میرے بچو! بھائیو! بہنو اور میری بیٹیو! میری آپ سب کو نصیحت ہے اس مبارک محفل میں کہ:
سیرت طیبہ پر عمل کرتے ہوئے ․․․․․ آپ لوگوں کے ساتھ بہت اخلاق و محبت سے پیش آئیں
جو لوگ آپ کے پاس آئیں ان کی خدمت کریں،
سلام میں پہل کریں،
اِن شاء اللہ آپ کی کوششیں کامیاب ہوں گی،
آپ اس دنیا میں اور آخرت میں اللہ کے فضل و کرم سے سر خرو ہوں گے
اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائیں اور جو یہاں سننے والے لوگ مَوجود ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں، اپنے بھائیوں کو عمل کرنے کی طرف مُتوجّہ کریں، اپنے بچوں کو خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کا ایسا جذبہ بیدار کریں کہ بچے اَز خود رسول اللہ ﷺ کے اخلاق ِحسَنہ پر عمل کرنے لگیں۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
السّلام علیکم!

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 273 تا 283

خطباتِ لاہور کے مضامین :

ِ 0.01 - اِنتساب  ِ 0.02 - ترتیب و پیشکش  ِ 1 - شہرِِ لاہور  ِ 2 - لاہور کے اولیاء اللہ  ِ 3 - مرشدِ کریم کی لاہور میں پہلی آمد  ِ 4 - مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب  ِ 5 - محمد حسین میموریل ہال مزنگ میں عظیمی صاحب کا خطاب  ِ 6 - جامعہ عظیمیہؔ کاہنہ نَو کے افتتاح سے خطاب  ِ 7 - دوسری بین الاقوامی رُوحانی کانفرنس سے خطاب  ِ 8 - جامعہ مسجد عظیمیہؔ کے افتتاح سے خطاب  ِ 9 - سہہ ماہی میٹنگ سے خطاب  ِ 10 - قلندر شعور  ِ 11 - شعور اور لاشعور  ِ 12 - کُن فیکُون  ِ 13 - تقریبِ رُونمائی کتاب”مراقبہ”سے خطاب  ِ 14 - مراقبہ ہال برائے خواتین کے افتتاح پر خطاب  ِ 15 - کتاب “محمدؐ رسول اللّٰہ ﷺ”کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 16 - روحانی سیمینار سے خطاب  ِ 17 - حضرت ابو الفیض قلندر علی سہر وردیؒ کے مزار پر حاضری  ِ 18 - لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب  ِ 19 - کتاب “ہمارے بچے “کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 20 - لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب  ِ 21 - اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خطاب  ِ 22 - محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور  ِ 23 - ایوانِ اقبال میں پہلی سیرت کانفرنس سے خطاب  ِ 24 - سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب  ِ 25 - اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب  ِ 26 - سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)