یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

رنگ روشنی کا مراقبہ

مکمل کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12377

زمین پر موجود ہر شئے میں کوئی نہ کوئی رنگ نمایاں ہے، کوئی شئے بے رنگ نہیں ہے۔ کیمیاوی سائنس بتاتی ہے کہ کسی عنصرکو شکست و ریخت سے دوچار کیا جائے تو مخصوص قسم کے رنگ سامنے آتے ہیں۔ رنگوں کی یہ مخصوص ترتیب کسی عنصر کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ چنانچہ ہر عنصر میں رنگوں کی ترتیب جدا جدا ہے۔ یہی قانون انسانی زندگی میں بھی نافذ ہے۔ انسان کے اندر بھی رنگوں اور لہروں کا مکمل نظام کام کرتا ہے۔ رنگوں اور لہروں کا خاص توازن کے ساتھ عمل کرنا کسی انسان کی صحت کا ضامن ہے۔ اگر رنگوں میں رد و بدل ہو جائے تو انسانی طبیعت میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔

جذبات و محسوسات میں رنگوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ بری خبر سن کر چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے، خوف کے عالم میں چہرے کے رنگ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ غصہ کی حالت میں آنکھیں اور چہرہ سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کمرے کی دیواروں کا رنگ گہرا سرخ ہو تو طبیعت پر بار محسوس ہونے لگتا ہے۔ اگر اسی کمرے کی دیواروں کا رنگ نیلگوں کر دیا جائے تو طبیعت سکون محسوس کرتی ہے۔ سرسبز و شاداب درخت اور رنگ برنگے پھول دیکھ کر، ذہنی اور جسمانی تھکن دور ہو جاتی ہے۔ لیکن یہی پودے جب خزاں میں سبز لباس اتار کر زرد پیراہن اوڑھ لیتے ہیں تو انہیں دیکھ کر محسوسات بدل جاتے ہیں۔

نظریہ رنگ و نور ہمیں بتاتا ہے کہ نہ صرف انسان کے جسم بلکہ حواس میں بھی رنگوں کی مخصوص مقداریں کام کرتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے رنگوں کے نظام میں تبدیلی واقع ہو جائے، کسی رنگ کی کمی ہو جائے، کوئی رنگ زیادہ ہو جائے یا رنگوں کے تناسب میں فرق آ جائے تو محسوسات میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔

علم روحانیت میں شاگرد کے اندر رنگوں اور روشنیوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے تا کہ شاگرد کا ذہن لا شعوری حواس سے قریب ہو جائے۔ مراقبہ کی مسلسل مشق سے بھی روشنیوں کے نظام میں رنگینی بڑھنے لگتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ روشنیوں اور رنگوں کی تبدیلیاں کسی صلاحیت کو بیدار کرنے میں استعمال ہوں۔ اگر رنگوں اور روشنیوں کا اضافہ کسی صلاحیت، کسی حس کی تعمیر میں خرچ نہیں ہوتا تو ان سے معمول کے حواس متاثر ہونے لگتے ہیں۔ روحانی استاد شاگرد کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا معائنہ کرتا رہتا ہے، حسب ضرورت ان میں تصرف کی قوت سے کمی بیشی کرتا ہے تا کہ رنگوں اور روشنیوں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ شعور کی قوتیں بھی کام کرتی رہیں۔

اس کے برعکس جب ایک عام شخص میں رنگوں اور روشنیوں میں معمول سے ہٹ کر تبدیلی واقع ہوتی ہے تو طبیعت اس کو برداشت نہیں کر پاتی اور اس کا مظاہرہ کسی نہ کسی طبعی یا ذہنی تبدیلی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہم اس کو کسی نہ کسی بیماری کا نام دیتے ہیں مثلاً بلڈ پریشر، کینسر، فساد خون، خون کی کمی، سانس کے امراض، دق و سل، گھٹیا، ہڈیوں کے امراض، اعصابی تکالیف اور دیگر غیر معمولی احساسات و جذبات وغیرہ۔

روحانی علوم کے طالب میں کس طرز پر رنگ و روشنی میں تبدیلی کی جائے اس کا تعین صرف ایک ماہر استاد ہی کر سکتا ہے۔ طبیعت کا رجحان، ذہن کی قوت، طرز فکر، طبعی ساخت اور دیگر بہت سے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

مراقبہ کے ذریعے رنگ و روشنی کو جذب کرنے کا طریقہ یہ ہے:

طریقہ نمبر 1: آرام دہ نشست میں بیٹھ کر تصور کریں کہ رنگ اور روشنی کی لہریں پورے جسم میں جذب ہو رہی ہیں۔
طریقہ نمبر2: مراقبہ میں تصور کریں کہ رنگ یا روشنی کی لہر آسمان سے نازل ہو کر دماغ میں جذب ہو رہی ہے۔

طریقہ نمبر3: مراقبہ میں تصور کیا جائے کہ گرد و پیش کا پورا ماحول روشنی سے معمور ہے۔

 طریقہ نمبر 4: یہ تصور کیا جائے کہ مراقبہ کرنے والا روشنی کے دریا میں ڈوبا ہوا ہے۔

طبی اور جسمانی لحاظ سے ہر رنگ اور روشنی کے الگ الگ خواص ہیں۔ جب کسی روشنی کا مراقبہ کیا جاتا ہے تو ذہن میں کیمیاوی تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور دماغ میں مطلوبہ روشنی کو جذب کرنے کی طاقت بڑھ جاتی ہے چونکہ طبی اور نفسیاتی امراض اور ان کا علاج اس کتاب کا موضوع نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس موضوع پر تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ البتہ ایسے نفسیاتی عوارض جو ذہنی ٹوٹ پھوٹ سے پیدا ہوتے ہیں، ان کے تدارک کے لئے رنگوں اور روشنیوں کے مراقبے پیش خدمت ہیں۔

نوٹ: کسی رنگ یا روشنی کا مراقبہ کیا جائے۔ اس کے لئے استاد کی رہنمائی اشد ضروری ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 245 تا 248

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)