دار الندوۃ

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=350

دار الندوۃ میں اجلاس ہوا۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو زنجیروں میں جکڑ کر قید کرنے اور جلاوطن کرنے کی تجاویز پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ابوجہل کی طرف سے تجویز پیش کی گئی کہ ہر قبیلہ سے ایک تندرست و توانا اۤدمی لیا جائے سب مل کر محمدؐ پر حملہ اۤور ہوں اور تلواروں کے پے در پے وار کرکے ان سے نجات حاصل کرلی جائے۔ اس طرح محمدؐ کا خون کسی ایک قبیلہ کے سر نہیں ہوگا۔ محمدؐ کے قبیلے والے اور ان کے اتحادی تمام عرب سے جنگ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ تجویز شرکائے مجلس کو پسند اۤئی اور اس پر عمل در اۤمد کا منصوبی تیار کرلیا گیا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کو کفّار کے ارادہ سے باخبر کردیا اور مکہ سے یثرب کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

رات کے دوسرے پہر سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر کے باہر مسلّح نوجوانوں کی مشکوک حرکت شروع ہوچکی تھی۔ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے ناپاک ارادہ پر عمل کرنے کے لئے تیار تھے۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سوجاؤ۔ چند مزید ہدایات دے کر گھر سے تشریف لے اۤئے۔ اس وقت اۤپؐ نے سورۃ یٰسین کی نویں اۤیت تلاوت کی۔

ترجمہ:

”اور بنائی ہم نے ان کے اۤگے دیوار اور ان کے پیچھے دیوار، پھر اوپر سے ڈھانک دیا، سو ان کو نہیں سوجھتا۔ ”

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کفّار کی صفوں کے بیچ میں سے نکلتے چلے گئے۔

پروگرام کے مطابق کفّارِ مکہ جب سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر میں داخل ہوئے تو حضورؐ کے بستر پر حضرت علیؓ کو دیکھ کر انہیں اپنی ناکامی اور نامرادی پر سخت افسوس ہوا۔

ترجمہ:

”اور جب فریب بنانے لگے کافر کہ تجھ کو بٹھادیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اﷲ بھی فریب کرتا تھا اور اﷲ کا فریب سب سے بہتر ہے۔ ”(الانفال۔۳۰ )

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت ابوبکرؓ صدیق کے ساتھ پوری رات سفر کرتے رہے۔ صبح صادق کے وقت وہ لوگ غارِ ثور کے نزدیک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکرؓصدیق، عمر کے لحاظ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تین سال بڑے تھے۔ ان کا شمار مکہ کے متمول افراد میں ہوتا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی تمام دولت اور جائداد اسلام کی راہ میں قربان کردی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ غار میں پہنچے۔ غار کو صاف کیا اور اپنی قبا پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں سے غار میں موجود مختلف سوراخوں کو بند کرکے پیغمبرِ اسلام حضورؐ کو غار میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ غارِ ثور میں کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جس پر سر رکھ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام استراحت فرماتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سر مبارک اپنی گود میں رکھ لیا۔

حضرت ابوبکرؓ نے دیکھا کہ غار میں ایک سوراخ باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنا پیر اس سوراخ پر رکھ دیا۔ اس سوراخ میں سانپ تھا جس نے انہیں ڈس لیا۔ حضرت ابوبکرؓ حضورؐ کے اۤرام کے خیال سے اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ لیکن درد کی شدت سے پسینے کے قطرے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشانی پر ٹپکے تو حضورؐ کی اۤنکھ کھل گئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیکھا تو حضرت ابوبکرؓ کے چہرے کا رنگ زرد ہوگیا تھا۔ حضورؐ نے لعابِ دہن لگا کر زہر کے اثر کو زائل کردیا۔

قریش کے کارندے اسی رات مکہ کے اۤس پاس پھیل گئے اور گرد و نواح کے بیابانوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تلاش شروع کردی۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کروادیا کہ جو شخص اۤپؐ کو ڈھونڈ نکالے گا اسے انعام کے طور پر سو اونٹ پیش کئے جائیں گے۔ اگلے روز قریش کے کارندے تیز رفتار اونٹوں کے ذریعے اس علاقے تک پہنچ گئے جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ قریش کے افراد غار کے سامنے سے گزرے۔ تعاقب کرنے والوں نے دیکھا کہ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا بنا ہوا ہے۔ پیغمبرِ اسلام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تعاقب کرنے والے دوسرے گروہ کے لوگ بھی غار کے قریب سے گزرے اور انہوں نے دیکھا کہ غار میں ایک پرندے کا گھونسلہ بنا ہوا ہے اور اس کے انڈے بھی ہیں۔ قریش کی اۤمدورفت، دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ پریشان ہوگئے لیکن پیغمبرِ اسلام حضورؐ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے خدا کی مدد کا یقین دلایا۔

ترجمہ:

”اگر تم نہ مدد کروگے رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اﷲ نے جس وقت اس کو نکالا کافروں نے، دوجان سے جب دونوں تھے غار میں جب کہنے لگا تو غم نہ کھا اﷲ ہمارے ساتھ ہے، پھر اﷲ نے اتاری اپنی طرف سے تسکین اس پر اور مدد کو بھیجیں وہ فوجیں جو تم نے نہ دیکھیں اور نیچے ڈالی بات کافروں کی اور اﷲ کی بات ہمیشہ اوپر ہے۔ اﷲ زبردست ہے حکمت والا۔ ” (توبہ۔۴۰ )

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ تین شب و روز تک اسی غار میں ٹھہرے رہے۔

تین دن کی جستجو کے بعد قریش بھی تھک گئے اور مکہ واپس چلے گئے۔ اسی اثناء میں حضرت ابوبکرؓ کا غلام عامر بن فہیرہ طے شدہ منصوبے کے مطابق دو سفید اونٹنیاں لے کر مذکورہ غار تک پہنچ گیا۔

سفرِ ہجرت کے اگلے مرحلے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ”قبا” میں داخل ہوئے اور امِ کلثوم، سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے رفیقِ غار حضرت ابوبکرؓ کی میزبانی کے شرف سے مشرف ہوئیں۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیس روز تک قبا میں قیام فرمایا اور اسلام کی پہلی مسجد قبا میں تعمیر کی۔ مسجد کی تعمیر میں سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام بنفسِ نفیس شریک ہوئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 104 تا 109

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)