خوش اخلاق جنات

مکمل کتاب : احسان و تصوف

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=21965

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں نے اس لڑکے کو آج تک وہاں نہیں دیکھا۔جو جنات مجھے وہاں لے جاتے ہیں وہ اور ہوتے ہیں اور جو وہاں سے مجھے لاتے ہیں وہ اور ہوتے ہیں۔میں ان میں سے چند جنات کوپہچانتی ہوں۔
لیکن وہ سب کے سب خوش اخلاق ہیں۔نہایت عزت کے ساتھ مجھے واپس پہنچادیتے ہیں۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے کسی چیز کی فرمائش کی ہو اور وہ پوری نہ ہوئی ہو۔
شاہ صاحب ؒ نے جب انہی دنوں اس جن لڑکے کو اپنے مدرسے میں نہ دیکھا اور چراغ گل کرنے کا واقعہ ان کے ذہن میں آیا اور اس جن لڑکے کا یہ کہنا کہ یہ کام میں نے دانستہ کیاہے اوراس کا مدرسہ چھوڑ دینا یہ سب چیزیں شاہ صاحب ؒ کے ذہن میں ٹکراتی تھیں لیکن ان تمام حالات میں کوئی چیز ایک دوسرے سے وابستہ نظر نہیں آتی تھی اور آپؒ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتے تھے۔
لڑکی کے غائب ہونے کی خبریں برا بر شاہ صاحب ؒ کے پاس آتی رہیں۔ شاہ صاحب ؒ اس کے سد باب کے لئے غور و فکر کرتے رہے۔سوچتے سوچتے ان کے ذہن میں ایک ایسا جن آیا جو باغ کی دیوار کے نیچے کتا بن کے پڑا رہتا تھا مگر یہ کتا خارش زدہ تھا۔اس کتے کے بارے میں شاہ صاحب ؒ کو بالتحقیق بہت سی باتیں معلوم تھیں۔لیکن ان باتوں میں کوئی بات ایسی نہیں تھی جس کی بناء پر وہ اس کتے سے شناسائی پیدا کریں۔ایک عرصے تک وہ سوچتے رہے آخر شاہ صاحب ؒ نے سوداگر کو بلوایا اور اس سے استفسار کیا کہ اس کے پاس کچھ قابل اعتماد آدمی ہیں یا نہیں۔
سوداگر نے جواب دیا ایک تو میرا بہت پرانا ملازم ہے اس کے علاوہ ایک میرا ہم عمر دوست ہے یہ دونوں میرے لئے معتبر ہیں اگران کو کوئی راز بتادیا جائے تو اس کو وہ اپنے سینے میں ہی محفوظ رکھیں گے۔
شاہ صاحب ؒ نے فرمایا میں یہی چاہتا ہوں اب تم ان دونوں میں سے ایک کو میرے پاس لے آؤ۔
ساتھ ہی یہ فرمایا کہ دوروٹیاں خالص ماش کی دال پیس کر انہیں ایک طرف سے پکایا جائے اور کچی سمت میں گھی چپڑ دیا جائے۔
شاہ صاحب ؒنے ایک پرچہ لکھ دیا جس کی کئی تہیں کیں اور پرچے میں اتنی بڑی ڈوری باندھی جو کتے کی گردن میں آسکے۔
سوداگر جب روٹیاں اور اپنے وفادار ملازم کو لے کر حاضر خدمت ہوا تو شاہ صاحب ؒنے روٹیاں دیکھیں اور وہ پرچہ ان کو دے کر فرمایا۔
باغ کی دیوار کے پاس ایک خارش زدہ کتا پڑا ہواہے تم سیدھے اس کے پاس جاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔وہ کتا تمہیں دیکھتے ہی بھونکے گا اور کاٹنے کے لئے دوڑے گا اسی لمحے ایک روٹی اس کے ایک آگے ڈال دینا اور کمال ہوشیاری سے جب وہ روٹی کھانے میں مصروف ہو یہ پرچہ اس کی گردن میں باندھ دینا اور جب وہ یہ روٹی کھاچکے تو دوسری روٹی بھی اس کے آگے ڈال دینا جب وہ کتا باغ کی دیوا ر سے چلے تو اسکے پیچھے ہولینا وہ جس طرف جائے چلتے رہنا جہاں کہیں وہ ٹہر جائے وہیں تم بھی ٹہر جانا اور پھر اتنا انتظار کرنا کہ وہ وہاں سے چل پڑے پھر اس کے ساتھ چلتے رہنا،وہ راستے میں بھی غرائے گا لیکن تم اس کا خیال نہ کرنا۔آخر چلتے چلتے وہ کتا کالے پہاڑ کے پیچھے میدان میں ایک مقام پر بیٹھ جائے گا وہاں تم دونوں بھی رک جانا اور اس بات کا انتظار کرنا کہ اس پرچے کا کیا جواب ملتا ہے ۔
کیونکہ اس کتے کے بیٹھتے ہی پرچہ اس کے گلے سے غائب ہوجائے گا اب یہ تمہاری ہمت ہے اور اس ہمت کی لازمی طور سے ضرورت بھی ہے کوئی زلزلہ آئے،کسی قسم کا طوفان آئے،ہواؤں کے جھکڑ اور آندھیاں چلیں تم اپنی جگہ جمے رہنا۔خوفزدہ ہونے کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے۔
شاہ صاحب ؒ کے ارشادکے مطابق سوداگر اور اس کے ملازم نے خارش زدہ کتے کو روٹیاں کھلائیں اور وہ پرچہ اس گلے میں باندھ دیا۔
وہ کتا وہاں سے چل پڑا اور الٹے سیدھے راستوں سے گزرتا رہا اور یہ دونوں بھی نہایت ہوشیاری اور ہمت کے ساتھ اس کا پیچھا کرتے رہے۔بالآخر کالے پہاڑ کے پیچھے والے میدان میں جاکر وہ کتا بیٹھ گیا اور چشم زدن میں شاہ صاحب ؒ کا لکھا ہوا وہ پرچہ اس کے گلے سے غائب ہوگیا۔
تھوڑی دیر تک تو سوداگر اور اس کا ملازم سکون سے بیٹھے رہے اور کتا بھی ساکت و جامد رہا۔لیکن ابھی انہیں بیٹھے ہوئے چند لمحے بھی نہ گزرے تھے کہ آسمان و زمین زلزلے کی طرح لرزتے ہوئے محسوس ہوئے اور خوفناک آوازیں آنے لگیں۔دونوں پریشان ہوکر چاروں طرف دیکھنے لگے لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آیا ابھی وہ ان خوفناک آوازوں کی سمت متعین نہ کرپائے تھے کہ آندھی کے ساتھ ایک بگولہ اٹھا جو گرد و پیش کو لپیٹ میں لے کر تمام ماحول کو تاریک کرگیا۔
یہ دونوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے۔لیکن تاریکی ایسی گہری تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔اس کے باوجود انہوں نے کتے کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔
تھوڑی دیر بعد آندھی اور زلزلہ اور طوفان ختم ہوگیا اور چاروں طرف کی فضاء صاف ہوگئی۔کیا دیکھتے ہیں کہ نہ وہ پہاڑ ہے نہ وہ میدان ہے بلکہ اب انہیں ایک خوبصورت شہر دکھائی دیا۔جو بہت بڑی آبادی پر مشتمل تھا۔
بڑے بڑے مکانات تھے کشادہ سڑکیں تھیں اور عام طور سے جیسے بڑے شہروں میں محلے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح یہ شہر بھی محلوں میں تقسیم تھا۔
کچہریاں بھی تھیں جہاں مقدمے پیش کئے جارہے تھے اور عدالت ان کے فیصلے سنارہی تھی۔ان دونوں کو ایک آدمی تلاش کرتا ہوا آیا اور ان سے کہا :
’’ تمہارے مقدمے کی پیشی ہے۔چلو عدالت میں فیصلہ ہوگا۔‘‘
پہلے تو یہ ڈرے پھر انہیں شاہ صاحبؒ کا قول یاد آگیا۔انہوں نے سوچا اب جو کچھ بھی ہو مقدمے میں تو پیش ہونا ہی ہے۔پھر انہوں نے شاہ صاحبؒ کا لکھا ہوا پرچہ اس آدمی کے ہاتھ میں دیکھ لیا تو انہیں کچھ اطمینان ہوا۔یہ دونوں اس شخص کے ساتھ ہولئے۔
عدالت نے پرچہ پڑھ کر حکم جاری کیا کہ اس جن کو پیش کیا جائے جس کے خلاف یہ شکایتی پرچہ شاہ صاحب ؒ نے لکھا ہے۔
انسپکٹر نے پرچہ الٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا ـ:
’’ حضور ہمیں اس شخص کو تلاش کرنا پڑے گا اس لئے ہمیں مہلت دی جائے‘‘
عدالت نے کہا:
’’شاہ صاحبؒ تو اس مقدمے کا فیصلہ فوراََ چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ جس جن سے یہ حرکت سرزد ہوئی ہے اسے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔‘‘
پیشکار نے جواب دیا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 106 تا 109

احسان و تصوف کے مضامین :

ِ 0.01 - خلاصہ  ِ 0.02 - بسم اﷲ الرحمن الرحیم  ِ 0.03 - قطرۂِ بارش  ِ 1 - تصوف کی تعریف  ِ 1.01 - باطنی مشاہدات  ِ 1.02 - روحانی تشریح  ِ 1.03 - علم ِ شریعت  ِ 1.04 - نفس کا عرفان  ِ 1.05 - تزکیہ نفس  ِ 1.06 - اعمال و اشغال  ِ 2 - تصوف کی تاریخ  ِ 2.01 - زمین پر انسان کا پہلا دن  ِ 2.02 - معاشرتی قوانین  ِ 2.03 - جسمانی رُخ ، روحانی رُخ  ِ 2.04 - ایک اور دنیا  ِ 2.05 - نوعِ انسانی کا پہلا صوفی  ِ 2.06 - نماز میں حُضوری  ِ 2.07 - دعوتِ حق  ِ 2.08 - یَومِ اَزل کا وعدہ  ِ 2.09 - اللہ کے نمائندے  ِ 2.10 - اللہ کی بادشاہی کا رُکن  ِ 2.11 - بَشارت  ِ 2.12 - قرآن اور تصوّف  ِ 2.13 - گھڑی کی سوئیاں  ِ 2.14 - پیدائشی شعور  ِ 2.15 - پہلے آسمان کا شعور  ِ 3 - تصوّف اور رَہبانیّت  ِ 3.01 - تَرکِ دُنیا  ِ 3.02 - مذاہبِ عالَم اور تصوّف  ِ 3.03 - یُونانی تصوّف  ِ 3.04 - یہودی تصوّف  ِ 3.05 - عیسائی تصوّف  ِ 3.06 - ہندومَت اور تصوّف  ِ 3.07 - تصوّف اور سائنس  ِ 4 - تصوّف اور مُعترضین  ِ 4.01 - اعتراضات  ِ 4.02 - قِیاسی علوم  ِ 4.03 - منافِقانہ طرزِ عمل  ِ 4.04 - تارِکُ الدّنیا  ِ 4.05 - تھیا سوفی  ِ 4.06 - اسلام میں تفرّقے  ِ 4.07 - حقوق ﷲ  ِ 5 - تصوّف کی اہمیت و حقیقت  ِ 5.01 - اسلام  ِ 5.02 - ایمان  ِ 5.03 - احسان  ِ 5.04 - اَنفَس و آفاق  ِ 5.05 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 5.06 - فلاسِفہ اور تصوّف  ِ 5.07 - مذہب اور تصوّف  ِ 5.08 - محبّت  ِ 5.09 - ماورائی شعور  ِ 6 - تصوّف اور مَکارِمِ اخلاق  ِ 6.01 - اِخلاقِ حَسَنہ  ِ 6.02 - فضائلِ اِخلاق  ِ 6.03 - عبادات کا کردار  ِ 6.04 - چار سُتون  ِ 6.05 - سیرتِ طیّبہ اور صوفیاء کرام  ِ 6.06 - ما بعد الطّبیعی اَساس  ِ 6.07 - مؤمن کے اخلاقی اَوصاف  ِ 7 - خدمتِ خلق  ِ 7.01 - مخلوق کی ڈیوٹی  ِ 7.02 - گیارہ ہزار نَوعیں  ِ 7.03 - ہر مخلوق دوسری مخلوق کے ساتھ بندھی ہوئی ہے  ِ 7.04 - کائنات کا ہر ذرّہ تعمیلِ حکم کا پابند ہے  ِ 7.05 - حُقوقِ انسانی اور دیگر مخلوق کے حُقوق  ِ 8 - بیعت  ِ 8.01 - قرآنِ کریم اور بیعت  ِ 8.02 - ضرورتِ شَیخ  ِ 8.03 - شعوری اِستعداد  ِ 8.04 - اساتِذہ کا کردار  ِ 8.05 - بیعت کا قانون  ِ 8.06 - نظامِ تربیّت  ِ 8.07 - روحانی اُستاد کی خصوصیات  ِ 9 - نسبت  ِ 9.01 - نسبتِ عِلمیّہ  ِ 9.02 - نسبتِ سُکَینہ  ِ 9.03 - نسبتِ عشق  ِ 9.04 - نسبتِ جذب  ِ 9.05 - قُربِ نوافل، قُربِ فرائض  ِ 10.0 - مخلوقات  ِ 10.01 - مخلوقات کا حلیہ  ِ 10.02 - خلاء  ِ 10.03 - بیس ہزار فرشتے  ِ 10.04 - دوکھرب سیلز  ِ 10.05 - سانس اور ہوا  ِ 10.06 - خون کی رفتار  ِ 10.07 - اﷲ کی عادت  ِ 10.08 - ہر شئے کی بنیاد پانی ہے  ِ 10.09 - درختوں کی دنیا  ِ 10.10 - بارش برسانے کا فارمولا  ِ 10.11 - فطرت کے قوانین  ِ 10.12 - کائناتی سسٹم  ِ 10.13 - صراطِ مستقیم  ِ 11.0 - انسان  ِ 11.01 - ایک تخلیق سے ہزاروں تخلیقات  ِ 11.02 - زمین اور آسمانوں کی روشنی  ِ 11.03 - روشنیوں کا سفر  ِ 11.04 - علوم سیکھنے کے تقاضے  ِ 11.05 - انسانی ذات کے تین پرت  ِ 11.06 - لطیف انوار۔ کثیف جذبات  ِ 12.0 - جناّت  ِ 12.01 - ابوالجن طارہ نوس:  ِ 12.02 - جنات کی دنیا  ِ 12.03 - مشرک جنات  ِ 12.04 - جنات کی غذا  ِ 12.05 - مسلمان جنات  ِ 12.06 - درخت کی گواہی  ِ 12.07 - مفرد لہریں-مرکّب لہریں  ِ 12.08 - شاگرد جنات  ِ 12.09 - دس لاکھ چھپن ہزار فٹ  ِ 12.10 - جنات کی عمریں  ِ 12.11 - سلطان  ِ 12.12 - جن مسلمانوں کی تعداد  ِ 12.13 - مخلوقات کے چار گروہ  ِ 12.14 - حضرت سلیمان ؑ کا لشکر  ِ 12.15 - ایک خوبصورت روحانی تمثیل  ِ 12.16 - مٹی اور آگ کی تخلیق  ِ 12.17 - جنات کے بارہ طبقے  ِ 12.18 - انہونی بات  ِ 12.19 - جن اور انسان میں عشق  ِ 12.20 - واہمہ اور حقیقت  ِ 12.21 - نسبت نامہ شاہ عبدالعزیزؒ  ِ 12.22 - تعویذ گنڈے سے علاج  ِ 12.23 - خوش اخلاق جنات  ِ 12.24 - جنات کی سی آئی ڈی  ِ 12.25 - جنات کا سول کورٹ  ِ 13.00 - فرشتے  ِ 13.01 - فر شتوں کی کئی قسمیں ہیں  ِ 13.02 - حکم حاکم اعلیٰ:  ِ 13.03 - اﷲکا ہاتھ ر سول اﷲ کی پشت پر  ِ 13.04 - اﷲ جب پیار کرتا ہے  ِ 13.05 - ملائکہ کی قسمیں  ِ 13.06 - انسانی روحیں  ِ 13.07 - حظیرۃ القدس  ِ 13.08 - ملائکہ ٔ اسفل  ِ 13.09 - ملائکہ سماوی  ِ 13.10 - ملائکہ عنصری  ِ 13.11 - کراماً کاتبین  ِ 13.12 - بیت المعمور  ِ 13.13 - فرشتوں کے گروہ  ِ 13.14 - فرشتوں کی صلاحیتیں  ِ 13.15 - کائناتی نظام  ِ 13.16 - اعمال نامہ  ِ 14.00 - لطائف  ِ 14.01 - روحِ اعظم  ِ 14.02 - کشش بعید۔ کشش قریب  ِ 14.03 - چار نورانی نہریں  ِ 14.04 - لطائف ستہ  ِ 14.05 - نورانی لہروں کا نزول  ِ 15.00 - معجزہ، کرامت، استدراج  ِ 15.01 - تصرف کی تین قسمیں ہیں  ِ 15.02 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 15.03 - آواز کی فریکوئنسی  ِ 15.04 - ریڈیائی اور مقناطیسی لہریں  ِ 15.05 - کہکشانی نظاموں کا کمپیوٹر  ِ 16.00 - تصوف ،صحابہ کرام ؓؓؓؓاور صحابیات  ِ 16.01 - سیدنا ابوبکر صدیق  ِ 16.02 - سیدنا فاروقِ اعظم عمر بن خطابؓ  ِ 16.03 - سیدنا عثمان ذوالنورینؓ  ِ 16.04 - سیدنا علی ابن ِ ابی طالب:  ِ 16.05 - ام ّ المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ  ِ 16.07 - ام ّ المومنین حضرت عائشہ ؓ:  ِ 16.08 - حضرت بی بی فاطمۃ الزھرا ؓ:  ِ 16.09 - حضرت انس  ِ 16.10 - حضرت سعد بن ابی وقاصؓ  ِ 16.11 - حضرت عبداﷲ بن مسعود  ِ 16.12 - حضرت اسیدبن حضیرعباد ؓ  ِ 16.13 - حضرت جابر  ِ 16.14 - حضرت سفینہ  ِ 16.15 - حضرت ابوہریرہ ؓ  ِ 16.16 - حضرت ربیع بن حراش ؓ  ِ 16.17 - حضرت علاء بن حضرمی ؓ  ِ 16.18 - حضرت اسامہ بن زیدؓ  ِ 16.19 - حضرت سلمان ؓ  ِ 17.00 - نماز اورتصوف  ِ 17.01 - صلوٰ ۃ کی اہمیت  ِ 17.02 - غیب کی دنیا  ِ 17.03 - نماز میں خیالات کاہجوم  ِ 17.04 - اﷲ کا عرفان  ِ 17.05 - روح کا وظیفہ  ِ 17.06 - اﷲ کو دیکھنا  ِ 18.00 - صوم اورتصوف  ِ 18.01 - روزے کا مقصد  ِ 18.02 - روزہ ترک کا نظام ہے  ِ 18.03 - لیلتہ القدر  ِ 19.00 - حج اور تصوف  ِ 19.01 - قرآن کریم اور حج  ِ 19.02 - ارکان حج کی حکمت  ِ 19.03 - اﷲتعالیٰ نے پکارا  ِ 19.04 - کنکریاں مارنے کی حکمت  ِ 19.05 - شک کا جال  ِ 19.06 - سعی کی حکمت  ِ 19.07 - آب ِ زم زم  ِ 19.08 - طواف کی حکمت  ِ 19.07 - مشاہدۂ حق  ِ 19.08 - حلق کرانے کی حکمت  ِ 19.09 - برقی انٹینا  ِ 19.10 - احرام باندھنے کی حکمت  ِ 19.11 - مقناطیسی توانائی  ِ 20.00 - صوفیاء کاحج  ِ 20.01 - حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ  ِ 20.02 - شیخ اکبر ابنِ عربی ؒ  ِ 20.03 - حضرت بایزیدؒ  ِ 20.04 - حضرت عبداﷲ بن مبارک  ِ 20.05 - شیخ حضرت یعقوب بصریؒ  ِ 20.06 - حضرت ابوا لحسن سراجؒ  ِ 20.07 - حضرت عبداﷲ بن صالح  ِ 20.08 - حضرت جنید بغدادیؒ  ِ 20.09 - حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ  ِ 20.10 - حضرت ابراہیم خواصؒ  ِ 20.11 - حضرت شیخ ابوالخیر اقطع ؒ :  ِ 20.12 - حضرت احمد رضا خان بریلوی  ِ 21.00 - سلاسل کی دینی جدّو جہداور نظامِ تربیت  ِ 21.01 - دوسو سلاسل  ِ 21.02 - سلسلہ قادریہ  ِ 21.03 - ابوبکر شبلی  ِ 21.04 - امام غزالی  ِ 21.05 - جنس کی تبدیلی  ِ 21.06 - عورت اور مردکی تخلیق  ِ 21.07 - عیسائی اور مسلمان  ِ 21.08 - لوح محفوظ پرتبد یلی  ِ 21.09 - سلسلہ چشتیہ  ِ 21.10 - حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ  ِ 21.11 - حضر ت خواجہ ممشا ددینوریؒ  ِ 21.12 - سلسلۂ چشتیہ کی خدمات  ِ 21.13 - راگ اور سُر  ِ 21.14 - اندر کی آنکھ  ِ 21.15 - سلسلہ سہروردیہ  ِ 21.16 - بہاؤ الدین زکریا ملتانی  ِ 21.17 - شیخ الاسلام  ِ 21.18 - تبلیغی سرگرمیاں  ِ 21.19 - دین پھیلانے والے تاجر  ِ 21.20 - حضرت زکریا ملتانی کی فلاحی خدمات  ِ 21.21 - سلسلہ نقشبندیہ  ِ 21.22 - دل کی نگرانی کرنی چاہۓ  ِ 21.23 - اویسی فیض  ِ 21.24 - صوفیاءِ کرام کی دینی خدمات  ِ 21.25 - سلسلۂ عظیمیہ  ِ 21.26 - پہلا مدرسہ  ِ 21.27 - تربیت  ِ 21.28 - روزگار  ِ 21.29 - بیعت  ِ 21.30 - مقام ولایت  ِ 21.31 - اخلاق  ِ 21.32 - کشف وکرامات:  ِ 21.33 - تصنیفات  ِ 21.34 - سلسلۂ عظیمیہ کی خدمات  ِ 21.35 - سائنسی انکشافات  ِ 21.36 - دینی جدّو جہد  ِ 22.00 - ذکراذکار  ِ 22.01 - اسم اعظم  ِ 22.02 - گیارہ ہزار حواس  ِ 22.03 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 22.04 - تفکر  ِ 22.05 - حضرت عائشہؓ  ِ 22.06 - ذاکرین اور فرشتے  ِ 22.07 - غازی اور مجاہدین  ِ 22.08 - قانون  ِ 23.00 - مراقبہ  ِ 23.01 - ذہنی مرکزیت  ِ 23.02 - عرفان  ِ 23.03 - مراقبہ کی تعریف:  ِ 23.04 - چراغ کی لو  ِ 23.05 - شہود  ِ 23.06 - بصارت  ِ 23.07 - ماعت  ِ 23.08 - شامہ اور لمس  ِ 23.09 - حضرت معروف کرخیؒ  ِ 23.10 - سیر یا معائنہ  ِ 23.11 - مراقبہ کے فوائد  ِ 23.12 - مراقبہ کی اقسام  ِ 23.13 - ۲۵) مختلف رنگوں کی روشنیوں کے مراقبے:  ِ 23.14 - مراقبہ کرنے کے آداب  ِ 23.15 - مراقبہ کے لیے بہترین اوقات  ِ 23.16 - پرہیز و احتیاط  ِ 23.17 - مرتبہ احسان کامراقبہ  ِ 23.18 - مراقبہ موت  ِ 23.19 - قبرمیں دروازہ  ِ 23.20 - فرشتے کہتے ہیں  ِ 23.21 - ٹانگوں میں انگارے  ِ 23.22 - غیبت  ِ 23.23 - یتیموں کا مال  ِ 23.24 - ملک الموت اورایک عورت کا مکالمہ  ِ 23.25 - مراقبۂ نور  ِ 23.26 - ماضی اورحافظہ  ِ 23.27 - اسمائے الٰہیہ کا مراقبہ  ِ 23.28 - روشنیوں کی اصل  ِ 24.00 - عالم ِ اعراف  ِ 24.01 - کشف القبور  ِ 24.02 - جنت کا باغ  ِ 24.03 - جنت کے انگور  ِ 24.04 - جنت کا لباس  ِ 24.05 - ویڈیوفلم  ِ 24.06 - ہاتف غیبی  ِ 24.07 - کائنات آواز کی باز گشت ہے  ِ 24.08 - آواز میں اسرارو رموز  ِ 24.09 - مراقبہ قلب  ِ 25.00 - مسلمان سائنسدان  ِ 25.01 - قرآن نے بتایا  ِ 25.02 - *عبدا لمالک اصمعی  ِ 25.03 - جابر بن حیان  ِ 25.04 - محمد بن موسیٰ الخوارزمی  ِ 25.05 - علی ابن سہیل ربان الطبری  ِ 25.06 - یعقوب بن اسحاق الکندی  ِ 25.07 - ابوالقاسم عباس بن فرناس  ِ 25.08 - ثابت ابن قرۃ  ِ 25.09 - ابو بکر محمد بن زکریا الرازی  ِ 25.10 - ابو ا لنصر الفا را بی  ِ 25.11 - ابو الحسن ا لمسعودی  ِ 25.12 - ابنِ سینا  ِ 25.13 - شاہ ولی اﷲ  ِ 25.14 - باباتاج الدین ناگپوریؒ  ِ 25.15 - شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ  ِ 25.16 - محی الدین ابن ِ عربیؒ  ِ 25.17 - قلندر بابا اولیاء ؒ  ِ 25.18 - قرآنی نظریہ  ِ 25.19 - یونیورسٹیاں  ِ 25.20 - روحانیت کے خلاف سازش  ِ 25.21 - ابدی زندگی کا راز  ِ 25.22 - آج کاانسان  ِ 25.23 - الیکٹران  ِ 25.24 - مفکرین اور اقوام عالم  ِ 25.25 - تخلیقی فارمولے  ِ 25.26 - TOM  ِ 25.27 - مادہ اور توانائی  ِ 25.28 - نور کے غلاف  ِ 25.29 - معین مقداریں  ِ 25.30 - ذرات کی تین قسمیں  ِ 25.31 - روشنی کا جال  ِ 25.32 - مغیباتِ اکوان  ِ 25.33 - لہروں کا جال  ِ 25.34 - صوفی اور سائنٹسٹ  ِ 25.00 - ظاہری علوم اورروحانی علوم  ِ 26.01 - علمِ حضوری  ِ 26.02 - علمِ حصولی  ِ 26.03 - اطلاعات کا علم  ِ 26.04 - سائنسی اسکینڈل  ِ 26.05 - مفروضہ علوم  ِ 26.06 - مادی جیالوجسٹ  ِ 26.07 - ہر بیج ایک ڈائی ہے  ِ 26.08 - انسانی فطرت  ِ 26.09 - روحانی جیالوجسٹ  ِ 26.10 - صلاحیتوں کا %  ِ 26.11 - پانچ فیصد صلاحیت  ِ 27.00 - مادی اور روحانی جسم  ِ 27.01 - ارتقاء  ِ 27.02 - باطن الوجود۔ ظاہر الوجود  ِ 27.03 - پہاڑ اُڑتے ہیں  ِ 27.04 - مادہ اور روح ہم رشتہ ہیں  ِ 27.05 - زروجواہر  ِ 27.06 - انسان بے سکون کیوں ہے؟  ِ 28.00 - وسوسوں سے آزاد دنیا  ِ 28.01 - جنت کا دماغ۔ دوزخ کا دماغ  ِ 28.02 - تصوف کے اسباق  ِ 28.03 - روح ِ حیوانی  ِ 28.04 - روح انسانی  ِ 28.05 - روحِ اعظم  ِ 28.06 - دیکھنے کی طرزیں  ِ 28.07 - پانی سے بھرا ہوا گلاس  ِ 28.08 - اندھی آنکھ  ِ 28.09 - حواس میں اشتراک  ِ 28.10 - جذبات کس طرح پیدا ہوتے ہیں  ِ 29.00 - نیند اور بیداری  ِ 29.01 - روح کے زون  ِ 29.02 - روح کی تلاش  ِ 29.03 - خواب اور زندگی  ِ 30.00 - کائنات کا سفر  ِ 30.01 - شعور لاشعور  ِ 30.02 - شعور کا پہلا دن  ِ 30.03 - ہر جگہ ٹائم اور اسپیس ہے  ِ 30.04 - ماضی کی حقیقت  ِ 30.05 - وحدت الوجود ․․․وحدت الشہود  ِ 30.06 - ہم باہر نہیں دیکھتے  ِ 30.07 - نگاہ کی پہلی مرکزیت  ِ 30.08 - نظریۂ رنگ ونور  ِ 31.00 - زمان اور مکان  ِ 31.01 - ہم چلتے ہیں توزمین ہمیں دھکیلتی ہے  ِ 31.02 - آدم کا سراپا  ِ 31.03 - ایک ہزار سال کا ایک دن  ِ 31.04 - ایک رات ۲۳ سال کے برابر  ِ 31.05 - DIMENSION  ِ 31.06 - پروانہ کی عمر  ِ 31.07 - آدمی کی اصل مادہ نہیں ہے  ِ 31.08 - علم کی تشریح  ِ 31.09 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31.10 - پرندے میں عقل و شعور  ِ 31.11 - معاشرتی جانور  ِ 31.12 - جانور روتے ہیں  ِ 31.13 - یقین کا پیٹرن  ِ 31.14 - یقین کیا ہے ؟  ِ 31.15 - پتھر کی مورتیاں  ِ 31.16 - تاروں بھری رات  ِ 31.17 - شعور کا آئینہ  ِ 31.18 - انسان کے اندر کمپیوٹر  ِ 31.19 - کرنٹ اورجان  ِ 31.20 - حق الیقین  ِ 31.21 - عالمِ امر کا مظاہرہ دیکھ کر حضرت عزیرؑ پکار اٹھے  ِ 31.22 - فلم اور سینما  ِ 32.00 - انسانی د ماغ  ِ 32.01 - Sleep Laboratories  ِ 32.02 - وجدانی دماغ  ِ 32.03 - سانس زندگی ہے  ِ 32.04 - غیب کی دنیا  ِ 32.05 - بارہ کھرب خلئے  ِ 32.06 - چراغ میں توانائی  ِ 33.00 - روحانی سائنس  ِ 33.01 - دن کیا ہے۔ رات کیا ہے؟  ِ 33.02 - لامتناہی تفکر  ِ 33.03 - کہکشانی نظام  ِ 33.04 - ہر پرت الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہے  ِ 33.05 - دخان = مثبت کیفیت/ منفی کیفیت  ِ 33.06 - خیالات کا قانون  ِ 33.07 - انا کی لہریں  ِ 33.08 - اندرونی تحریکات  ِ 33.09 - حضرت سلیمان ؑ کا محل  ِ 33.10 - قرآنی سائنس  ِ 33.11 - روحانی حواس  ِ 33.12 - عجیب و غریب سرگزشت  ِ 33.13 - قبر کے اندر
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)