حق آیا اور باطل مٹ گیا

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=410

۱۰رمضان المبارک اۤٹھ ہجری کو اسلامی لشکر مکہ کی جانب روانہ ہوا۔ مکہ سے ایک منزل کے فاصلہ پر اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا۔ سپاہیوں نے الگ الگ الاؤ روشن کئے جس سے تمام صحرا روشن ہوگیا۔

قریش کو اسلامی لشکر کے پڑاؤ کی خبر ملی تو ابو سفیان، بدیل بن ورقا اور حکیم بن حزام کے ساتھ جائزہ لینے کے لئے مرالظہران پہنچے تو محافظ دستہ نے انہیں گرفتار کرلیا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کردیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اخلاق، رحمت و اخلاص سے متاثر ہوکر یہ تینوں مسلمان ہوگئے۔

حضرت عباسؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام سے درخواست کی کہ ابوسفیان چونکہ اسلام میں داخل ہوگیا ہے اسے اعزاز سے نواز دیں ۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ارشاد فرمایا۔

جو مسجد الحرام میں داخل ہوجائے……………….. اسے امان ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے………………. اسے امان ہے۔ جو اپنا دروازہ بند کرلے ……………….. اسے امان ہے۔

مکہ میں داخل ہونے والے پہلے دستہ کی قیادت حضرت علیؓ نے کی ان کے ہاتھوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مخصوص پرچم لہرا رہا تھا۔ دوسرا دستہ زبیر بن عوامؓ کی قیادت میں مغرب کی جانب سے مکہ میں داخل ہوا۔ سعدبن عبادہ انصاری ؓ مشرق کی طرف مکہ میں داخل ہونے والے تیسرے دستے کی سربراہی کررہے تھے۔چوتھے دستے کی قیادت خالد بن ولیدؓ نے کی جوجنوب سے مکہ میں داخل ہوا۔سعد بن عبادہؓ جب مکہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بے اختیار ہوکر یہ بانگ لگادی ۔ ”اۤج کا دن حملہ کا دن ہے اور اۤج حرمت ختم ہوگئی۔” جب یہ خبر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچی تو اۤپؐ نے فرمایا، کہ سعد بن عبادہ ؓ نے غلط کہا ہے اۤج کا دن کعبہ کی عظمت کا دن ہے۔ اۤج کعبہ کو لباس پہنانے کا دن ہے اور سعد بن عبادہ کو دستے کی سربراہی سے ہٹاکر ان کے بیٹے قیس بن سعد کو سپہ سالاری کے فرائض سونپ دیئے۔ سپاہِ اسلام کے سارے دستے کسی مزاحمت کے بغیرمکہ میں داخل ہوگئے۔ البتہ خالد بن ولید کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی لشکر کے چاروں دستے خانہ کعبہ کے سامنے ایک دوسرے سے اۤملے تو حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام سفید اوٹنی پر سوار ظاہر ہوئے اور اۤپؐ نے سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کیا اور خانہ کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ کو امر کیا کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھول دے۔ اس روز پانچ مسلمان خانہ کعبہ میں اۤئے۔

۱۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

۲۔ حضرت علی ؓ

۳۔ عثمان بن زیدؓ

۴۔ حضرت بلال ؓ

۵۔ کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہؓ

حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر خطاب کیا۔ خطبے کے الفاظ یہ ہیں:

” اے مکہ کے باشندو ! تم لوگ جنگ کے قانون سے اۤگاہ ہو اور جانتے ہو کہ عہد شکنی کی سزا کیا ہوتی ہے۔ اب جبکہ تم ہمارے مغلوب ہو مسلمانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ تم سب کو تہہ تیغ کر ڈالیں یا اپنا غلام بنالیں لیکن اۤج میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے تم سب کی بخشش فرمادی ہے چنانچہ تم لوگ اۤزاد ہو اور تمہاری جان و مال پر کوئی تعرض نہیں ہے۔ اے لوگوں ! اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے انہیں ایک دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں مگر تقویٰ کے لحاظ سے۔ خدا کی نظر میں سارے انسان برابر ہیں لہذا دورِ جاہلیت کے وہ تمام اعزازات جو حسب و نسب اور قبیلہ و منصب کی بالادستی پر قائم تھے اۤج منسوخ کئے جاتے ہیں۔ جب پیغمبرِ اسلام ؐ خطبے سے فارغ ہوئے تو اۤپؐ نے ”حق اۤیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل نے مٹ جانا تھا” کا ورد کرتے ہوئے خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے سب سے بڑے بت کو گرا دیا۔ پھر حضرت علی ابن ابی طالبؓ سے کہا کہ تمام بتوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیں اور خانہ کعبہ کی اندرونی اور بیرونی تصویروں کو مٹادیں۔

فتح مکہ کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اور اسلام کے سخت دشمنوں کے مقابلے میں انتہائی نرمی اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور انہیں عفو و بخشش سے نوازا۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک شخص عکرمہ بن ابوجہل تھا جو مسلمانوں کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنی جان کے خوف سے بھاگ گیا تھا۔ عکرمہ کی بیوی حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے پاس اۤئی اور اپنے شوہر کے لئے امان طلب کی۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے عکرمہ کی جاں بخش دی۔

اسلام کے انتہائی خطرناک دشمنوں میں ایک ابوسفیان کی بیوی تھی۔اس عورت نے اسلام کے نامی گرامی سردار حضرت حمزہؓ کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔ ہندہ کو بھی رسول اللہ ؐ نے معاف کردیا ۔ اسلام کا ایک بڑا دشمن صفوان بن امیّہ عفوو درگزر سے بہرہ ور ہوا۔

فتح مکہ کے تیسرے دن سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کچھ مسلمانوں کو یہ ذمہ داری سونپی کہ مکہ کے مضافات میں جائیں اور جہاں بھی بت نظر اۤئیں انہیں توڑ دیں۔ انہی لوگوں میں خالد بن ولیدؓ بھی شامل تھے۔ جنہیں یہ حکم ملا کہ نخلہ جاکر وہاں کے بتوں کا صفایا کردیں۔ جزیرۃالعرب کا مشہور و معروف بت ”عزیٰ” نخلہ میں نصب تھا۔ قبیلہ ہوازن اور اہلِ مکہ ایک دوسرے کے قدیمی اور خاندانی دشمن تھے۔ جب ہوازن نے یہ دیکھا کہ مسلمان ان بتوں کو توڑ کر درحقیقت ان کے عقائد کی جڑیں کاٹ رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔ وادیٔ حنین میں سخت مقابلے کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 165 تا 169

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)