حدیبیہ

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=398

ایک رات سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے خواب دیکھا کہ اۤپؐ صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ہیں اور عمرہ ادا کیاہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے جب تمام مسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے کا عزم کیا تو صحابہ نے پوچھا، کیا اۤپؐ کا ارادہ ہے کہ مکہ پر حملہ کردیا جائے۔سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے جواب دیا، نہیں ہم صرف عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ جارہے ہیں۔ہجرت کے چھٹے سال حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام اپنے دو ہزار (۲۰۰۰(عام روایت ۱۴۰۰ افراد کی ہے)) ساتھیوں کے ہمراہ مکہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ اس بار مسلمانوں کے قافلے میں کئی سو اونٹ بھی شامل تھے۔

سردارانِ قریش کے لئے یہ وقت بہت سخت تھا۔ وہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھے۔ اگر اجازت دے دی جائے کہ مسلمان کئی سو اونٹوں کے ہمراہ شہر میں داخل ہوجائیں تو یہ اندیشہ تھا کہ وہ مکہ پر قبضہ کرلیں گے۔ اگر دو ہزار مسلمان مکہ میں داخل ہوجائیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو دو ہزار سے زیادہ نہیں ہوں گے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ان کے خدشات اور اندیشوں کو دور کرنے کے لئے ایک ایلچی بھیجا جو قریش مکہ کو بتائے کہ مسلمان لڑائی کے لئے نہیں اۤئے ۔ ان کا مقصد صرف کعبہ کی زیارت کرنا ہے۔ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے ، اگر مسلمان جنگ کے لئے اۤتے تو ہتھیار پہن کر اۤتے۔ لیکن سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ایلچی مکہ نہ پہنچ سکا۔ دو سو سواروں کا دستہ جس کی قیادت عکرمہ ابنِ ابوجہل کررہا تھا، راستہ میں مزاحم ہوا اور مسلمانوں کو پکڑ لیا۔ان کے جتنے اونٹ تھے۔ ان کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ ایلچی اور اس کے ساتھی اونٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد ریگستان میں بھٹک گئے۔ قریب تھا کہ وہ ہلاک ہوجائیں خدائی مدد سے مسلمانوں کے قافلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

”ذوالحلیفہ” کے مقام پر مسلمانوں نے قربانی کے اونٹوں پرنشان لگانے کی رسم ادا کی۔ مسلمانوں نے اسی مقام پر عمرہ کے لئے احرام باندھے اور مکہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہر قسم کے ٹکراؤ سے بچنے کے لئے ذوالحلیفہ کا پہاڑی علاقہ اختیار کیا اور مکہ کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔ پھر ذوالحلیفہ کی سرزمین سے گزرنے کے بعد وہ لوگ ایک انتہائی تنگ اور دشوار گزار پہاڑی علاقے میں داخل ہوئے جہاں سے اونٹوں کا گزرنا مشکل اور خطرناک تھا۔ اس پہاڑی علاقے میں مسلمانوں کو سورج کی حدت اور پیاس کی شدت کی وجہ سے بہت تکلیف ہوئی۔لیکن انہوں نے کسی نہ کسی طرح راستہ طے کرلیا۔ اور ایسے علاقے میں داخل ہوگئے جو ”حدیبیہ” کے نام سے مشہور تھا۔ حدیبیہ مکہ سے گیارہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں سے مکہ شہر پوری طرح نظر اۤتا ہے۔ مکہ کے رہنے والے لوگوں کی اۤنکھیں بھیگ گئیں۔ ان کے سینے میں دل تڑپ اٹھا کہ تھوڑی دیر بعد وطن کی مٹی کی سوندھی خوشبو سے جسم و جان معطر ہوجائیں گے۔

لیکن ٹھیک ایسے لمحات میں جبکہ مسلمان احترام کے جذبے اور والہانہ عشق سے مکہ پہونچنے کی تمنا کررہے تھے پیغمبر اسلام ؐ کا اونٹ جس کا نام ثعلب تھا چلتے چلتے رکا اور زمین پر بیٹھ گیا۔ سیّدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے اونٹ کو اٹھانا چاہا وہ اٹھ گیا لیکن اٹھنے کے بعد دو قدم پیچھے ہٹا اور دوبارہ زمین پر بیٹھ گیا۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام اونٹ سے اتر اۤئے اور مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا خدا کی مرضی یہی ہے کہ ہم لوگ اس جگہ قیام کریں ۔ رسول اللہ ؐ کا یہ ارشاد سن کر سارے مسلمان اونٹوں سے اتر اۤئے۔ لیکن وہ بہت غمگین اور دل گرفتہ تھے۔ انہیں توقع نہ تھی کہ مکہ کی حدود میں داخل ہوکر، مکہ سے باہر ٹھہرنا پڑے گا۔ یہ جگہ حدیبیہ کے علاقے میں تھی ۔ موسم بہارمیں پانی یہاں وافر مقدار میں ہوتا تھا۔ لیکن اس وقت وہاں پانی نہیں تھا۔

مسلمانوں نے اللہ کے محبوب دوست پیغمبر السلام رسول اللہ ؐ سے عرض کیا، یارسول اللہ ؐ! ہمارے ساتھ کئی سو اونٹ ہیں اور ہم تقریباً دو ہزار افراد ہیں۔ یہاں پانی نہیں ہے۔ایسے خشک علاقے میں کیسے رہیں گے؟ اۤپؐ کی خدمت میں ہماری گزارش ہے کہ ہم اۤگے بڑھیں اور ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں پانی میسر ہو۔

رسول اللہ ؐ نے دعا کے لئے دونوں ہاتھ اۤسمان کی طرف اٹھائے اور بارگاہ الہی میں عرض کی، ”اے خالق و مالک اللہ! اگر تو پانی مہیا نہ کرے تو مسلمان بے اختیار حرم میں داخل ہوجائیں گے۔” اۤپ ؐ نے وہاں موجود متروک اور خشک کنویں میں اپنے تیر کش میں سے ایک تیر گاڑنے کا حکم دیا۔ تیر گاڑتے ہی کنویں میں سے پانی کا چشمہ اہل پڑا۔

محمدالرسول اللہ ؐ کی اۤمد کی خبر سن کر قریش کے لوگ اس الجھن میں پھنس گئے کہ اگر ہم مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں،جزیرۃ العرب کے لوگ مخالف ہوجائیں گے۔ عرب قبائل یہ سمجھیں گے کہ ہم خانہ کعبہ کے مالک بن بیٹھے ہیں اور حج و عمرہ اور زیارتِ کعبہ اب قریش کی مرضی سے ہوگا اور اگر محمدؐ کے بڑے قافلے کو مکہ میں اۤنے دیتے ہیں تو سارے عرب میں سبکی ہوگی کہ محمدؐ ہم پرغالب اۤگئے۔

اس مخدوش صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے انہوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو سفیر مقرر کیا تاکہ وہ حدیبیہ جاکر محمد ؐ سے مذاکرات کرے۔ عروہ بن مسعود نے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ کس مقصد سے اۤئے ہو؟ سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب دیا کہ ہم خانہ کعبہ کی زیارت کرنے اۤئے ہیں ۔ لڑنے اور جھگڑا کرنے نہیں اۤئے۔عروہ بن مسعود کو قربانی کے وہ اونٹ دکھائے جن پر قربانی کے نشان لگے ہوئے تھے۔ گفتگو کے دوران عروہ نے بڑی بدتمیزی سے سیّدناعلیہ الصلوٰۃوالسلام کے چہرہ اقدس کو ہاتھ لگایا۔ حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نے غضبناک ہوکر تلوار کی نوک اس کے ہاتھ میں چھبوئی اور بولے، گستاخی نہ کر ادب سے بات کر۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عروہ سے کہا، اے عروہ ! اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو اس گستاخی کی سزا میں ہم تجھے موت کی نیند سلادیتے۔

عروہ بن مسعود جب قریش کے پاس پہونچا تو اس نے قریش کے بزرگوں سے کہا:

” میں نے روم کا دربار، حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا دربار دیکھا ہے۔ لیکن جو وفاداری اور جاں نثاری مسلمانوں کے دلوں میں محمدؐ کے لئے ہے وہ مجھے قیصر اور نجاشی کے لئے نظر نہیں اۤئی۔”

عروہ بن مسعود کے بعد ایک اور شخص قریش کے سفیر کی حیثیت سے حدیبیہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان احرام باندھے ہوئے ہیں اور قربانی کے اونٹ ان کے ساتھ ہیں۔ واپس جاکر قریش سے کہا کہ میں نے قربانی کے اونٹوں کو دیکھا ہے ۔ جن پر سلیقہ (قربانی کا مخصوص نشان) بنا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ میں نے سنا کہ وہ حج کا مخصوص ورد پڑھ رہے تھے۔ لہذا اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں کہ وہ کعبہ کی زیارت کرنے اۤئے ہیں اورمیرے خیال میں ان کے اوپر پابندی نہیں لگانی چاہیئے۔لیکن قریش مطمئن نہیں ہوئے۔

تیسری بار حلیس بن علقمہ کو بھیجا گیا۔ حلیس جب وہاں پہنچا تو سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا:

” قریش کے نمائندے کو اۤزاد چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ جہا ں جانا چاہے، جائے۔ جس سے چاہے ملاقات کر ے اور جو چاہے دیکھے۔”

حلیس بن علقمہ نے بھی یہی دیکھا کہ سارے مسلمان احرام باندھے ہوئے ہیں اور قربانی کے لئے اپنے ساتھ اونٹ لائے ہیں۔ حلیس کو مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں کہیں جنگی ہتھیار نظر نہیں اۤئے ۔ حلیس تیزی سے مکہ پہنچا اور قریش کے سامنے اپنے تاثرات بیان کرکے کہا:

” اے مکہ کے سردار ! میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کرنے اۤئے ہیں۔ ان کی نیت میں کھوٹ نہیں ہے۔ میرے خیال میں انہیں مکہ اۤنے کی اۤزادی ہونی چاہیئے۔ ہر شخص کو خانہ کعبہ کی زیارت کا حق ہے ۔ خانہ کعبہ پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔”

قریش کے سردار مکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر رضامند نہیں ہوئے۔ تو حلیس ناراض ہوگیا۔ اور کہا ” اگرتم نے محمد ؐ اور ان کے پیروکاروں کو مکہ میں اۤنے اور کعبہ کی زیارت سے روکا تو میں تم لوگوں سے علیحدہ ہوجاؤں گا اور تم بھی اۤج کے بعد مجھے اپنا اتحادی نہ سمجھنا۔”

قریش اپنی ضد پر اڑے رہے۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اپنے قاصد فراش بن امیہ خزاعی کو مکہ بھیجا تاکہ وہ اہلِ مکہ کے خدشات کو دور کریں۔ قریش نے ان کو گرفتار کرلیا اور ان کے اونٹ کو مار ڈالا۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو اۤپؐ نے حضرت عثمان غنیؓ کو قاصد بناکر مکہ بھیجا۔ حضرت عثمان ؓ نے جب قریش سے ملاقات کی تو اہلِ قریش نے کہا کہ اۤپ ہمارے قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم اۤپ کو اجازت دیتے ہیں کہ کعبہ کا طواف کریں اور عمرہ ادا کریں لیکن محمدؐ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ خانہ کعبہ میں داخل ہوں ۔ کور چشم قریش کی ضد اور ہٹ دھرمی سے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اس دوران مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا گیا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 141 تا 148

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)