ترتیب و پیشکش

مکمل کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=15846

“خطبات لاہور” کتاب آپ کے ہاتھوں میں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر آچکی ہے۔ یہ کتاب در اصل مرشدِ کریم الشیخ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے ان خطبات پر مشتمل ہے جو مراقبہ ہال لاہور کے زیرِ اہتمام لاہور کی سرزمین پر دیئے گئے ہیں۔
یہ صرف مرشدِ کریم کے خطبات نہیں ہیں بلکہ یہ دراصل میرے مرشد کی پکار ہے، ایک آواز ہے…. وہ آواز ہے جس سے ہمارے پیارے نبی حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام نے آج سے چَودہ سو سال پہلے نوعِ انسانی کو آشنا کیا تھا۔ حضور علیہ الصّلوٰۃ السّلام کی یہ پکار دراصل اللہ کی پکار تھی کہ اللہ اپنی مخلوق سے بہت محبت کرتا ہے اور اس بے انتہا محبت کے نتیجے میں مخلوق کو پریشان ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔ اللہ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ہے۔ نبی کریم پیارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ نے نوعِ انسانی کو ایک ایسا نظام دیا جس کے تحت دلوں کی مردہ سرزمین اللہ تعالیٰ کی معرفت اور کبریائی کے انوارات سے زندہ جاوید ہوگئی۔
اسی نظام کے تحت نوعِ انسانی کو زندگی کے ہر معاملے میں راہنمائی عطا فرمائی گئی اوریہ راہنمائی اس طرح سے دی گئی کہ حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام نے اپنی زندگی میں عمل کر کے دکھایا۔ اس نظام سے نوعِ انسانی کو متعارف کرانے کے صلے میں پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے پوری زندگی مصائب و آلام برداشت کئے، لیکن ان تکالیف کو برداشت کرنے کے باوجود حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام اپنی آوز پہنچانے میں، اور اس آواز کے اندر پیغام کو پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی نسبت کے تحت میرے مرشدِ کریم نے بھی مخلوق کو اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے پیغام سے متعارف کرانے کے لئے آواز دی ۔ الحمد للہ! میرے مرشدِ کریم اپنی ڈیوٹی پوری کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ خطبات بھی در اصل میرے مرشد کی آواز کے اندر چھپا ہوا وہ پیغام ہے۔ جس سے نوعِ انسانی متعارف ہو کر دکھ، درد، بیماری، پریشانی اور بے سکونی جیسے زندگی کے تمام افعال و اعمال سے ، خیال اور تصوّرات سے نجات حاصل کر کے جنّت کی زندگی اور ایک سکون آشنا زندگی سے متعارف ہوسکتی ہے۔
میرے مرشدِ کریم کے ان خطبات کے دوران میں قدم بہ قدم اپنے مرشدِ کریم کے ہمراہ رہا۔ ان خطبات کے دوران مجھے ایک بات بہت زبردست لگی کہ ہر پروگرام میں مرشدِ کریم اور ان کے خطبات کی بہت پذیرائی ہوئی ۔ میں نے اپنے مرشد کے اندر ایک عجز و انکساری کی کیفیت ہمہ وقت دیکھی۔ جس نے مجھے بہت متاثر کیا، کہ ایک سلسلہ کے سربراہ، کئی سلاسل کے خانوادہ ، حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی اولاد ، اللہ کے عرفان سے آشنا اور حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام سے قلبی اور باطنی تعارف رکھنے والے شخص کے اندر اتنا عجز و انکسار ہے۔ یہ وہ عاجزی ہے جو پیغمبرانہ تعلیمات کا خاصہ ہے۔ جو صرف اور صرف اللہ اور اللہ کے رسول سے واقف شخص کے اندر ہوسکتی ہے۔ اور جو شخص اللہ سے، نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ سے اور اپنی روح سے واقف نہیں ہے اس کے اندر عجز و انکساری محض لفظوں کا کھیل ہے اور کچھ نہیں۔
میرے مرشدِ کریم نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میاں صاحب زندگی میں اگر کچھ پانا ہے تو ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کئے رہنا۔
میں نے قدم بہ قدم مختلف درسگاہوں میں، کئی اداروں میں اور اپنے بچوں کو تعلیماتِ الٰہیہ سے متعارف کرانے کے لئے مرشدِ کریم کو یہ پکار دیتے ہوئے سنا ہے کہ:
٭اللہ کو ایک مانو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کچھ اللہ ہی سے مانگو۔
٭اللہ کی ذات کا عرفان حاصل کرو۔
٭ حضور محمد الرسول اللہﷺ کا قلبی تعارف حاصل کرو۔
٭ اپنی روح سے واقفیت حاصل کرو جو کہ غور وفکر اور مراقبہ سے ہوسکتی ہے۔
٭ ا پنی ہر چیزکا کفیل اللہ تعالی کو سمجھو۔
٭ اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کردو۔
٭ جھوٹ مت بولو۔ ہمیشہ سچائی کا راستہ اختیار کرو کیونکہ حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام نے ساری زندگی سچ بولا ہے۔
٭ کسی چیز کو اپنی ملکیت نہ سمجھو۔
٭ غرور و تکبر سے بچو ۔ اقتدار کی خواہش سے بچو۔
٭ ہمیشہ عاجزی و انکساری اختیار کرو چاہے جہاں مرضی پہنچ جاؤ۔
٭ کسی کا حق غبا مت کرو۔
٭ فتنہ سے بچو۔ فتنہ بجائے خود ایک ہلاکت ہے۔
٭ تفرقہ بازی مت کرو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔
٭ کسی کی دل آزاری مت کرو۔ روحانیت میں دل آزاری سب سے بڑا جرم ہے۔
٭ تمام نوعِ انسانی کو یکساں سمجھو۔ کسی کو کسی پر برتری نہیں ہے اگر برتری ہے تو متقی اور پرہیز گار شخص کو ہے۔
٭ غصہ مت کرو۔
٭ شک مت کرو۔
مرشدِ کریم کی اس پکار کا اثر ہے کہ پوری دنیا میں مراقبہ ہال کے نام سے سینٹرز بن چکے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں ایک مراقبہ ہال مَوجود ہے۔ جہاں سے پِیر و مُرشد کی انہی تعلیمات کو منعکس کیا جا رہا ہے۔ میں نے “خطباتِ لاہور”کتاب میں، کوشش کی ہے کہ مرشدِ کریم کی ان تعلیمات کو یکجا کر کے ایک تاریخی دستاویز تیار کرلوں۔ اور آج الحمد للہ ، یہ تاریخی دستاویز آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ دستاویز مَوجودہ اور آنے والی نسلوں کے سپرد کی جاتی ہے۔
میں آپ سب دوستوں، سلسلہ کے بہن بھائیوں اور قارئین سے انتہائی ملتجیانہ لہجے میں، درخواست کرتا ہوں کہ میرے مرشدِ کریم کی ان تعلیمات کو یکسو ہو کر ، تنہائی میں بیٹھ کر پڑھنے کے بعد غور و فکر ضرور کیجئے اور ان پر حتی المقدور عمل پَیرا ہونے کی کوشش کیجئے۔ سب باتوں کے بجائے اگر آپ صرف ایک بات پکڑ کر پہلے اس پر عمل کر لیں اور اس کو اپنی ذات میں راسخ کرلیں تو مرشدِ کریم کے ساتھ ساتھ حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی طرزِ فکر بھی آپ کو حاصل ہوجائے گی۔ طرزِ فکر ہی سب کچھ ہے…. جنّت بھی ہے اور دوزخ بھی۔ خود بھی جنّت والی زندگی سے آشنا ہوں اور دوسروں کو بھی جنّت والی پر سکون زندگی سے روشناس کیجئے۔
آخر میں اپنے دوستوں کا مشکور ہوں جنہوں نے اس کتاب کی تیاری اور مواد حاصل کرنے میں میری مدد فرمائی۔ اللہ ان سے راضی ہو اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرشدِ کریم کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل پَیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔ میں نے ہمیشہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ کا فرمان اپنے ذہن میں رکھا کہ۔
با ادب ….. بانصیب،
بے ادب ….. بے نصیب

میاں مشتاق احمد عظیمی
نگراں مراقبہ ہال لاہور۔
2013 -01-27
٭….٭…٭….٭

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 6 تا 9

خطباتِ لاہور کے مضامین :

ِ 0.01 - اِنتساب  ِ 0.02 - ترتیب و پیشکش  ِ 1 - شہرِِ لاہور  ِ 2 - لاہور کے اولیاء اللہ  ِ 3 - مرشدِ کریم کی لاہور میں پہلی آمد  ِ 4 - مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب  ِ 5 - محمد حسین میموریل ہال مزنگ میں عظیمی صاحب کا خطاب  ِ 6 - جامعہ عظیمیہؔ کاہنہ نَو کے افتتاح سے خطاب  ِ 7 - دوسری بین الاقوامی رُوحانی کانفرنس سے خطاب  ِ 8 - جامعہ مسجد عظیمیہؔ کے افتتاح سے خطاب  ِ 9 - سہہ ماہی میٹنگ سے خطاب  ِ 10 - قلندر شعور  ِ 11 - شعور اور لاشعور  ِ 12 - کُن فیکُون  ِ 13 - تقریبِ رُونمائی کتاب”مراقبہ”سے خطاب  ِ 14 - مراقبہ ہال برائے خواتین کے افتتاح پر خطاب  ِ 15 - کتاب “محمدؐ رسول اللّٰہ ﷺ”کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 16 - روحانی سیمینار سے خطاب  ِ 17 - حضرت ابو الفیض قلندر علی سہر وردیؒ کے مزار پر حاضری  ِ 18 - لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب  ِ 19 - کتاب “ہمارے بچے “کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 20 - لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب  ِ 21 - اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خطاب  ِ 22 - محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور  ِ 23 - ایوانِ اقبال میں پہلی سیرت کانفرنس سے خطاب  ِ 24 - سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب  ِ 25 - اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب  ِ 26 - سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)