بیعتِ الرضوان

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=401

سیّدناعلیہ الصلوٰۃوالسلام ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ جو شخص اس میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے کہ اۤخری دم تک وفادار رہے گا۔تمام صحابہ کرامؓ نے اۤپ ؐ کے دست حق پرست پر بیعت کرلی۔اۤپ ؐ نے اپنے دائیں ہاتھ کو عثمان ؓ کا ہاتھ قرار دیا اور ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر حضرت عثمان ؓ کی طرف سے بھی بیعت کی۔

سورۃ فتح میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:

” اور جو لوگ ہاتھ ملاتے ہیں تجھ سے، وہ ہاتھ ملاتے ہیں اللہ سے ، اللہ کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھ کے، پھر جو کوئی قول توڑے سو توڑتا ہے اپنے برے کو اور جوکوئی پورا کرے جسم پر اقرار کیا اللہ سے، دے گا اس کو اجر بڑا۔” (اۤیت نمبر ۱۰)

 

”بیعت الرضوان” کے بعد اطلاع موصول ہوئی کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر درست نہ تھی۔

دو دن دو رات کے طویل مذاکرات کے بعد ” سہیل بن عمرو” کو ایک وفد کی قیادت سونپ کر قریش مکہ نے حدیبیہ بھیجا تاکہ سیّدنا علیہ الصلوۃوالسلام سے ضروری مذاکرات کرے۔مسلمانوں اور اہلِ مکہ کے درمیان ”عدم جارحیت” کا معاہدہ کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے حضرت علی ؓ کو بلوایا اور ان سے کہا کہ وہ معاہدے کی دستاویز تیار کریں۔حضرت علی ؓ نے لکھنا شروع کیا۔ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم” سہیل بن عمرو نے فوراً ٹوکا بولا ہم رحمن اور رحیم کو نہیں مانتے۔علی کو ”باسمک اللھم” لکھنا چاہئیے۔ کیونکہ قدیم زمانے سے ہم عربوں کے تمام معاہدے اسی نام سے شروع ہوتے ہیں ۔ حضرت علی ؓ نے اگلا فقرہ لکھا ” یہ معاہدہ ہوا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان۔ لیکن سہیل بن عمرو نے ایک بار پھر اعتراض کیا اور کہا کہ یوں مت لکھو کیونکہ ہم محمد ؐ کو خدا کا رسول نہیں مانتے اور اگر مانتے تو مکہ میں اۤنے سے کیوں روکتے؟ لہذا اس معاہدے کا اۤغاز یوں ہونا چاہیئے، ” یہ معاہدہ منعقد ہوتا ہے محمد بن عبد اللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان۔” حضرت علی ؓ نے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف دیکھا اور اۤپ ؐ نے کہا۔ ” یا علی وہی لکھو جو سہیل کہتا ہے تاکہ اس کی رضامندی حاصل رہے۔” معاہدہ کے الفاظ یہ ہیں۔

باسمک اللھم۔ یہ معاہدہ منعقد ہوتا ہے محمد بن عبداللہاور سہیل بن عمرو کے درمیان اور اس معاہدے کی رو سے قریش یہ منظور کرتے ہیں کہ اۤئندہ دس سال تک مسلمانوں اور اہلِ مکہ کے درمیان جنگ نہیں ہوگی اور ان دس سالوں میں اگر کوئی شخص قریش کی اجازت کے بغیر مسلمانوں سے اۤملے تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ اسے قریش کے حوالے کردیں لیکن اگر کوئی شخص مسلمانوں سے علیحدہ ہوکر قریش کے پاس اۤجائے تو وہ اسے مسلمانو ں کے حوالے نہیں کریں گے۔ متارکہ جنگ کے ان دس سالوں میں نہ کوئی فریق دوسرے کی جان اور مال پر تعرض کرے گا اور نہ ہی اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس دس سالہ مدت میں قریش کو اجازت ہوگی کہ جس کے ساتھ چاہیں عہد و پیمان باندھیں اور اۤزادانہ معاہدہ کریں اور اپنی مرضی سے راہ و رسم بڑھاہیں۔ مسلمانوں کو اس سال مکہ میں داخل ہونے اور کعبہ کی زیارت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن اگلے سال وہ کعبہ کی زیارت کے لئے اۤسکتے ہیں۔ تاہم شرط یہ ہے کہ تین دن سے زیادہ مکہ میں نہیں ٹھہریں گے اور تلوار کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار اپنے ساتھ نہیں لائیں گے۔

یہ معاہدہ ہجرت کے ساتویں سال حضور علیہ الصلوۃوالسلام اور قریش مکہ کے درمیان ہوا۔ سبھی مسلمان قریش کی طرف سے لگائی ہوئی پابندی سے دل گرفتہ تھے اور اسے اپنی توہین سمجھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے پاس پہنچے اور سوال کیا۔ یا رسول اللہ علیہ الصلوٰۃوالسلام کیا اۤپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم  مکہ جائیں گے اور خانہ کعبہ کا طواف کریں گے؟ حضور ؐ نے جواب دیا تم انشاءاللہ مکہ ضرور جاؤگے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے کی سعادت حاصل کروگے۔

معاہدہ حدیبیہ پر دستخط ہونے کے دو دن بعد ابوجندل(اب جندل مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کے باپ کو معلوم نہیں تھا) مکہ سے بھاگ نکلے اور حدیبیہ پہنچ کر مسلمانوں سے اۤملے ۔ ابوجندل ؓ کے حدیبیہ پہنچتے ہی سہیل بن عمر بھی وہاں اۤگیا اور مسلمانوں کو مخاطب کرکے بولا، ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدے کی رو سے اگر کوئی شخص قریش کے ہاتھوں بھاگ نکلے اور تمہاری پناہ میں اۤجائے تو تمہارا یہ فرض ہے کہ اسے ہمارے حوالے کردو۔ لہذا میرے لڑکے ابو جندل کو میرے حوالے کیا جائے۔ چنانچہ اۤپ ؐ نے بادل نخواستہ ابوجندل ؓ کو ان کے باپ کے حوالے کردیا۔

ابو جندل نے ملتجی ہوکر کہا، یا رسول اللہ ؐ ! میرا باپ مجھے مارڈالے گا۔ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا، ابو جندل ڈرو نہیں اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ لیکن اس واقعہ سے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور کعبہ کی زیارت سے محروم ہونے کے بعد ان کے اعصاب پر یہ دوسرے کاری ضرب تھی ۔ لیکن بیعتِ رضوان نے انہیں بے قابو نہ ہونے دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب یہ دیکھا کہ عام مسلمان بہت ملول اور رنجیدہ ہیں تو اۤپؐ نے انہیں جمع کرکے سورۃ فتح کی اۤیات سنائیں:

ترجمہ:

” اللہ خوش ہوا ایمان والوں سے ، جب ہاتھ ملانے لگے تجھ سے اس درخت کے نیچے، پھر جانا جو ان کے جی میں تھا ، پھر اتارا ان پر چین اور انعام دی ان کو ایک فتح نزدیک۔” (اۤیت نمبر۱۸ )

صلح نامہ کے بعد سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور ذبح کردو اور سر منڈوا کر احرام کھول دہ۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے تین مرتبہ حکم دیا مگر صحابہ کرامؓ اس قدر غمگین ، شکستہ دل اور رنج و غم میں ڈوبے ہوئے تھا کہ انہوں نے اپنی جگہ سے حرکت نہ کی۔

سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام اس موقع پر بہت رنجیدہ ہوئے اور اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے۔ ام المومینن حضرت ام سلمہؓ سے اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اۤپ ؐ اپنا اونٹ ذبح کرکے سرمنڈوالیں مسلمان اۤپؐ کی پیروی کریں گے۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃوالسلام نے جب قربانی کر کے سر منڈوالیا تو صحابہ کرامؓ نے قربانیاں دیں اور سرمنڈوا کر احرام سے نکل اۤئے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 149 تا 154

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)