بسم اﷲ الرحمن الرحیم

مکمل کتاب : احسان و تصوف

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12231

تصوف کی حقیقت، صوفیاء کرام اور اولیاء عظام کی سوانح، ان کی تعلیمات اور معاشرتی کردار کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور ناقدین کے گروہ نے تصوف کو بزعم خود ایک الجھا ہوا معاملہ ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود تصوف کے مثبت اثرات ہر جگہ محسوس کئے گئے۔ آج مسلم امہ کی حالت پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری عمومی صورتحال زبوں حالی کا شکار ہے۔ گذشتہ صدی میں اقوام مغرب نے جس طرح سائنس اور ٹیکنالوجی میں اوج کمال حاصل کیا سب کو معلوم ہے اب چاہیئے تو یہ تھا کہ مسلمان ممالک بھی روشن خیالی اور جدت کی راہ اپنا کر اپنے لئے مقام پیدا کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ شریعت و طریقت کی روشنی میں اپنی مادی ترقی کو اخلاقی قوانین کا پابند بنا کر ساری دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کرتے ایک ایسا نمونہ جس میں فرد کو نہ صرف معاشی آسودگی حاصل ہو بلکہ وہ سکون کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ انتشار و تفریق کے باعث مسلمانوں نے خود ہی تحقیق و تدبر کے دروازے اپنے اوپر بند کر لئے اور محض فقہ و حدیث کی مروجہ تعلیم اور چند ایک مسئلے مسائل کی سمجھ بوجھ کو کافی سمجھ لیا یہی وجہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کے مسلم معاشروں میں بے سکونی اور بے چینی کے اثرات واضح طور پر محسوس کئے جاتے ہیں حالانکہ قرآن و سنت اور شریعت و طریقت کے سرمدی اصولوں نے مسلمانوں کو جس طرز فکر اور معاشرت کا علمبردار بنایا ہے، اس میں بے چینی ، ٹینشن اور ڈپریشن نام کی کوئی گنجائش نہیں۔

خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی تصنیف ’احسان و تصوف‘ کا مسودہ مجھے کنور ایم طارق، انچارج مراقبہ ہال ملتان نے مطالعہ کے لئے دیا اور میں نے اسے تاریخ کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے پڑھا۔ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا نام موضوع کے حوالہ سے باعث احترام ہے۔ نوع انسانی کے اندر بے چینی اور بے سکونی ختم کرنے ، انہیں سکون اور تحمل کی دولت سے بہرہ ور کرنے اور روحانی قدروں کے فروغ اور ترویج کیلئے ان کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔ ایک دنیا ہے جسے آپ نے راہِ خدا کا مسافر بنادیا۔ وہ سکون کی دولت گھر گھر بانٹنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ زیر نظر کتاب تصوف پر لکھی گئی کتابوں میں ایک منفرد و مستند کتاب ہے۔ جس خوبصورت اور عام فہم انداز میں تصوف کی تعریف کی گئی ہے اور عالمین اور زمان و مکان کے سربستہ رازوں سے پردہ ہٹایا گیا ہے یہ صرف عظیمی صاحب ہی کا منفرد انداز اور جداگانہ اسلوب بیاں ہے۔ عظیمی صاحب نے موجودہ دور کے شعوری ارتقاء کو سامنے رکھتے ہوئے تصوف کو جدید سائیٹیفک انداز میں بیان کیا ہے۔ مصنف نے کوشش کی ہے کہ عبادات مثلاً نماز ، روزہ اور حج کا تصوف سے تعلق، ظاہری اور باطنی علوم میں فرق ، ذکر و فکر کی اہمیت، انسانی دماغ کی وسعت اور عالم اعراف کا ادراک جیسے ہمہ گیر اور پراسرار موضوعات کو سادہ اسلوب میں اور بڑے دلنشیں پیرائے میں بیان کیا جائے تاکہ قاری کے ذہن پر بار نہ ہو اور اس کوشش میں وہ کامیاب بھی رہے۔

میرے لئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ یہ کتاب بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ علوم اسلامیہ کے توسط سے شائع ہو رہی ہے۔ میں عظیمی صاحب کی اس کاوش کو سراہتا ہوں کہ انہوں نے طلباء کی ہدایت اور راہنمائی اور علمی تشنگی کو بجھانے کو کیلئے یہ کتاب تحریر فرمائی۔ میں عظیمی صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں اور دعاء کرتا ہوں کہ خدا کرے یہ کتاب عامتہ المسلمین اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہشمند افراد سب کیلئے یکساں مفید ثابت ہو، معاشرہ میں تصوف کا صحیح عکس اجاگر ہو اور الٰہی تعلیمات کو اپنا کر ہم سب دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔ (آمین)

پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی چوہدری
وائس چانسلر
بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 0.03 تا 0.04

احسان و تصوف کے مضامین :

ِ 0.01 - خلاصہ  ِ 0.02 - بسم اﷲ الرحمن الرحیم  ِ 0.03 - قطرۂِ بارش  ِ 1 - تصوف کی تعریف  ِ 1.01 - باطنی مشاہدات  ِ 1.02 - روحانی تشریح  ِ 1.03 - علم ِ شریعت  ِ 1.04 - نفس کا عرفان  ِ 1.05 - تزکیہ نفس  ِ 1.06 - اعمال و اشغال  ِ 2 - تصوف کی تاریخ  ِ 2.01 - زمین پر انسان کا پہلا دن  ِ 2.02 - معاشرتی قوانین  ِ 2.03 - جسمانی رُخ ، روحانی رُخ  ِ 2.04 - ایک اور دنیا  ِ 2.05 - نوعِ انسانی کا پہلا صوفی  ِ 2.06 - نماز میں حُضوری  ِ 2.07 - دعوتِ حق  ِ 2.08 - یَومِ اَزل کا وعدہ  ِ 2.09 - اللہ کے نمائندے  ِ 2.10 - اللہ کی بادشاہی کا رُکن  ِ 2.11 - بَشارت  ِ 2.12 - قرآن اور تصوّف  ِ 2.13 - گھڑی کی سوئیاں  ِ 2.14 - پیدائشی شعور  ِ 2.15 - پہلے آسمان کا شعور  ِ 3 - تصوّف اور رَہبانیّت  ِ 3.01 - تَرکِ دُنیا  ِ 3.02 - مذاہبِ عالَم اور تصوّف  ِ 3.03 - یُونانی تصوّف  ِ 3.04 - یہودی تصوّف  ِ 3.05 - عیسائی تصوّف  ِ 3.06 - ہندومَت اور تصوّف  ِ 3.07 - تصوّف اور سائنس  ِ 4 - تصوّف اور مُعترضین  ِ 4.01 - اعتراضات  ِ 4.02 - قِیاسی علوم  ِ 4.03 - منافِقانہ طرزِ عمل  ِ 4.04 - تارِکُ الدّنیا  ِ 4.05 - تھیا سوفی  ِ 4.06 - اسلام میں تفرّقے  ِ 4.07 - حقوق ﷲ  ِ 5 - تصوّف کی اہمیت و حقیقت  ِ 5.01 - اسلام  ِ 5.02 - ایمان  ِ 5.03 - احسان  ِ 5.04 - اَنفَس و آفاق  ِ 5.05 - حضرت رابعہ بصریؒ  ِ 5.06 - فلاسِفہ اور تصوّف  ِ 5.07 - مذہب اور تصوّف  ِ 5.08 - محبّت  ِ 5.09 - ماورائی شعور  ِ 6 - تصوّف اور مَکارِمِ اخلاق  ِ 6.01 - اِخلاقِ حَسَنہ  ِ 6.02 - فضائلِ اِخلاق  ِ 6.03 - عبادات کا کردار  ِ 6.04 - چار سُتون  ِ 6.05 - سیرتِ طیّبہ اور صوفیاء کرام  ِ 6.06 - ما بعد الطّبیعی اَساس  ِ 6.07 - مؤمن کے اخلاقی اَوصاف  ِ 7 - خدمتِ خلق  ِ 7.01 - مخلوق کی ڈیوٹی  ِ 7.02 - گیارہ ہزار نَوعیں  ِ 7.03 - ہر مخلوق دوسری مخلوق کے ساتھ بندھی ہوئی ہے  ِ 7.04 - کائنات کا ہر ذرّہ تعمیلِ حکم کا پابند ہے  ِ 7.05 - حُقوقِ انسانی اور دیگر مخلوق کے حُقوق  ِ 8 - بیعت  ِ 8.01 - قرآنِ کریم اور بیعت  ِ 8.02 - ضرورتِ شَیخ  ِ 8.03 - شعوری اِستعداد  ِ 8.04 - اساتِذہ کا کردار  ِ 8.05 - بیعت کا قانون  ِ 8.06 - نظامِ تربیّت  ِ 8.07 - روحانی اُستاد کی خصوصیات  ِ 9 - نسبت  ِ 9.01 - نسبتِ عِلمیّہ  ِ 9.02 - نسبتِ سُکَینہ  ِ 9.03 - نسبتِ عشق  ِ 9.04 - نسبتِ جذب  ِ 9.05 - قُربِ نوافل، قُربِ فرائض  ِ 10.0 - مخلوقات  ِ 10.01 - مخلوقات کا حلیہ  ِ 10.02 - خلاء  ِ 10.03 - بیس ہزار فرشتے  ِ 10.04 - دوکھرب سیلز  ِ 10.05 - سانس اور ہوا  ِ 10.06 - خون کی رفتار  ِ 10.07 - اﷲ کی عادت  ِ 10.08 - ہر شئے کی بنیاد پانی ہے  ِ 10.09 - درختوں کی دنیا  ِ 10.10 - بارش برسانے کا فارمولا  ِ 10.11 - فطرت کے قوانین  ِ 10.12 - کائناتی سسٹم  ِ 10.13 - صراطِ مستقیم  ِ 11.0 - انسان  ِ 11.01 - ایک تخلیق سے ہزاروں تخلیقات  ِ 11.02 - زمین اور آسمانوں کی روشنی  ِ 11.03 - روشنیوں کا سفر  ِ 11.04 - علوم سیکھنے کے تقاضے  ِ 11.05 - انسانی ذات کے تین پرت  ِ 11.06 - لطیف انوار۔ کثیف جذبات  ِ 12.0 - جناّت  ِ 12.01 - ابوالجن طارہ نوس:  ِ 12.02 - جنات کی دنیا  ِ 12.03 - مشرک جنات  ِ 12.04 - جنات کی غذا  ِ 12.05 - مسلمان جنات  ِ 12.06 - درخت کی گواہی  ِ 12.07 - مفرد لہریں-مرکّب لہریں  ِ 12.08 - شاگرد جنات  ِ 12.09 - دس لاکھ چھپن ہزار فٹ  ِ 12.10 - جنات کی عمریں  ِ 12.11 - سلطان  ِ 12.12 - جن مسلمانوں کی تعداد  ِ 12.13 - مخلوقات کے چار گروہ  ِ 12.14 - حضرت سلیمان ؑ کا لشکر  ِ 12.15 - ایک خوبصورت روحانی تمثیل  ِ 12.16 - مٹی اور آگ کی تخلیق  ِ 12.17 - جنات کے بارہ طبقے  ِ 12.18 - انہونی بات  ِ 12.19 - جن اور انسان میں عشق  ِ 12.20 - واہمہ اور حقیقت  ِ 12.21 - نسبت نامہ شاہ عبدالعزیزؒ  ِ 12.22 - تعویذ گنڈے سے علاج  ِ 12.23 - خوش اخلاق جنات  ِ 12.24 - جنات کی سی آئی ڈی  ِ 12.25 - جنات کا سول کورٹ  ِ 13.00 - فرشتے  ِ 13.01 - فر شتوں کی کئی قسمیں ہیں  ِ 13.02 - حکم حاکم اعلیٰ:  ِ 13.03 - اﷲکا ہاتھ ر سول اﷲ کی پشت پر  ِ 13.04 - اﷲ جب پیار کرتا ہے  ِ 13.05 - ملائکہ کی قسمیں  ِ 13.06 - انسانی روحیں  ِ 13.07 - حظیرۃ القدس  ِ 13.08 - ملائکہ ٔ اسفل  ِ 13.09 - ملائکہ سماوی  ِ 13.10 - ملائکہ عنصری  ِ 13.11 - کراماً کاتبین  ِ 13.12 - بیت المعمور  ِ 13.13 - فرشتوں کے گروہ  ِ 13.14 - فرشتوں کی صلاحیتیں  ِ 13.15 - کائناتی نظام  ِ 13.16 - اعمال نامہ  ِ 14.00 - لطائف  ِ 14.01 - روحِ اعظم  ِ 14.02 - کشش بعید۔ کشش قریب  ِ 14.03 - چار نورانی نہریں  ِ 14.04 - لطائف ستہ  ِ 14.05 - نورانی لہروں کا نزول  ِ 15.00 - معجزہ، کرامت، استدراج  ِ 15.01 - تصرف کی تین قسمیں ہیں  ِ 15.02 - سنگریزوں نے کلمہ پڑھا  ِ 15.03 - آواز کی فریکوئنسی  ِ 15.04 - ریڈیائی اور مقناطیسی لہریں  ِ 15.05 - کہکشانی نظاموں کا کمپیوٹر  ِ 16.00 - تصوف ،صحابہ کرام ؓؓؓؓاور صحابیات  ِ 16.01 - سیدنا ابوبکر صدیق  ِ 16.02 - سیدنا فاروقِ اعظم عمر بن خطابؓ  ِ 16.03 - سیدنا عثمان ذوالنورینؓ  ِ 16.04 - سیدنا علی ابن ِ ابی طالب:  ِ 16.05 - ام ّ المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ  ِ 16.07 - ام ّ المومنین حضرت عائشہ ؓ:  ِ 16.08 - حضرت بی بی فاطمۃ الزھرا ؓ:  ِ 16.09 - حضرت انس  ِ 16.10 - حضرت سعد بن ابی وقاصؓ  ِ 16.11 - حضرت عبداﷲ بن مسعود  ِ 16.12 - حضرت اسیدبن حضیرعباد ؓ  ِ 16.13 - حضرت جابر  ِ 16.14 - حضرت سفینہ  ِ 16.15 - حضرت ابوہریرہ ؓ  ِ 16.16 - حضرت ربیع بن حراش ؓ  ِ 16.17 - حضرت علاء بن حضرمی ؓ  ِ 16.18 - حضرت اسامہ بن زیدؓ  ِ 16.19 - حضرت سلمان ؓ  ِ 17.00 - نماز اورتصوف  ِ 17.01 - صلوٰ ۃ کی اہمیت  ِ 17.02 - غیب کی دنیا  ِ 17.03 - نماز میں خیالات کاہجوم  ِ 17.04 - اﷲ کا عرفان  ِ 17.05 - روح کا وظیفہ  ِ 17.06 - اﷲ کو دیکھنا  ِ 18.00 - صوم اورتصوف  ِ 18.01 - روزے کا مقصد  ِ 18.02 - روزہ ترک کا نظام ہے  ِ 18.03 - لیلتہ القدر  ِ 19.00 - حج اور تصوف  ِ 19.01 - قرآن کریم اور حج  ِ 19.02 - ارکان حج کی حکمت  ِ 19.03 - اﷲتعالیٰ نے پکارا  ِ 19.04 - کنکریاں مارنے کی حکمت  ِ 19.05 - شک کا جال  ِ 19.06 - سعی کی حکمت  ِ 19.07 - آب ِ زم زم  ِ 19.08 - طواف کی حکمت  ِ 19.07 - مشاہدۂ حق  ِ 19.08 - حلق کرانے کی حکمت  ِ 19.09 - برقی انٹینا  ِ 19.10 - احرام باندھنے کی حکمت  ِ 19.11 - مقناطیسی توانائی  ِ 20.00 - صوفیاء کاحج  ِ 20.01 - حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ  ِ 20.02 - شیخ اکبر ابنِ عربی ؒ  ِ 20.03 - حضرت بایزیدؒ  ِ 20.04 - حضرت عبداﷲ بن مبارک  ِ 20.05 - شیخ حضرت یعقوب بصریؒ  ِ 20.06 - حضرت ابوا لحسن سراجؒ  ِ 20.07 - حضرت عبداﷲ بن صالح  ِ 20.08 - حضرت جنید بغدادیؒ  ِ 20.09 - حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ  ِ 20.10 - حضرت ابراہیم خواصؒ  ِ 20.11 - حضرت شیخ ابوالخیر اقطع ؒ :  ِ 20.12 - حضرت احمد رضا خان بریلوی  ِ 21.00 - سلاسل کی دینی جدّو جہداور نظامِ تربیت  ِ 21.01 - دوسو سلاسل  ِ 21.02 - سلسلہ قادریہ  ِ 21.03 - ابوبکر شبلی  ِ 21.04 - امام غزالی  ِ 21.05 - جنس کی تبدیلی  ِ 21.06 - عورت اور مردکی تخلیق  ِ 21.07 - عیسائی اور مسلمان  ِ 21.08 - لوح محفوظ پرتبد یلی  ِ 21.09 - سلسلہ چشتیہ  ِ 21.10 - حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ  ِ 21.11 - حضر ت خواجہ ممشا ددینوریؒ  ِ 21.12 - سلسلۂ چشتیہ کی خدمات  ِ 21.13 - راگ اور سُر  ِ 21.14 - اندر کی آنکھ  ِ 21.15 - سلسلہ سہروردیہ  ِ 21.16 - بہاؤ الدین زکریا ملتانی  ِ 21.17 - شیخ الاسلام  ِ 21.18 - تبلیغی سرگرمیاں  ِ 21.19 - دین پھیلانے والے تاجر  ِ 21.20 - حضرت زکریا ملتانی کی فلاحی خدمات  ِ 21.21 - سلسلہ نقشبندیہ  ِ 21.22 - دل کی نگرانی کرنی چاہۓ  ِ 21.23 - اویسی فیض  ِ 21.24 - صوفیاءِ کرام کی دینی خدمات  ِ 21.25 - سلسلۂ عظیمیہ  ِ 21.26 - پہلا مدرسہ  ِ 21.27 - تربیت  ِ 21.28 - روزگار  ِ 21.29 - بیعت  ِ 21.30 - مقام ولایت  ِ 21.31 - اخلاق  ِ 21.32 - کشف وکرامات:  ِ 21.33 - تصنیفات  ِ 21.34 - سلسلۂ عظیمیہ کی خدمات  ِ 21.35 - سائنسی انکشافات  ِ 21.36 - دینی جدّو جہد  ِ 22.00 - ذکراذکار  ِ 22.01 - اسم اعظم  ِ 22.02 - گیارہ ہزار حواس  ِ 22.03 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 22.04 - تفکر  ِ 22.05 - حضرت عائشہؓ  ِ 22.06 - ذاکرین اور فرشتے  ِ 22.07 - غازی اور مجاہدین  ِ 22.08 - قانون  ِ 23.00 - مراقبہ  ِ 23.01 - ذہنی مرکزیت  ِ 23.02 - عرفان  ِ 23.03 - مراقبہ کی تعریف:  ِ 23.04 - چراغ کی لو  ِ 23.05 - شہود  ِ 23.06 - بصارت  ِ 23.07 - ماعت  ِ 23.08 - شامہ اور لمس  ِ 23.09 - حضرت معروف کرخیؒ  ِ 23.10 - سیر یا معائنہ  ِ 23.11 - مراقبہ کے فوائد  ِ 23.12 - مراقبہ کی اقسام  ِ 23.13 - ۲۵) مختلف رنگوں کی روشنیوں کے مراقبے:  ِ 23.14 - مراقبہ کرنے کے آداب  ِ 23.15 - مراقبہ کے لیے بہترین اوقات  ِ 23.16 - پرہیز و احتیاط  ِ 23.17 - مرتبہ احسان کامراقبہ  ِ 23.18 - مراقبہ موت  ِ 23.19 - قبرمیں دروازہ  ِ 23.20 - فرشتے کہتے ہیں  ِ 23.21 - ٹانگوں میں انگارے  ِ 23.22 - غیبت  ِ 23.23 - یتیموں کا مال  ِ 23.24 - ملک الموت اورایک عورت کا مکالمہ  ِ 23.25 - مراقبۂ نور  ِ 23.26 - ماضی اورحافظہ  ِ 23.27 - اسمائے الٰہیہ کا مراقبہ  ِ 23.28 - روشنیوں کی اصل  ِ 24.00 - عالم ِ اعراف  ِ 24.01 - کشف القبور  ِ 24.02 - جنت کا باغ  ِ 24.03 - جنت کے انگور  ِ 24.04 - جنت کا لباس  ِ 24.05 - ویڈیوفلم  ِ 24.06 - ہاتف غیبی  ِ 24.07 - کائنات آواز کی باز گشت ہے  ِ 24.08 - آواز میں اسرارو رموز  ِ 24.09 - مراقبہ قلب  ِ 25.00 - مسلمان سائنسدان  ِ 25.01 - قرآن نے بتایا  ِ 25.02 - *عبدا لمالک اصمعی  ِ 25.03 - جابر بن حیان  ِ 25.04 - محمد بن موسیٰ الخوارزمی  ِ 25.05 - علی ابن سہیل ربان الطبری  ِ 25.06 - یعقوب بن اسحاق الکندی  ِ 25.07 - ابوالقاسم عباس بن فرناس  ِ 25.08 - ثابت ابن قرۃ  ِ 25.09 - ابو بکر محمد بن زکریا الرازی  ِ 25.10 - ابو ا لنصر الفا را بی  ِ 25.11 - ابو الحسن ا لمسعودی  ِ 25.12 - ابنِ سینا  ِ 25.13 - شاہ ولی اﷲ  ِ 25.14 - باباتاج الدین ناگپوریؒ  ِ 25.15 - شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ  ِ 25.16 - محی الدین ابن ِ عربیؒ  ِ 25.17 - قلندر بابا اولیاء ؒ  ِ 25.18 - قرآنی نظریہ  ِ 25.19 - یونیورسٹیاں  ِ 25.20 - روحانیت کے خلاف سازش  ِ 25.21 - ابدی زندگی کا راز  ِ 25.22 - آج کاانسان  ِ 25.23 - الیکٹران  ِ 25.24 - مفکرین اور اقوام عالم  ِ 25.25 - تخلیقی فارمولے  ِ 25.26 - TOM  ِ 25.27 - مادہ اور توانائی  ِ 25.28 - نور کے غلاف  ِ 25.29 - معین مقداریں  ِ 25.30 - ذرات کی تین قسمیں  ِ 25.31 - روشنی کا جال  ِ 25.32 - مغیباتِ اکوان  ِ 25.33 - لہروں کا جال  ِ 25.34 - صوفی اور سائنٹسٹ  ِ 25.00 - ظاہری علوم اورروحانی علوم  ِ 26.01 - علمِ حضوری  ِ 26.02 - علمِ حصولی  ِ 26.03 - اطلاعات کا علم  ِ 26.04 - سائنسی اسکینڈل  ِ 26.05 - مفروضہ علوم  ِ 26.06 - مادی جیالوجسٹ  ِ 26.07 - ہر بیج ایک ڈائی ہے  ِ 26.08 - انسانی فطرت  ِ 26.09 - روحانی جیالوجسٹ  ِ 26.10 - صلاحیتوں کا %  ِ 26.11 - پانچ فیصد صلاحیت  ِ 27.00 - مادی اور روحانی جسم  ِ 27.01 - ارتقاء  ِ 27.02 - باطن الوجود۔ ظاہر الوجود  ِ 27.03 - پہاڑ اُڑتے ہیں  ِ 27.04 - مادہ اور روح ہم رشتہ ہیں  ِ 27.05 - زروجواہر  ِ 27.06 - انسان بے سکون کیوں ہے؟  ِ 28.00 - وسوسوں سے آزاد دنیا  ِ 28.01 - جنت کا دماغ۔ دوزخ کا دماغ  ِ 28.02 - تصوف کے اسباق  ِ 28.03 - روح ِ حیوانی  ِ 28.04 - روح انسانی  ِ 28.05 - روحِ اعظم  ِ 28.06 - دیکھنے کی طرزیں  ِ 28.07 - پانی سے بھرا ہوا گلاس  ِ 28.08 - اندھی آنکھ  ِ 28.09 - حواس میں اشتراک  ِ 28.10 - جذبات کس طرح پیدا ہوتے ہیں  ِ 29.00 - نیند اور بیداری  ِ 29.01 - روح کے زون  ِ 29.02 - روح کی تلاش  ِ 29.03 - خواب اور زندگی  ِ 30.00 - کائنات کا سفر  ِ 30.01 - شعور لاشعور  ِ 30.02 - شعور کا پہلا دن  ِ 30.03 - ہر جگہ ٹائم اور اسپیس ہے  ِ 30.04 - ماضی کی حقیقت  ِ 30.05 - وحدت الوجود ․․․وحدت الشہود  ِ 30.06 - ہم باہر نہیں دیکھتے  ِ 30.07 - نگاہ کی پہلی مرکزیت  ِ 30.08 - نظریۂ رنگ ونور  ِ 31.00 - زمان اور مکان  ِ 31.01 - ہم چلتے ہیں توزمین ہمیں دھکیلتی ہے  ِ 31.02 - آدم کا سراپا  ِ 31.03 - ایک ہزار سال کا ایک دن  ِ 31.04 - ایک رات ۲۳ سال کے برابر  ِ 31.05 - DIMENSION  ِ 31.06 - پروانہ کی عمر  ِ 31.07 - آدمی کی اصل مادہ نہیں ہے  ِ 31.08 - علم کی تشریح  ِ 31.09 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31.10 - پرندے میں عقل و شعور  ِ 31.11 - معاشرتی جانور  ِ 31.12 - جانور روتے ہیں  ِ 31.13 - یقین کا پیٹرن  ِ 31.14 - یقین کیا ہے ؟  ِ 31.15 - پتھر کی مورتیاں  ِ 31.16 - تاروں بھری رات  ِ 31.17 - شعور کا آئینہ  ِ 31.18 - انسان کے اندر کمپیوٹر  ِ 31.19 - کرنٹ اورجان  ِ 31.20 - حق الیقین  ِ 31.21 - عالمِ امر کا مظاہرہ دیکھ کر حضرت عزیرؑ پکار اٹھے  ِ 31.22 - فلم اور سینما  ِ 32.00 - انسانی د ماغ  ِ 32.01 - Sleep Laboratories  ِ 32.02 - وجدانی دماغ  ِ 32.03 - سانس زندگی ہے  ِ 32.04 - غیب کی دنیا  ِ 32.05 - بارہ کھرب خلئے  ِ 32.06 - چراغ میں توانائی  ِ 33.00 - روحانی سائنس  ِ 33.01 - دن کیا ہے۔ رات کیا ہے؟  ِ 33.02 - لامتناہی تفکر  ِ 33.03 - کہکشانی نظام  ِ 33.04 - ہر پرت الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہے  ِ 33.05 - دخان = مثبت کیفیت/ منفی کیفیت  ِ 33.06 - خیالات کا قانون  ِ 33.07 - انا کی لہریں  ِ 33.08 - اندرونی تحریکات  ِ 33.09 - حضرت سلیمان ؑ کا محل  ِ 33.10 - قرآنی سائنس  ِ 33.11 - روحانی حواس  ِ 33.12 - عجیب و غریب سرگزشت  ِ 33.13 - قبر کے اندر
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)