اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب

مکمل کتاب : خطباتِ لاہور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=25477

۱۴ اپریل ۲۰۰۶ء کو مراقبہ ہال جامعہ کاہنہ نَو، لاہور میں خواجہ شمس الدین عظیمیؔ صاحب کے زیر سر پرستی کارکنانِ سلسلۂِ عظیمیہ کا ایک شاندار اجتماع منعقد ہوا۔ اس اجتماع کیلئے مراقبہ ہال لاہور کی انتظامیہ نے بہترین منظم انتظام کیا جس کو بہت سراہا گیا۔ ٹیم ورک کے ساتھ کارکنانِ سلسلۂِ عظیمیہؔ نے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی نگرانی میں اجتماعی محفلِ مراقبہ میں شامل ہو کر اپنے اَندر جھانکنے کی حتیٰ المقدور کوشش کی۔ بعد اَز محفل مراقبہ مرشدِ کریم حضرت عظیمی صاحب نے تمام کارکنانِ سلسلۂِ عظیمیہؔ اور مختلف شہروں سے آئے ہوئے مندوبین سے خطاب کیا۔ آخر میں تمام مہمانانِ گرامی اور کارکنان کیلئے بہترین کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا جس کو لوگوں نے بہت پسند فرمایا۔ پروگرام کے اختتام پر میاں مشتاق احمدعظیمی نے انتظامیہ مراقبہ ہال اور تمام خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کیا۔

مرشدِ کریم نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا،:
دوستو ․․․․․ پیارو․․․․․ رُوحانی قافلے کے سالارو….
السّلام علیکم!
آپ سب میری رُوحانی اولاد کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے ․․․․․ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو اپنے کام کیلئے منتخب کر لیتے ہیں، جب تک کام کی تکمیل نہیں ہوتی وہ بندہ اگر چاہے بھی تو اسے دنیا سے آزادی نہیں ملتی۔

اللہ کا اپنا ایک نظام ہے۔ اس نظام SYSTEMمیں مخلوق کا ہر فرد، درخت کا ہر پتہ، پھول کی ہر پنکھڑی، پرندے، چرندے، زمین کے طبقات، معدنیات، نباتات، جمادات، سماوات، جنّات، ملائکۂِ ارضی و سماوی، حاملانِ عرش، جنّت دوزخ، عرش و کرسی، بیت العمور، سِدرۃُ المنتہیٰ، حجابِ عظمت، حجابِ کبریا، حجاب محموداور مقامِ محمود․․․․․اللہ تعالیٰ کے اس نظام کو چلانے والی مشینری کے کَل پرزے ہیں۔ اس نظام میں سے کوئی ایک پرزہ بھی اگر نکال دیا جائے تو مشین رک جائے گی….. کائنات ٹھہر جائے گی۔

اس نظام میں ہر فرد کی اپنی ڈیوٹی ہے….

اس کی مثال یوں ہے کہ ایک اسٹیج ڈرامہ ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ڈرامہ میں سین کے ساتھ کردار اور منظر بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ہم کائناتی نظام کو ڈرامہ سمجھ لیں تو اس ڈرامہ میں ہر فرد کا الگ الگ کردار ہے۔ اس ڈرامہ میں ہر فرد ایک ایکٹر یا ایکٹریس کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ ڈرامہ کی تکمیل کیلئے ضروری ہے کہ اس میں انصاف ہو، ظلم ہو، خیر ہو، شر ہو، گرمی ہو سردی ہو، آندھی اور طوفان ہوں۔ سمندروں کا مدّو جزر ہو، چاند کی چاندنی اور سورج کی روشنی ہو․․․․ کردار مَوجود ہوگا تو ڈرامہ چلتا رہے گا۔ کردار بدلتے رہیں گے۔

آپ سب خواتین و حضرات میری طرف توجّہ فرمائیے!

کتنے باپ مرجاتے ہیں اور ان کی جگہ اور باپ آجاتے ہیں۔ کتنی ماؤں کو زمین کھا جاتی ہے، ان کی جگہ اور مائیں آجاتی ہیں۔ آج جو بچے ہیں کل باپ بن جائیں گے، ہماری ننھی منی بیٹیاں کل مائیں بن جائیں گی۔ آج کی مائیں کل بوڑھی ہو کر قبر میں جا سوئیں گی۔
دنیا کے کارخانہ میں جو بھی مَوجود ہے اس کی ایک حیثیت ہے۔
وہ چاہے یا نہ چاہے اس کو ڈرامے میں کام کرنا ہے…. اسٹیج پر اسے آنا ہے…. جو کردار متعیّن کردیا گیا ہے، اُسے پورا کرنا ہے۔ جبر کے ساتھ کرنا ہے یا خوشی کے ساتھ کرنا ہے۔
ڈرامہ کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کردار پورے نہ ہوں۔
ڈرامہ میں ایک آدمی بہ جبر و کراہ اپنا کردار ادا کرتا ہے دوسرا آدمی خوشی سے اپنا کردار ادا کریا ہے۔ جو بندہ جبر و کراہ اور مجبوری سے اپنا کردار کریا ہے وہ ناخوش رہتا ہے۔ جو بندہ اپنے حصے کا کام ڈیوٹی سمجھ کر کرتا ہے وہ خوش رہتا ہے۔

ہر کام کی نوعیت ہے۔ ڈرامے کی نوعیت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کردار اپنے آپ کو خرچ کر رہا ہے۔ مثلاً آج کا پیدا ہونے والا بچہ بڑھ نہیں رہا، گھٹ رہاہے۔ اگر ایک بچے کی عمر ساٹھ سال ہے تو بچے کی پیدائش کا ہر منٹ، ہر دن، ہر رات، ہر مہینہ، ہر سال کم ہو رہا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو رہا ہے اور عمر بڑھ رہی ہے…. لیکن ایسا نہیں ہے۔ ساٹھ سال تک زندہ رہنے والا بچہ جب ایک سال کا ہوتا ہے انسٹھ سال کا رہ جاتا ہے۔ ایک سال اس کی عمر گھٹ جاتی ہے۔ جب وہ دس سال کا ہوتا ہے بچاس سال عمر رہ جاتی ہے۔ بیس سال کا ہوتا ہے تو چالیس برس عمر باقی رہ جاتی ہے۔ بتانا یہ ہے کہ یہاں ہر شے گھٹ رہی ہے۔ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ بڑھ رہی ہے۔
بندہ بشر اگر اپنے گھٹنے سے واقف نہیں مجبوراً گھٹ رہا ہے لیکن اگر یہ گھٹنا اللہ تعالیٰ کی مشیٔت اور پسندیدگی کے مطابق ہے تو زندگی کا ہر لمحہ کائنات کیلئے ایثار ہے۔ ہر کردار جو اسٹیج پر آ گیا یعنی دنیا میں پیدا ہو گیا اسے اپنا کردار پورا کرنا ہے ․․․․․ اور کردار پورا کرنے کے بعد اسٹیج سے اترجانا ہے۔ اس کی جگہ دوسرا ایکٹر آتا ہے اپنا کردار پورا کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ایکٹرس یا ایکٹر ڈرامے کو مسلسل چلانے کیلئے ایثار کر رہا ہے۔
جتنی مخلوق اب تک پیدا ہوچکی اور جتنی مخلوق اب تک مر چکی ہے زمین کو زندہ رکھنے زمین کی رونق بحال کرنے اور زمین کی کوکھ سے پھول پھلواری اگانے کیلئے اس نے ایثارکیا ہے۔ اس ایثار سے ہی کائنات میں رونق ہے۔ یہاں ہر چیز ایثار کے اوپر قائم ہے۔ ہَوا کا ایثار یہ ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق کو زندگی عطا کرتی ہے۔ پانی کا ایثار یہ ہے کہ وہ مخلوق کو سیراب کرتا ہے۔ آکسجن کا ایثار یہ ہے کہ مرتے ہوئے انسان کو زندگی بخش دیتی ہے…. اور …. کسی روحانی بندے کا ایثار یہ ہے وہ اپنی جان کا…. اپنے خون کا…. ایک ایک قطرہ مخلوق کے اوپر نچھاور کردیتا ہے۔ اگر اللہ کا انعام یافتہ بندہ…. فقیر…. اپنے خون کا ایک ایک قطرہ مخلوق کیلئے نثار نہیں کرتا تو وہ اللہ کا دوست نہیں بن سکتا۔ اسلئے کہ ساری کائنات بجائے خود اللہ کا ایثار ہے۔ اللہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، اللہ سوتا ہے نہ جاگتا ہے، اللہ کی بیوی ہے نہ بچے اور نہ ہی اس کا کوئی خاندان ہے۔ اللہ کا ایثار یہ ہے کہ مخلوق کو کھلا رہا ہے، مخلوق کو پلا رہا ہے، مخلوق کو اولاد عطا کر رہا ہے۔ اللہ ہمہ وقت اپنی مخلوق کی خدمت کر رہاہے۔ مخلوق کیلئے ایثار کر رہا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو عالَمین کا ربّ ہے۔

اللہ چاہتا ہے میری مخلوق پریشان نہ ہو، بھوکی نہ رہے، پیاسی نہ رہے، میری مخلوق کیلئے زمین اتنی سخت نہ ہوجائے کہ جب زمین کے اوپر چلے تو ٹھوکر کھا کر گر پڑے۔ میری مخلوق کیلئے زمین اتنی نرم بھی نہ ہوجائے کہ مخلوق اس میں پھنس جائے ․․․․․ اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ ضروریات زندگی میں کمی نہ ہو۔
آدمؑ کے زمانے میں بہت تھوڑی مخلوق تھی۔ بڑھتے بڑھتے چھ ارب ہوگئی۔ زمین پر آباد نا معلوم آبادیاں جو نہیں معلوم کتنی ہیں….. چھ ارب مخلوق کی ضروریات الٰہی نظام کے تحت آٹو میٹک AUTOMATICپوری ہو رہی ہیں۔ بلا شبہ یہ اللہ کا ایثار ہے۔

حساب کتاب سے یہ بات سامنے آتی ہے اس زمین پر روزانہ اٹھارہ ارب انسان کھانا کھاتے ہیں۔ دوسری مخلوق اس کے علاوہ ہے۔ یہ سمجنای اور کہنا کہ بندہ محنت کر کے روٹی کھا رہا ہے، اچھی بات ہے لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو صحیح بات یہ ہے کہ ہر آدمی خود کو دوسروں پر ایثار کر رہا ہے۔ چاہے یہ ایثار آپ خوشی سے کریں یا خوشی سے نہ کریں۔ آپ سوچ سمجھ کر ایثار کریں، نا دانستگی میں ایثار کریں، بہر حال آپ ایثار کرنے پر مجبور ہیں۔

یہاں سب ایک سے نہیں ہوتے۔ سب پہلوان نہیں ہوتے، سب کمزور نہیں ہوتے۔ سب طاقتور نہیں ہوتے، سب قد آور نہیں ہوتے، کوئی چھوٹے قد کا ہوتا ہے کوئی بڑے قد کا ہوتا ہے۔ کوئی چوڑے سینے کا ہوتا ہے، کوئی ڈیڑھ پسلی کا ہوتا ہے ․․․․․ لیکن جو یہاں اور جس حالت میں بھی ہے اس کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دنیا ایثار کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

انسان پیدا ہوتا ہے۔ چھوٹا سا ہوتا ہے۔ اسے اپنا پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں سے کھایا کہاں سے پیا۔ کھیل کود میں تماشہ بینی میں، بے عقلی میں، بے شعوری میں زندگی گزارتا ہے اور جب ذرا آنکھ کھلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بچپن ختم ہو گیا۔ بچپن ختم ہونے کا مطلب ہے، جوانی کیلئے بچپن کا ایثار کردیا گیا۔ اب ذرا اور بڑا ہوا۔ ہوش و حواس درست ہوئے کچھ پڑھا لکھا تو والدین کی خدمت میں لگ گیا۔ ابّا امّاں کی خدمت، بہن بھائی کی شادی، گھر کی تعمیر میں جو وقت لگا وہ بھی ایثار ہی تو ہے۔ ابھی وہ اس سے فارغ نہیں ہوا کہ شادی ہوگئی۔ اب وہ بیوی کی خواہشات پوری کرنے میں لگ گیا۔ میاں بیوی کیلئے اور بیوی میاں کیلئے ایثار کرتے رہے۔ ابھی کچھ دن گزرے تھے کہ اولاد ہوگئی۔ ماں باپ…. دونوں اولاد کی خدمت اور دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے۔ اولاد جوان ہوئی ان کی شادی کی فکر دامن گیر ہوگئی۔ ذمہ داریاں پوری ہوئیں یا نہیں ہوئیں، زمین نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا اور کھائے ہوئے بھس کی طرح بنا دیا۔ کوشت پوست کھاد بن گیا، ہڈیاں راکھ ہوگئیں۔

روحانی شعور ہم پر واضح کرتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ساتھ ایثار کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے بہر حال اس کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر دن کسی کے اوپر نثار ہورہا ہے۔ اور وہ نثار ہونا ایثار کے زُمرے میں آتا ہے۔

جتنے بھی پیغمبران علیہم الصّلوٰۃ السّلام اس دنیا میں تشریف لائے ان کے حالات و واقعات سامنے ہیں اور سب پیغمبروں کے سرتاج حضور پاک ﷺ کی زندگی بھی ہماری سامنے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کے بنائے ہوئے غلط نظام کو صحیح اور درست کرنا چاہا تو لوگ آپ کے در پے آزار ہوگئے۔ لیکن حضور پاک ﷺ نے تکلیفیں اٹھائیں، پتھر کھائے، لہو لہان ہوئے، راستے میں کانٹے بچھائے گئے، بیت اللہ میں عبادت کے دوران ابوجہل نے کثیف خون اور دوسری گندگیوں سے بھری ہوئی اونٹ کی اوجڑی آپ ؐ کے سر پر رکھ دی۔ چہرہ اور سر مکمل طور پر اوجڑی کے غبارہ میں بند ہو گیا اور اوجڑی کے نچلے سرے کو تھیلی کی طرح مضبوطی سے حضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کی گردن میں باندھ دیاگیا۔ لوگ کھڑے ہوکر تماشہ دیکھتے رہے۔ جمِّ غَفیر میں سے ایک فرد بھی آگے نہ بڑھا کہ اس گندگی اور تعفن کے غلاف سے آپ ؐ کا سر، ناک اور منہ آزاد کردے۔ سب اس انتظار میں تھے کہ دم گھٹ جائے۔ سیدہ رقیہؓ واقعہ کی اطلاع پا کر سراسیمہ حالت میں خانہ کعبہ میں داخل ہوئیں اور روتے ہوئے سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کے سر کو اوجڑی کی گرفت سے آزاد کرایا۔ اپنے دامن سے چہرہ مبارک صاف کیا اور سہارا دے کر اپنے عظیم باپ کو گھر لے آئیں ․․․․․ حد تو یہ ہے کہ بائیکاٹ کردیا گیا۔ بھوک سے بلک بلک کر بے ہوش ہوگئے۔ پانی بند کردیا گیا۔ انتہا یہ ہے کہ مکہ سے انہیں نکلنے پر مجبور کردیا گیا․․․․․ لیکن حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام نے اللہ کے راستے کو نہیں چھوڑا۔ اللہ کی آواز لوگوں تک پہنچاتے رہے۔

اللہ کا راستہ کیوں نہیں چھوڑا․․․․․․؟

اس لئے نہیں چھوڑا کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ایثار کے سوا کچھ نہیں تھی۔ رسو ل اللہ ﷺ نے پوری زندگی اللہ کے لئے اس طرح ایثار کردی جس طرح اللہ ربّ العالَمین نے کائنات کیلئے ایثار کیا ہے۔

يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ …. (سورۃ الفتح – 10)
اللہ کا ہاتھ ہے، اوپر اُن کے ہاتھ کے

جس نے ہمارے محمد ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا، اُس کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جس نے ہمارے محمد ﷺ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ اللہ نے اس سے محبت کی ․․․․․کیوں؟
اس لئے کہ جو ایثار خالقِ کائنات اپنی مخلوق کیلئے کر رہا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ نے کر کے دکھایا اور اسی ایثار کی بنیاد پر محمد رسول اللہ ﷺ رَحمتَ لِّلعالمين ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات میں اعلان فرمادیا :

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (سورۃ الأنبیاء – 107)
اے محبوب ! محمد رسول اللہ اللہ ﷺ ہم نے تجھے عالَمین کیلئے رحمت بنادیا

اللہ ربّ العالَمین ہے۔ اللہ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، اللہ نہ سوتا ہے نہ جاگتا ہے۔ اللہ کو تو اونگھ بھی نہیں پکڑتی، اللہ نہ شادی کرتا ہے، نہ اللہ کی اولاد ہے۔ اللہ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کیلئے ایثار کر رہا ہے۔ مخلوق کیلئے وسائل فراہم کرتا ہے۔ وسائل ترتیب و توازن کے ساتھ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق سے تھوڑی پوچھ کر مخلوق کے ضروریاتِ زندگی اور تقاضے پیدا کئے ہیں۔ جب سے کائنات مَوجود ہے، عالَمین مَوجود ہیں، مخلوق کا کفیل اللہ ہے اور مخلوق کی ضروریات کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اس کے دستِ قدرت سے باہر ہو لیکن اللہ تعالیٰ خود تمام ضروریات سے ماوراء ہے۔

سیدنا حضور علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کے اَندر تمام بشری تقاضے مَوجود ہیں۔
آپ ؐ کو بھوک بھی لگتی تھی…. آپ ؐ سوتے بھی تھے…. آپ ؐ نے شادیاں بھی کیں…. آپ ؐ کی اولاد بھی ہوئی…. آپ ؐ نے کاروبار بھی کیا۔ حضور ﷺ بشری تقاضے پورے کرنے کیلئے وسائل کی تقسیم سے واقف ہیں۔ اس لئے آپ ﷺ نے وسائل استعمال کئے ہیں۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو رَحمتَ لِّلعالمين کا مرتبہ عطا کرکے پوری کائنات میں وسائل کی تقسیم کا نظام آپ ؐ کے سپرد کردیا ہے۔
اللہ کے چہیتے محبوب ﷺ نے اللہ کے لئے شہر چھوڑا۔ غارِ حرا میں تشریف لے گئے۔ وہاں تخلیقی رُموز پر غور و فکر کرتے رہے۔ رشتہ داروں کی باتیں سنیں، کسی نے مجنوں کہا، کسی نے جادوگر کہا۔ طائف گئے تو رشتہ داروں نے منہ موڑ لیا۔ شقی القلب لوگوں نے پتھر مار مار کر لہو لہان کردیا اور کہا…. دیوانہ آگیا… دیوانہ آ گیا…. پَیر مبارک سے جوتا اتارا تو خون سے بھرا ہوا تھا لیکن اللہ کے محبوب بندے نے ایثار نہیں چھوڑا۔ رسول اللہ ؐ کا ایثار اللہ کو اتنا پسند آیا کہ اللہ نے انہیں رَحمتَ لِّلعالمين بنا دیا…. نہ صرف رَحمتَ لِّلعالمين بنادیا بلکہ دین کی تکمیل فرمادی اور وہ علوم عطا فرمادئیے جو تخلیق کے فارمولے ہیں۔

بچہ پیدا ہوتا ہے، ماں کے پیٹ میں بظاہر ہوا، پانی اور غذا کا انتظام نہیں ہے لیکن بچہ کی نشونما ہورہی ہے۔
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ …. (سورۃ آلِ عمران – 6)
اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: دیکھو ہم ماؤں کے پیٹوں میں کیسی تصویر کشی کرتے ہیں….

ماں کا ایثار یہ ہے کہ وہ نو مہینے تک اپنے بچے کو خوشی خوشی خون پلاتی ہے۔ بچہ تو لد ہوتا ہے تو دو سال تک اپنے سینے سے بچے کے اَندر دودھ انڈیلتی رہتی ہے۔
کیا یہ ماں کا ایثار نہیں ہے؟
باپ صبح سے شام سردی میں، گرمی میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ بچوں کی نشونما کرتا ہے۔ بچوں کو اچھی تعلیم دلاتا ہے۔ بچوں کو اچھا کھانا کھلاتا ہے۔ بچوں کی صحت کا خیال کرتا ہے۔ کیا یہ باپ کا ایثار نہیں ہے ؟
اگر ہم غور و فکر کریں تو کائنات کو سمجھنے کیلئے صرف ایک لفظ کافی ہے کہ کائنات …..ایثار کے علاوہ کچھ نہیں ہے….

حضور قلند بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے وصال سے پہلے تین باتیں فرمائی تھیں۔
ایک بات چونکہ میری ذات سے متعلق ہے اس کو ظاہر کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
دو باتیں غرض کئے دیتا ہوں․․․․․․
فرمایا: خواجہ صاحب یہ بات یاد رکھئیے!
1. فقیر کی ذات چمار ہوتی ہے۔ سید، پٹھان، خان، قریشی۔ انصاری، صدیقی، عثمانی کچھ نہیں ہوتی اور چمار کے اوپر آسمان سے بیگار اترتی ہے۔ اس کی ڈیوٹی ہے کہ وہ مخلوق کی خدمت کرے۔
2. دوسری بات یہ ہے کہ : اللہ کا مشن چلانے والے لوگ دیوانے ہوتے ہیں۔ جس روز عقل و شعور آپ پر غالب آ گیا دیوانگی نکل جائے گی…. مشن فیل ہوجائے گا۔ مشن چلانے والا بندہ ایثار کے سوا کسی چیز سے واقف نہیں ہوتا۔
فرمایا:
کسی کو بنانے کیلئے اپنا بہت کچھ کھونا پڑتا ہے۔ جب تک تم اپنے آپ کو کھو نہیں دو گے، دوسرا بندہ کچھ بنے گا نہیں۔ جب تک ماں اپنا خون نچوڑ نچوڑ کر بچے کے حلق میں انڈیل نہیں دیتی بچے کی نشو نما نہیں ہوتی….
دیوانگی ایک ایسی حالت ہے کہ آدمی یہ نہیں سوچتا کہ میرے ساتھ کسی نے کیا کیا ہے….؟
وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ میں کسی کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں؟ اور میں نے اب تک اس کی خدمت کیوں نہیں کی….؟
اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ بندہ میرے لئے کیا کر سکتا ہے ؟ ….. وہ ایک بات جانتا ہے کہ میں اس کیلئے کیا کر سکتا ہوں اور میں نے اب تک اس کیلئے کیوں کچھ نہیں کیا۔

غور فرمائیے! آپ کے اَندر جو الیکٹریسیٹی (Electricity) آرہی ہے، جس کی بنیاد پر آٹو میٹک مشین آپ کے اَندر چل رہی ہے…. وہ انرجی مفت ہے۔ کوئی کنکشن نہ کوئی سوئچ، آن یا آف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مشین چل رہی ہے، جسم کے اَندر ہر پرزہ چل رہا ہے۔ گردے، آنتیں اور دوسرے اعضاء متحرک ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو نہ چل رہی ہو۔ جسم ہر ہاتھ پھیر کر دیکھئے ! کوئی کنکشن نظر نہیں آتا پیروں کے نیچے چھو کر دیکھئے کوئی کرنٹ نظر نہیں آتا۔ زمین پر ہاتھ پھیرئیے وہاں بجلی محسوس نہیں ہوتی، ہاتھ دائیں بائیں لہرائیے ! ہاتھ بجلی کے تاروں سے نہیں ٹکراتا۔ لیکن مشن چل رہی ہے…. کیوں چل رہی ہے؟ کس سورس کے ساتھ چل رہی ہے؟․․․․․․
ایک میگنیٹک فیلڈ MAGNETIC FIELDسے چل رہی ہے۔
میگنیٹک فیلڈ کی روشنیاں ہیں….
لہریں ہیں….
اَنوار ہیں….
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض…. (سورۃ النّور – 35)
اللہ سماوات اور اَرض کی روشنی ہے….. اللہ آسمانوں اور زمین کا نُور ہے….
اس میگنیٹک فیلد سے لوگ سیراب ہورہے ہیں، چل پھر رہے ہیں اور حرکت کر رہے ہیں۔
میگنیٹک فیلڈ اللہ کا نُور ہے۔
تمام کائنات اور کائنات کی تمام انواع کا ہر فرد اللہ کے نُور سے زندگی حاصل کر رہاے ہے۔
اللہ کا نُور آسمانوں اور زمین میں تمام مخلوقات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

سلسلۂِ عظیمیہؔ کی تعلیمات کا نچوڑ یہی ہے کہ:
عظیمیؔ بندہ اگر وہ عظیمیؔ ہے تو وہ ایثار کے سوا کچھ نہیں ہے…. اور اگر اس کے اَندر ایثار نہیں تو وہ عظیمی نہیں ہے….!!
اگر آپ عظیمی بننا چاہتے ہیں اور آپ کو رسول اللہ ﷺ کے دربار میں اپنی شناخت کرانی ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنا ہے تو صرف ایک کام کریں․․․․․
دنیا کیلئے ایثار کریں، اپنے لئے کسی سے کچھ نہ چاہیں۔ اگر آپ نے یہ طریقہ اختیار کر لیا جو قلندر بابا اولیاءؒ کا ذاتی طریقہ ہے…. تو آپ کامیاب ہیں…. اور اگر یہ طریقہ اختیار نہیں کیا تو پھر یہ سب میلہ ٹھیلہ ہے۔

سلسلۂِ عظیمیہؔ کا مشن یہ ہے کہ ہم مخلوق کیلئے ایثار کریں۔ اللہ کیلئے ایثار کریں، ایثار کی تعریف یہ ہے کہ آپ کسی مخلوق، بھائی بہن، بیٹے، بیوی اور شوہر سے کوئی توقع قائم نہ کریں۔ توقع صرف اللہ کے ساتھ قائم کریں۔
بیٹا کس نے دیا؟ اللہ نے….
وسائل کس نے پیدا کئے ․․․․․؟ اللہ نے…..
گھر بنانے اور کھیتی باڑی کرنے کے لئے زمین کس نے بنائی ․․․․․؟ اللہ نے….
آکسیجن، ہَوا، پانی، سورج چاند کس نے بنائے ․․․․․؟ اللہ نے….
سماوات اور ارض کو انسانوں کیلئے کس نے مسخر کیا ․․․․․؟ اللہ نے….
لیکن انسان اصل مالک و خالق سے توقع قائم نہیں کرتا…. بندوں سے توقع قائم کرتا ہے….

بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنے گا یا نہیں…. یہ تو اللہ ہی جانتا ہے…..
بڑے نصیب والے ہیں وہ ماں باپ جن کی اولاد بڑھاپے کا سہارا بنتی جاتی ہے…. کہاں سہارا بنتی ہے وہ تو خود سہارے کی محتاج ہے…. مگر باپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ اپنی اولاد کیلئے کچھ کردوں…. اولاد میرے لئے کچھ کرے نہ کرے۔ جب باپ اللہ کی مخلوق کو اولاد کی طرح سمجھتا ہے تو اولاد بھی باپ کی خدمت کرتی ہے۔ اس لئے کہ اولاد کے اَندر باپ کی طرزِ فکر منتقل ہوتی ہے۔ اولاد باپ کی طرزِ فکر سے متأثرہو کر ماں کیلئے ایثار کرتی ہے۔
لیکن اب زمانہ کی قدریں بدل گئی ہیں….
چھوٹا بھائی بڑے سے توقع قائم کر رہاہے….. بڑا بھائی چھوٹے سے توقع قائم کر رہا ہے۔
بیوی شوہر سے توقع قائم کئے ہوئے ہے…. شوہر بیوی سے توقع قائم کئے ہوئے ہے….
لیکن کوئی خود اپنے اوپر کسی کا حق قائم نہیں کرتا ….
بڑا بھائی چاہتا ہے کہ چھوٹے اس کیلئے خادم بن کر کام کریں مگر وہ چھوٹوں کیلئے ایثار نہیں کرتا….
اولاد چاہتی ہے کہ والدین اولاد کی توقعات پوری کریں…. مگر اولاد والدین کے حقوق پورے نہیں کرتی….
ہر طرف خود غرضی کا مُہیب دیو منہ کھولے کھڑا ہے….!!!
اس غلط طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی شخص اس ہستی سے تعلق قائم نہیں کرتا جو فی الواقع اس بات پر قادر ہے کہ روزانہ لاکھوں خواہشات پوری کر سکتی ہے۔ اللہ کیلئے یہ بالکل معمولی بات ہے…. روزانہ ایک لاکھ خواہشات پوری کرنا بھی اس کیلئے مشکل نہیں ہے۔ اتنا بڑا اللہ جو ہماری ایک کروڑ خواہشات بھی پوری کر سکتا ہے۔ ہم اس سے ایک خواہش بھی پوری نہیں کرانا چاہتے….!!
مخلوق مخلوق کی محتاج بن گئی ہے۔

روحانیت کا منشا یہ ہے کہ مخلوق مخلوق کے کام آئے….
مخلوق مخلوق سے توقع نہ رکھے….
مخلوق صرف اپنے ربّ سے توقع قائم کرے….
جس طرح اللہ تعالیٰ بغیر غرض کے اپنی مخلوق کی خدمت کر رہا ہے…. اُسی طرح بندے بھی بغیر غرض کے اللہ کی مخلوق کے کام آئیں….
جب یہ صورت کسی انسان کے اَندر پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت اس طرح کرے جس طرح اللہ اپنی مخلوق کی خدمت کر رہا ہے تو اللہ خوش ہوتا ہے اور اس بندے کو اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے۔

آپ لوگ مخلوق سے توقعات قائم کر کے اللہ کی قربت سے محروم نہ ہوں۔

مخلوق سے رشتہ قائم رکھو۔ توقعات توڑ دو۔
مخلوق سے رشتہ نظام کا ایک حصہ ہے…. لیکن مخلوق سے توقعات قائم رکھنا اللہ کو نا پسندیدہ ہے….
اس لئے کہ ہمارے وسائل جو مخلوق کی معرفت آپ کو ملتے ہیں…. وہ سب اللہ نے تخلیق کئے ہیں۔

سلسلۂِ عظیمیہؔ کی تعلیمات کی روشنی میں ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اللہ کی مخلوق کی خدمت اس طرح کریں کہ نہ صلہ و ستائش کی تمنا ہو اور نہ مخلوق سے کوئی توقع ہو۔

آپ سب لوگ دور دراز سے تشریف لائے۔ آپ نے میرے لئے، حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کیلئے ایثار کیا۔ اپنے وقت کا ایثار کیا۔ اپنے پیسے کا ایثار کیا۔ اپنے آرام و آسائش کا ایثار کیا۔ میں آپ کیلئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایثار کو قبول فرمائے۔ ہم سب مخلوق کے ساتھ توقعات وابسہ کرنے کے عمل سے آزاد ہوجائیں۔ ہماری توقعات کا محور صرف اللہ کی ذات ہو۔
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے بچوں کی رُوحانی ترقی جتنی ہونی چاہئے تھی نہیں ہوئی….!!
رُوحانی ترقی محدود اسلئے ہے کہ اپنے مرشدِ کریم سے محبت تو بہت ہے…. ایثار بھی ہے…. لیکن اَنا کے خول میں بند ہیں…. اقتدار کا عفریت لپٹا ہوا ہے۔
پِیر و مُرشد کو دیکھنے کا شوق تو بہت ہے مگر مرشد کے علوم سیکھنے کا ذوق کم ہے….
سلسلۂِ عظیمیہؔ کے تمام کارکنا ن، میرے دوست، میرے بچے، میری بہنیں اور بیٹیاں سب پر لازم ہے کہ مراقبہ ضرور کریں چاہے کچھ ہوجائے…. مراقبہ میں کوتاہی نہ کریں…. سلسلے کے اسباق پڑھیں…. قواعد و ضوابط پر عمل کریں…. ان اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط کو بار بار پڑھیں…. یاد کر لیں…. اور ان کی روشنی میں اپنی زندگی کو نئے سانچوں میں ڈھالیں….
غصہ نہ کریں…. منافقت نہ کریں…. کیونکہ منافق بندہ رُوحانی نہیں ہوتا…. اور منافقت یہ ہے کہ آپ سارے دن میں ۱۰۰ مرتبہ یا حيّ یا قیّوم بھی نہ پڑھیں۔
شک نہ کریں۔ کیونکہ جس بندے کے اَندر شک ہے وہ کبھی متّقی نہیں ہو سکتا اور جو متّقی نہیں وہ اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ دنیا سے محبت نہ کریں۔ اس سے بڑی بے وفا چیز کوئی نہیں ہے۔ آپس میں محبت کرو، ایک دوسرے کو بہن بھائیوں کی طرح چاہو، کسی کی بُرائی نہ کرو، چغل غوری اور غیبت نہ کرو، کسی کا حق نہ مارو، جو تم کسی کیلئے کر سکتے ہو وہ کر گزرو اللہ کیلئے خرچ کرو، اللہ بہت دے گا، خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی، خرچ کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ کنجوسی اور بخل سے دلوں میں زنگ لگ جاتا ہے۔ اس گھر کو زنگ لگنے سے بچائیں، جس کو اللہ نے اپنا گھر کہا ہے۔
میری یہ باتیں آپ اپنے ذہن میں محفوظ کرلیں۔ اپنے دلوں پر نقش کرلیں۔ اپنی ڈائریوں اور رجسٹروں میں لکھ لیں کہ:
سچا عظیمی، مخلص اور ایثار پسند آدمی، کبھی بھوکا نہیں رہے گا، ننگا نہیں رہے گا، کبھی بے گھر نہیں رہے گا، کبھی مفلس و قلاش نہیں ہوگا….
میں نہیں رہوں گا میری باتیں آپ کو یاد آئیں گی۔ آپ اللہ کے دئیے ہوئے وسائل میں دل نہ لگائیں بلکہ وسائل دینے والی ذات میں دل لگائیں۔
مسلمانوں کی زبوں حالی کا المیہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے اللہ کی پھیلائی ہوئی دولت کو تو اہمیت دی ہے لیکن اللہ کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے۔
اللہ کو جانیں، اللہ کو سمجھیں کیونکہ انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے بس اللہ ہی اللہ ہے۔ اللہ ہی اول ہے، اللہ ہی آخر ہے، اللہ ہی ابتداء ہے، اللہ ہی انتہا ہے، اللہ ہی ظاہر ہے، اللہ ہی باطن ہے، اللہ ہی نگاہ ہے، اللہ ہی سماعت ہے، اللہ ہی زندگی ہے اور اللہ ہی زندگی گزارنے کا شعور ہے۔
تمام کائنات کا خالق، مالک اور رازق اللہ ہے۔ اللہ ہی مُردہ دلوں کو اپنے نُور سے زندہ کرنے والا ہے۔ جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا تو اللہ ہوگا۔

ہمیں حضور قلندر بابا اولیاءؒ اور نبی کریم ؐ کی طریقوں پر چل کر مالک و حاکم اللہ سے دوستی کرنی ہے۔ اپنی رُوح کو جان کر اللہ کو دیکھنا ہے، اللہ سے تعارف حاصل کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام خواتین و حضرات کو اور اُمّتِ مسلمہ کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے۔ (آمین) السّلام علیکم!

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 284 تا 294

خطباتِ لاہور کے مضامین :

ِ 0.01 - اِنتساب  ِ 0.02 - ترتیب و پیشکش  ِ 1 - شہرِِ لاہور  ِ 2 - لاہور کے اولیاء اللہ  ِ 3 - مرشدِ کریم کی لاہور میں پہلی آمد  ِ 4 - مراقبہ ھال مزنگ کے افتتاح پر خطاب  ِ 5 - محمد حسین میموریل ہال مزنگ میں عظیمی صاحب کا خطاب  ِ 6 - جامعہ عظیمیہؔ کاہنہ نَو کے افتتاح سے خطاب  ِ 7 - دوسری بین الاقوامی رُوحانی کانفرنس سے خطاب  ِ 8 - جامعہ مسجد عظیمیہؔ کے افتتاح سے خطاب  ِ 9 - سہہ ماہی میٹنگ سے خطاب  ِ 10 - قلندر شعور  ِ 11 - شعور اور لاشعور  ِ 12 - کُن فیکُون  ِ 13 - تقریبِ رُونمائی کتاب”مراقبہ”سے خطاب  ِ 14 - مراقبہ ہال برائے خواتین کے افتتاح پر خطاب  ِ 15 - کتاب “محمدؐ رسول اللّٰہ ﷺ”کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 16 - روحانی سیمینار سے خطاب  ِ 17 - حضرت ابو الفیض قلندر علی سہر وردیؒ کے مزار پر حاضری  ِ 18 - لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب  ِ 19 - کتاب “ہمارے بچے “کی تقریب ِ رُونمائی سے خطاب  ِ 20 - لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب  ِ 21 - اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خطاب  ِ 22 - محفلِ میلاد سے خطاب بمقام جامع عظیمیہ لاہور  ِ 23 - ایوانِ اقبال میں پہلی سیرت کانفرنس سے خطاب  ِ 24 - سیرتِ طَیّبہؐ پر اَیوانِ اِقبال میں خطاب  ِ 25 - اراکینِ سلسلۂِ عظیمیہ لاہور سے خطاب  ِ 26 - سیشن برائے رُوحانی سوال و جواب
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)