اذیت کمیٹی

کتاب : محمد الرّسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) جلد اوّل

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=325

مشرکین کی کاروائیاں حق کے پرچار کو روکنے میں کامیاب اور مؤثر ثابت نہیں ہو رہی تھیں۔ کفّار اس صورتِ حال سے پریشان تھے۔ بالاۤخر ۲۵ سردارانِ قریش کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا سربراہ ابولہب تھا۔ کمیٹی نے طے کیا کہ اسلام کی مخالفت، پیغمبرِ اسلام کی ایذاء رسانی اور اسلام لانے والوں کو طرح طرح کے جورو ستم اور ظلم و تشدّد کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائےگی۔

ابولہب عداوتِ محمد الرّسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قدر بڑھ گیا کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دوسرے صاحبزادے حضرت عبد اﷲ کا انتقال ہوا تو ابولہب خوشی سے دوڑتا ہوا اپنے رفقاء کے پاس پہنچا اور انہیں اپنے تئیں خوشخبری سنائی کہ محمدؐ ابتر (نسل بریدہ) ہوگئے ہیں۔ قراۤن حکیم نے ابی لہب کے اس عمل سے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچنے والے دکھ کا مداوا سورۃ کوثر میں کیا ہے۔

ترجمہ: ”ہم نے تجھ کو دی کوثر۔

سو نماز پڑھ اپنے رب کے اۤگے اور قربانی کر۔

بے شک جو بیری ہے تیرا وہی رہا پیچھا کٹا۔ (الکوثر)

ایک دن جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خانہ کعبہ میں اﷲ کی عبادت کر رہے تھے ابوجہل اپنے قبیلے کے کچھ دوسرے افراد کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ ابوجہل کے ہاتھ میں اونٹ کی اوجڑی تھی جس میں کثیف خون اور دوسری گندگیاں بھری ہوئی تھیں۔ جزیرۃ العرب میں کسی کو سزائے موت دینے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ پانی یا خون یا دوسری گندگیوں سے بھری ہوئی اونٹ کی اوجڑی کو سر پر اس طرح چڑھا دیتے تھے کہ سر اور چہرہ اوجڑی کے اندر پھنس جاتا تھا اور پھر اوجڑی کے نچلے حصّے کو کسی تھیلے کے منہ کی طرح مضبوطی سے گردن میں باندھ دیا جاتا تھا۔ اس طرح ناک اور منہ مکمل طور پر اوجڑی کے غبارہ میں بند ہوجاتے تھے اور سانس رک جاتا تھا۔ دم گھٹنے کے باعث جلد موت واقع ہوجاتی تھی۔ اس روز ابوجہل اور اس کے ساتھی یہ فیصلہ کرکے اۤئے تھے کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اوجڑی کے ذریعے ہلاک کردیں گے۔ ابوجہل اور اس کے ساتھی جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے گرد و پیش سے بے خبر اﷲ کے سامنے سر بسجود تھے۔ ابوجہل نے اونٹ کی اوجڑی سجدہ کی حالت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سر پر رکھ دی اور جلد ہی اۤپؐ کا چہرہ اور سر اس اوجڑی میں مبتلا ہوگیا۔ پھر ابوجہل نے بڑی پھرتی کے ساتھ اوجڑی کے دوسرے سرے کو ایک تھیلی کی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گردن میں باندھ دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جیسے ہی یہ احساس ہوا کہ کوئی چیز ان کے سر پر رکھ دی گئی ہے تو انہوں نے اٹھ کر اپنے اۤپ کو نجات دلانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

جو لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اۤس پاس موجود تھے وہ انہیں اپنی رہائی کے لئے تگ و دو کرتا ہوا دیکھ رہے تھے انہیں بخوبی یہ احساس تھا کہ سانس رکنے کے باعث حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جلد ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیقراری اور بیتابی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ سوچا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے اور سر سے اوجڑی کا غلاف اتاردیں لیکن انہیں ابوجہل کا خوف تھا اور وہ جانتے تھے کہ اگر وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدد کریں گے تو ابوجہل جیسے خوفناک شخص کی دشمنی مول لیں گے۔

قریش کی ایک عورت جو وہاں موجود تھی اس کربناک منظر کی تاب نہ لاسکی اور دوڑتی ہوئی حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر پہنچی اور ان کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو اطلاع دی۔ حضرت فاطمہؓ سراسیمہ حالت میں روتے ہوئے خانہ کعبہ تک پہنچی۔ ابوجہل اور دوسرے لوگوں نے جب حضرت فاطمہؓ کو اۤتے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اور حضرت فاطمہؓ نے بلا تاخیر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرے اور سر کو اوجڑی کی گرفت سے اۤزاد کیا اور اپنے دامن سے ان کے چہرے کو صاف کیا۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام دم گھٹنے کے باعث ایک گھنٹہ تک حرکت کرنے کے قابل نہ ہوسکے اور اس کے بعد اپنی بیٹی کے سہارے کھڑے ہوئے اور اۤہستہ اۤہستہ قدم اٹھاتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت فاطمہؓ کی مدد سے اپنے چہرے اور سر سے خون اور دیگر کثافت کو صاف کیا، کپڑے تبدیل کئے۔ حضرت فاطمہؓ نے اپنے والد کے کپڑے دھوکر سکھانے کے لئے دھوپ میں ڈال دئیے۔ اگلے دن حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام گذشتہ روز کے واقعہ سے خوف زدہ ہوئے بغیر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ اس مرتبہ عقبہ نامی شخص نے سجدے کی حالت میں اپنی چادر ان پر ڈال دی اور اتنا شدید حملہ کیا کہ اۤپؐ کی ناک اور منہ سے خون جاری ہوگیا۔ عقبہ یہ کوشش کر رہا تھا کہ سجدے سے سر اٹھانے سے پہلے ہی پے در پے وار کرکے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاتمہ کردے۔ لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے اۤپ کو حملہ اۤور کے ہاتھوں سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئے اور خون اۤلود چہرہ کے ساتھ گھر واپس لوٹ اۤئے۔

ابولہب کی بیوی امِ جمیل جس کا نام ارویٰ تھا۔ ابوسفیان کی بیٹی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانے کی مہم میں پیش پیش تھی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں اور ان کے دروازے پر کانٹے ڈال دیا کرتی تھی۔ اس مذموم فعل پر قراۤن میں سورۃ لہب نازل ہوئی۔ امِ جمیل کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی اور اس کے شوہر کی مذمت میں اۤیات نازل ہوئی ہیں تو وہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو تلاش کرتی ہوئی خانہ کعبہ پہنچ گئی۔ اس ہاتھ میں پتھر تھے جو وہ سنگ باری کے لئے لائی تھی۔ سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی موجود تھے۔ وہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس اۤئی اور پوچھا کہ تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ میری ہجو کرتا ہے۔ اگر میں نے اس کو ڈھونڈ لیا تو یہ پتھر اس کے منہ پر دے ماروں گی۔ اس شور شرابے کے بعد وہ چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا کہ کیا وہ اۤپؐ کو دیکھ نہیں رہی تھی۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب دیا کہ اﷲ نے اس کو وقتی طور پر اندھا کر دیا تھا۔

امیّہ بن خلف ابولہب کی ٹیم کا رکن تھا۔ وہ جب بھی سیّدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھتا لعن طعن کرتا اور مغلظات بکتا تھا۔ قراۤن پاک کی سورۃ ھمزہ کی پہلی اۤیت اسی سیاہ بخت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ترجمہ: ”لعن طعن اور برائیاں کرنے والے کے لئے تباہی ہے۔ ”

اخنس بن شریق ثقفی بھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے والوں میں تھا۔ قراۤن نے سورۃ القلم میں اس کی خباثتیں گنوائی ہیں۔

ترجمہ: ”اور کہا نہ مان کسی قسم کھانے والے کا بے قدر۔ طعنے دیتا چغلی لئے پھرتا، بھلے کام سے روکتا۔ حد سے بڑھتا گنہگار۔ اجڈ، اس سب کے پیچھے بدنام۔ ” ( اۤیت ۱۰۔۱۲ )

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 47 تا 53

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)