آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ

مکمل کتاب : قلندر شعور

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=9389

بحیثیت مجموعی کائنات میں جو رنگ قلندر شعور سے نظر آتے ہیں ان کی تعداد تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ہے جب کہ سائنسدان اب تک تقریباً ساٹھ سے زیادہ رنگ دریافت کر سکےہیں اور عا م حالات میں جب رنگوں کا تذکرہ آتا ہے تو ان کی تعداد سات بتائی جاتی ہے۔ فی الواقع کتنے رنگ ہیں۔ اس کا پورا علم اللہ کو ہے لیکن قلندر شعور سے یہ بات مشاہدے میں آ جاتی ہے کہ کائناتی افراد کی بنیاد رنگ میں اور یہ رنگ جب بہاؤ (Flow) کی شکل اِختیار کر لیتے ہیں تو اس میں ایک کر نٹ پیدا ہو تاہے اور یہ کر نٹ (Electricity) ہی زندگی بنتا ہے۔ آدمی سنکھیا کھا کر اس لئے مر جاتا ہے کہ سنکھیا کے اندر رنگ کے بہاؤ یعنی Electricity کا وولٹیج (Voltage) آدمی کے اندر کام کرنے والے وولٹیج سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ساٹھ واٹ بجلی کے بلب میں کئی ہزار واٹ بجلی دَوڑا دی جائے تو بلب فیوز ہو جاتا ہے۔
ہم جب کر نٹ کو چھوتے ہیں تو شاک (Shock) لگتا ہے۔ شاک لگنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے اندر دَوڑنے والی بجلی میں ایک ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس ہلچل یا طلاطم کو پوری با ڈی (Body) محسوس کرتی ہےاور اگر آدمی کے اندر کام کرنے والے بجلی کا وولٹیج کمزور ہے یا مقدار سے کم ہے تو آدمی گر بھی جاتا ہے اور بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آدمی ایسا طریقہ اِختیار کرے جس طریقے میں بجلی کا بہاؤ براہِ راست اَرتھ نہیں ہوتا تو اسے شاک یا جھٹکا نہیں لگتا۔ اس بات سے مُسلَّمہ منکشف ہُوا کہ کائناتی تخلیق میں نیگیٹو یا پوزٹیو (Negative & Positive) اُصول کے تحت ایسی نَوع بھی مَوجود ہے جو بجلی کے بہاؤ کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اس کلیہ (Equation) سے انکشاف ہوتا ہے کہ ایک، دو، دس، بیس تخلیقی عوامِل ایسے بھی ہیں جو اپنے اندر الیکٹرسٹی ذخیرہ کرنے کی صلاحیّت رکھتے ہیں۔
قلندر شعور ہماری رہنما ئی کرتا ہے کہ ہم کائناتی تخلیقی فارمولوں کے تحت اپنے اندر ہر قسم کی غیر مَرئی (Invisible) صلاحیّتوں کو اپنے اِرادے اور اِختیار سے متحرّک کر سکتے ہیں۔ جب ایک آدمی اپنے اندر دَور کرنے والی بجلی یا نَسمہ (Aura) سے واقف ہو جاتا ہے تو وہ بجلی کے بہاؤ کو روک بھی سکتا ہے اور اپنے اندر زیادہ سے زیادہ وولٹیج کا ذخیرہ بھی کر سکتا ہے اور اس ذخیرہ سے ماورائی دنیا میں بغیر کسی وسیلے کے پرواز بھی کر سکتا ہے۔ الیکٹرسٹی کے ذخیرے کے بعد اس کے اندر ایسی سکت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے اِرادے اور اِختیار سے آسمان اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی زمین کی طرح کہکشاں میں بےشمار زمینیں آ جاتی ہیں۔ جس طرح وہ اپنی زمین پر آباد اللہ کی مخلوق کو دیکھتا ہے اسی طرح کھربوں دنیاؤں کا بھی مشاہدہ کر لیتا ہے۔
قلندر شعور جب بیدار ہوتا ہے تو وہ یہ دیکھ لیتا ہے، جان لیتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ اس دنیا کی طرح اور بھی بےشمار دنیائیں مَوجود ہیں اور ہردنیا ہماری دنیا جیسی ہے۔ جس طرح ہماری دنیا پرآدمی آباد ہیں اسی طرح دوسری دنیاؤں میں بھی آدمی بستے اور رہتے ہیں۔ جس طرح اس دنیا میں اَفزائشِ نسل کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح دوسری دنیاؤں میں بھی شادیاں ہوتی ہیں اور اولادیں پیدا ہوتی ہیں۔ غرضیکہ، اِس دنیا میں اور اِس دنیا سے باہر بےشمار دنیاؤں میں بھی خُورد و نوش، رہن سہن، کھیتی باڑی، کاروبار اور مَرنا جینا سب مَوجود ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 131 تا 133

قلندر شعور کے مضامین :

ِ 0.01 - رباعی  ِ 0.02 - بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیم  ِ 1 - معرفت کی مشعل  ِ 2 - قلندر کا مقام  ِ 3 - جسم اور روح  ِ 4 - جیتی جاگتی تصویر  ِ 5 - ذات کا مطالعہ  ِ 6 - تخلیقی سانچے  ِ 7 - جنسی کشش کا قانون  ِ 8 - ظاہر اور باطن  ِ 9 - نَوعی اِشتراک  ِ 10 - زمین دوز چوہے  ِ 11 - طاقت ور حِسّیات  ِ 12 - سُراغ رساں کتے  ِ 13 - اَنڈوں کی تقسیم  ِ 14 - بجلی کی دریافت سے پہلے  ِ 15 - بارش کی آواز  ِ 16 - منافق لومڑی  ِ 17 - کیلے کے باغات  ِ 18 - ایک ترکیب  ِ 19 - شیر کی عقیدت  ِ 20 - اَنا کی لہریں  ِ 21 - خاموش گفتگو  ِ 22 - ایک لا شعور  ِ 23 - مثالی معاشرہ  ِ 24 - شہد کیسے بنتا ہے؟  ِ 25 - فہم و فراست  ِ 26 - عقل مند چیونٹی  ِ 27 - فرماں رَوا چیونٹی  ِ 28 - شہد بھری چیونٹیاں  ِ 29 - باغبان چیونٹیاں  ِ 30 - مزدور چیونٹیاں  ِ 31 - انجینئر چیونٹیاں  ِ 32 - درزی چیونٹیاں  ِ 33 - سائنس دان چیونٹیاں  ِ 34 - ٹائم اسپیس سے آزاد چیونٹی  ِ 35 - قاصد پرندہ  ِ 36 - لہروں پر سفر  ِ 37 - ایجادات کا قانون  ِ 38 - اللہ کی سنّت  ِ 39 - لازمانیت (Timelessness)  ِ 40 - جِبِلّی اور فِطری تقاضے  ِ 41 - إستغناء  ِ 42 - کائناتی فلم  ِ 43 - ظرف اور مقدّر  ِ 44 - سات چور  ِ 45 - ٹوکری میں حلوہ  ِ 46 - اسباق کی دستاویز  ِ 47 - قومی اور اِنفرادی زندگی  ِ 48 - انبیاء کی طرزِ فکر  ِ 49 - اللہ کی عادت  ِ 50 - عمل اور نیّت  ِ 51 - زمین کے اندر بیج کی نشوونما  ِ 52 - اللہ کی ذَیلی تخلیق  ِ 53 - صحیح تعریف  ِ 54 - کائنات کی رکنیت  ِ 55 - جنّت دوزخ  ِ 56 - توکّل اور بھروسہ  ِ 57 - قلندر شعور اسکول  ِ 58 - سونا کھاؤ  ِ 59 - آٹومیٹک مشین  ِ 60 - انسان، وقت اور کھلونا  ِ 61 - آسمان سے نوٹ گرا  ِ 62 - ساٹھ روپے  ِ 63 - گاؤں میں مرغ پلاؤ  ِ 64 - مچھلی مل جائے گی؟  ِ 65 - پرندوں کا رزق  ِ 66 - درخت اور گھاس  ِ 67 - مزدور برادری  ِ 68 - آدم و حوّا کی تخلیق  ِ 69 - لہروں کا نظام  ِ 70 - رنگوں کی دنیا  ِ 71 - روشنیوں کے چھ قمقمے  ِ 72 - ترکِ دنیا کیا ہے  ِ 73 - زمان و مکان  ِ 74 - خواب اور مراقبہ  ِ 75 - مراقبہ کی قسمیں  ِ 76 - زندگی ایک اطلاع ہے  ِ 77 - مراقبہ کی چار کلاسیں  ِ 78 - پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی  ِ 79 - چھپا ہوا خزانہ  ِ 80 - لوحِ محفوظ  ِ 81 - اللہ کی تجلّی  ِ 82 - کائنات پر حکمرانی  ِ 83 - روشنی کی چار نہریں  ِ 84 - نیابت اور خلافت  ِ 85 - آدم اور ملائکہ  ِ 86 - دوربین آنکھ  ِ 87 - گوشت پوست کا وجود  ِ 88 - اللہ میاں کی جیل  ِ 89 - روحانی بغدادی قاعدہ  ِ 90 - روح اور کمپیوٹر  ِ 91 - سائنس اور خرقِ عادات  ِ 92 - قانون  ِ 93 - معاشرہ اور عقیدہ  ِ 94 - دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ  ِ 95 - مذہب  ِ 96 - سائنسی نظریہ  ِ 97 - تخلیقی فارمولے  ِ 98 - رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے  ِ 99 - آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ  ِ 100 - وقت کی نفی  ِ 101 - آکسیجن اور جسمانی نظام  ِ 102 - دو سَو سال کی نیند  ِ 103 - سانس کے دو رُخ  ِ 104 - توانائی اور روح  ِ 105 - زندگی میں سانس کا عمل دخل  ِ 106 - رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے  ِ 107 - روشنیوں کے گودام  ِ 108 - رنگین شعاعیں  ِ 109 - کرنوں میں حلقے  ِ 110 - برقی رَو کیمرہ  ِ 111 - اَعصابی نظام  ِ 112 - مراقبہ
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)