نظامِ تربیّت
مکمل کتاب : احسان و تصوف
مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی
مختصر لنک : https://iseek.online/?p=20159
تربیت کے دو طریقے ہیں ۔
ایک طریقہ یہ ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ کرتربیت کی جائے ، غصہ کر کے کسی کام سے روکا جائے۔اس طرزِ عمل سے تربیت تو ہوجاتی ہے لیکن بندے کو جب بھی موقع ملتا ہے اور خوف دامن گیرنہیں ہوتا وہ اس کام کو ضرور کرتا ہے جس سے منع کیا گیا تھا۔
تربیت کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوتاہیوں پر صبر کیا جائے اور غلطیوں کو معاف کیا جائے۔ اسقدر معاف کیا جائے کہ بندہ شرمندہ ہوکر ان کو تاہیوں اور غلطیوں کو چھوڑ دے ۔ ایسا شخص غلطیوں کو نہیں دہراتا بلکہ تربیت کرنے والے استاد سے محبت کرتا ہے۔ جا ں نثاری کی آخری حد تک اس کا ساتھ دیتا ہے۔
یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 64 تا 64
احسان و تصوف کے مضامین :
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔
Error: Contact form not found.
