لوحِ دوئم
مکمل کتاب : لوح و قلم
مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ
مختصر لنک : https://iseek.online/?p=244
‘‘جُو’’ تصوّف کی زبان میں مَوجودات کا ایسا مجموعہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے خدوخال پر مشتمل ہے۔ ‘‘جُو’’ لوحِ دوئم کہلاتی ہے اس لئے کہ وہ لوحِ اوّل یعنی لوحِ محفوظ کے متن کی تفصیل ہے۔
لوحِ محفوظ کائنات کی تخلیق سے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات کا مجموعۂِ تصاویر ہے۔ کائنات کے اندر جو بھی حرکت واقع ہونے والی ہے اس کی تصویر مِن و عَن لوحِ محفوظ پر نقش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ کا اِختیار عطا کیا ہے۔ جب انسانی ارادوں کی تصاویر لوحِ محفوظ کی تصاویر میں شامل ہو جاتی ہیں اس وقت لوحِ اوّل لوحِ دوئم کی شکل اِختیار کر لیتی ہے۔ اس ہی لوحِ دوئم کو صوفیاء اپنی زبان میں ‘‘جُو’’ کہتے ہیں یعنی لوحِ محفوظ پہلا عالمِ تَمثال ہے اور جُو دوسرا عالمِ تَمثال ہے جس میں انسانی ارادے بھی شامل ہیں۔
پہلے اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف بیان کرنا ضروری ہے جو قرآنِ پاک میں کی گئی ہیں:
قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدُ o اَللہُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ o وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدُ o
ترجمہ: اے پیغمبرﷺ! کہہ دیجئے اللہ ایک ہے۔ بے نیاز ہے۔ نہ کسی نے اس کو جنا نہ اس نے کسی کو جنا۔ اور نہ اس کا کوئی خاندان ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں:
- پہلی صفَت وحدت… یعنی وہ کثرت نہیں
- دوسری صفَت بےنیازی یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں
- تیسری صفَت یہ کہ وہ کسی کا باپ نہیں
- چوتھی صفَت یہ کہ وہ کسی کا بیٹا نہیں
- پانچویں صفَت یہ کہ اُس کا کوئی خاندان نہیں
یہ تعریف خالق کی ہے اور خالق کی جو بھی تعریف ہو گی مخلوق کی تعریف کے برعکس ہوگی۔ یا مخلوق کی جو بھی تعریف ہو گی، خالق کی تعریف کے برعکس ہو گی۔ اگر ہم خالق کی تعریفاتی حدوں کو چھوڑ کر مخلوق کی تعریف بیان کریں تو اِس طرح کہیں گے کہ:
- خالق وحدت ہے تو مخلوق کثرت ہے
- خالق بے نیاز ہے تو مخلوق محتاج ہے
- خالق باپ نہیں رکھتا تو مخلوق باپ رکھتی ہے
- خالق کا کوئی بیٹا نہیں لیکن مخلوق کا بیٹا ہوتا ہے
- خالق کا کوئی خاندان نہیں لیکن مخلوق کا خاندان ہونا ضروری ہے۔
یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 19 تا 20
لوح و قلم کے مضامین :
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔