یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

نظر کا قانون

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12145

بیداری ہو یا نیند دونوں کا تعلق حواس سے ہے ایک حالت میں یا ایک کیفیت میں حواس کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور ایک حالت یا کیفیت میں حواس کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ لیکن حواس کی نوعیت نہیں بدلتی بیداری ہو یا خواب دونوں میں ایک ہی طرح کے اور ایک ہی قبیل کے حواس کام کرتے ہیں۔ بیداری اور نیند دراصل دماغ کے اندر دو خانے ہوتے ہیں یا یوں کہئے کہ انسان کے اندر دو دماغ ہیں۔ ایک دماغ میں جب حواس متحرک ہوتے ہیں تو اس کا نام بیداری ہے ، دوسرے دماغ میں جب حواس متحرک ہوتے ہیں تو اس کا نام نیند ہے۔ یعنی ایک ہی حواس بیداری اور نیند میں رد و بدل ہو رہے ہیں اور حواس کا رد و بدل ہونا ہی زندگی ہے۔ جب دماغ کے اوپر کے ایک حواس سے متعلق سکوت طاری ہوتا ہے .تودوسرے حواس متحرک ہو جاتے ہیں۔ بیداری میں حواس کے کام کرنے کا قاعدہ اور طریقہ یہ ہے کہ آنکھ کے ڈیلے پر پلک کی ضرب پڑتی ہے تو حوا س کام کرنا شروع کر دیتے ہیں یعنی انسان نیند کے حواس سے نکل کر بیداری کے حواس میں داخل ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس کی مثال کیمرے سے دی جا سکتی ہے۔ کیمرے کے اندر فلم موجود ہے۔ لینز(Lens) بھی موجود ہے۔ لیکن اگر کیمرے کا بٹن نہ دبایا جائے اور شٹر(Shutter) میں حرکت واقع نہ ہو تو فلم پر تصویر نہیں آتی۔ بالکل اسی طرح آنکھ کے ڈیلے پر اگر پلک کی ضرب نہ پڑے تو سامنے موجود مناظر دماغ کی اسکرین پر فلم نہیں بنتے۔ بیداری میں دیکھنے کا یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ جب انسان سونے کے بعد بیدار ہوتا ہے تو فوری طور پر اسے کوئی خیال آتا ہے اور یہ خیال ہی دراصل بیداری اور نیند کے درمیان حد بن جاتا ہے۔ جب اس خیال میں گہرائی واقع ہوتی ہے تو پلک جھپکنے کا عمل شروع ہو تا ہے اور پلک جھپکنے کے ساتھ ساتھ موجود مناظر دماغ کی اسکرین پر منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

دیکھنے کا قانون یہ ہے کہ دماغ پر موجود مناظر کے ساتھ ساتھ علمی حیثیت میں دماغ ایک اطلاع موصول کرتا ہے۔ دیکھنے سے ذہن  اس اطلاع میں معانی پہنا دیتا ہے۔ پلک جھپکنے کے عمل کے ساتھ ساتھ انسانی دماغ میں جو عکس منتقل ہوتا ہے اس کا وقفہ پندرہ سیکنڈ ہوتا ہے۔   ابھی پندرہ سیکنڈ نہیں گزرتے تو نظر کے سامنے مناظر میں سے کوئی ایک ، دو یا زائد مناظر پہلے مناظر کی جگہ لے لیتے ہیں اور یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ قائم رہتا ہے۔

بیداری میں نگاہ کا تعلق آنکھ کے ڈیلوں سے براہ راست ہے۔ آنکھ کے ڈیلوں پر پلکوں کی ضرب آنکھ کے کیمرہ کا وہ بٹن ہے جو بار بار تصویر لیتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ اگر آنکھ کے ڈیلوں کے اوپر پلک کی ضرب نہ پڑے تو آنکھ کے اندر موجود اعصاب کام نہیں کرتے۔ آنکھ کے اندر موجود اعصاب کی حسیں اسی وقت کام کرتی ہیں جب ان کے اوپر پلکوں یا آنکھ کے پردوں کی ضرب پڑتی رہے۔ اگر آنکھ کی پلک کو باندھ دیا جائے اور ڈیلوں کی حرکت رک جائے تو نظر کے سامنے خلاء آ جاتا ہے۔ مناظر کی فلم بندی رک جاتی ہے۔

ساری کائنات اور کائنات کے اندر تمام نوعیں اور افراد ایک مرکزیت کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ زندگی کے مختلف مراحل اور زندگی کے مختلف زمانے ظاہر بین نظروں سے الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن فی الواقع زمانے کا نشیب و فراز اور زندگی کے مراحل میں تغیر و تبدل کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو سب کا تعلق مرکزیت سے قائم ہے۔ افراد کائنات اور مرکزیت کے درمیان لہریں یا شعاعیں رابطہ کا کام کرتی ہیں۔ ایک طرف مرکزیت سے لہریں نزول کر کے افراد کائنات کو فیڈ کرتی ہیں، مرکزیت کو قائم رکھتی ہیں دوسری طرف یہ لہریں افراد کائنات کو فیڈ کرنے کے بعد صعود کرتی ہیں۔ نزول، صعود کا یہ لامتناہی سلسلہ زندگی ہے۔ شعاع اور لہر کے دورانیہ کے پیش نظر کائنات کی جو صورت بنتی ہے اس کو ہم ایک دائرہ کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یعنی پوری کائنات ایک دائرہ ہے۔ صعودی اور نزولی حرکت کے ساتھ تقسیم ہو کر یہ ایک دائرہ چھ دائروں میں جلوہ نما ہوتا ہے۔ کائنات اور افراد کائنات کے پہلے دائرے کا نام ’’نفس‘‘ ہے۔ نفس ایک چراغ ہے۔ جس میں سے روشنی نکل رہی ہے۔ چراغ کی اس روشنی یا لو کا نام نگاہ ہے۔ ظاہر ہے جہاں لو ہو گی وہاں روشنی ہو گی اور جہاں روشنی ہوتی ہے وہاں کا ماحول منور ہو جاتا ہے۔ چراغ کی روشنی جہاں تک پڑتی ہے خود اپنا مشاہدہ کر لیتی ہے۔ چراغ کی لو میں بے شمار رنگ ہیں۔ جتنے رنگ ہیں اتنی ہی کائنات میں رنگینیاں ہیں۔ چراغ کی لو کی روشنی ہلکی، مدہم، تیز اور بہت تیز ہوتی رہتی ہے۔ جن چیزوں پر روشنی بہت ہلکی پڑتی ہے ان چیزوں سے متعلق ہمارے دماغ میں تواہم پیدا ہوتے ہیں اور جن چیزوں پر لو کی روشنی ہلکی پڑتی ہے ان چیزوں سے متعلق ہمارے ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے اور جن چیزوں پر لو کی روشنی تیز پڑتی ہے ان چیزوں کا ہمارے ذہن میں تصور بنتا ہے اور جن چیزوں پر لو کی روشنی بہت تیز پڑتی ہے نگاہ ان کو دیکھ لیتی ہے ۔ دراصل ہم کسی چیز کو دیکھنے کے لئے چار مراحل سے گزرتے ہیں۔

کسی چیز کو دیکھنے اور سمجھنے کے لئے اس چیز کا ہلکا سا وہم دماغ پر وارد ہوتا ہے۔ یعنی کسی چیز سے متعلق ایک ہلکا سا خاکہ بنتا ہے۔ وہم میں گہرائی ہوتی ہے تو خیال بن جاتا ہے۔ خیال میں گہرائی پیدا ہوتی ہے تو ذہن پر اس چیز کے نقش و نگار بن جاتے ہیں۔ نقش و نگار گہرے ہو جاتے ہیں تو خیال تصور بن جاتا ہے اور جب نقش و نگار تصوراتی طور پر خدوخال میں ظاہر ہونے لگتے ہیں تو وہ چیز نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔
تفکر نشاندہی کرتا ہے کہ دیکھنا ایک صلاحیت ہے جو ہلکی سے ہلکی روشنی میں کام کرتی ہے کسی چیز کے ہلکے سے خاکے کو چاہے اس کی حیثیت ’’وہم‘‘ کیوں نہ ہو نگاہ میں منتقل کر دیتی ہے۔ تا کہ مزید تین درجوں میں سفر کر کے اس چیز کو خدوخال کی شکل وصورت اور رنگ و روپ (Dimension) میں دیکھا جا سکے۔ جس طرح ہم نے نگاہ کا قانون بیان کیا ہے اسی طرح ساری حسیں کام کرتی ہیں۔ یہ حسیں شامہ (سونگھنے کی حس) ، سماعت (سننے کی حس)، قوت ذائقہ(چکھنے کی حس) اور لامسہ(چھونے کی حس) ہیں۔ زندگی کی ساری دلچسپیاں زندگی کے سارے اعمال و واقعات و حالات، زندگی کی کل طرزیں اسی قانون پر جاری ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 67 تا 71

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)