یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ نور

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12453

روحانی علوم کے مطابق کائنات کی تخلیق کا بنیادی عنصر نور ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:

’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔‘‘

نور اس خاص روشنی کا نام ہے جو خود بھی نظر آتی ہے اور دوسری روشنیوں کو بھی دکھاتی ہے۔ روشنی، لہریں، رنگ، ابعاد یہ سب نور کی گوناگوں صفات ہیں۔ نور کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت ماضی اور مستقبل دونوں میں سفر کرتا ہے اور ماضی و حال کا ربط قائم رکھتا ہے۔ اگر یہ ربط قائم نہ رہے تو کائنات کا رشتہ ماضی سے منقطع ہو جائے گا اور وہ نابود ہو جائے گی۔ اس کی ایک مثال حافظہ ہے۔ ہم انفرادی اور نوعی طور پر ہر آن اور ہر لمحہ اپنے ماضی سے منسلک ہیں۔ جب ہم اپنے بچپن یا گزرے ہوئے کسی لمحہ کو یاد کرتے ہیں تو نور کے ذریعے ماضی حال میں وارد ہو جاتا ہے اور ہمیں بچپن کے واقعات یاد آ جاتے ہیں۔ نہ صرف انسان بلکہ جنّات، ملائکہ اور دوسری مخلوقات کے حواس بھی نور پر قائم ہیں۔ روحانیت میں نور سے تعارف حاصل کرنے کے لئے مراقبہ نورکرایا جاتا ہے۔ مراقبہ نور کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے:

 

  1. طالب علم تصور کرتا ہے کہ ساری کائنات اور اس کی مخلوقات نور کے وسیع و عریض سمندر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ وہ خود کو
    بھی نور کے سمندر میں ڈوبا ہوا تصور کرتا ہے
  2. عرش کے اوپر سے نور کا دھارا ساری دنیا پر برس رہا ہے۔ صاحب مراقبہ خود پر بھی نور برستا ہوا تصور کرتا ہے۔
  3. قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، اس نور کی مثال طاق کی مانند ہے جس میں چراغ رکھا ہو اور وہ چراغ شیشے کی قندیل میں ہے۔‘‘ (سورہ نور)

روحانی طالب علم اس آیت میں دی گئی مثال کے مطابق تصور کرتا ہے کہ چراغ کی نورانی شعاعوں سے اس کا تمام جسم منور ہو رہا ہے۔
مذاہب عالم نے کسی نہ کسی طرح ایک نظر نہ آنے والی روشنی کا تذکرہ کیا ہے۔ ایسی روشنی جو ساری روشنیوں کی اصل ہے اور تمام موجودات میں موجود ہے۔ انجیل میں درج ہے:

’’خدا نے کہا روشنی اور روشنی ہو گئی۔‘‘

حضرت موسیٰ ؑ نے وادی سینا میں سب سے پہلے جھاڑی میں روشنی کا مشاہدہ کیا اور اسی روشنی کی معرفت اللہ کے کلام سے مشرف ہوئے۔ہندومت میں اس روشنی کا نام جوت ہے۔

روحانی علوم کے ہر مکتبہ فکر میں نور کا مراقبہ کیا جاتا ہے اور طریقہ کم و بیش وہی ہوتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 284 تا 286

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)