یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ عدم

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12493

عدم کا مراقبہ، لا کے مراقبے کی ایک شکل ہے۔ اس مراقبے میں طالب علم آنکھیں بند کر کے ایسی کیفیت کا تصور کرتا ہے جو نفی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کا انہماک ایسے عالم میں ہوتا ہے جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ انسان ہیں، نہ جنات ہیں، نہ شجر و حجر ہیں، نہ کوئی آواز ہے۔ حتیٰ کہ وہ زماں و مکاں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی لاموجود تصور کرتا ہے۔

ابتدائی درجے میں یہ تصور کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ عام حالات میں کوئی شخص ایسی کیفیت سے دوچار نہیں ہوتا جس میں مکمل نفی موجود ہو۔ اس بات کے پیش نظر عدم کا مراقبہ مرحلہ وار کرایا جاتا ہے۔ یعنی ایسی مراقبہ جات کرائے جاتے ہیں جن میں مکمل نفی کے بجائے نفی کا عکس پایا جاتا ہے۔ مثلاً:

  1. طالب علم صحرا یا بیابان کا تصور کرتا ہے۔ جہاں مکمل خاموشی کا راج ہے اور ہر چیز بے حرکت ہے۔ یعنی چاروں طرف ہُو کا عالم طاری ہے۔ اس مراقبے کا دوسرانام مراقبہ بری ہے۔
  2. ایک وسیع و عریض سمندر ہے جس کا پانی بالکل ساکت ہے اور صاحب مراقبہ اس سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کومراقبہ بحر کہتے ہیں۔
  3. طالب یہ تصور کرتا ہے کہ میں موجود نہیں ہوں، صرف ذات حق موجود ہے۔

اس طرح کے تصورات قائم کرنے میں بہت زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔ جب یہ مراحل عبور ہو جاتے ہیں تو مراقبہ عدم کا اصل تصور تلقین کیا جاتا ہے۔

مراقبہ عدم کے ذریعے طالب علم پر وہ کیفیات طاری ہونے لگتی ہیں جو شعوری واردات کے برعکس ہیں۔ جب شعوری واردات کی نفی ہو جاتی ہے تو لاشعوری کیفیات میں سفر شروع ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ عدم سے مراد ایسی دنیا نہیں ہے جس میں کسی چیز کا وجود نہیں بلکہ عدم سے مراد وہ دنیا ہے جس میں لاشعور کے ذریعے سفر ہوتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 313 تا 314

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)