یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ اور مذہب

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12157

ارباب مذہب و منبر کہتے ہیں کہ مراقبہ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور آسمانی صحائف میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔ یہ بات ایک سطحی طرز فکر رکھنے والے شخص کو تو متاثر کرتی ہے لیکن جب دین کی حکمت اور گہرائی تلاش کی جاتی ہے تو یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ جب ہم آسمانی صحائف اور آخری کتاب قرآن پاک کی تعلیمات پر غور کرتے ہیں تو اللہ کی کتاب تفکر کا حکم دیتی ہے۔ تفکر سے مراد یہ ہے کہ تمام تر ذہنی قوت کے ساتھ کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کیا جائے۔ مذہب کا دوسرا اہم ترین رکن صلوٰۃ ہے اور لفظ صلوٰۃ ایک جامع اصطلاح ہے۔ صلوٰۃ کا ترجمہ ہے ربط قائم کرنا۔ ربط قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ ذہنی تفکر کے ساتھ بندہ کا تعلق قائم ہو جائے۔ ذہنی تفکر (Concentration) مراقبہ ہے۔

مراقبہ کو کسی نشست یا طریقہ کار سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ مراقبہ ایک ذہنی کیفیت یا ذہنی فعل ہے۔ دین نے اعمال و ارکان کا جو نظام ترتیب دیا ہے۔ اس میں ظاہری اور باطنی دونوں واردات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ہر رکن اور ہر عمل کی ایک ظاہری شکل و صورت ہے اور دوسری باطنی یا معنوی کیفیت ہے ان دونوں اجزاء کا ایک ساتھ موجود ہونا ضروری ہے۔

مذہبی ارکان و فرائض کے ذریعے جس باطنی کیفیت کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کی انتہا مرتبہ احسان (مراقبہ) ہے۔ محمد الرسول اللہؐ نے باطنی کیفیت کی یاد دہانی ان الفاظ میں کرائی ہے۔

“جب تم صلوٰۃ میں مشغول ہو تو یہ تصور کرو کہ اللہ کو دیکھ رہے ہو یا یہ محسوس کرو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔”

ارکان مذہب کے باطنی وصف (تفکر) کے ذریعے کوئی شخص بالآخر’’صفت احسان‘‘ کو حاصل کر لیتا ہے۔ یعنی اسے ذات باری تعالیٰ کا عرفان نصیب ہو جاتا ہے۔

دور رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام میں اہل ایمان کے لیے محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس مرکز نگاہ تھی۔ صحابہ کی ارواح عشق رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سے رنگین تھیں۔ ان کا بیشتر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بابرکات پر تفکر میں صرف ہوتا تھا۔ ان کو رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گفتگو اور رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعمال و افعال کی حکمت تلاش کرنے میں حد درجہ انہماک تھا۔ اس انہماک کی بدولت وہ روحانی انوار سے پورے پورے فیض یاب ہوتے تھے۔ خدمت نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام میں مسلسل موجود رہنے سے ان کے اندر تفکر و وجدان کا زاویہ از خود پیدا ہو گیا تھا۔ اس بات کو حاصل کرنے کے لئے انہیں کسی کوشش اور محنت کی ضرورت نہ تھی۔

محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد آپ ﷺکا قرب، بُعد سے بدل گیا اور سرچشمہ روحانیت کی فیض رسانی ظاہری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ آہستہ آہستہ دین کا باطنی وصف(تفکر) ذہنوں سے مٹنے لگا اور دین صرف رسوم اور ظاہری اعمال کا مجموعہ بن گیا۔ اولیاء اللہ اور صوفیائے اکرام نے مذہب کی روحانی غرض و غایت کو اجاگر کیا اور باطنی پہلو کی ترتیب و تدوین کرتے ہوئے ضابطے بنائے۔ اس کوشش کا مقصد ذکر کے ساتھ فکر کی راہ کو شامل حال کرنا تھا۔ چنانچہ فکر کی عملی شکل و صورت کو مراقبہ کہا گیا جس کے معنی غور کرنا یا کسی چیز پر Concentrateکرنا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 82 تا 84

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)