یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

كائنات کا قلب

مکمل کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12149

ہمارے ذہن میں ہمہ وقت مختلف خیالات اور تصورات وارد ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں ہمیں اپنا ارادہ استعمال نہیں کرنا پڑتا۔ ارادے اور اختیار کے بغیر خیالات کڑی در کڑی نقطۂ شعور میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی میں خیالات، تصورات، کیفیات اور جو تقاضے کام کرتے ہیں وہ تین درجوں پر مشتمل ہیں۔

ایک طرح کے خیالات و احساسات آدمی کو اپنی موجودگی کا ادراک عطا کرتے ہیں جن کی بدولت آدمی خود کو آدمی کی صورت میں دیکھتا ہے۔ گویا یہ انفرادی احساس ہے۔ اس طرز کا شعور کائنات کی تمام مخلوقات کو حاصل ہے۔ بکری بھی اپنا احساس رکھتی ہے اور فاختہ کو بھی اپنی موجودگی کا احساس ہے۔

دوسرا شعور فرد کو اس کی نوع کے تصورات سے آشنا کرتا ہے مثلاً آدمی کے اندر جب شعور کام کرتا ہے تو آدمی سے آدمی کی پیدائش ہوتی ہے اور گائے سے گائے کا بچہ جنم لیتا ہے۔ آدم کے بچے کے وہی احساسات ہوتے ہیں جو اس کے والدین کے ہیں اور گائے کا بچہ وہی احساسات لے کر پیدا ہوتا ہے جو گائے کے ہیں۔

خیالات و ادراک کا ایک مجموعہ وہ شعور ہے جو تمام مخلوقات میں یکساں جاری ہے اور اس ہی شعور کا مظاہرہ ’’نظر‘‘ ہے۔ یہ شعور جس مقام پر جلوہ گر ہوتا ہے ایک ہی طرز رکھتا ہے۔ مثلاً آدمی پانی کو پانی سمجھتا ہے اور بکری بھی پانی کو پانی سمجھ کر پیتی ہے۔ اس شعور یا نظر کے کردار میں ازل سے ابد تک کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مکانیت کے تبدیل ہونے سے بھی اس کے کردار میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔

اسی شعور کی بدولت تمام مخلوقات ایک دوسرے سے نظر نہ آنے والے رشتے میں بندھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی بنیادی اقدار ایک ہیں۔ بھوک پیاس، رنج و غم، بصارت، سماعت اور لمس کی قوتیں ساری مخلوقات میں موجود ہیں۔ جب یہ قوتیں نوعوں میں حرکت کرتی ہیں تو ہر نوع اپنی اقدار کے مطابق ان کو مختلف طرزوں میں استعمال کرتی ہے۔ مثلاً بھوک کا احساس شیر میں بھی موجود ہے اور بکری میں بھی کام کرتا ہے لیکن دونوں تقاضے کی تکمیل الگ الگ کرتے ہیں۔ خیال میں معانی کی بنیاد پر نوع کا ذہن انفرادی طور پر کام کرتا ہے۔ یعنی نوع کا ذہن فرد میں انفرادی شعور بن جاتا ہے۔

کائناتی ذہن درخت کے بیج کی مانند ہے۔ درخت کا تنا، شاخیں، پھول اور پھل سب کی مادی بنیاد ننھا سا بیج ہے۔ ایک بیج اپنا اظہار ہزار ہا شکلوں میں کرتا ہے۔ اگر بیج نہ ہو تو درخت کا تذکرہ ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح کائناتی ذہن سے تمام نوعیں اور نوع کے افراد حرکت میں آتے ہیں۔ نوع اور نوع میں کام کرنے والے تمام خیالات، تصورات اور احساسات سب ایک اکائی کا پھیلاؤ ہیں۔

اگر نوع کے ذہن کو برقی رو جان لیا جائے تو تمام انواع اور ان کے افراد کی حیثیت برقی قمقموں جیسی ہو گی۔ جس طرح برقی رو بجلی گھر سے تاروں کے ذریعے لاکھوں قمقموں تک پہنچتی ہے اسی طرح کائناتی ذہن سے اطلاعات نوع اور اس کے افراد تک پہنچتی ہیں۔ چونکہ اطلاعات کا نظام برقی رو کی طرح ہے اس لیے تمام انواع کا ذہن ایک دوسرے سے منسلک ہو کر کام کرتا ہے۔

زندگی پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے ذہن کا ایک رخ مادی زندگی میں حرکت کرتا ہے اور دوسرا رخ زندگی کی اطلاعات کا سورس (Source) ہے جس میں زندگی کی تمام اطلاعات اور حرکات محفوظ ہیں۔ ہماری شعوری زندگی اسی حصے کے تابع ہے۔ ہمارے جسم میں ہزار ہا حرکات، کیمیاوی اور برقی اعمال شعوری ارادے کے بغیر واقع ہوتے ہیں مثلاً سانس لینے، پلک جھپکنے، دل دھڑکنے میں ہمیں ارادی قوت صرف نہیں کرنا پڑتی۔ یہ سارے اعمال از خود ایک ترتیب کے ساتھ واقع ہوتے رہتے ہیں۔

تخلیق کے مرحلے میں نوع کے خدوخال، نوع کے تصورات اور اطلاعات فرد سے پیدا ہونے والے بچے کو منتقل ہوتی ہیں۔ پیدائش میں انفرادی شعور کا کردار سطحی ہے۔ نوعی ذہن اور کائناتی ذہن بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

جینیات (Genetics) کے علم کی ترقی کے بعد یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی شکل و صورت ماں باپ یا رشتے داروں سے مشابہت رکھتی ہے۔ نوعی اعتبار سے بچہ ان ہی خدوخال پر پیدا ہوتا ہے جو اس کے نوع کے دیگر افراد کے ہیں۔ نہ صرف جسمانی خدوخال وراثت میں منتقل ہوتے ہیں بلکہ عادات و اطوار بھی منتقل ہوتے ہیں۔ باالفاظ دیگر نوع کے نقوش اور کائناتی ذہن کی صفات ایک ریکارڈ کی طرح والدین سے بچے کو منتقل ہوتی ہیں۔ پیدا ہونے والے ہر بچے میں یہ دونوں ریکارڈ محفوظ ہوتے ہیں۔ جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اس کی نوع کے شعور میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔

ان حقائق سے یہ بات دھوپ کی طرح روشن ہے کہ ہمارے اندر ارادی حرکات سے ماوراء ایک با اختیار اور باشعور نظام کام کرتا ہے۔ اسی باشعور تشخص کو روحانیت میں نوع کا شعور کہتے ہیں اور یہی تشخص جب تمام نوعوں کے اندر مشترک اقدار کو کنٹرول کرتا ہے تو اس کا نام کائنات کا اجتماعی شعور رکھا جاتا ہے۔ یہ دونوں شعور جو پوری کائنات کی بنیاد ہیں مجموعی طور پر ’’روح‘‘ ہیں۔

کسی شخص کے اندر اس کے انفرادی شعور کے ساتھ ساتھ نوع کا ذہن اور کائنات کا شعور بھی موجود رہتا ہے۔ نوع سے مراد ابتدائے آفرینش سے لے کر موجودہ لمحہ تک وجود میں آنے والے افراد ہیں۔ نوع کے محسوسات کا اجتماع فرد کے شعور میں نہیں بلکہ نوع کے ذہن میں ہوتا ہے اور یہیں سے شعور کو منتقل ہوتا ہے۔

مثال:

ایک شخص کتابت کا فن سیکھنا چاہتا ہے۔ جب وہ اس فن کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اس فن کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وقت مقررہ کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے ارادے سے اس فن کا مظاہرہ کر سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے اندر موجود ایک صلاحیت کو حرکت میں لا کر شعور کا حصہ بنا لیا۔ اسی طرح وہ اپنی نوع کے کسی علم یا فن کو سیکھ لیتا ہے۔ یہ صلاحیت انسان کے نوعی ذہن میں محفوظ ہوتی ہے اور یہیں سے منتقل ہو کر شعور کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص اپنی نوع کے ذہن یا کائناتی ذہن کو بیدار کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی کوشش میں کم و بیش اسی طرح کامیاب ہو جاتا ہے جس طرح وہ نوعی ذہن کو متحرک کرنے میں کامیاب ہے۔

اگر انفرادی شعور کی تمام کیفیات نوع کے شعور میں جذب کر دی جائیں تو انفرادی شعور نوع کے شعور میں تحلیل ہو جاتا ہے اور وہ نوع انسانی کے مجموعی شعور سے رابطہ حاصل کر لیتا ہے۔ وہ مظاہر کو وسیلہ بنائے بغیر اپنا خیال کسی بھی شخص کو پہنچا سکتا ہے۔ چاہے وہ کتنے ہی فاصلے پر کیوں نہ ہو۔ اسی طرح وہ اس کے خیال کو وصول بھی کر سکتا ہے۔ خیالات کے اس علم سے تسخیر و تعمیر شخصیت کے بہت سے کام لئے جا سکتے ہیں۔ عرف عام میں اسی علم کو انتقال خیال کہتے ہیں۔ اگر انفرادی شعور ترقی کر کے کائنات کے شعور سے ہم آہنگ ہو جائے تو وہ تمام مخلوقات کے اجتماعی شعور سے آگاہی حاصل کر لیتا ہے۔ حیوانات، جمادات، جنات اور فرشتوں کی حرکات و سکنات معلوم کی جا سکتی ہیں۔ سیاروں اور سماوی نظاموں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر کسی شخص کا انفرادی ذہن، نوعی ذہن اور اس کے بعد کائناتی ذہن میں داخل ہو جائے تو وہ پوری کائنات کا مطالعہ کر سکتا ہے کیونکہ کائنات میں ایک ہی شعور کارفرما ہے اور اس کے ذریعے ہر لہر دوسری لہر کے معانی سمجھتی ہے چاہے یہ دو لہریں کائنات کے دو کناروں پر واقع ہوں۔ چنانچہ اگر ہم اپنی توجہ کے ذریعے شعور کو پس پردہ کام کرنے والے دونوں ذہنوں میں جذب کر دیں تو ان دونوں کو بالکل اسی طرح سمجھ سکتے ہیں جس طرح اپنی شعوری واردات و کیفیات سے واقف ہیں۔

ارتکاز توجہ کے ذریعے اپنے سیارے اور دوسرے سیاروں کے آثار و احوال کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں، حیوانوں، جنات اور فرشتوں کی حرکات و سکنات اور جمادات کی اندرونی تحریکات معلوم کی جا سکتی ہیں۔ مراقبہ کی مسلسل مشق، ارتکاز توجہ کا باعث بنتی ہے اور شعور کائناتی ذہن میں تحلیل ہو کر ضرورت کے مطابق ہر چیز دیکھتا، سمجھتا اور حافظہ میں محفوظ کر دیتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 72 تا 77

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)