حلق کرانے کی حکمت

مکمل کتاب : رُوحانی حج و عُمرہ

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=14321

حلق کرانے کا مطلب بال کٹوانا ہے۔ مرد کے لئے حلق کرانا افضل ہے۔ اور عورتوں کے لئے چوٹی کے آخری سرے سے ایک پور کے برابر بال کاٹنا ضروری ہے۔ حج اور عمرے کے دوران بال نہ کٹوائیں تو دم لازم ہوتا ہے۔ یعنی ایک بکرا یا بکری قربان کرنا ہو گا۔
آدمی کے تمام اعمال و افعال کی بنیاد خیالات کے تانے بانے پر قائم ہے، دماغ خیالات کو قبول کرتا ہے۔ خیالات غیب کی انفارمیشن ہیں۔ غیب عالم لطیف ہے۔ جو روشنیوں کا عالم ہے۔ غیب یا لاشعور سے آنے والی ہر انفارمیشن روشنی کی ایک معین مقدار ہے۔ ہمارا جسمانی نظام الیکٹرک کرنٹ پر قائم ہے۔ جسم میں برقی رو کام کر رہی ہے۔ یہ برقی رو جسم کی حرکات کے لئے انرجی مہیا کرتی ہے۔
مادی جسم کے اطراف میں برقی قوت ایک دائرے کی صورت میں جسم کو گھیرے ہوئے ہے۔ غیب کی انفارمیشن یا روشنی اس برقی فیلڈ میں داخل ہوتی ہے تو جسم حرکت کرتا ہے۔ برقی رو جسم سے رشتہ منقطع ہو جائے تو موت وارد ہو جاتی ہے۔
سر کے بال اس انفارمیشن کے لئے انٹینا کا کام کرتے ہیں۔ بال نہایت باریک نلکیوں کی طرح ہیں۔ برقی قوت ان نلکیوں کے اندر دور کرتی ہے۔ کنگھی کرتے وقت بالوں کی برقی قوت (کرنٹ) کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بالوں میں کنگھی یا کنگھا پھیر کر چھوٹے چھوٹے کاغذ کے ٹکڑوں کے قریب کیا جائے تو کاغذ کنگھے پر اڑ کر چپک جاتے ہیں۔
غیب سے آنے والی اطلاعات برقی رو کے دوش پر بالوں کو گزرگاہ بناتی ہوئی جڑوں میں اتر جاتی ہیں اور برقی رو انرجی بن جاتی ہے۔ یہ انرجی دماغ میں منتقل ہوتی ہے۔ دماغ اس انرجی کو معنی و مفہوم میں تبدیل کر دیتا ہے۔


خیالات دو قسم کے ہوتے ہیں ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ مثبت خیالات کا سورس عالم بالا ہے۔ جبکہ منفی خیالات کا سورس عالم اسفل ہے۔ ناسوتی روشنیاں کثیف ہونے کی وجہ سے برقی رو میں رکاوٹ بنتی ہیں اور یہی رکاوٹ منفی خیالات بن جاتے ہیں۔ مستقل منفی خیالات منفی طرز فکر کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ اور تعمیر کے بجائے تخریبی حرکات کا باعث بنتے ہیں۔

حلق کرانے سے کثافت دور ہو جاتی ہے۔ اور روشنی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔ خیالات میں پاکیزگی اور لطافت آ جاتی ہے۔ حج و عمرہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں کیا جاتا ہے۔ جب بندہ اللہ پاک کے حکم پر اپنے بال کٹواتا ہے تو ظاہر سے ملنے والی انفارمیشن سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ اور عالم بالا سے آنے والی انفارمیشن سے رابطہ ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے منفی خیالات سے نجات مل جاتی ہے۔ اور مثبت خیالات کی رو تیز ہو جاتی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 121 تا 122

رُوحانی حج و عُمرہ کے مضامین :

ِ 1.1 - مکہ بحیثیت مرکز  ِ 1.2 - امیرِ حج  ِ 1.3 - انبیائے کرامؑ کی قبور  ِ 1.8 - غُسلِ کعبہ  ِ 1.11 - رُکن یمانی  ِ 1.4 - مکہ کے نام  ِ 1.9 - حجرِاسود  ِ 1.16 - فضائلِ حج  ِ 1.5 - بیت اللہ شریف کے نام  ِ 1.6 - مسجد الحرام  ِ 1.10 - ملتزم  ِ 1.7 - مقاماتِ بیت الحرام  ِ 1.12 - میزاب  ِ 1.13 - حطیم  ِ 1.13 - حطیم  ِ 1.14 - مقامِ ابراہیمؑ  ِ 1.15 - زم زم  ِ 1.12 - میزاب  ِ 1.8 - غُسلِ کعبہ  ِ 2.2 - عُمرہ  ِ 2.6 - طواف کی مکمل دعائیں اور نیت  ِ 2.7 - مقام مُلتزم پر پڑھنے کی دعا  ِ 2.10 - سعی کے سات پھیرے اور سات خصوصی دعائیں  ِ 2.14 - ۹ ذی الحجہ ۔ حج کا دوسرا دن  ِ 2.15 - وقوفِ عرفات  ِ 2.17 - ۱۰ذی الحجہ۔۔۔حج کا تیسرا دن  ِ 2.21 - دربارِ رسالتﷺ کی فضیلت  ِ 2.3 - زم زم  ِ 2.11 - مناسکِ حج  ِ 2.1 - حج اور عمرے کا طریقہ  ِ 2.19 - ۱۲ذی الحجہ۔۔۔حج کا پانچواں دن  ِ 2.4 - سعی صفا و مروہ  ِ 2.5 - سعی کا آسان طریقہ  ِ 2.8 - مقام ابراہیمؑ کی دعا  ِ 2.9 - سعی کی مکمل دعائیں اور نیت  ِ 2.12 - ایامِ حج  ِ 2.13 - 8 ذی الحجہ۔ حج کا پہلا دن  ِ 2.16 - عرفات سے مزدلفہ روانگی  ِ 2.18 - ۱۱ذی الحجہ۔۔۔حج کا چوتھا دن  ِ 2.20 - طوافِ وِداع  ِ 3.4 - طواف کی حکمت  ِ 3.8 - چالیس نمازیں ادا کرنے کی حکمت، حکمتِ طواف، حدیث مبارک  ِ 3.1 - ارکان حج و عمرہ کی حکمت  ِ 3.2 - کنکریاں مارنے کی حکمت  ِ 3.3 - سعی کی حکمت  ِ 3.5 - حلق کرانے کی حکمت  ِ 3.6 - احرام باندھنے کی حکمت  ِ 3.7 - آب زم زم کی حکمت  ِ 4.6 - حضرت ابو یزیدؒ  ِ 4.15 - حضرت ابو سعید خزازؒ  ِ 4.23 - خواجہ معین الدین چشتیؒ  ِ 4.27 - ڈاکٹر نصیر احمد ناصر  ِ 4.33 - حضرت حاتم اصمؒ  ِ 4.43 - حضرت داتا گنج بخشؒ  ِ 4.47 - حضرت خواجہ محمد معصومؒ  ِ 4.1 - مشاہدات انوار و تجلیات  ِ 4.2 - مشاہدات و کیفیات – حضرت امام باقرؒ  ِ 4.4 - مشاہدات و کیفیات – شیخ اکبر ابن عربیؒ  ِ 4.7 - حضرت عبداللہ بن مبارکؒ  ِ 4.9 - صوفی ابو عبداللہ محمدؒ  ِ 4.10 - حضرت احمد بن ابی الحواریؒ  ِ 4.11 - شیخ نجم الدین اصفہانیؒ  ِ 4.13 - شیخ حضرت یعقوب بصریؒ  ِ 4.14 - حضرت ابوالحسن سراجؒ  ِ 4.5 - حضرت ابو علی شفیق بلخیؒ  ِ 4.8 - حضرت شیخ علی بن موفقؒ  ِ 4.16 - حضرت عبداللہ بن صالحؒ  ِ 4.12 - حضرت ذوالنون مصریؒ  ِ 4.17 - حضرت لیث بن سعدؒ  ِ 4.18 - حضرت شیخ مزنیؒ  ِ 4.20 - حضرت جنید بغدادیؒ  ِ 4.21 - حضرت شیخ عثمانؒ  ِ 4.19 - حضرت مالک بن دینارؒ  ِ 4.22 - حضرت شبلیؒ  ِ 4.24 - حاجی سید محمد انورؒ  ِ 4.25 - مولانا محب الدینؒ  ِ 4.26 - شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریاؒ  ِ 4٫28 - حضرت علیؓ  ِ 4٫29 - حضرت عائشہؓ  ِ 4.30 - حضرت بلالؓ  ِ 4.31 - حضرت ابراہیم خواصؓ  ِ 4.32 - شیخ ابوالخیر اقطعؒ  ِ 4.34 - شیخ عبدالسلام بن ابی القاسمؒ  ِ 4٫36 - حضرت سفیان ثوریؒ  ِ 4٫37 - شیخ ابو نصر عبدالواحدؒ  ِ 4.38 - حضرت ابو عمران واسطیؒ  ِ 4.39 - حضرت سید احمد رفاعیؒ  ِ 4.40 - حضرت شیخ احمد بن محمد صوفیؒ  ِ 4.41 - حضرت شاہ ولی اللہؒ  ِ 4.42 - حضرت آدم بنوریؒ  ِ 4.44 - حضرت شاہ گل حسن شاہؒ  ِ 4.46 - حضرت خواجہ محمد سعیدؒ  ِ 4.48 - حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ  ِ 4.45 - پیر سید جماعت علی شاہؒ  ِ 4.49 - شیخ الحدیث حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھیؒ  ِ 4.50 - حضرت مہر علی شاہؒ  ِ 4.51 - شیخ ابن ثابتؒ  ِ 4٫52 - حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ  ِ 44 - مناسکِ حج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)