یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام

کتاب : مراقبہ

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=12513

کامل روحانی استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد الرّسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی نسبت سے فیضیاب ہو اور اس کو حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی طرز فکر حاصل ہو۔ چنانچہ جب کوئی شاگرد اپنے روحانی استاد میں فنا ہو جاتا ہے توا س کی طرز فکر اور افتاد طبیعت وہی ہو جاتی ہے جو استاد کی ہے اور وہ روحانی طور پر حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی ذات میں جذب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس نسبت کو قوی کرنے کے لئے شاگرد سے ’’تصور رسول‘‘ کرایا جاتا ہے تا کہ روحانی ربط مضبو ط ہو اور شاگرد انوار نبوت سے فیض یاب ہوتا رہے۔ حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی رحمت اور نظرِ عنایت سے شاگرد اپنی ہمت اور سکت کے مطابق ان انوارِ قدسی کا مشاہدہ کرتا ہے جن کا مشاہدہ نور ِنبوت کے فیضان سے ممکن ہے۔ جب نورِ نبوت سے شاگرد کے لطائف حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام رنگین ہو جاتے ہیں تو وہ فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔

مدارج کے اعتبار سے تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے کئی طریقے ہیں:

  1. مراقبہ میں مسجد نبوی یا گنبد خضرا کا تصور کیا جاتا ہے۔
  2. شاگرد یہ تصور کرتا ہے کہ مدینہ المنورۃ سے انوار اس کے اندر جذب ہو رہے ہیں۔
  3. شاگرد کے قلب پر اسم محمد علیہ الصلوٰۃ والسّلام نورانی الفاظ میں لکھا ہوا ہے اور اس کے انوار سے قلب روشن ہے۔
  4. حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ  والسّلام تخت نبوت پر جلوہ فرما ہیں اور آپ کے قلب مبارک سے انوار و تجلیات شاگرد کے قلب میں منتقل ہو رہے ہیں۔
  5. شاگرد یہ تصور کرتا ہے کہ وہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے قریب موجود ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسّلام اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں۔

جس طرح مسلمان حضرت محمد الرّسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام کو اللہ تعالیٰ اور اپنے درمیان میڈیم یا رسول مانتے ہیں اسی طرح مختلف طبقہ فکر کے لوگ دیگر مقدس ہستیوں کو خدا اور اپنے درمیان رابطے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہودی حضرت موسیٰ ؑ پر، عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ پر، ہندو کرشن جی یا رام چندر جی پر، پارسی جناب زرتشت پر یقین رکھتے ہیں۔ بدھ مت کے پیروکار مہاتما بدھ کو نجات دھندہ تصور کرتے ہیں۔ اسی یقین کی روشنی میں ان لوگوں کے ہاں گرو کے تصور کے بعد ان مقدس ہستیوں کا تصور کیا جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 324 تا 325

یہ تحریر English (انگریزی) میں بھی دستیاب ہے۔

مراقبہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ 1 - انفس و آفاق  ِ 2 - ارتکاز توجہ  ِ 3 - روحانی دماغ  ِ 4 - خیالات کی لہریں  ِ 5 - تیسری آنکھ  ِ 6 - فلم اور اسکرین  ِ 7 - روح کی حرکت  ِ 8.1 - برقی نظام  ِ 8.2 - تین کرنٹ  ِ 9.1 - تین پرت  ِ 9.2 - نظر کا قانون  ِ 10 - كائنات کا قلب  ِ 11 - نظریہ توحید  ِ 12.1 - مراقبہ اور مذہب  ِ 12.2 - تفکر  ِ 12.3 - حضرت ابراہیم ؑ  ِ 12.4 - حضرت موسیٰ ؑ  ِ 12.5 - حضرت مریم ؑ  ِ 12.6 - حضرت عیسیٰ ؑ  ِ 12.7 - غار حرا  ِ 12.8 - توجہ الی اللہ  ِ 12.9 - نماز اور مراقبہ  ِ 12.10 - ذکر و فکر  ِ 12.11 - مذاہب عالم  ِ 13.1 - مراقبہ کے فوائد  ِ 13.2 - شیزو فرینیا  ِ 13.3 - مینیا  ِ 14.1 - مدارج  ِ 14.2 - غنود  ِ 14.3 - رنگین خواب  ِ 14.4 - بیماریوں سے متعلق خواب  ِ 14.5 - مشورے  ِ 14.6 - نشاندہی  ِ 14.7 - مستقبل سے متعلق خواب  ِ 15.1 - لطیف احساسات  ِ 15.2 - ادراک  ِ 15.3 - ورود  ِ 15.4 - الہام  ِ 15.5 - وحی کی حقیقت  ِ 15.6 - کشف  ِ 16 - سیر  ِ 17 - فتح  ِ 18.1 - مراقبہ کی اقسام  ِ 18.2 - وضاحت  ِ 18.3 - عملی پروگرام  ِ 18.4 - اندازِ نشست  ِ 18.5 - جگہ اور اوقات  ِ 18.6 - مادی امداد  ِ 18.7 - تصور  ِ 18.8 - گریز  ِ 18.9 - مراقبہ اور نیند  ِ 18.10 - توانائی کا ذخیرہ  ِ 19.1 - معاون مشقیں  ِ 19.2 - سانس  ِ 19.3 - استغراق  ِ 20.1 - چار مہینے  ِ 20.2 - قوتِ مدافعت  ِ 20.3 - دماغی کمزوری  ِ 21 - روحانی نظریہ علاج  ِ 22.1 - رنگ روشنی کا مراقبہ  ِ 22.2 - نیلی روشنی  ِ 22.3 - زرد روشنی  ِ 22.4 - نارنجی روشنی  ِ 22.5 - سبز روشنی  ِ 22.6 - سرخ روشنی  ِ 22.7 - جامنی روشنی  ِ 22.8 - گلابی روشنی  ِ 23 - مرتبہ احسان  ِ 24 - غیب کی دنیا  ِ 25.1 - مراقبہ موت  ِ 25.2 - اعراف  ِ 25.3 - عظیم الشان شہر  ِ 25.4 - کاروبار  ِ 25.5 - علمائے سوء  ِ 25.6 - لگائی بجھائی  ِ 25.7 - غیبت  ِ 25.8 - اونچی اونچی بلڈنگیں  ِ 25.9 - ملک الموت  ِ 25.10 - مراقبہ نور  ِ 26.1 - کشف القبور  ِ 26.2 - شاہ عبدالعزیز دہلویؒ  ِ 27 - روح کا لباس  ِ 28.1 - ہاتف غیبی  ِ 28.2 - تفہیم  ِ 28.3 - روحانی سیر  ِ 28.4 - مراقبہ قلب  ِ 28.5 - مراقبہ وحدت  ِ 28.6 - ’’لا‘‘ کا مراقبہ  ِ 28.7 - مراقبہ عدم  ِ 28.8 - فنا کا مراقبہ  ِ 28.9 - مراقبہ، اللہ کے نام  ِ 28.10 - اسم ذات  ِ 29 - تصورشیخ  ِ 30 - تصور رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام  ِ 31 - ذات الٰہی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)