مزدور چیونٹیاں غلہ جمع کرتی ہیں اوران کو خانوں میں ذخیرہ کرتی جاتی ہیں جو ضرورت پڑنے پر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ مزدور چیونٹیاں اتنی محنتی ہوتی ہیں کہ بعض اوقات اپنے جسم سے دس گناہ وزن اٹھا کر لے آتی ہیں۔
باغبان چیونٹیاں
ایک قسم باغبان چیونٹیوں کی ہوتی ہے جو باغ لگاتی ہیں۔ یہ باغ پھپھوند کے ہوتے ہیں۔ یہ کمال مہارت سے باغوں کی اَفزائش اور پَرداخت کرتی ہیں۔ یہ باغ مکان کی گیلریوں اور خانوں میں لگائے جاتے ہیں ۔ چیونٹیوں کیلئے یہ باغ پھولوں کے باغ کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے کہ چیونٹیاں […]
شہد بھری چیونٹیاں
چیونٹی کی ایک قسم شہد کی چیونٹی Honey Ant ہوتی ہے جو پھو لوں کا رس اپنے پیٹ میں جمع کر لیتی ہے اور اس کے بعد وہ اپنے گھر میں اُلٹی لٹک جاتی ہے۔ دوسری چیونٹیاں، ملکہ اور بچے اس کا رس چاٹتے ہیں اور یہ بے چاری جذبہ ایثار و الفت میں معلّق […]
فرماں رَوا چیونٹی
حضرت سلیمانؑ حضرت داؤد ؑ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ۹۶۵ قبل مسیح میں حضرت داؤد ؑ کے جانشین ہوئے اور تقریباً چالیس سال فرماں رَوا رہے۔ حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے حیوانات کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا کیا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمانؑ جن و اِنس اور حیوانات کے عظیمُ الشان لشکر […]
عقل مند چیونٹی
چیونٹی جیسی اِنتہائی چھوٹی مخلوق کی عقل کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک چیونٹی نے حضرت سلیمانؑ کے لشکر کی دعوت کی۔ حضرت سلیمانؑ ایک جلیل القدر پیغمبر اور عظیم بادشاہ گزرے ہیں۔ آپ کے لشکر میں انسانوں کے علاوہ جنّات، چرند، پرند، درند سب ہی شامل تھے۔ آپ کو ہَواؤں […]
فہم و فراست
گرمیوں کے دنوں میں گرمی کی شدّت سے موم نرم پڑجا نے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن یہ ننھا کیڑا اپنی عقل مندی کی وجہ سے اپنے گھر کو برباد ہونے سے بچا لیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ گرمیوں کے دنوں میں تمام کارکن مکھیاں چھتے کے تمام خانوں کے کنارے پر اس طرح […]
شہد کیسے بنتا ہے؟
تمام مکھیوں کیلئے خوراک کا انتظام کرنا اُن ہی کارکن مکھیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی مکھیاں چھتّوں سے پھولوں کی تلاش کیلئے نکل کھڑی ہوتی ہیں۔ اور پھر اس رس سے شہد تیار کرتی ہیں۔ مکھیاں مختلف پھولوں پر بیٹھ جاتی ہیں اور پھولوں کے اندورنی سطح پر مَوجود ہلکی مٹھاس کو اپنی […]
مثالی معاشرہ
حیوانات میں زندگی گزارنے کی قدریں بھی انسان کی معاشرتی زندگی سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہیں، جو ہمیں حیوانات کی عقلی بیداری کا ثبوت فراہم کرتی ہے، جس کی چند مثالیں ہدیۂِ قارئین ہیں۔ اس کی ایک مثال حشراتُ الاَرض کے خاندان کے ایک فرد ‘‘شہد کی مکھی ‘‘ کی ہے۔ شہد کی […]
ایک لا شعور
انبیاءؑ اور روحانی طاقت رکھنے والے انسانوں کے کتنے ہی واقعات اس کے شاہد ہیں کہ ساری کائنات میں ایک ہی لاشعور کار فرما ہے۔ اس کے ذریعے غَیب وشہود کی ہر لہر دوسری لہر کے معنی سمجھتی ہے، چاہے یہ دونوں لہریں کائنات کے دو کناروں پرواقع ہوں۔ غَیب و شہود کی فراست اور […]
خاموش گفتگو
انسانوں کے درمیان اِبتداءِ آفرینش سے بات کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ آواز کی لہریں جس کے معنی متعیّن کر لئے جاتے ہیں، سننے والوں کو مطّلع کرتی ہیں۔ یہ طریقہ اس ہی تبادلہ کی نقل ہے جو اَنا کی لہروں کے درمیان ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ گونگا آدمی اپنے ہونٹوں کی خفیف […]
اَنا کی لہریں
یہ قانون بہت فکر سے ذہن نشین کرنا چاہئے کہ جس طرح خیالات ہمارے ذہن میں دَور کرتے رہتے ہیں، اُن میں بہت زیادہ ہمارے معاملات سے غیر متعلّق ہوتے ہیں۔ اُن کا تعلّق قریب اور دُور کی ایسی مخلوق سے ہوتا ہے جو کائنات میں کہیں نہ کہیں مَوجود ہو۔ اُس مخلوق کے تصوّرات […]
شیر کی عقیدت
حضرت بابا تاج الدین نا گپوری ؒ کے نواسے اور قلندرشعور کے بانی قلندر بابا اولیاء ؒ اپنی کتاب تذکرۂِ تاج الدین بابا ؒ میں شیر کی عقیدت کا واقعہ اور اس واقعہ کی علمی تَوجیہ بیان کرتے ہُوئے فرماتے ہیں کہ: ایک دن نانا تاج الدین نا گپوری ؒ واکی شریف کے جنگل (بھارت) […]
ایک ترکیب
دو ڈولفن ایک سانپ نما مچھلی اِیل (Eel) کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور اس کا پیچھا کرکے اسے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ چالاک اِیل نے ڈولفنوں سے بچنے کیلئے اچانک غوطہ لگایا اور ایک سوراخ میں گھس کر پناہ گُزیں ہو گیا۔ اب ذرا ڈولفن کی ذہانت ملاحظہ فرمائیں کہ ان میں […]
منافق لومڑی
لومڑی اپنی چالاکی اور عیاری کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ جس دن آسانی سے شکار ہاتھ نہیں آتا تو بی لومڑی چالاکی پر اُتر آتی ہے۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر زمین پر لیٹ جاتی ہے اور سانس کھنچ کر خوب پیٹ پھولا لیتی ہے۔ پرندے اسے مُردہ سمجھ کر اپنی خوراک بنانے کیلئے […]
بارش کی آواز
ایک آسٹریلوی پرندہ کیوی اپنے رزق کے حصول کیلئے جو طریقہ اِختیار کرتا ہے وہ کافی دلچسپ ہے۔ جب کافی تلاش کے باوُجود شکار ہاتھ نہیں لگتا تو یہ ایسی آواز نکالتا ہے جو بارش کی آواز سے مشابہ ہوتی ہے۔ زمین کے اندر رہنے والے کیڑے مکوڑے یہ سمجھ کر کہ بارش ہو رہی […]
کیلے کے باغات
جی ایچ ولیم نے اپنی کتاب (The Elephant) میں دو نَو عمر ہا تھیوں کا ذکر کیا ہے جو عموماً کھلّے پھرتے تھے لیکن ان کی گردنوں میں بلند آوا ز والی گھنٹیاں لٹکا دی گئی تھیں تاکہ یہ معلوم ہوتا رہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ایک روز یہ دونوں قریب کے تالاب کے کنارے […]
