دماغ میں کھربوں خانے ہوتے ہیں ان میں سے برقی رَو گزرتی رہتی ہے۔ اس برقی رَو کے ذریعے خیالات، شعور، لاشعور اور تحتِ الشعور سے گزرتے رہتے ہیں۔ دماغ کا ایک خانہ وہ ہے جس میں برقی رَو فوٹو لیتی رہتی ہے اور تقسیم کرتی رہتی ہے اور یہ فوٹو بہت ہی زیادہ تاریک […]
کرنوں میں حلقے
سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کرنوں میں حلقے کیسے پڑے؟ ہمیں تو یہ علم ہے کہ ہمارے کہکشانی نظام میں بہت سے اسٹار یعنی سورج ہیں، وہ کہیں نہ کہیں سے رَوشنی لاتے ہیں، اُن کا درمیانی فاصلہ کم سے کم پانچ نوری سال بتایا جاتا ہے، جہاں اُن کی رَوشناتں آپس میں ٹکراتی ہیں، […]
رنگین شعاعیں
حدِّ نگاہ سے زمین کی طرف آئیے تو آپ کو نیلے رنگ کی لا تعداد رنگین شعاعیں ملیں گی۔ رنگ کا جو منظر ہمیں نظر آتا ہے اس میں رَوشنی، آکسجن گیس، نا ئٹرروجن گیس اور قدرے دیگر گیس بھی شامل ہوتی ہیں۔ ان گیسوں کے علاوہ کچھ سائے (Shade) بھی ہوتے ہیں جو ہلکے […]
روشنیوں کے گودام
جس طرح سانس کی مشقوں کے ذریعے شعور یا جسمانی نظام طاقتور ہوتا ہے اسی طرح صَعودی سانس کے ذریعے انسان کی روح میں اَنوار کے ایسے ذخیرے جمع ہو جاتے ہیں جن ذخیروں سے آدمی فکشن (Fiction) اور مفروضہ حواس سے نکل کر حقیقی دنیا (غیب کی دنیا) میں پہنچ جاتا ہے۔ سانس کی […]
رو شنیوں سے تیار کئے ہو ئے کھانے
ایک روز جب میں سورج طلوع ہونے سے پہلے مشرق کی طرف منہ کئے سانس کی مشق کررہا تھا تو دماغ میں ایک دریچہ کھلا اور اس دریچہ میں یہ خیال وارِد ہُوا کہ فضا میں سے وہ رَوشنافں اور وہ عَناصِر جن سے چنے تخلیق ہوتے ہیں، میرے اندر داخل ہو رہے ہیں۔ میں […]
زندگی میں سانس کا عمل دخل
ماورائی علوم سیکھنے کیلئے مضبوط اَعصاب اور طاقتور دماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اَعصاب میں لچک پیدا کر نے، دماغ کو متحرّک رکھنے اور قوّتِ کارکردگی بڑھانے کیلئے سانس کی مشقیں بےحد مفید اور کارآمد ہیں۔ قلندر شعور کا مسافر جب سانس کی مشقوں کا کنٹرول حاصِل کرلیتا ہے تو دماغ کے اندر ریشوں اور […]
توانائی اور روح
کائنات اور اس کے اندر مَظاہرات ہر لمحہ اور ہر آن ایک سَرکل (Circle) میں سفر کر رہے ہیں اور کائنات میں ہر مظہر ایک دوسرے سے آشنا اور متعارف ہے۔ تعارف کا یہ سلسلہ خیالات پر مبنی ہے۔ سائنس نے آپس میں اس تبادلۂِ خیال اور رشتہ کو توانائی کا نام دیا ہے۔ سائنس […]
سانس کے دو رُخ
تخلیقی فارمولوں کا علم رکھنے والے بندے یہ جانتے ہیں کہ کائنات اور کائنات کے اندر تمام مَظاہرات کی تخلیق دو رُخ پر کی گئی ہے۔ اِس حقیقت کی رَوشنی میں سانس کے دو رُخ متعیّن ہیں۔ ایک رُخ یہ ہے کہ آدمی اندر سانس لیتا ہے اور دوسرا رُخ یہ ہے کہ سانس باہر […]
دو سَو سال کی نیند
ایک بہروپیا تھا۔ ہمیشہ نیا روپ بنا کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تاکہ بادشاہ کو مغالطہ میں رکھ کر انعام میں گھوڑا اور جوڑا حاصِل کرے مگر بادشاہ اس کے بہروپ سے متأثّر نہیں تھا۔ چنا نچہ بہروپیا ایک یوگی کے پاس گیا اور اس سے حَبسِ دَم (سانس پر کنٹرول کرنے […]
آکسیجن اور جسمانی نظام
مَوجودہ علمی اور سائنسی دَور نے یہ بات معلوم کر لی ہے کہ انسان کو اگر کچھ وقفے کیلئے آکسجن نہ ملے تو اس کے دماغ میں کام کرنے والے کھربوں خلیوں کا عمَل ختم ہو جاتا ہے۔ سارا جسم آکسجن کے اوپر قائم ہے اور سانس کی آمد و شُد یا عمَلِ تنفس ہَوا […]
وقت کی نفی
کسی آدمی کے اندر پرواز کی صلاحیّتوں کا انحصار بجلی کے ذخیرہ کے اوپر ہے۔ جتنا زیادہ ذخیرہ مَوجود ہوتا ہے، اُسی مُناسبت سے آدمی ٹائم اسپیس کی نفی کرنے پر قدرت حاصِل کر لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بےشمار واقعات مَوجود ہیں کہ ایک منٹ کے وقفےمیں آدم زاد نے بغیر کسی مادّی وسائل […]
آدمی کے اندر بجلی کا بہاؤ
بحیثیت مجموعی کائنات میں جو رنگ قلندر شعور سے نظر آتے ہیں ان کی تعداد تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ہے جب کہ سائنسدان اب تک تقریباً ساٹھ سے زیادہ رنگ دریافت کر سکےہیں اور عا م حالات میں جب رنگوں کا تذکرہ آتا ہے تو ان کی تعداد سات بتائی جاتی ہے۔ فی الواقع کتنے […]
رنگوں کی تعداد گیارہ ہزار ہے
مَیٹر (Matter) ایک ہے، ڈائیاں (Moulds) مختلف ہیں۔ تخلیق اس طرح عمَل میں آتی ہے کہ ڈائی (Mould) مَیٹر (Matter) کو اپنے اندر محفوظ کرکے اس طرح متحرّک کرتی ہے کہ میٹر مختلف اور معیّن مقداروں میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جب یہ معیّن مقداریں ایک دوسرے میں مل کر جذب ہوتی ہیں تو […]
تخلیقی فارمولے
ہم جب اللہ کی تخلیق پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ باوُجود اس کے مَیٹر (Matter) ایک ہے، تخلیقی قاعدے، ضابطے اور طریقے ایک ہیں، مخلوق کے اندر طبعی تقاضے یکساں ہیں۔ عقل و شعور سب میں ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی میں شعور زیادہ ہے، کسی میں […]
سائنسی نظریہ
سائنسدان جس مادّی نظریے کی تشہیر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب تک کسی چیز کا عمَلی مُظاہرہ (Demonstration) نہ ہو اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ سائنسدان بہت کچھ جا ننے کے باوُجود یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ مادّی خول میں بند ہو کر خود اپنے نظریے کی نفی کر رہے ہیں۔ […]
مذہب
مذہب ہمیں یقین کے اس پیٹرن (Pattern) میں داخل کر دیتا ہے جہاں شک و شبہات اور وسوسے ختم ہو جاتے ہیں۔ انسان اپنی باطنی نگاہ سے غَیب کی دنیا اور غَیب کی دنیا میں مَوجود چلتے پھرتے فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے۔ غَیب کی دنیا کے مشاہدے سے بندے کا اپنے ربّ کے ساتھ […]
