تخلیقی فارمولے

علم تصوف ․․․انکشاف کرتاہے کہ زمین پر موجود ہر شے روشنی کے غلاف میں بند ہے اور روشنی کے غلاف میں مقداریں کام کررہی ہیں۔انسان جب مخفی صلاحیتوں کو بیدار کرکے کسی شے میں تفکر کرتا ہے تو اس کے اوپر شے کے اندر چھپی ہوئی قوتیں منکشف ہوجاتی ہیں ۔موجودہ سائنسی ترقی اسی ضابطہ […]

مفکرین اور اقوام عالم

مختلف ممالک اور مختلف قوموں کے وظیفے جدا گانہ ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام نوع انسان کا جسمانی وظیفہ ایک ہوسکے صرف روحانی وظائف ہیں جن میں پوری نوع انسانی اشتراک رکھتی ہے اگر دنیا کے مفکرین جدوجہد کر کے روحانی وظائف کی غلط تعبیروں کو درست کرسکے تو وہ اقوام عالم […]

الیکٹران

انسان روشنی سے بنا ہو ا ہے اس کے سارے محسوسات الیکٹران کے اوپر قائم ہیں اگر انسان اپنے اندر دور کرنے والی الیکٹرک سٹی سے واقفیت حاصل کرلے تو وہ مادی وسائل کے بغیر کسی بھی مادی شے کو جہاں چاہے منتقل کر سکتا ہے۔ سائنس کا نظریہ قیاس پر مبنی ہے۔ قیاس جہاں […]

آج کاانسان

آج کا انسان موجودہ سائنسی ترقی کو نوع انسان کا انتہائی شعور سمجھتا ہے۔ یہ ایک گمراہ کن سوچ ہے اس لئے کہ قرآن بتاتا ہے کہ انسان کی ترقی حضرت سلیمانؑ کے دورمیں اتنی تھی کہ ایک شخص نے جو پیغمبر نہیں تھا پلک جھپکنے کے وقفے میں ڈیڑھ ہزار میل کے طویل فاصلے […]

ابدی زندگی کا راز

صوفیا ء کر ام کی تعلیمات ہمیں بتا تی ہیں کہ انسان ہر لمحہ مرتا ہے اور لمحہ کی موت انسان کے اگلے لمحے کی زندگی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ تھوڑے سے تفکر سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی کی جتنی بھی کاوشیں ہیں چاہے وہ اعمال ہوں،علم ہو، فہم ہو، اخلاقیات ہوں […]

روحانیت کے خلاف سازش

دنیا کے دوسرے معاملات کی طرح منافق اورسازشی لوگوں نے روحانی سلسلوں میں بھی اپنا عمل دخل جاری رکھا اور لوگوں کی توجہ کشف و کرامات کی طرف مبذول کردی۔اس طرز فکر کو کچھ اس طرح آگے بڑھایا گیا کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ روحانیت کا مطلب کشف و کرامات کے علاوہ کچھ […]

یونیورسٹیاں

قرآنی نظریہ کے مطابق مسلم اسلاف کی لکھی ہوئی کتابوں کے تراجم ہوئے تو ان تحریروں کو یورپ میں اتنی زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی کہ وہاں یونیورسٹیاں قائم ہوگئیں۔مختلف علوم ِ سائنس و فلکیات اور ریاضی پر لکھی ہوئی کتابیں چار سو سال تک وہاں کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں داخل رہیں۔یورپ کے مورخ اس […]

قرآنی نظریہ

عربوں سے پہلے یورپ، امریکہ، مصر اور ایشیائی ممالک چین، ہندوستان اور جاپان وغیرہ میں سائنس کا عمل دخل نہیں تھا۔ البتہ یونان میں کسی قدر علم موجود تھا۔ علمی تحقیقات اور نئی نئی ایجادات کی طرف رغبت پیغمبر ِ اسلام حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ […]

قلندر بابا اولیاء ؒ

عظیم روحانی سائنسدان قلندر بابا نے خواب کے اوپر سے پردہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسان کی زندگی آدھی بیداری میں اور آدھی خواب میں گزرتی ہے۔ بیداری کی زندگی ہو یا خواب کی زندگی دونوں کو روح فیڈ(Feed)کرتی ہے۔قلندر بابا اولیاء ؒفرماتے ہیں کہ: ’’روح‘‘تجلّی،نور اور روشنی سے مرّکب […]

محی الدین ابن ِ عربیؒ

شیخ اکبر ابن ِعربی نے بتایاکہ روح کو دیکھنا ،روح سے مکالمہ کرنااورروح کے ذریعہ عالم بالامیں سیر کرنا،انفس وآفاق کے رموزسے آگاہ ہونا،انسانوں کے لئے ممکن ہے۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ

شاہ عبدالعزیز دہلوی کے حالات وواقعات ہماری راہنمائی کرتے ہیں کہ نادیدہ مخلوق جنات کوہم دیکھ سکتے ہیں ۔ان سے دوستی کرسکتے ہیں ۔اوران کی خدمات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

باباتاج الدین ناگپوریؒ

باباتاج الدین نے بتایاکہ انسان کی نگاہ میں بہت ذیادہ وسعت ہے ۔سورج 9 کروڑ میل کے فاصلہ پر ہے ۔جب ہماری نگاہ سورج کودیکھ سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظر کے قانون سے واقف ہوکر دوردراز اشیاء کوکسی DEVICEکے بغیربھی دیکھا جاسکتاہے۔انہوں نے بتایا کہ کائنات میں ہر مخلوق دوسری […]

شاہ ولی اﷲ

شاہ عبدالعزیز کے والد بزرگوار نے پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی ترجمہ کیا ۔انہوں نے غیب کے اوپر سے پردہ اٹھایا ۔کائناتی نظام کی نقاب کشائی کی اوربتایا کہ ہر انسان کے اوپر نور کا بنا ہوا ایک جسم ہے جو انسان کے جسم کے ساتھ چپکا رہتاہے ۔ محروم اورزوال پذیر قوم نے یہ […]

ابنِ سینا

ابنِ سینامیڈیکل سائنس کا ماہر تھا اس نے علم الابدان کا نقشہ بنا یا اور اس کے الگ الگ حصے کرکے اس کی تصویریں بنائیں۔ موجودہ میڈیکل سائنس میں ANATOMY اسی کی تحریر کردہ کتاب کا ترجمہ ہے۔ ابن سینا نے جسمانی حرارت ناپنے کا آلہ ایجاد کیاجو تھر ما میٹر کی صورت میں آج […]

ابو الحسن ا لمسعودی

ابوالحسن المسعودی سب سے پہلا شخص ہے جس نے بتایا کہ زمین کی جگہ سمندر تھا اور سمندر کی جگہ زمین۔ یہ بات اس نے اس وقت بتائی تھی جب پیمائش کے لئے کوئی آلہ موجود نہیں تھا۔

ابو ا لنصر الفا را بی

ابوالنصر الفارابی نے موسیقی کا ایک آلہ ایجاد کیا تھا جس کی آواز سننے والا کبھی سو جا تا تھا کبھی روتا تھا اور کبھی ہنستا تھا۔