ہر آدمی کے ساتھ بیس ہزار فرشتے ہمہ وقت کام کرتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ ہر آدمی اﷲ تعالیٰ کا کمپیوٹر ہے جس میں بیس ہزار چپس (Chips)ہیں۔ ایک چپ(Chip)بھی کام نہ کرے تو پورے نظام میں خلل پڑ جاتا ہے۔
خلاء
خلاء ایک تانا بانا ہے اس تانے بانے میں مخلوق نقش ہے۔ جیسے کپڑے پر ایمبرائیڈری (EMBRIODERY )یا قالین پر شیر بُنا ہواہوتا ہے۔خلاء کا دوسرا رخ محض تانا ہے اس پر بھی مخلوق کے خدوخال نقش ہیں۔خلاء کا تیسرا رخ ایسی لہروں سے مرکب ہے جس میں تانا بانا نظر نہیں آتا۔ تینوں مخلوقات […]
مخلوقات کا حلیہ
کائنات میں تین مخلوقات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں ․․․․فرشتے ،جنات اور انسان ۔ دو مخلوق مکلف ہیں اورایک مخلوق ـغیر مکلف ہے۔ ہر مخلوق کے افراد لباس پہنتے ہیں۔ہر مخلوق کے اعضاء ہاتھ اور پیر سب ہیں ،لیکن خد وخال اور نقوش میں فرق ہے۔ ایک مخلوق کی آنکھ مخروطی ہے، ناک چپٹی اور کھڑی […]
مخلوقات
قُربِ نوافل، قُربِ فرائض
روحانی علوم سیکھنے اور روحانیت میں داخل ہونے کے لئے دو طریقے ہیں ایک طریقے کا نام قربِ نوافل ہے اور دوسرے طریقے کا نام قربِ فرائض ہے۔ قربِ نوافل ہو یا قرب ِ فرائض دونوں علوم مرشد ِ کریم یا کسی ولی اللہ سے منتقل ہوتے ہیں۔براہ راست اولیاء اللہ کی ارواح سے منتقل […]
نسبتِ جذب
یہ وہ نسبت ہے جس کو تبع تابئعین کے بعد سب سے پہلے حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ نے نشان ِبے نشانی کا نام دیا ہے اِس ہی کو نقشبندی جماعت ‘‘یادداشت’’ کا نام دیتی ہے۔جب عارف کا ذہن اس سمت میں رجوع کرتا ہے جس سمت ازل کے انوار چھائے ہوئے ہیں اور ازل سے پہلے […]
نسبتِ عشق
جب قلب ِ انسانی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسان کا ہجوم ہوتا ہے اور انسان قدرت کے عطیات میں فکر کرتا ہے تو اُس وقت اللہ کے نور کے تمثلات بار بار انسانی طبعیت میں موجزن ہوتے ہیں۔یہاں سے اس ربط یا نسبت ِعشق کی داغ بیل پڑجاتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس نسبت […]
نسبتِ سُکَینہ
یہ نسبت اول جذب پھر عشق اور پھرسکینہ کے نسبتوں کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ سکینہ وہ نسبت ہے جو اکثر صحابیات اور صحابہ کرام کو حاصل تھی۔یہ نسبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کے ذریعے نور نبوت کے حصول سے پیدا ہوتی ہے۔
نسبتِ عِلمیّہ
* صحابہ کرام کے دور میں اور قرونِ اولیٰ میں لوگوں کو مرتبہ احسان حاصل تھا ان کے لطائف حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت سے رنگین تھے۔ان کی توجہ زیادہ تر حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق غورو فکر میں صرف ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے روحانی قدروں […]
نسبت
روحانی اُستاد کی خصوصیات
اولیاء اللہ نے روحانی استاد کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ درجِ ذیل ہیں: ۱) حقوق العباد پورے کرتا ہو۔ ۲) آخرت کی زندگی پر یقین رکھتا ہو۔ ۳) اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مشتاق ہو۔ ۴) کمال کا دعویٰ نہ کرتا ہو۔ ۵) کرامت دکھانے کا شوقین نہ ہو۔ ۶) اسے اولیاء اللہ […]
نظامِ تربیّت
تربیت کے دو طریقے ہیں ۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ کرتربیت کی جائے ، غصہ کر کے کسی کام سے روکا جائے۔اس طرزِ عمل سے تربیت تو ہوجاتی ہے لیکن بندے کو جب بھی موقع ملتا ہے اور خوف دامن گیرنہیں ہوتا وہ اس کام کو ضرور کرتا ہے جس سے منع […]
بیعت کا قانون
*ایک جگہ بیعت ہونے کے بعد مرشد کی اجازت کے بغیر مرید کسی دوسری جگہ بیعت نہیں ہوسکتا۔ مرشد کے وصال کے بعد بھی بیعت ختم نہیں کی جاسکتی ۔ البتہ کسی صاحبِ روحانیت کی شاگردی اختیار کی جاسکتی ہے ۔ وصال کے بعد بیعت کو اس لئے ختم نہیں کیا جاسکتا کہ وصال کے […]
اساتِذہ کا کردار
یہ بات بھی دھوپ کی طرح روشن ہے کہ اگر ماحول میں اساتذہ کا کردار نہ ہو تب بھی بچہ عالم فاضل اور دانشور نہیں ہوسکتا۔ ماحول میں اساتذہ کے کردار کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کیلئے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہوں۔جس طرح دنیاوی علوم سیکھنے کے لئے اسکول ، کالج […]
شعوری اِستعداد
روحانی علوم سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان جس شخص کو مرشد بنائے اس کے بارے میں تصدیق کر لی جائے کہ استاد روحانی علوم جانتا ہے یا نہیں؟ تعلیم و تربیت کے بغیر شعور کی داغ بیل نہیں پڑتی اور نہ لاشعور کی درجہ بندی ہوتی ہے۔شعور اور لاشعور دونوں سے مراد تعلیم […]
ضرورتِ شَیخ
مفسرین، مقتدمین اور اکابرینِ امّت کے نزدیک وسیلہ سے مراد ’’ مرشد‘ ‘کا وسیلہ ہے یعنی استاد ، شاگر دکا رشتہ ہے۔شاہ عبدالرحیمؒ ، شاہ ولی اللہ ؒ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ نے وسیلہ سے یہی معنی مراد لئے ہیں۔اولیاء کرام کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ وسیلہ سے مراد شیخ طریقت کے علاوہ […]
