مشاہدۂ حق

طواف کعبہ میں شعور و لا شعور میں روشنیوں کا ہجوم ہو جاتا ہے روشنیوں اور نور کا ذخیرہ ہو جا نے کی وجہ سے روح حق کے مشاھدہ میں مصروف ہو جاتی ہے۔ طواف کرنے والے پر بے خودی طاری ہو جا تی ہے۔بیت اﷲ شریف پر ہر لمحہ اور ہر آن انوار و […]

طواف کی حکمت

طواف ایک ایسی عبادت ہے جو بیت اﷲ شریف میں کی جاتی ہے۔ خانہ کعبہ اﷲتعالیٰ کی مرکزیت کا SYMBOL ہے۔ ہر شئے اﷲتعالیٰ کی جانب سے آرہی ہے اور اﷲتعالیٰ کی جانب لوٹ جاتی ہے۔ اﷲتعالیٰ کی جانب سے آنے والی ہر شئے کی صفت کائنات کا شعور ہے اور کائنات کا علم لاشعور […]

آب ِ زم زم

حضرت بی بی ہاجرہ نے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل ؑ کی زندگی کے لئے بنیادی وسیلہ پانی کی فراہمی کے لئے تلاش کا فریضہ ادا کیا۔ اور اس فرض میں اتنی مرکزیت قائم ہو گئی کہ قدرت نے آبِ زم زم کا چشمہ جاری کردیا۔ بی بی ہاجرہ کی سعی کے نتیجے میں نمودار […]

سعی کی حکمت

صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے لگانے کو سعی کہتے ہیں۔ یہ پھیرے حضرت بی بی ہاجرہ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کے لئے پانی کی تلاش میں لگائے تھے۔ بی بی ہاجرہ کی اس سعی کے نتیجے میں آبِ زم زم کا چشمہ ابل آیا۔ حضرت بی بی ہاجرہ کا یہ عمل […]

شک کا جال

عمل کی تکمیل اس وقت ہو تی ہے جب عمل کرنے کا وقت اور جگہ کا تعین کرلیا جائے۔ کسی کام کا خیال دماغ میں آتا ہے تو اس خیال کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے۔ مثلاً شک کی صورت ایک الجھے ہوئے جال جیسی ہوتی ہے۔ آدمی اگر جال میں پھنس جائے تو […]

کنکریاں مارنے کی حکمت

حج کا ایک رکن شیطان کو کنکریاں مارنا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب اﷲتعالیٰ کے حکم پر حضرت ابراہیم ؑاپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لئے لے کر چلے تو منیٰ کے مقام پر شیطان نے انہیں اپنے ارادے سے باز رکھنے کی کو شش کی۔ آپ ؑ نے […]

اﷲتعالیٰ نے پکارا

’’اے ابراہیم!بے شک سچ کردیا تو نے اپنے خواب کو تحقیق اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں۔ احسان کرنے والوں کو۔‘‘ (سورۂ الصٰفٰت آیت نمبر۱۰۴۔۱۰۵) حج کے ارکان میں قربانی اور ہر سال بقرہ عید میں قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور ایثار کا مسلسل تواتر ہے۔جو اﷲتعالیٰ نے اہلِاستطاعت پر […]

ارکان حج کی حکمت

حضرت ابراہیم ؑ نے خواب میں دیکھا کہ انہیں چہیتے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ تجسس، تحقیق اور مشاہداتی عمل سے اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ’’ اﷲ طلوع اور غروب ہونے والی ہستی نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ سے یہ یقین ان کے بیٹے […]

قرآن کریم اور حج

سورہ بقرہ میں ارشاد ہے: ’’حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں پس جو شخص ان ایام میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر نہ کوئی فحش بات جائز ہے اور نہ حکم عدولی درست ہے اور نہ کسی قسم کا جھگڑا زیبا ہے اور جو نیک کام کروگے اﷲتعالیٰ اس کو جانتے […]

حج اور تصوف

جب بیت اﷲ شریف کی تعمیر ہو گئی تو اﷲتعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا : اے ابرا ہیمؑ ! لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے عرض کیا ’’ یا اﷲ! میری آواز کس طرح پہنچے گی یہاں ہم تین آدمیوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا‘‘ اﷲتعالیٰ نے فرمایا’’ […]

لیلتہ القدر

رمضان المبارک کے بیس (۲۰)روزوں میں ظاہری عمل اور ظاہری حواس کے ترک سے سالک اس قوت رفتا ر کے قریب ہو جاتا ہے جس سے غیب کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ’’ہم نے اس کو اتارا لیلتہ القدر میں،اور تونے کیا سمجھا کہ کیا ہے لیلتہِالقدر ۔ لیلتہ القدر بہتر ہے ہزار مہینے سے۔اترتے ہیں […]

روزہ ترک کا نظام ہے

’’روزہ میرے لئے ہے،روزہ کی جزا میں ہوں‘‘۔ (حدیث قدسی) دراصل روزہ وہ نظام ہے جو ’’ترک‘‘ سے تعلق استوار کرتا ہے۔ روزہ دار اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارتا ہے۔روزہ دار صرف اور صرف اﷲتعالیٰ کی خوشنودی کے لئے صاف ستھری زندگی، صحیح نظام الاوقات میں گزارتاہے تواﷲ خود رہنمائی کرتاہے۔اﷲ خودساتھ […]

روزے کا مقصد

زندگی تقاضوں کا نام ہے۔ یہ تقاضے ہی ہمارے اندر حواس بناتے ہیں۔ بھوک، پیاس، جنس، ایک دو سرے سے بات کرنے کی خواہش،آپس کا میل جول اور ہزاروں قسم کی دلچسپیاں یہ سب تقاضے ہیں اور ان تقاضوں کا دارو مدار حواس پر ہے۔ حواس اگر تقاضے قبول کر لیتے ہیں تو یہ تقاضے […]

صوم اورتصوف

’’ماہِ رمضان جس میں نازل ہو ا قرآن جس میں ہدایت ہے لوگوں کے واسطے اور راہ پانے کی کھلی نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ آیت نمبر ۱۸۵) سوال یہ ہے کہ نزول قرآن کے سلسلے میں رمضان کا تذکرہ کیوں کیا گیا ہے؟جبکہ وحی رمضان کے علاوہ بھی آتی رہی ہے۔یہ تلاش کرنا بھی ضروری […]

اﷲ کو دیکھنا

جس حد تک حضور صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر کسی امّتی کا عمل ہوتا ہے، اسی مناسبت سے اسے حضوری نصیب ہوجاتی ہے۔ قلب میں جلا پیدا کرنے کے لئے ہمیں خود کو ان چیزوں سے دور کر نا ہوگاجو ہمیں پاکیزگی، صفائی اور نورانیت سے دور کرتی ہیں۔ اس دماغ […]

روح کا وظیفہ

نماز میں وظیفۂ اعضاء کی حرکت کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی طرف رجوع رہنے کی عادت ہونی چاہیئے۔ذہن کا اﷲتعالیٰ کی طرف رجوع ہونا رُوح کا وظیفہ ہے۔ اور اعضاء کا حرکت میں رہنا جسم کا وظیفہ ہے۔ قیام صلوٰۃ کے ذریعے کوئی بندہ اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر […]