۱) مٹھاس کم سے کم استعمال کی جائے۔ ۲) کسی قسم کا نشہ نہ کیا جائے۔ ۳) کھانا آدھا پیٹ کھایا جائے۔ ۴) ضرورت کے مطابق نیند پوری کی جائے اور زیادہ دیر بیدار رہے۔ ۵) بولنے میں احتیاط کی جائے، صرف ضرورت کے وقت بات کی جائے۔ ۶) عیب جوئی اور غیبت کو اپنے […]
مراقبہ کے لیے بہترین اوقات
۱) تہجد کے وقت ۲) فجر کی نمازسے پہلے یا بعد میں ۳) ظہر کی نماز کے بعد ۴) عشاء کی نمازکے بعد مراقبہ کس طرح کیا جائے: ۱) مراقبہ کی بہترین نشست یہ ہے کہ سالک نماز کی طرح بیٹھے۔ ۲) آلتی پالتی مار کر بیٹھا جائے۔ ۳ ) دونوں زانوں پر ہاتھ رکھ […]
مراقبہ کرنے کے آداب
۱) مراقبہ کرنے کی جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں گرمی ہو نہ سردی ہو۔ ماحول معتدل ہو۔ ۲) شور و غل اور ہنگامہ نہ ہو اور ماحول پرُ سکون ہو۔ ۳) مراقبہ جہاں کیا جائے وہاں مکمل اندھیرا ہو۔ اگر ایسا ہونا ممکن نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اندھیرا ہونا چاہیے۔ ۴) مراقبہ بیٹھ […]
۲۵) مختلف رنگوں کی روشنیوں کے مراقبے:
۱۔ نیلی روشنی کا مراقبہ ۲۔ سبز روشنی کا مراقبہ ۳۔ زرد روشنی کا مراقبہ ۴۔ سرخ روشنی کا مراقبہ ۵۔ جامنی روشنی کا مراقبہ ۲۶) یہ چاروں مراقبے کھلی آنکھوں سے کئے جاتے ہیں: ۱۔ مراقبہ سورج بینی ۲۔ مراقبہ چاند بینی ۳۔ مراقبہ دائرہ بینی ۴۔ مراقبہ شمع بینی
مراقبہ کی اقسام
مراقبہ کی بے شمار اقسام میں سے چند یہ ہیں: ۱) صلوٰۃ قائم کرنا ۲) روزہ میں توجہ الی ﷲ قائم کرنا۔ ۳) حج بیت اﷲ میں دیدارِ الٰہی حاصل کرکے اﷲ کی طرف متوجہ رہنا۔ ۴) تصور شیخ کا مراقبہ ۵) نیلی روشنیوں کا مراقبہ ۶) مرتبہ احسان کا مراقبہ ۷) پھولوں کا مراقبہ […]
مراقبہ کے فوائد
*مراقبہ کرنے والے بندے کو مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہو تے ہیں۔ ۱) خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ ۲) روحانی علوم منتقل ہوتے ہیں۔ ۳) اﷲتعالیٰ کی توجہ اور قرب حاصل ہو تا ہے۔ ۴) منتشر خیا لی سے نجات مل جاتی ہے۔ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔ ۵) اخلاقی برائیوں سے ذہن ہٹ جاتا ہے۔ […]
سیر یا معائنہ
صوفی جب مراقبہ کے مشاغل میں پوری طرح انہماک حاصل کرلیتا ہے تو اس میں اتنی وسعت پیدا ہوجاتی ہے کہ زمان کے دونوں کناروں ازل اور ابد کو چھو سکتا ہے اور اﷲ کے دیئے ہوئے اختیار کے تحت اپنی قوتوں کا استعمال کرسکتا ہے۔ وہ ہزاروں سال پہلے کے یاہزاروں سال بعدکے واقعات […]
حضرت معروف کرخیؒ
صوفیاء کے حالات میں اس طرح کے بہت سے واقعات موجود ہیں۔ مثلاً ایک قریبی شناسا نے حضرت معروف کرخیؒ کے جسم پر نشان دیکھ کر پوچھا کہ کل تک تو یہ نشان موجود نہیں تھا آج کیسے پڑ گیا۔ حضرت معروف کرخیؒ نے فرمایاکہ ’’ کل رات نمازمیں ذہن خانہ کعبہ کی طرف چلا […]
شامہ اور لمس
شہود کا تیسرا اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ صاحب شہود کسی چیز کو خواہ اس کا فاصلہ لاکھوں برس کے برابر ہو، سونگھ سکتا ہے اور چھو سکتاہے۔ ایک صحابیؓ نے رسول اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں اپنی طویل شب بیداری کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ یارسول اﷲ علیہ الصلوٰۃ […]
سماعت
قوت بصارت کے بعد شہود کا دوسرا مرحلہ سماعت کا حرکت میں آنا ہے ۔ اس مرحلہ میں کسی ذی روح کے اندر کے خیالات آواز کی صورت میں صاحب ِ شہود کی سماعت تک پہنچنے لگتے ہیں۔
بصارت
شہود میں برقی نظام بے حد تیز ہوجاتاہے اور حواس میں روشنی کا ذخیرہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس روشنی میں غیب کے نقوش نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ مرحلہ شہودکا پہلا قدم ہے۔ اس مرحلے میں سارے اعمال باصرہ یا نگاہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی صاحب شہود غیب کے معاملات کو […]
شہود
شہود کسی روشنی تک خواہ وہ بہت ہلکی ہو یا تیز ہو، نگاہ کے پہنچ جانے کا نام ہے۔ شہود ایسی صلاحیت ہے جو ہلکی سے ہلکی روشنی کو نگاہ میں منتقل کردیتی ہے تاکہ ان چیزوں کو جو اب تک محض تواہم تھیں، خدوخال، شکل وصورت، رنگ اور روپ کی حیثیت میں دیکھا جاسکے۔ […]
چراغ کی لو
اس روشنی کی ایک شعاع کا نام’’ باصرہ‘‘ ہے۔ یہ شعاع کائنات کے پورے دائرے میں دور کرتی رہتی ہے۔ کائنات ایک دائرہ ہے اور یہ روشنی ایک چراغ ہے۔ اس چراغ کی لو کا نام باصرہ ہے۔ جہاں اس چراغ کی لو کا عکس پڑتا ہے وہاں اردگرد اور قرب وجوار کو چراغ کی […]
مراقبہ کی تعریف:
مراقبہ کی تعریف مختلف طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔ ۱) تمام خیا لات سے ذہن کو آزاد کرکے ایک نقطہ پر مرکوز کر دیا جائے۔ ۲) جب مفروضہ حواس کی گرفت انسان کے اوپر سے ٹوٹ جائے تو انسان مراقبہ کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ۳) جب انسان اپنے اوپر بیداری میں […]
عرفان
مشائخ اور صوفیاء مراقبہ کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے شاگردوں کو مراقبے کی تلقین کرتے ہیں۔ تصوف کی تعریف یہ ہے کہ شریعت اور طریقت پر دلجمعی،یقین اور مداومت سے عمل کیا جائے۔ عرفانِ ذات کے لئے شریعت تھیوری (THEORY)ہے اور تصوف پریکٹیکل(PRACTICAL)ہے۔ بندہ جب اسلام کے ارکا ن پورے کرتا ہے تو یہ […]
ذہنی مرکزیت
*تمام طرف سے ذہن ہٹا کر کسی ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرنے کا نام مراقبہ ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جب تک توجہ مرکوز نہ ہو،ہم کوئی کام احسن طریقہ پر نہیں کرسکتے۔ بچے اس لئے الف۔ب۔ ج۔ سیکھ لیتے ہیں کہ ان کی توجہ استاد کے بولے ہوئے الفاظ پر مرکوز ہوتی ہے۔ […]
