عرض ناشر

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7825

ممتاز روحانی سکالر مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؔ نے بیس سال پہلے (1980ء میں) نوعِ انسانی کو پر سکون زندگی سے آشنا کرنے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے قومی اخبارات میں کالم لکھے، کتابیں تصنیف کیں۔ روحانی ڈائجسٹ کراچی پاکستان اور روحانی ڈائجسٹ انٹرنیشنل اردو، انگلش برطانیہ سے جاری کیا۔
پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات کے ٹیلی ویژن، ریڈیو پر انٹرویو نشر ہوئے۔ بڑے بڑے ہالوں میں تقریریں کیں۔
ایک مربوط اور منظم روحانی پلیٹ فارم پر پاکستان اور بیرون پاکستان ممالک میں مراقبہ ہال کے نام سے خانقاہی نظام قائم کیا۔ اس وقت پاکستان اور بیرون ممالک میں ۸۳ مراکز (مراقبہ ہال) خدمت خلق میں مصروف ہیں۔
میرے مرشد کریم پر حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے فیض اور سیدنا حضور علیہ والسلام کی رحمت سے اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے کہ ان کے پیغام کو نہ صرف اللہ کی مخلوق نے سنا بلکہ اس پر عمل بھی کیا۔ نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر سکون زندگی گزار رہی ہے۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کے مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاءؒ کی رباعی کے مطابق:
ساقی کا کرم ہے میں کہاں کا مے نوش
مجھ ایسے ہزارہا کھڑے ہیں خاموش
مئے خوار عظیم برخیاؔ حاضر ہے
افلاک سے آ رہی ہے آواز سروش
عظیمی بہن بھائیوں کے شب و روز سرور و کیف سے مامور ہیں۔
مرشد کریم خانوادۂِ سلسلۂِ عظیمیہ نے 1980ء سے 1982ء تک روحانی اسباق اور پیغمبرانہ طرزِ فکر سے متعلق جو لیکچرز دیئے ہیں ان میں سے چند لیکچرز ‘‘پیراسائیکالوجی’’ کے نام سے قارئین کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ موجودہ اور آنے والی نسل کے لئے یہ لیکچرز مشعلِ راہ بنیں گے۔ اور ان سے نوعِ انسانی کے علم میں قابل قدر ذخیرہ ہو گا۔میرا مشاہداتی تجربہ ہے کہ اس علمی ورثے کو اگر یکسوئی اور ذہنی تفکر کے ساتھ پڑھا جائے تو قاری کے لئے ماورائی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
کتاب پیراسائیکالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اس کتاب کی اصل کو جو کہ مرشد کریم نے تجویز فرمائی تھی برقرار رکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ کتاب کا یہ نیا ایڈیشن آپ کو پسند آئے گا۔
میاں مشتاق احمد عظیمیؔ
روحانی فرزند
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؔ
مراقبہ ہال۔ ۱۵۸ مین بازار مزنگ لاہور
تاریخِ اشاعت : مارچ ۲۰۰۰ ء

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 4 تا 6

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)