حضرت ہاجرہ بی بیؒ

مکمل کتاب : ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=2753

حضرت علی احمد کلیریؒ کی والدہ حضرت ہاجرہ بی بیؒ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ تجھے صاحب عظمت فرزند عطا کرے گا، اس کا نام علی رکھنا۔”

دوسرے دن خواب میں حضور اکرمﷺ کی زیارت ہوئی۔ فرمایا:

“ہاجرہ تو اپنے ہونے والے لڑکے کا نام احمد رکھنا۔”

ان بشارتوں کے بعد ہاجرہ بی بیؒ کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی۔ جس کا نام انہوں نے علی احمد رکھا، پانچ سال کی عمر میں علی احمد کے والدکا انتقال ہو گیا۔ ایک مرتبہ دونوں ماں بیٹے بھوکے تھے۔ ہاجرہ بی بیؒ میں کسی سے سوال کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ فجر کی نماز کے بعد بیٹے نے کہا:

“اماں بھوک لگ رہی ہے۔”

ماں دوپہر تک مختلف حیلوں بہانوں سے اسے ٹالتی رہیں کہ اللہ تعالیٰ کہیں سے بندوبست کر دے گا۔ ظہر کی نماز کے بعد علی احمد نے دوبارہ کچھ کھانے کو مانگا، ہاجرہ بی بیؒ نے دیگچی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیا اور کہا۔ کھانا پک رہا ہے اس طرح مغرب ہو گئی۔

مغرب کے بعد بیٹے نے کہا کہ مجھے بھوک لگ رہی ہے اور دیگچی کا ڈھکن اٹھا دیا۔ عمدہ قسم کے پکے چاولوں سے دیگچی بھری ہوئی تھی۔ ہاجرہ بی بیؒ نے بیٹے کو کھانا دیا اور خود سجدے میں گر گئیں اور دیر تک اللہ کا شکر کرتی رہیں، سجدہ سے سر اٹھایا توپوراچہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور خوشی سے دمک رہا تھا۔ ایک مرتبہ بیٹے سے فرمانے لگیں:

“بیٹا! بڑائی صرف اس کو زیب دیتی ہے جو اپنے اند رٹھاٹھیں مارتے ہوئے اللہ کی صفات کے سمندر کا عرفان رکھتا ہو، جو اللہ کی مخلوق کے کام آئے اور کسی کو اس کی ذات سے تکلیف نہ ہو۔”

حضرت غوث الاعظمؒ کے زمانے میں ایک شخص آپؒ سے بغض رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ ہاجرہ بی بیؒ کے شوہر اپنے سید عبدالرحیم کے سامنے حضرت غوث الاعظمؒ کی شان میں گستاخی کرنے لگا۔ آپ وہاں سے اٹھ کر گھر آگئے۔ بی بی ہاجرہؒ نے آپ کو اداس دیکھا تو پوچھا:
“خیر تو ہے آپ غمگین نظر آ رہے ہیں؟”

آپ نے سارا قصہ سنایا بی بی ہاجرہؒ مسکرائیں کہنے لگیں:

“آپ مغموم نہ ہوں، غیب سے انتظام ہو گیا ہے۔”

رات خواب میں حضرت غوث الاعظم تشریف لائے اور فرمایا:

“میرا نام غوث الاعظم ہے میں تجھ کو بشارت دیتا ہوں کہ تیرے ہاں جو فرزند پیدا ہو گا وہ جلالی شان کا حامل ہو گا۔ خدا کا دشمن صابر کے پیدا ہوتے ہی ہلاک ہو جائے گا۔”

چنانچہ جس وقت حضرت صابرؒ صاحب پیدا ہوئے حاسد شخص پر آسمانی بجلی گری اور وہ واصل جہنم ہو گیا۔

حکمت و دانائی

* نیک روحوں کی آمد کی بشارت پہلے سے دے دی جاتی ہے۔

* منتخب بندوں کو عالم ارواح میں ہی نسبت منتقل ہو جاتی ہے۔

* اللہ کی صفات کے سمندر کا عرف ہی متقی ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 184 تا 185

ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین کے مضامین :

انتساب 1 - مرد اور عورت 2 - عورت اور نبوت 3 - نبی کی تعریف اور وحی 4 - وحی میں پیغام کے ذرائع 5 - گفتگو کے طریقے 6 - وحی کی قسمیں 7 - وحی کی ابتداء 8 - سچے خواب 10 - حضرت محمد رسول اللہﷺ 10 - زمین پر پہلا قتل 11 - آدم و حوا جنت میں 12 - ماں اور اولاد 13 - حضرت بی بی ہاجرہؑ 14 - حضرت عیسیٰ علیہ السلام 15 - نبی عورتیں 16 - روحانی عورت 17 - عورت اور مرد کے یکساں حقوق 18 - عارفہ خاتون ‘‘عرافہ’’ 19 - تاریخی حقائق 20 - زندہ درگور 21 - ہمارے دانشور 22 - قلندر عورت 23 - عورت اور ولایت 24 - پردہ اور حکمرانی 25 - فرات سے عرفات تک 26 - ناقص العقل 27 - انگریزی زبان 29 - بیوہ عورت 29 - عورت کو بھینٹ چڑھانا 30 - شوہر کی چتا 31 - تین کروڑ پچاس لاکھ سال 32 - فریب کا مجسمہ 33 - لوہے کے جوتے 34 - چین کی عورت 35 - سقراط 36 - مکاری اور عیاری 37 - ہزار برس 38 - عرب عورتیں 39 - دختر کشی 40 - اسلام اور عورت 41 - چار نکاح 42 - تاریک ظلمتیں 43 - نسوانی حقوق 44 - ایک سے زیادہ شادی 45 - حق مہر 46 - مہر کی رقم کتنی ہونی چاہئے 47 - عورت کو زد و کوب کرنا 48 - بچوں کے حقوق 49 - ماں کے قدموں میں جنت 50 - ذہین خواتین 51 - علامہ خواتین 52 - بے خوف خواتین 53 - تعلیم نسواں 54 - امام عورت 55 - U.N.O 56 - توازن 57 - مادری نظام 58 - اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت 59 - آٹھ لڑکیاں 60 - انسانی حقوق 61 - عورت کا کردار 62 - دو بیویوں کا شوہر 63 - بہترین امت 64 - بیوی کے حقوق 65 - بے سہارا خواتین 66 - عورت اور سائنسی دور 67 - بے روح معاشرہ 68 - احسنِ تقویم 69 - ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین 70 - ایک دوسرے کا لباس 71 - 2006ء کے بعد 72 - پیشین گوئی 73 - روح کا روپ 74 - حضرت رابعہ بصریؒ 75 - حضرت بی بی تحفہؒ 76 - ہمشیرہ حضرت حسین بن منصورؒ 77 - بی بی فاطمہ نیشاپوریؒ 78 - بی بی حکیمہؒ 79 - بی بی جوہربراثیہؒ 80 - حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ 81 - بی بی رابعہ عدویہؒ 82 - حضرت اُمّ ربیعۃ الرائےؒ 83 - حضرت عفیرہ العابدؒ 84 - حضرت عبقرہ عابدہؒ 85 - بی بی فضہؒ 86 - اُمّ زینب فاطمہ بنتِ عباسؒ 87 - بی بی کردیہؒ 88 - بی بی اُم طلقؒ 89 - حضرت نفیسہ بنتِ حسنؒ 90 - بی بی مریم بصریہؒ 91 - حضرت ام امام بخاریؒ 92 - بی بی اُم احسانؒ 93 - بی بی فاطمہ بنتِ المثنیٰ ؒ 94 - بی بی ست الملوکؒ 95 - حضرت فاطمہ خضرویہؒ 96 - جاریہ مجہولہؒ 97 - حبیبہ مصریہؒ 98 - جاریہ سوداؒ 99 - حضرت لبابہ متعبدہؒ 100 - حضرت ریحانہ والیہؒ 101 - بی بی امتہ الجیلؒ 102 - بی بی میمونہؒ 103 - فاطمہ بنتِ عبدالرحمٰنؒ 104 - کریمہ بنت محمد مروزیہؒ 105 - بی بی رابعہ شامیہؒ 106 - اُمّ محمد زینبؒ 107 - حضرت آمنہ رملیہؒ 108 - حضرت میمونہ سوداءؒ 109 - بی بی اُم ہارونؒ 110 - حضرت میمونہ واعظؒ 111 - حضرت شعدانہؒ 112 - بی بی عاطفہؒ 113 - کنیز فاطمہؒ 114 - بنت شاہ بن شجاع کرمانیؒ 115 - اُمّ الابرارؒ (صادقہ) 116 - بی بی صائمہؒ 117 - سیدہ فاطمہ ام الخیرؒ 118 - بی بی خدیجہ جیلانیؒ 119 - بی بی زلیخاؒ 120 - بی بی قرسم خاتونؒ 121 - حضرت ہاجرہ بی بیؒ 122 - بی بی سارہؒ 123 - حضرت اُم محمدؒ 124 - بی بی اُم علیؒ 125 - مریم بی اماںؒ 126 - بی اماں صاحبہؒ 127 - سَکّو بائیؒ 128 - عاقل بی بیؒ 129 - بی بی تاریؒ 130 - مائی نوریؒ 131 - بی بی معروفہؒ 132 - بی بی دمنؒ 133 - بی بی حفضہؒ 134 - بی بی حفصہؒ بنت شریں 135 - بی بی غریب نوازؒ (مائی لاڈو) 136 - بی بی یمامہ بتولؒ 137 - بی بی میمونہ حفیظؒ 138 - بی بی مریم فاطمہؒ 139 - امت الحفیظؒ (حفیظ آپا) 140 - شہزادی فاطمہ خانمؒ 141 - بی بی مائی فاطمہؒ 142 - بی بی راستیؒ 143 - بی بی پاک صابرہؒ 144 - بی بی جمال خاتونؒ 145 - بی بی فاطمہ خاتونؒ 146 - کوئل 147 - مائی رابوؒ 148 - زینب پھوپی جیؒ 149 - بی بی میراں ماںؒ 150 - بی بی رانیؒ 151 - بی بی حاجیانیؒ 152 - اماں جیؒ 153 - بی بی حورؒ 154 - مائی حمیدہؒ 155 - لل ماجیؒ 156 - بی بی سائرہؒ 157 - مائی صاحبہؒ 158 - حضرت بی بی پاک دامناںؒ 159 - بی بی الکنزہ تبریزؒ 160 - بی بی عنیزہؒ 161 - بی بی بنت کعبؒ 162 - بی بی ستارہؒ 163 - شمامہ بنت اسدؒ 164 - ملّانی جیؒ 165 - بی بی نور بھریؒ 166 - مائی جنتؒ 167 - بی بی سعیدہؒ 168 - بی بی وردہؒ 169 - بی بی عائشہ علیؒ 170 - بی بی علینہؒ 171 - اُمّ معاذؒ 172 - عرشیہ بنت شمسؒ 173 - آپا جیؒ 174 - حضرت سعیدہ بی بیؒ 175 - طلاق کے مسا ئل
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)