حال ، مستقبل

کتاب : قوس و قزح

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=8255

ماضی، حال، مستقبل
ماضی قریب، ماضی بعید، حال
مستقبل، حال، ماضی
اتوار کے روز لندن سے جب رخصت ہوا‘ وہاں کا ٹمپریچر نقطہ انجماد سے دو ڈگری کم تھا۔
سینچر کو فورسٹ گیٹ کے ایک بڑے ہال میں الوداعی تقریب تھی۔ہال میں گرمی تھی اور باہر سردی۔ لوگوں کے لئے جتنی کرسیوں کا انتظام کیا گیا تھا وہ کم تھیں۔
مرد و خواتین کا ایک ہجوم تھا جو مجھ ناچیز کو دیکھنے سننے اور ملاقات کرنے کے لئے جمع ہو گیا تھا۔ اس وقت میرے جسم پر ایک سو ڈگری بخار کا غلبہ تھا۔ میڈیکل اصطلاح میں فلو کے وائرس خون میں گردش کر رہے تھے۔
ایسے میں مجھے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریر کرنا تھی۔
عظیمی بچوں، دختران، فرزندان نے اتنے زیادہ پھول نچھاور کئے کہ میز پر اونچا ڈھیر لگ گیا۔ وڈیو کیمرے سے تصویر لینے والوں نے احتجاج کیا اور پھول وہاں سے اٹھا لئے گئے۔
میں نے بخار سے سرگوشی کی۔ اے میرے دوست بے شک جسم اللہ کا ہے، تو بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ تیرا حق میرے جسم پر زیادہ ہے مگر سامنے دیکھ کہ اللہ کی یہ مخلوق اس لئے جمع ہے کہ وہ کچھ سننا چاہتی ہے۔ کچھ سمجھنا چاہتی ہے۔
یا بدیع العجائب۔
بخار بھی شعور رکھتا ہے۔ میری درخواست پر بخار کا دل پسیج گیا، مسامات کھل گئے۔
جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ پیشانی پر ننھی ننھی بوندیں تیز مرکری روشنی میں موتیوں کی طرح چمکنے لگیں۔ تپش کی جگہ ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ پہلے مرحلے پر سر سے قراقلی ٹوپی اتار دی ۔ دوسرے لمحہ لیدر جیکٹ کرسی کی پشت کی زینت بن گئی۔
ام الدماغ میں ایک جھماکہ ہوا۔ باریک ترین چاندی رنگ لہر آسمان سے اخفیٰ میں اتری اور ریڑھ کی ہڈی کو گزرگاہ بناتی ہوئی پیروں کے تلوؤں سے ارتھ ہو گئی۔
ہڈیوں کے پنجرے میں بند زبان گویا ہوئی۔
میرے بچو، دوستو‘، دور دراز شہروں سے آنے والے عزیزو ! آج میں اور آپ اس ہال میں موجود ہیں۔ اس وقت ہال میں موجودگی کو ہم ’’حال‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن ابھی چند گھنٹوں کے بعد ہمارا یہ حال ماضی بن جائے گا۔
میں آپ کا دوست، آپ کا استاد، آپ کا Spiritual Fatherآپ سے پوچھتا ہوں۔
میں اس وقت اڑسٹھ سال کا ہوں۔ یہ اڑسٹھ سال کہاں گئے؟ میں پیدا نہیں ہوا تھا تو کہاں تھا۔ غیب میں تھا۔ غیب کیا ہے؟ ماضی کے علاوہ ہم اسے کوئی نام نہیں دے سکتے۔ ولادت کے بعد پندرہ سیکنڈ بھی نہیں گزرے تھے کہ میں ماضی میں منتقل ہو گیا اور یہ پندرہ سیکنڈ پھیل کر اڑسٹھ سال کے دن، رات، گھنٹوں، منٹوں، سیکنڈوں اور لمحات میں غائب ہو گئے۔ ہم زندگی میں جس وقت کو ’’حال‘‘ کہتے ہیں وہ حال ایک لمحہ کے لئے بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھتا۔ حال ماضی میں فنا ہو رہا ہے۔ ہم جسے مستقبل کہتے ہیں ۔ وہ حال کے بعد آنے والا لمحہ ہے لیکن حال ہو یا حال کے بعد آنے والالمحہ ہو۔ ماضی کی آغوش اسے اپنے اندر سمیٹ رہی ہے۔
زندگی کیا ہے؟
زندگی خیال ہے۔ خیال کہاں سے آتا ہے۔ جہاں سے بھی آتا ہے وہ ماضی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
خواب سے اٹھ جایئے، آپ سحر زدہ قوم کے افراد نہیں ہیں، بتایئے۔
کیا خیال آئے بغیر کوئی کام کرنا ممکن ہے؟
لاکھوں سال کی زندگی میں ایک حرکت بھی خیال یا انفارمیشن کے بغیر ممکن نہیں ہے آدم سے لے کر اب تک ہم خود اور آنے والی نسلیں کہیں موجود ہیں جہاں موجود ہیں وہ سورس آف انفارمیشن ہے۔ سورس آف انفارمیشن غیب ہے اور غیب ماضی ہے۔ ہم ماضی میں سے آتے ہیں اور ماضی میں منتقل ہونے والے لمحات میں زندہ رہتے ہیں۔
ماضی سے جب خیالات یا انفارمیشن کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے تو ہمارا جسمانی نظام معدوم ہو جاتا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 54 تا 57

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)