بارہ کھرب کَل پرزے

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7889

مختصر طور پر زندگی کا تذکرہ کیا جائے تو یہ کہنا مناسب ہے کہ زندگی جذبات سے عبارت ہے اور زندگی کے بے شمار جذبات حواس کے دوش پر سفر کر رہے ہیں۔ ان جذبات کو کنٹرول کرنا حواس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
مثال:
ایک آدمی کو پیاس لگی۔ پیاس ایک تقاضا ہے، پیاس کے تقاضے کو پورا کرنے کے لئے حواس ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ حواس ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ پانی گرم ہے۔ یہ پانی سرد ہے یہ پانی کڑوا ہے یا یہ پانی میٹھا ہے۔ پیاس کا تقاضہ پانی پینے سے پورا ہوتا ہے۔ پانی کی پہچان بھی حواس کے ذریعے ممکن ہے۔ ایک تقاضہ پیاس ہے، ایک تقاضہ بھوک ہے۔ کسی کو چاہنا ایک الگ تقاضہ ہے اور آدمی کے اندر یہ تقاضہ پیدا ہونا کہ کوئی مجھے بھی چاہے الگ تقاضہ ہے۔ ان تقاضوں کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے تو اس کا نام زندگی ہے اور جب ان تقاضوں کو الگ الگ کر کے دیکھا اور سمجھا جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر تقاضہ اس لئے الگ الگ ہے کہ تقاضوں کے اندر مقداریں الگ الگ کام کر رہی ہیں۔ پیاس کے تقاضے میں جو مقداریں کام کر رہی ہیں وہ بھوک کے تقاضے میں موجود نہیں ہیں اس لئے صرف پانی پی کر بھوک کا تقاضہ رفع نہیں ہوتا۔ بھوک کے اندر جو مقداریں کام کر رہی ہیں اس کی اپنی الگ ایک حیثیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف کچھ کھا کر پیاس کا تقاضہ پورا نہیں ہوتا۔
حواس الگ الگ تقاضوں کو جانتے ہیں، سمجھتے ہیں انسانی زندگی میں ایک تقاضہ محبت ہے۔ محبت ایک ایسا مجموعی تقاضہ ہے جس کے بغیر زندگی ادھوری اور نا مکمل رہتی ہے۔ حواس محبت کے اس تقاضے کو الگ الگ حیثیت دیتے ہیں مثلاً یہ کہ حواس ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ خاتون ہماری بیوی ہے اور یہ لڑکی بیٹی ہے اور یہ خاتون ہماری ماں ہے۔ جب ہم محبت کا نام لیتے ہیں تو محبت کا مجموعی مفہوم ہمارے ذہن میں کسی کا چاہنا آتا ہے لیکن جب حواس کے ذریعے محبت کو سمجھتے ہیں تو محبت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ایک عورت ہر حال میں عورت ہے لیکن حواس اس عورت کو الگ الگ تقسیم کر دیتے ہیں۔ حواس ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ عورت ہماری بہن ہے، یہ عورت ہماری بیٹی ہے، یہ عورت ہماری ماں ہے اور یہ عورت ہماری بیوی ہے۔ بحیثیت عورت و مرد سب میں قدریں مشترک ہیں لیکن حواس ہمیں بتاتے ہیں کہ مشترک قدروں میں بھی ایک ضابطہ اور قانون ہے۔
بتانا یہ مقصود ہے کہ انسانی زندگی جس بنیاد پر قائم ہے اس کے دو پیر یا دو ستون ہیں۔ ایک پیر یا ستون جذبہ ہے اور ایک پیر یا ستون حواس ہے۔ جب تک آدمی جذبات کے دائرۂِ کار میں رہتا ہے۔ اس وقت تک اس کی حیثیت دوسرے حیوانات سے الگ نہیں ہے اور جب ان جذبات کو وہ انسانی حواس کے ذریعے سمجھتا ہے اور جذبات کی تکمیل میں حواس کا سہارا لیتا ہے تو وہ حیوانات سے الگ ہو جاتا ہے۔ جذبات اور حواس کا اشتراک انسانوں کی طرح حیوانوں میں بھی موجود ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ایک بکری یا ایک گائے انسانوں کی طرح حواس میں معنی نہیں پہنا سکتی۔ اس کا علم زندگی کو قائم رکھنے کی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہے۔ وہ صرف اتنا جانتی ہے کہ پانی پینے سے پیاس بجھتی ہے، پتے کھانے سے بھوک رفع ہوتی ہے اس بات سے اسے کوئی غرض نہیں ہے کہ پانی کس کا ہے۔ اس کے اندر زندگی قائم رکھنے کے لئے ایک تقاضہ ہوتا ہے اور وہ تقاضہ پورا کر لیتی ہے اس کے برعکس انسان کے اندر زندگی کو قائم رکھنے کے لئے جب تقاضہ ابھرتا ہے تو وہ حواس کے ذریعے یہ بات سمجھتا ہے کہ یہ تقاضا کس طرح پورا کیا جاتا ہے۔
چونکہ انسان کو اللہ کریم نے حواس کا مخصوص علم عطا کیا ہے اس لئے انسان دوسری مخلوق کے مقابلے میں ممتاز ہو گیا ہے اور یہ ممتاز ہونا ہی مکلف ہونا ہے۔
یہ بات واضح طور پر سامنے آگئی ہے کہ زندگی قائم رکھنے کے لئے اللہ کریم کی تمام مخلوق میں تقاضے یکساں ہیں۔ آدمی کو بھی بھوک لگتی ہے بکری اور بلی کو بھی بھوک لگتی ہے۔ پیاس آدمی کو بھی لگتی ہے اور پیاس دوسرے حیوانات کو بھی لگتی ہے۔ دونوں بھوک اور پیاس کے تقاضے کو پوراکرتے ہیں۔ لیکن انسان تقاضوں اور حواس کی حیثیت سے واقف ہے۔ یہ وقوف ہی انسان کو شرف کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ حواس کے قانون سے واقف ہونا روحانی سفر کی ابتدا ہے۔
انسان کے اندر بارہ کھرب کَل پرزوں سے مشین کام کر رہی ہے۔ کچھ کَل پرزے ایسے ہیں جو حواس بناتے ہیں کچھ کَل پرزے ایسے ہیں جو جذبات کی تخلیق کرتے ہیں۔ انسان کو اللہ کریم نے یہ علم عطا کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو جان لیتا ہے کہ اس کے اندر نصب شدہ مشین میں یہ کَل پرزے کس طرح فٹ ہیں اور ان کے ذریعہ جذبات اور حواس کس طرح بنتے ہیں۔ جذبات اور حواس کے اعتبار سے انسان اور تمام حیوانات ایک صف میں کھڑے ہیں لیکن بکری کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ حواس بنانے کی مشین یا حواس بنانے کے کَل پرزوں کو سمجھ سکے۔ اگر کوئی انسان بکری کی طرح اپنے اندر نصب شدہ اس کائناتی نظام کو نہیں سمجھتا تو اس کی حیثیت بلی اور کتے سے زیادہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ بھوک کتے کو بھی لگتی ہے، پیٹ کتا بھی بھرتا ہے۔ بھوک آدمی کو بھی لگتی ہے۔
پیٹ آدمی بھی بھرتا ہے، پیاس چوہے کو بھی لگتی ہے، پیاس آدمی کو بھی لگتی ہے، پانی آدمی بھی پیتا ہے۔ جبلّی طور پر ایک آدمی بھی اپنی اولاد کی پرورش کرتا ہے، اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے، اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے بالکل اسی طرح بلی بھی اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے، اولاد کی پرورش کرتی ہے۔ اپنی اولاد کو دودھ پلاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئے تمام ضروری باتوں سے آگاہ کر کے بچوں کی تربیت کرتی ہے۔ روحانی نقطہ نظر سے اگر کوئی آدمی سب کچھ وہی کام کرتا ہے جو ایک بلی کرتی ہے تو اس کی حیثیت بلی کے برابر ہے اور اسے بلی سے افضل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی انسان بلی کتے چوہے سے اس لئے افضل ہے کہ اللہ کریم نے اسے اپنے اندر نصب شدہ مشین یا کمپیوٹر کا علم سکھا دیا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 70 تا 74

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)