پیدا ہونے سے پہلے کی زندگی

یہ بات غور طلب ہے کہ اس دنیا (عالمِ ناسوت) میں آنے سے پہلے روح کہاں مَوجود تھی؟ اس لئے کہ جب ہم لفظ ‘‘آنا ‘‘ استعمال کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ کہیں کوئی چیز مَوجود ہے۔ جب یہ بات طے ہو گئی کہ کوئی چیز کہیں مَوجود ہے تو […]

مراقبہ کی چار کلاسیں

ہم نے مراقبہ کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ یہ چار قسمیں دراصل چار ابتدائی کلاسیں یا چار سیڑھیاں ہیں۔ اِن چار کلاسوں کو پڑھ کر یا اِن چار سیڑھیوں سے گزر کر قلندر شعور کا مسافر جب پانچویں درجے میں داخل ہوتا ہے تو وہ الہامی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت […]

زندگی ایک اطلاع ہے

عام مشاہدے کی رُو سے زندگی گزارنے کی جو طرزیں مَوجود ہیں یا ہرآدمی زندگی کی جن طرزوں میں سفر کرتا ہے وہ دو ہیں۔ ایک طرز یہ ہے کہ آدمی شعوری حواس میں زندگی کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہر تقاضا پورا کرنے کیلئے اُسے جسمانی طور پر محنت اور […]

مراقبہ کی قسمیں

ماوارائی دنیا کو دیکھنے کا عمَل ابتدائی درجوں میں چار طریقوں پر قائم ہے۔ روحِ حیوانی دو نقطوں سے مرکب ہے۔ ایک نقطے کا نام نفس ہے دوسرے نقطے کا نام قلب ہے۔ شعور انسانی جب تک نفس کے اندر دنیا کا مشاہدہ کرتا ہے یا دنیا کو دیکھتا ہے تو وہ زمان و مکان […]

خواب اور مراقبہ

خواب اور مراقبہ میں فرق یہ ہے کہ خواب میں دماغ یا شعور جسمانی اعضاء کو نظر انداز کر دیتا ہے اور مراقبہ میں شعور جسمانی اَعضاء کو نظر انداز نہیں کرتا۔ مراقبہ کرنے والا بندہ، جس کی آنکھ کھلی ہے (آنکھ سے مراد اندر کی آنکھ ہے یا روحِ حیوانی کی آنکھ ہے) تو […]

زمان و مکان

قلندر شعور ہمیں بتاتا ہے کہ ذہن کو دنیاوی عَلائق اور دنیاوی معاملات سے یکسو کرنے کیلئے ایسی مشقوں کی ضرورت ہوتی ہے جن مشقوں سے ذہن دنیا کو عارضی طور پر چھوڑ دے اور ان مشقوں سے ذہن جب یکسو ہو جاتا ہے یعنی ذہن میں سے دنیا کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، […]

ترکِ دنیا کیا ہے

اللہ نے انسان کی تخلیق کچھ اس طرح کی ہے وہ کسی جگہ ٹھہرتا نہیں ہے۔ بے رنگی سے نکل کر وہ وراءِ بے رنگ کا مشاہدہ کر لیتا ہے اور یہی اللہ کی ذات کا عرفان ہے۔ قلندر شعور ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ انسان اپنے اِرادے اور اِختیار سے اپنے اوپر ایسی کیفیات […]

روشنیوں کے چھ قمقمے

انسان گوشت پوست اور ہڈیوں کے ڈھانچے کا نام نہیں ہے انسان کے اوپر ایک اور بُنا ہُواجسم ہوتا ہے جس کو قلند ربابا اولیاء ؒ نے نَسمہ AURA کا نام دیا ہے نَسمہ یا اورا چھ نقطوں یا چھ دائروں سے بنا ہُوا ہے۔ چھ دائروں سے تین روحیں وُجود میں آتی ہیں ان […]

رنگوں کی دنیا

ہم جب زمین کے اوپر مَوجود نِت نئی تخلیقات پر تفکر کرتے ہیں تو یہ بات واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے کہ تخلیق کا عمَل ظاہر بین نظروں سے دیکھا جائے تو ایک نظر آتا ہے۔ مثلاً ہم کسی درخت کی پیدائش کے بارے میں غور کرتے ہیں تو ہمیں زمین کے اوپر […]

لہروں کا نظام

کائنات میں ہر مَوجود شئے لہروں کے تا نے بانے پر قائم ہے۔ اور یہ لہریں نور کے اوپر قائم ہیں۔ اللہ کی زبان میں زمین آسمان اللہ کا نور ہیں۔ تخلیق کی ایک حیثیت نورانی ہے اور تخلیق کی دوسری حیثیت رَوشنی، نفس، جان یا نقطہ ہے۔ ان لہروں یا تخلیق کے اندر نورانی […]

آدم و حوّا کی تخلیق

آسمانی کتابوں کو پڑھنے اور ان کتابوں کی تعلیمات پرغور کرنے سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ آدم کو ایک جان سے تخلیق کِیا گیا ہے۔ تخلیق کی اس بنیاد کو نفس، جان اور نقطۂِ واحدہ کہا گیا ہے۔ عام حالات میں جب ہم تخلیق کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہ سمجھا جاتا ہے […]

مزدور برادری

ایک شہر میں کَساد بازاری اس حد تک پہنچی کہ وہاں کے بازار ویران ہو گئے۔ جب کاروبار چلنے کی صورت سامنے نہ آئی تو لوگوں نے اُس شہر سے نقل مکانی کرنا شروع کر دیا۔ اس کَساد بازاری اور نقل مکانی کرنے کی وجہ سے شہر میں رہنے والے غریب مزدور نہا یت پریشان […]

درخت اور گھاس

چو پائے بہر حال انسانوں سے بہت بڑی تعداد میں زمین پر مَوجود ہیں۔ بظاہر وہ زمین پر اُگی ہوئی گھاس کھاتے ہیں، درختوں کے پتے چَرتے ہیں لیکن جس مقدار میں گھاس اور درختوں کے پتے کھاتے ہیں، زمین پر کوئی درخت نہیں رہنا چاہئے۔ قدرت اُن کی غذائی کفالت پوری کرنے کیلئے اتنی […]

پرندوں کا رزق

بے شمار واقعات پیش آنے کے نتیجے میں یہ یقین مستحکم اور پختہ ہو گیا کہ…. ضروریات کا واحد کفیل اللہ ہے۔ اللہ نے وعدہ کیا کہ میں رازق ہوں۔ وہ بہر حال ہمیں رزق پہنچاتا ہے اور اللہ کے کارندے جو تکوین کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جن کے بارے میں اللہ نے […]

مچھلی مل جائے گی؟

ایک رات کا ذکر ہے، تقریباً ساڑھے گیارہ بجے رات کا وقت تھا۔ قلندر بابا اولیاء ؒ نے ارشاد فرمایا، مچھلی مل جائے گی؟ میں نے عرض کیا حضور ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں میں کوشش کرتا ہوں، کسی ہوٹل میں ضرور مل جائے گی۔ قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا ہوٹل کی پکی ہوئی مچھلی […]

گاؤں میں مرغ پلاؤ

إستغناء کے ضمن میں غوث علی شاہ قلندر پانی پتی اپنی تصنیف ’’تذکرۂِ غوثیہ‘‘ میں ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں کہ….. میں ایک دیہات کی مسجد میں امام تھا۔ مسجد میں ایک فقیر آکر رک گیا۔ مغرب کے بعد میں نے اسے کھانے کیلئے بلایا تو اس فقیر نے پوچھا کھانے میں کیا ہے ؟اتفاق […]