روشن چراغ

کتاب : صدائے جرس

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=18380

یہ دنیا ایک طرف بقا ہے تو دوسری طرف فنا ہے، ایک طرف فنا ہے تو دوسری طرف بقا ہے، فنا و بقا کا یہ کھیل ریت کے گھروندے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہی وہ سربستہ راز ہے جس کو بتانے، سمجھانے اور عام کرنے کے لئے قدرت روشن اور منور لوگوں کو دھرتی پر بھیجتی ہے اور دھرتی کے یہ روشن چراغ زمین پر بسنے والے لوگوں کو روشنی اور نور سے متعارف کراتے ہیں۔ حضور قلندر بابا اولیاءؒ ایسے ہی پاکیزہ اور مقدس گروہ کے افضل ترین ایک فرد ہیں۔

قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا:

  • نوع انسان میں مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب آپس میں آدم کے ناطے خالق کائنات کے تخلیقی راز و نیاز ہیں۔ آپس میں بھائی بہن ہیں، نہ کوئی بڑا ہے اور نہ کوئی چھوٹا، بڑائی صرف اس کو زیب دیتی ہے جو اپنے اندر ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اللہ کی صفات کے سمندر کا عرفان رکھتا ہو، جس کے اندر اللہ کی صفات کا عکس نمایاں ہو جو اللہ کی مخلوق کے کام آئے، کسی کو اس کی ذات سے تکلیف نہ پہنچے۔
  • یہ کیسا الم ناک اور خوفناک عمل ہے کہ ہم دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوش ہوتے ہیں، جب کہ آدم و حوا کے رشتے کے پیش نظر ہم خود اپنی جڑیں کاٹتے ہیں۔ درخت ایک ہے شاخیں اور پتے لاتعداد ہیں۔
  • خوشی اگر ہمارے لئے معراج کی تمنا ہے تو ہم اپنے نفسوں کو تکلیف پہنچا کر کس طرح خوش رہ سکتے ہیں۔
  • دوستو! ایسے کام کیجئے کہ آپ خود مطمئن ہوں، آپ کا ضمیر مردہ نہ ہو جائے اور یہی وہ راز ہے جس کے ذریعے آپ کی ذات دوسروں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بن جائے گی۔
  • آدمی حالات کے ہاتھ کھلونا ہے، حالات جس طرح چابی بھر دیتے ہیں آدمی اسی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
  • موجودہ سائنس تلاش و جستجو کے راستے پر چل کر اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ پوری کائنات ایک ہی قوت کا مظاہرہ ہے۔ یہ انکشاف نیا نہیں ہے ہمارے نبی کریمﷺ چودہ سو سال پہلے اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ کائنات کے تمام مظاہر کو ایک ہستی کنٹرول کرتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ’’اللہ آسمان اور زمین کی روشنی ہے۔‘‘ ہم جانتے ہیں کہ آدم زاد کی طرح چوپائے اور پرندے بھی اللہ کی مخلوق ہیں، ان کے اندر بھی احتیاج ہے، انہیں بھی بھوک پیاس لگتی ہے، اے آدم زاد! کبھی تو نے سوچا ہے کہ روزی رساں اتنی بڑی مخلوق کو کس طرح روزی فراہم کرتا ہے؟
  • ہر انسان کے گرد سطحی گہری سوچ موجود ہے، تفکر جب گہرا ہوتا ہے تو بجز اس کے کوئی بات سامنے نہیں آتی کہ ہر آدمی جنت اور دوزخ اپنے ساتھ لئے پھرتا ہے اور اس کا تعلق طرز فکر سے ہے، طرز فکر انبیاء کے مطابق ہے تو آدمی کی ساری زندگی جنت ہے، طرز فکر میں ابلیسیت ہے تو تمام زندگی دوزخ ہے۔
  • ترقی کے خوشنما اور پرفریب جال میں دنیا کی عمر گھٹ رہی ہے، زمین بیمار ہو گئی ہے، کراہتے ہوئے روتے ہوئے کہہ رہی ہے:’’خدارا! میرے اور اپنے اوپر رحم کرو۔‘‘ مگر کوئی انسان ایسا نہیں ہے کہ اس کی سسکتی ہوئی اور غم میں ڈوبی ہوئی آواز سنے۔
  • اے لوگو! اے دانشورو! کچھ تو ہوش و خرد سے کام لو یہ کیسی ترقی ہے کہ آدمی خود اپنی نسل کو برباد کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے اور تباہی کا نام اس نے ترقی رکھ چھوڑا ہے اور ترقی کے خوشنما پردوں میں ذہنی سکون، اطمینان اور تحفظ کے احساس کو چھپا دیا ہے۔
  • اے آدم زاد! میری بات پر دھیان دے، میں جو تیرا ضمیر ہوں، تیرے اندر کی آوازہوں، تیرے باطن کی پکار ہوں، دیکھ میرا گلا نہ گھونٹ، میری طرف متوجہ ہو ورنہ تو اسی طرح مصائب کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔
  • اے واعظو! اے منبر نشینو! اے قوم کے دانشورو! برائے خدا سوتی قوم کو جگاؤ اور یہ بتاؤ کہ بے عمل قومیں غلام بن جاتی ہیں۔
  • آدمی جب اپنی روح کا عرفان حاصل کر لیتا ہے تو اس کی رفتار کے آگے بجلی کی رفتار صفر ہو جاتی ہے، ہزاروں لاکھوں سال پہلے یا بعد کی باتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں۔
  • کوئی چیز براہ راست ہم سے ہم رشتہ نہیں ہے بلکہ ہر رشتہ میں اللہ کی صفت کا عمل دخل ہے۔
  • من سے دوستی کا رشتہ مستحکم کرنے کے لئے ہمارا انر ہمیں راستہ دکھاتا ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ یہاں ہمارا نہ دشمن ہے اور نہ کوئی دوست ہے، ہم خود ہی اپنے دوست ہیں اور خود ہی اپنے دشمن ہیں۔
  • روح رہنمائی کرتی ہے کہ ساری کائنات ایک ڈرامے کی طرح ہے، کوئی باپ ہے، کوئی ماں ہے، کوئی بچہ ہے، کوئی دوست ہے، کوئی دشمن ہے، کوئی گنہگار ہے، کوئی پاکباز ہے۔ دراصل یہ اسٹیج پر کام کرنے والے کرداروں کے مختلف روپ ہیں، جب ڈراپ سین ہو جاتا ہے تو کوئی کچھ نہیں رہتا۔
  • فتح کی آنکھ دیکھتی ہے کہ اللہ کی ساری مخلوق ایک نقطہ میں بند ہے جس طرح ٹھہرے ہوئے پانی میں جھانکنے سے پانی کے اندر اپنی شکل نظر آتی ہے اسی طرح اس نقطے کے اندر دیکھنے سے کائنات کے سارے افراد فرشتے، جنات، انسان اور دوسری تخلیقات باہم دیگر جڑے ہوئے ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست نظر آتے ہیں۔
  • حقیقی مسرت سے ہم آغوش ہونے کے لئے انسان کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ زندگی کا دارومدار صرف جسم پر ہی نہیں ہے بلکہ اس حقیقت پر ہے جس حقیقت نے خود اپنے لئے جسم کو لباس بنا لیا ہے۔
  • ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی مر گیا ہے تو دراصل کہنا یہ چاہتے ہیں کہ فلاں آدمی کا کردار فلاں آدمی کی زندگی یا فلاں آدمی کی آواز ایک دستاویز ی ریکارڈ بن گئی ہے۔
  • جب تک آدمی کے یقین میں یہ بات رہتی ہے کہ چیزوں کا موجود ہونا یا چیزوں کا عدم میں چلے جانا اللہ کی طرف سے ہے، اس وقت تک ذہن کی مرکزیت قائم رہتی ہے اور جب یہ یقین غیر مستحکم ہو کر ٹوٹ جاتا ہے تو آدمی ایسے عقیدے اور ایسے وسوسوں میں گرفتار ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ ذہنی انتشار ہوتا ہے۔ پریشانی ہوتی ہے، غم اور خوف ہوتا ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار انسان روزانہ مرتا ہے اور روزانہ جینے کے بعد پھر مر جاتا ہے۔
  • روح اور جسم کے مشترکہ نظام سے جب کوئی بندہ واقف ہو جاتا ہے تو وہ خود کو خوشی اور ایثار کے جذبے میں ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ ہر اس فرد کو اس نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے ماں اپنے بچوں کو دیکھتی ہے۔
  • سکون ایک حقیقت ہے ایسی حقیقت جس حقیقت سے پوری کائنات بندھی ہوئی ہے۔ حقیقت فکشن نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بندے کے اندر وہ کونسی طاقت ہے جو ٹوٹ پھوٹ، گھٹنے بڑھنے سے محفوظ ہے۔ وہ طاقت ہر بندے کی اس کی اپنی روح ہے۔ نسلی اعتبار سے اگر ہم اپنے بچوں کو ان کے اندر روح سے آشنا کریں تو وہ مذہب سے دور نہیں ہونگے۔
  • اس رنگ و بو کی طرف ایک اور دنیا بھی ہے جو مرنے کے بعد ہمارے اوپر روشن ہوتی ہے۔ ہم کتنے بدنصیب ہیں کہ کبھی اس نادیدہ دنیا کی طرف سفر نہیں کیا۔ اگر ہم اس دنیا سے روشناسی حاصل کر لیں تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ ناشاد و نامراد زندگی کو مسرت و شادمانی میسر آ جائے گی۔
  • یہاں ہر چیز لہروں کے دوش پر رواں دواں ہے، یہ لہریں جہاں زندگی کو خوش آرام بناتی ہیں، مصیبت و ابتلا میں بھی مبتلا کرتی ہیں، نور کے قلم سے نکلی ہوئی ہر لکیر نور ہے اور نور جب مظہر بنتا ہے تو روشنی بن جاتا ہے، روشنی کم ہو جائے تو اندھیرا ہو جاتا ہے، آدم نے اس اندھیری دنیا میں قید ہونے کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔

انسانی نگاہ کے سامنے جتنے مناظر ہیں وہ شعور کی بنائی ہوئی مختلف تصویریں ہیں۔ اس لئے کہ اس کے مشاہدات اور تجربات سب مفروضہ ہیں۔ ایک چیز کے بارے میں سینکڑوں لوگوں کی سینکڑوں آراء ہوتی ہیں حالانکہ حقیقیت ایک اور صرف ایک ہوتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ہماری نگاہ کے سامنے مظاہر میں ہر وقت تغیر رہتا ہے، آبادی ویرانہ میں اور ویرانہ آبادی میں بدل جاتا ہے۔ یہ متغیر دنیا حقیقت کس طرح ہوتی ہے؟ جب کہ حقیقت میں تغیر نہیں ہوتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 123 تا 126

صدائے جرس کے مضامین :

ِ انتساب  ِ عرضِ ناشر!  ِ 1 - حیات و موت  ِ 2 - تصوف  ِ 3 - اللہ کی رسی  ِ 4 - حکمرانی  ِ 5 - نفی  ِ 6 - آنکھیں  ِ 7 - حضرت مریمؑ  ِ 8 - محبوب بغل میں  ِ 9 - دولت پرستی  ِ 10 - مالک الملک  ِ 11 - اشرف المخلوقات  ِ 12 - دل کی باتیں  ِ 13 - طرز فکر  ِ 14 - روپ بہروپ  ِ 15 - مساجد  ِ 16 - لیلۃ القدر  ِ 17 - حوا  ِ 18 - زمین کی پکار  ِ 19 - نورانی پیکر  ِ 20 - روشنی قید نہیں ہوتی  ِ 21 - اے واعظو! اے منبر نژینو!  ِ 22 - علم و عمل  ِ 23 - روحانیت  ِ 24 - اسوۂ حسنہ  ِ 25 - اولیاء اللہ کی طرز فکر  ِ 26 - ایثار کی تمثیلات  ِ 27 - درخت زندگی ہیں  ِ 28 - صلوٰۃ کا مفہوم  ِ 29 - پانی کی فطرت  ِ 30 - مخلوقات  ِ 31 - شک  ِ 32 - خود آگاہی  ِ 33 - روشن چراغ  ِ 34 - کہکشاں  ِ 35 - ماضی  ِ 36 - عقل و شعور  ِ 37 - بارش  ِ 38 - احسن الخالقین  ِ 39 - نو کروڑ میل  ِ 40 - پیغمبرانہ طرز فکر  ِ 41 - رزاق  ِ 42 - خیالات  ِ 43 - عروج و زوال  ِ 44 - مخلوق کی خدمت  ِ 45 - معجزہ  ِ 46 - بغدادی قاعدہ  ِ 47 - سوچ  ِ 48 - شق القمر  ِ 49 - اندر کی آنکھ  ِ 50 - سچا مذہب  ِ 51 - دو یونٹ  ِ 52 - شعور لا شعور  ِ 53 - توانائی  ِ 54 - سلطان  ِ 55 - وجدانی دماغ  ِ 56 - حاتم طائی  ِ 57 - احسن تقویم  ِ 58 - عامل اور معمول  ِ 59 - گھر گھر دستک  ِ 60 - پرندے  ِ 61 - بجلی آگئی  ِ 62 - روٹی  ِ 63 - اللہ کا نظام  ِ 64 - ایٹم بم  ِ 65 - دائرہ اور مثلث  ِ 66 - دنیا کی کہانی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)