دل کی باتیں

کتاب : صدائے جرس

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=18252

اک جرعہ مئے ناب سے کیا پائے گا

اتنی سی کمی سے فرق کیا آئے گا

ساقی مجھے اب مفت پلا دے کیا معلوم

یہ سانس جو آیا ہے پھر آئے گا

دنیا کی محبت انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ وہ موت جیسی حقیقی زندگی سے خوف زدہ رہتا ہے۔ نفس پرستی پراگندگی، فتنہ انگیزی اور ظلم ستم عام ہو جاتا ہے۔ دوسری قومیں طرح طرح کی سازشوں کے جال بچھا کر اور مال و زر کی لالچ میں مبتلا ہو کر کم ہمت قوموں کو ختم کر دیتی ہیں۔ دنیا سے محبت اور موت سے خوف کرنا چھوڑ دیجئے۔ یہ عمل سکون راحت اور اطمینان قلب کا باعث بنے گا اور دوزخ آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گی۔

آؤ یارو!

دلدار کی باتیں کریں۔

فرمایا قلندر بابا اولیاءؒ نے کہ:

ہر فرد کو چاہئے کہ کاروبار حیات میں پوری پوری کوشش کرے اور نتیجہ اللہ کے اوپر چھوڑ دے۔ اس لئے کہ آدمی حالات کے ہاتھوں میں کھلونا ہے۔ حالات جس طرح چابی بھر دیتے ہیں آدمی اس طرح زندگی گزارتا ہے۔ ہمیں کسی کی ذات سے تکلیف پہنچ جائے تو اسے بلاتوقف معاف کر دو۔ اس لئے کہ انتقام اعصاب کو مضحمل کر دیتا ہے۔ تم اگر کسی کی دل آزاری کا سبب بن جاؤ تو اس سے معافی مانگ لو اس سے قطع نظر کہ وہ تم سے چھوٹا ہے یا بڑا۔ جھکنے میں عظمت پوشیدہ ہے۔

اک آن ہے میخانہ کی عمر اے ساقی

اک آن کے بعد کیا رہے گا ساقی

اک آن میں ہو کہکشاں خاکستر

اک آن کا فائدہ اٹھا لے ساقی

حضرت قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ:

مراقبہ صرف ایک عمل کا نام نہیں ہے بلکہ مراقبہ مختلف علوم کے حصول کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ سالک اگر مراقبہ کرے یعنی وہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ اس بات پر متوجہ ہو جائے کہ وہ خود اللہ کی صفت رحیمی کا جز ہے تو اس کے اوپر تخلیقی علوم منکشف ہو جاتے ہیں۔
شب بیداری کے دوران حضور قلندر بابا اولیاءؒ کی باطنی نگاہ متحرک ہوئی تو انہوں نے سامنے پڑی مٹی کو دیکھا۔ مٹی کے ذرات سے گفتگو کی۔ مٹی نے نہیں بتایا، ماضی میں میرے ہر ذرے کی اپنی ایک ہستی تھی ان مٹی کے ذرات میں سے کوئی ذرہ برہمن تھا، کوئی ذرہ واعظ تھا، کوئی ذرہ گدا گر تھا، کوئی ذرہ بادشاہ وقت تھا۔ آج یہ حال ہے کہ بادشاہ، گداگر، واعظ اور برہمن مٹی کے ایسے ذرات ہیں جن کو خود ان کی اولادیں پیروں تلے روندتی پھرتی ہیں۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 48 تا 49

صدائے جرس کے مضامین :

ِ انتساب  ِ عرضِ ناشر!  ِ 1 - حیات و موت  ِ 2 - تصوف  ِ 3 - اللہ کی رسی  ِ 4 - حکمرانی  ِ 5 - نفی  ِ 6 - آنکھیں  ِ 7 - حضرت مریمؑ  ِ 8 - محبوب بغل میں  ِ 9 - دولت پرستی  ِ 10 - مالک الملک  ِ 11 - اشرف المخلوقات  ِ 12 - دل کی باتیں  ِ 13 - طرز فکر  ِ 14 - روپ بہروپ  ِ 15 - مساجد  ِ 16 - لیلۃ القدر  ِ 17 - حوا  ِ 18 - زمین کی پکار  ِ 19 - نورانی پیکر  ِ 20 - روشنی قید نہیں ہوتی  ِ 21 - اے واعظو! اے منبر نژینو!  ِ 22 - علم و عمل  ِ 23 - روحانیت  ِ 24 - اسوۂ حسنہ  ِ 25 - اولیاء اللہ کی طرز فکر  ِ 26 - ایثار کی تمثیلات  ِ 27 - درخت زندگی ہیں  ِ 28 - صلوٰۃ کا مفہوم  ِ 29 - پانی کی فطرت  ِ 30 - مخلوقات  ِ 31 - شک  ِ 32 - خود آگاہی  ِ 33 - روشن چراغ  ِ 34 - کہکشاں  ِ 35 - ماضی  ِ 36 - عقل و شعور  ِ 37 - بارش  ِ 38 - احسن الخالقین  ِ 39 - نو کروڑ میل  ِ 40 - پیغمبرانہ طرز فکر  ِ 41 - رزاق  ِ 42 - خیالات  ِ 43 - عروج و زوال  ِ 44 - مخلوق کی خدمت  ِ 45 - معجزہ  ِ 46 - بغدادی قاعدہ  ِ 47 - سوچ  ِ 48 - شق القمر  ِ 49 - اندر کی آنکھ  ِ 50 - سچا مذہب  ِ 51 - دو یونٹ  ِ 52 - شعور لا شعور  ِ 53 - توانائی  ِ 54 - سلطان  ِ 55 - وجدانی دماغ  ِ 56 - حاتم طائی  ِ 57 - احسن تقویم  ِ 58 - عامل اور معمول  ِ 59 - گھر گھر دستک  ِ 60 - پرندے  ِ 61 - بجلی آگئی  ِ 62 - روٹی  ِ 63 - اللہ کا نظام  ِ 64 - ایٹم بم  ِ 65 - دائرہ اور مثلث  ِ 66 - دنیا کی کہانی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)