بغدادی قاعدہ

کتاب : صدائے جرس

مصنف : خواجہ شمس الدّین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=18444

دو ماہ کا آدمی جب میکانکی طور پر بارہ سال کا ہوا تو اس نے سمجھا کہ حرکت میں خود کر رہا ہوں۔ اس حرکت کا نام ’’میں‘‘ رکھا گیا۔ ہر آدمی نے بڑوں سے سنا کہ:

میں بول رہا ہوں،

میں کام کر رہا ہوں،

میں خوش نہیں ہوں لیکن میں خوش رہنا چاہتا ہوں،

میں تندرست نہیں ہوں لیکن صحت مند رہنا چاہتا ہوں۔

میں نہیں چاہتا کہ میں زیور عقل سے آراستہ ہوں مگر سرپرستوں نے پرکھوں کے نقش قدم پر چل کر مجھے سخت سست کہا، مار پیٹ کر دانش گاہ بھیج دیا۔

بزعم خود۔ پڑھے لکھے۔

’’میں‘‘ کے خول میں بند، استادوں نے مجھے اپنے پیدائشی تشخص اور بچپن سے دور کر دیا۔

بچپن روٹھ گیا۔

تعلیم و ہنر کا تاج سر پر سجا،

تاج پوشی اس لئے ہوئی کہ بے عقلی (معصومیت) سے دستبردار ہو کر میں عقلمند بن گیا۔

معصومیت سے دور ہونے کے لئے مجھے ہر وہ کام کرنا پڑا جو بے عقلی کے متضاد ہے، ابھی دودھ کے دانت ٹوٹے نہ تھے کہ ابا نے انگلی پکڑ کر قاعدے پر بنی ہوئی ایک لکیر پر رکھی اور کہا پڑھ ’’الف‘‘ پڑھ ’’ب‘‘ ۔بے عقلی نے بتایا یہ سب دلیل کے بغیر ہے، مفروضہ ہے، کھڑی لکیر الف اور پڑی لکیر کو ب کہا جارہا ہے، پڑی لکیر ’’الف‘‘ کیوں نہیں اور کھڑی لکیر کو ’’ب‘‘ کیوں نہ پڑھا جائے؟ یہ اس وقت کی بات ہے جب دادی اماں زندہ تھیں، جب لکیر الف اور ب کا مسئلہ لا حاصل نظر آیا تو ابا جی نے لاٹھی دکھائی رعب دار آواز میں پوچھا یہ کیا ہے؟ توتلی زبان بولی ’’دادی اماں تی لاتھی اے۔‘‘

پھر چھن کر کے دماغ میں گونجار ہوئی، دادی اماں کی لاٹھی ’’الف‘‘ ہے ، بے عقل شعور خوف زدہ ہو کر سہم گیا اور ننھی سی جان نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پڑھا ’’الف‘‘ ’’ب‘‘ اور اس طرح بغدادی قاعدے کے ۲۸ حروف رٹا دیئے گئے۔ دو کم ستر سال گزر گئے مگر آج بھی یہ عقدہ نہیں کھلا کہ الف، ب کیوں نہیں اور ب الف کیوں نہیں ہے؟ جب کہ الف ’’الف‘‘ ہے، ب ’’ب‘‘ ہے۔ یہ بات ایک ایسا سوالیہ نشان ہے کہ دنیا کا کوئی دانشور، کوئی مولوی، کوئی علامہ، کوئی مفتی، کوئی قاضی اور کوئی سائنٹسٹ اس کا جواب نہیں دیتا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 180 تا 181

صدائے جرس کے مضامین :

ِ انتساب  ِ عرضِ ناشر!  ِ 1 - حیات و موت  ِ 2 - تصوف  ِ 3 - اللہ کی رسی  ِ 4 - حکمرانی  ِ 5 - نفی  ِ 6 - آنکھیں  ِ 7 - حضرت مریمؑ  ِ 8 - محبوب بغل میں  ِ 9 - دولت پرستی  ِ 10 - مالک الملک  ِ 11 - اشرف المخلوقات  ِ 12 - دل کی باتیں  ِ 13 - طرز فکر  ِ 14 - روپ بہروپ  ِ 15 - مساجد  ِ 16 - لیلۃ القدر  ِ 17 - حوا  ِ 18 - زمین کی پکار  ِ 19 - نورانی پیکر  ِ 20 - روشنی قید نہیں ہوتی  ِ 21 - اے واعظو! اے منبر نژینو!  ِ 22 - علم و عمل  ِ 23 - روحانیت  ِ 24 - اسوۂ حسنہ  ِ 25 - اولیاء اللہ کی طرز فکر  ِ 26 - ایثار کی تمثیلات  ِ 27 - درخت زندگی ہیں  ِ 28 - صلوٰۃ کا مفہوم  ِ 29 - پانی کی فطرت  ِ 30 - مخلوقات  ِ 31 - شک  ِ 32 - خود آگاہی  ِ 33 - روشن چراغ  ِ 34 - کہکشاں  ِ 35 - ماضی  ِ 36 - عقل و شعور  ِ 37 - بارش  ِ 38 - احسن الخالقین  ِ 39 - نو کروڑ میل  ِ 40 - پیغمبرانہ طرز فکر  ِ 41 - رزاق  ِ 42 - خیالات  ِ 43 - عروج و زوال  ِ 44 - مخلوق کی خدمت  ِ 45 - معجزہ  ِ 46 - بغدادی قاعدہ  ِ 47 - سوچ  ِ 48 - شق القمر  ِ 49 - اندر کی آنکھ  ِ 50 - سچا مذہب  ِ 51 - دو یونٹ  ِ 52 - شعور لا شعور  ِ 53 - توانائی  ِ 54 - سلطان  ِ 55 - وجدانی دماغ  ِ 56 - حاتم طائی  ِ 57 - احسن تقویم  ِ 58 - عامل اور معمول  ِ 59 - گھر گھر دستک  ِ 60 - پرندے  ِ 61 - بجلی آگئی  ِ 62 - روٹی  ِ 63 - اللہ کا نظام  ِ 64 - ایٹم بم  ِ 65 - دائرہ اور مثلث  ِ 66 - دنیا کی کہانی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)