عورت کے دو رُخ
مکمل کتاب : آگہی
مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی
مختصر لنک : https://iseek.online/?p=11268
علماء باطن کہتے ہیں یہاں ہر شئے دو رخوں سے مرکب ہے۔ مرد کا وجود بھی دو رخوں پر قائم ہے اور عورت کا وجود بھی دو رخوں پر قائم ہے۔ عورت کے اندر مرد چھپا ہوا ہے اور مرد کے اندر عورت چھپی ہوئی ہے۔ اگر آدم کے اندر حوا نہ ہوتی تو حوا کی پیدائش ممکن نہیں تھی۔ دوسری مثال عورت کے اندر سے آدم کی پیدائش ہے جس کو آسمانی کتابوں نے “عیسیٰ علیہ السلام” کا نام دیا ہے۔
ہر فرد دو پرت سے مرکب ہے۔ ایک پرت ظاہر ہے اور غالب رہتا ہے اور دوسرا پرت مغلوب اور چھپا ہوا رہتا ہے۔ مرد ہو یا عورت دونوں دو رخوں سے مرکب ہیں۔ ایک ظاہر رخ اور ایک باطن رخ۔
یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 43 تا 43
آگہی کے مضامین :
براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔
Error: Contact form not found.
