یہ تحریر اردو (الأردية) میں بھی دستیاب ہے۔

صبر و استقامات

مکمل کتاب : تجلیات

المؤلف :خواجة شمس الدين عظيمي

URL قصير: https://iseek.online/?p=8401

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی نشیب و فراز کا ایک عجیب مرقع ہے۔ آپﷺ ولادت سے پہلے یتیم ہو گئے، ابھی صحیح طرح شعور کی نشوونما بھی نہیں ہوئی تھی کہ ماں کو موت نے چھین لیا۔ ماں کی جدائی کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ دادا کا سایۂ شفقت بھی سر سے اٹھ گیا۔ جوان ہوئے تو ناداری رفیق سفر رہی مگر جواں ہمت کبھی مایوس نہیں ہوئی۔ قدم آگے اور آگے بڑھتے رہے اور ایک دن ایسا آیا کہ ظاہری دولت قدموں میں ڈھیر ہو گئی۔ ظاہری دنیا کی کوئی ایک ایسی زندگی باقی نہیں رہی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نہ گزرے ہوں۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا شعور بالغ اور تجربہ کار ہو گیا تو خالق کون و مکاں کی طرف سے چالیس سال کی عمر میں خلعت نبوت عطا ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہر چار طرف سے دشمنی کا ایک باب کھل گیا۔ یہ دشمنی یہاں تک بڑھی کہ دس برس پریشانی کے حال میں گزرے۔ قصور کیا تھا؟۔۔۔۔۔۔اللہ کا حبیبﷺ یہ نہیں چاہتا تھا کہ نوع انسانی بت پرستی اور شرک کی پاداش میں دوزخ کا ایندھن بنے۔ اس کے صلے میں قوم نے انہیں ایسے مسائل سے دوچار کر دیا کہ دس برس کی بے شمار تکلیفوں اور مصیبتوں کے بعد عزیزوں کی مخالفت نے وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی استقامت اور صبر کو اللہ نے پسند فرمایا تو زمانے نے رنگ بدلا اور صدائے لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ نے حدود عرب سے نکل کر قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں غلغلہ ڈال دیا لیکن آپﷺ جس طرح بچپن میں بکریاں چرایا کرتے تھے اسی طرح نبوت اور سلطنت مل جانے کے بعد بھی سادہ زندگی بسر کرتے رہے۔ ہمیشہ اپنا کام اپنے ہاتھوں سے کیا۔ خود کو کبھی اوروں سے ممتاز نہیں کیا۔ جیسے اور لوگ اپنے گھروں میں کام کرتے تھے، آپﷺ بھی خود اپنا کام کرتے تھے، خود ہی بکری کا دودھ دوہتے تھے، خود ہی اپنے کپڑے سیتے تھے، خود ہی جوتیاں گانٹھ لیتے تھے۔ مدینہ منورہ میں جب مسجد نبویﷺ کی تعمیر ہو رہی تھی تو آپﷺ بہ نفس نفیس سب کاموں میں شریک تھے یہاں تک کہ مزدور کی طرح آپﷺ بھی اینٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے تھے۔ ملبوسات میں سادگی کا عالم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا لباس قمیض، چادر، تہ بند اور عمامہ تھا۔ یہ سب چیزیں بالعموم معمولی قسم کے سوتی کپڑے کی ہوتی تھیں۔

مگر یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ یہ فقیرانہ زندگی بے نوائی اور تنگ دستی کی وجہ سے نہیں تھی، نہ رہبانیت اور گوشہ نشینی اور دنیا سے بے تعلقی کی وجہ سے تھی بلکہ یہ سب اس لئے تھا کہ امت کے لئے مثال قائم ہو جائے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادہ زندگی گزارنے میں عافیت اور سکون ہے۔

ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے آپﷺ سے کہا کہ مشرکین کے لئے بددعا کیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ ’’میں برا چاہنے کے لئے نہیں آیا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ آپﷺ کا اخلاق حسنہ یہ تھا کہ مدینہ میں لوگ اکثر صبح ہی پانی لے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے تھے تا کہ آپﷺ اس میں برکت کے لئے ہاتھ ڈال دیں۔ کتنی ہی زیادہ سردی کیوں نہ ہو آپﷺ لوگوں کو مایوس نہیں فرماتے تھے اور پانی میں ہاتھ ڈال دیتے تھے۔ اگر کسی کنیز کو بھی کچھ ضرورت ہوتی تو آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر جہاں چاہتی لے جاتی اور آپ کبھی جانے میں تامل نہیں فرماتے تھے۔

آپﷺ کی شادی عین جوانی میں حضرت خدیجہؓ سے ہوئی۔ حضرت خدیجہؓ عمر میں آپﷺ سے پندرہ سال بڑی تھیں لیکن پچیس برس کا ساتھ حسن معاشرت کا ایک بے مثل نمونہ ہے۔ اس تمام مدت میں کوئی بات ایسی پیش نہیں آئی جو ذرا دیر کے لئے بھی کسی قسم کی رنجش کا باعث بنتی۔ جب آپﷺ قربانی فرماتے تو سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ مرحومہ کی ملنے جلنے والی عورتوں کے ہاں حصہ بجھواتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد بھی ان کا ذکر ایسی دلی محبت سے کیا کرتے تھے کہ حضرت عائشہؓ کو رشک ہونے لگتا تھا حالانکہ حضرت عائشہؓ ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب اور منظور نظر تھیں۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں لڑکیوں کو حقارت سے دیکھا جاتا تھا، آپﷺ اپنی نواسی، نبت زینبؓ کو گود میں لے کر یا کاندھے پر بٹھا کر نماز قائم فرماتے تھے۔ جب رکوع میں جاتے تو ایک طرف بٹھا دیتے تھے اور جب قیام فرماتے اٹھا کر گود میں بٹھا لیتے تھے۔

حضرت انسؓ کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے چھوٹے بھائی، ابوعمیر کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ابو عمیر نے ایک بلبل پال رکھی تھی اور اس سے اسے بہت محبت تھی۔ آپﷺ اس سے فرمایا کرتے تھے۔ ’’اے عمیر! بلبل کیسی ہے؟ اس کا کیا حال ہے؟‘‘

اُم خالد بنت خالد کہتی ہیں کہ ایک دن میں اپنے والد کے ساتھ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں اس وقت زرد قمیض پہنے ہوئے تھی۔ آپﷺ نے دیکھ کر فرمایا۔ ’’یہ بہت اچھی ہے، بہت اچھی ہے۔‘‘ پھر آپﷺ کی پشت میں جا کر مہر نبوت سے کھیلنے لگی۔ میرے والد نے مجھے ڈانٹا مگر آپﷺ نے میرے والد سے فرمایا۔ ’’اسے کھیلنے دو۔‘‘

آپﷺ جب مکہ تشریف لائے تو عبدالمطلب کے بچے آپﷺ کے استقبال کے لئے بھاگے ہوئے آئے۔ آپﷺ نے نہایت شفقت سے ان میں سے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔

آپﷺ کی ہر ایک بات، ہر ایک کام اور ہر ایک تعلق اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کی مجسم تصدیق اور ثبوت تھا:

’اور ہم نے تم کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

راجع هذه المقالة في الكتاب المطبوع على الصفحات (أو الصفحة): 167 إلى 171

یہ تحریر اردو (الأردية) میں بھی دستیاب ہے۔

تجلیات فصول من

ِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيمِ  ِ نبذة عن مؤلف الكتاب الشيخ/خواجة شمس الدين عظيمي  ِ 1 - القرآن الكريم  ِ 2 - الدجى المحدقة بالأرض  ِ 3 - النداء في السماء  ِ 4 - صورتنا  ِ 5 - تسخير الكون  ِ 6 - حب الثروة هو الوثنية  ِ 7 - غير المسلمين على خط التطور والتقدم  ِ 8 - تشييع الجثمان  ِ 9 - قاموس النيران  ِ 10 - بصائر الروح  ِ 11 - الغصن اليابس  ِ 12 - القلب المخلص  ِ 13 - الدعوة  ِ 14 - معالم الطريق  ِ 15 - الصيغ التكوينية  ِ 16 - التوبة والإنابة  ِ 17 - منابع الخير  ِ 18 - الإحسان العظيم  ِ 19 - نهج التحدث  ِ 20 - الحج  ِ 21 - الاستجابة لله تعالى في الإنفاق  ِ 22 - زوجتان  ِ 23 - الصراط المستقيم والمنهج القويم  ِ 24 - مسؤوليات المسلم تجاه الوالدين  ِ 25 - الحبّ  ِ 26 - رفقاً بالقوارير  ِ 27 - اليقظة  ِ 28 - قطرة من المياه  ِ 29 - صفات الله عز وجل  ِ 30 - جانبان من الحياة  ِ 31 - الوعي والمعرفة  ِ 32 - أعواد المكنسة  ِ 33 - الرزق  ِ 34 - الأمة في سبات  ِ 35 - التأسي بالأنبياء  ِ 36 - ماهي الحسنة؟  ِ 37 - المتعنتون  ِ 38 - الأرواح السعيدة  ِ 39 - أسس الحب والصداقة  ِ 40 - أشعة الشمس  ِ 41 - مرضاة الله تعالى  ِ 42 - الدنيا والآخرة  ِ 43 - أهمية الزوجة  ِ 44 - معرفة الذات  ِ 45 - الخوف الجاثم على الصدر  ِ 46 - الصوم  ِ 47 - المشاهد الكونية  ِ 48 - دُعا  ِ 49 - مساجد  ِ 50 - هو العليم الخبير  ِ 51 - القنوط  ِ 52 - الاحتكار  ِ 53 - إنما المؤمنون إخوة  ِ 54 - كتاب الله تعالى  ِ 55 - لا تأخذه سنة  ِ 56 - الخزائن المكنونة في الإنسان  ِ 57 - يا لربنا من مبدع!  ِ 58 - نكران الجميل  ِ 59 - المرآة  ِ 60 - الوجوه العابسة  ِ 61 - في سبيل الله تعالى  ِ 62 - الكبر والتبجح  ِ 63 - شهر رمضان  ِ 64 - المقابر  ِ 65 - القرآن ووصفات التسخير  ِ 66 - خير حبيب  ِ 67 - كراهية الموت  ِ 68 - الإنسان المذنب  ِ 69 - هل يتصدق أهل النار على أهل الجنة ؟  ِ 70 - علم الاقتصاد  ِ 71 - أدب المجالس  ِ 72 - أفشوا السلام بينكم  ِ 73 - الغناء ومظاهر الفرح  ِ 74 - خدمة خلق الله تعالى  ِ 75 - نبينا المكرم صلى الله عليه وسلم  ِ 76 - صبر و استقامات  ِ 77 - الضيافة  ِ 78 - البسمة  ِ 79 - مفاسد السوق السوداء  ِ 80 - الصديق  ِ 81 - مذہب اور نئی نسل  ِ 82 - المعراج  ِ 83 - الإحصائيات البشرية  ِ 84 - جائیداد میں لڑکی کا حصہ  ِ 85 - الدعوة إلى الدين  ِ 86 - سؤال الملك  ِ 87 - جبل من ذهب  ِ 88 - في بطن الحوت  ِ 89 - أسماء الأطفال  ِ 90 - صدقہ و خیرات  ِ 91 - تحسين مناخ البيت  ِ 92 - شهود الغيب  ِ 93 - حقوق العباد  ِ 94 - الصديق الفقير  ِ 95 - داع ولا عمل له  ِ 96 - الاحتفال بالعيد  ِ 97 - جذب و شوق  ِ 98 - مخافة الموت  ِ 99 - جماعة من الملائكة  ِ 100 - وجعلناكم أمة وسطاً  ِ 101 - الظفر بالأهداف
إظهار الكل ↓

نرجو تزويدنا بآرائكم.

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)