یہ تحریر 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

نماز دُکھوں کا علاج

کتاب : روحانی نماز

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=6730

نماز دراصل ایسا نظام ہے جو انسان کو اپنی روح سے قریب کر دیتا ہے اور جب کوئی بندہ اپنی روح کو جان لیتا ہے تو اس کے سامنے یہ بات آ جاتی ہے کہ خود اللہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اب آپ اس بات کا اندازہ لگایئے کہ آپ کی ہستی اس وقت کیا ہوتی ہے اور آپ اللہ کے کتنے قریب ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس طرز عمل میں ہماری ہر تحریک اللہ کی تحریک پر مبنی ہوتی ہے۔
اس طرز عمل کی نفسیاتی گہرائی پر غور کریں کہ انسان خالصتاً للہ جب کوئی کام کرتا ہے تو اسے کتنی بڑی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ وہ خوشی اس کے اندر سما جاتی ہے جو اس کی روح کے کونے کونے کو منور کر دیتی ہے۔ اس خوشی سے اس کی روح اتنی ہلکی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے جسم کو بھول جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے بزرگوں کے حالات زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ گویا وہ اسی قسم کی زندگی گزارتے تھے جس طرح ایک عام آدمی زندگی گزارتا ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہ طرز عمل کی لذت سے آشنا تھے جب کہ ہم اس سے آشنا نہیں ہیں۔ کیا سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہر امتی کے لئے یہ ممکن نہیں جیسا کہ ہمارے بزرگوں کے لئے ممکن ہوا؟ یقیناً ہم سب کے لئے ممکن ہے لیکن ہم غفلت میں ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے اس لذت سے آشنا ہو کر نماز اور حقیقی نماز کی برکت سے ایک بڑی جماعت کی شکل اختیار کی اور چند لوگوں کی جمعیت نے دنیا کو الٹ پلٹ کر اس کا نقشہ بدل دیا۔ مگر جب مسلمانوں نے نماز کو نماز کی طرح ادا کرنا چھوڑ دیا اور اس مقدس کیمیاء اثر عبادت کو ایک رسم بنا لیا تو قدرت نے اس پاداش میں ہم سے ہر قسم کی سرداری اور حاکمیت چھین لی۔ ہماری روح میں حرارت باقی نہ رہی۔ سوز و گداز، عجز و انکسار، حلم و علم، فہم و عقل اور فکر سلیم سے ہم تہی دامن ہو گئے۔ نماز میں ارتکاز توجہ، روح کا عرفان، دل کا گداز اور اللہ سے دوستی نہ ہو تو ایسی نماز اس جسم کی طرح ہے جس میں روح نہیں ہے۔ اگر ہم اپنی نمازیں اللہ اور اس کے رسولﷺکےبتائےہوئےطریقوں پراداکرتےہیں توپھرہماری نمازیں،نمازیں کیوں نہیں ہیں؟ہم ان برکات وانعامات سےکیوں بےبہرہ ہیں جن سےہمارےاسلاف مالامال تھے؟
اللہ اوراسکےبرحق رسول مقبول سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کے مطابق نماز ہمارے تمام دکھوں کا علاج اور ہمارے اندر ہر زخم کو مُندمل کرنے کے لئے مرہم اور ہر درد کا مداوا ہے لیکن ہم نے اپنی مصلحتوں کے پیش نظر اس عمل خیر کو بے روح بنانےمیں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔
تمام نبیوں نے خدا پرستی اور نیک عمل کی دعوت دی ہے۔ وہ ان مقدس اور پاکباز ہستیوں میں ہیں جن کے اوپر خدا کا انعام ہوا اور جو سعادت اور کامیابیوں کے لئے چُن لئے گئے۔ لیکن سعادت نا آشنا، شقاوت پسند لوگوں نے اللہ کے فرستادہ، صالح اور راست باز قدسی نفس حضرات کی تعلیمات کو فراموش کر دیا اور شیطان کے پیرو کار بن گئے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“لیکن ان کے بعد پھر ایسے ناخلف جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کی حقیقت کھو دی اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے۔ سو قریب ہے ان کی سرکشی ان کے آگے آئے۔” (سورہ۱۹۔ آیت ۵۹)
آیت مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ صلوٰۃ عبادت کا جوہر ہے۔ اگر ہم اس کی حقیقت سے باخبر نہ ہوئے تو سب کچھ ضائع ہو گیا۔
علم اخلاقیات پر اگر غور کیا جائے تو ترقی کا سب سے بڑا اور سب سے مؤثر ذریعہ انسان کا ذاتی وصف (Character) ہے اور وصف کی کامل تصویر نماز کی حرکات و سکنات سے بنی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق کردار کی بہترین محرک نماز ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
“قائم کرو صلوٰۃ اور ادا کرو زکوٰۃ۔ یاد رکھو جو کچھ بھی تم اپنے لئے سرمایہ پہلے سے فراہم کرو گے اللہ کے پاس اس کے نتائج موجود پاؤ گے۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔” (پارہ۲، آیت۱۱)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
“اے ایمان والو! صبر اور صلوٰۃ سے سہارا پکڑو، یقین کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
(سورہ بقرہ۔ آیت۱۵۲)
یہی دو قوتیں ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی تمام مشکلات، آزمائشوں، تکلیفوں، ذلت و رسوائی سے نجات پا سکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں میں یہ دو قوتیں جمع ہو جائیں تو دنیاوی بادشاہت کا سہرا ان کے سر پر سجے گا۔ دین و دنیا میں کبھی ناکام نہ ہوں گے۔
صلوٰۃ روحانیت کا سرچشمہ ہے۔ صلوٰۃ ایک ایسا قلعہ ہے جو برائیوں کے لشکر سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ صلوٰۃ (نماز) انسان کو تمام برائیوں سے روکتی ہے۔ صرف حرکات کو پورا کر لینے کا نام نماز نہیں ہے، نماز کی غرض وغایت کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ قرآن رسمی نماز قائم کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ تمام ارکان کی تکمیل کا حکم دیتا ہے، صاف صاف اور واضح طور پر کہتا ہے کہ ذہنی یکسوئی اور حضور قلب کے بغیر نماز، نماز نہیں ہے۔
“کتاب میں سے جو تم پر وحی اتری اس کو پڑھو اور نماز قائم کرو بیشک صلوٰۃ بداخلاقیوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ اللہ تمہاری کاریگری خوب جانتا ہے۔” (القرآن ۲۹۔۴۵)

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 44 تا 48

یہ تحریر 简体中文 (چائینیز) میں بھی دستیاب ہے۔

روحانی نماز کے مضامین :

ِ انتساب  ِ انکشاف  ِ 1 - نماز مومن کی معراج  ِ 2 - نماز کی روحانی غرض و غایت  ِ 3 - عقیدہ  ِ 4 - پڑھنا اور قائم کرنا نماز  ِ 5 - نماز اور آتش پرست  ِ 6 - انبیاء علیہم السلام کی طرزِ فکر  ِ 7 - اُمّت کیلئے پروگرام  ِ 8 - آدم و حوّا  ِ 9 - شعور اور لاشعور  ِ 10 - نماز اور معراج  ِ 11 - عاشق و محبوب کی نماز  ِ 12 - حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نماز  ِ 13 - حضرت ابوبکرصدیقؓ کی نماز  ِ 14 - حضرت عمرؓ کی نماز  ِ 15 - حضرت علیؓ کی نماز  ِ 16 - حضرت حسنؓ کی نماز  ِ 17 - حضرت انسؓ کی نماز  ِ 18 - حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی نماز  ِ 19 - حضرت اویس قرنیؓ کی نماز  ِ 20 - حضرت زین العابدینؓ کی نماز  ِ 21 - حضرت رابعہ بصریؓ کی نماز  ِ 22 - حضرت سُفیان ثوریؒ کی نماز  ِ 23 - حضرت مسلم بن بشارؒ کی نماز  ِ 24 - ایک عورت کی نماز  ِ 25 - ایک بزرگ کی نماز  ِ 26 - نماز دُکھوں کا علاج  ِ 27 - نماز میں خیالات کی یلغار  ِ 28 - اذان کی علمی توجیہہ  ِ 29 - وضو اور سائنس  ِ 30 - ہاتھ دھونا  ِ 31 - کُلّی کرنا  ِ 32 - ناک میں پانی ڈالنا  ِ 33 - چہرہ دھونا  ِ 34 - کہنیوں تک ہاتھ دھونا  ِ 35 - مسح کرنا  ِ 36 - گردن کا مسح  ِ 37 - پیروں کا مسح کرنا یا دھونا  ِ 38 - نماز ادا کرنے کا صحیح طریقہ  ِ 39 - ارکان نماز کی سائنسی توجیہہ  ِ 40 - نیت باندھنا  ِ 41 - سینہ پر ہاتھ باندھنا  ِ 42 - رکوع  ِ 43 - سجدہ اور ٹیلی پیتھی  ِ 44 - جلسہ  ِ 45 - سلام  ِ 46 - دعا مانگنے کا طریقہ  ِ 47 - نماز میں رکعتوں کی تعداد  ِ 48 - اوقات نماز میں تعین کی اہمیت و حکمت  ِ 49 - فجر کی نماز  ِ 50 - ظہر کی نماز  ِ 51 - عصر کی نماز  ِ 52 - مغرب کی نماز  ِ 53 - عشاء کی نماز  ِ 54 - خواب میں پیش گوئیاں  ِ 55 - تہجد کی نماز  ِ 56 - نمازِ جمعہ  ِ 57 - نماز اور جسمانی صحت  ِ 58 - ہائی بلڈ پریشر کا علاج  ِ 59 - گٹھیا کا علاج  ِ 60 - جگر کے امراض  ِ 61 - پیٹ کم کرنے کیلئے  ِ 62 - السر کا علاج  ِ 63 - جملہ دماغی امراض  ِ 64 - چہرہ پر جھریاں  ِ 65 - جنسی امراض  ِ 66 - سینہ کے امراض  ِ 67 - چھ کلمے  ِ 68 - اذان  ِ 69 - اذان کے بعد کی دعا  ِ 70 - وضو کے مسائل  ِ 71 - تیمّم کے مسائل  ِ 72 - غسل کے مسائل  ِ 73 - خواتین کا غسل  ِ 74 - نماز کے مسائل  ِ 75 - فرض، واجب، سنت اور نفل  ِ 76 - اوقات نماز  ِ 77 - مُفسداتِ نماز  ِ 78 - سجدۂ سہو  ِ 79 - قضا نمازیں  ِ 80 - طریقۂ نماز  ِ 81 - نماز کے بعد کی دعا  ِ 82 - آیت الکُرسی  ِ 83 - نماز کے بعد کی تسبیحات  ِ 84 - دعائے قنوت  ِ 85 - تراویح کی تسبیح  ِ 86 - عورت اور مرد کی نماز کا فرق  ِ 87 - نفل نمازیں  ِ 88 - عیدین کی نماز کے مسائل  ِ 89 - صدقۂ فطر کا بیان  ِ 90 - بقر عید کے مسائل  ِ 91 - قربانی کے مسائل  ِ 92 - نمازِ عیدین  ِ 93 - مسافر کی نماز  ِ 94 - زکوٰۃ کے مسائل  ِ 95 - عقیقہ کے مسائل  ِ 96 - قرآن پڑھنے کے آداب  ِ 97 - سجدۂ تلاوت کے مسائل  ِ 98 - نماز جنازہ کے مسائل  ِ 99 - نماز جنازہ  ِ 100 - قبرستان میں پڑھنے کی دعائیں  ِ 101 - ثواب پہنچانے کا طریقہ  ِ 102 - اللہ پاک کے نام  ِ 103 - اسمائے الٰہی  ِ 104 - جنات کی نوع کا اسم اعظم الگ ہے  ِ 105 - گیارہ ہزار اسمائے الٰہیہ  ِ 106 - اجازت  ِ 107 - احساس کمتری کا علاج  ِ 108 - آنکھوں میں روشنی  ِ 109 - ہر دل عزیز ہونے کا طریقہ  ِ 110 - مقدمہ میں کامیابی  ِ 111 - سعادت مند اولاد  ِ 112 - ہر قسم کی بیماری سے نجات  ِ 113 - محبت والا شوہر  ِ 114 - غیبی انکشافات  ِ 115 - ملازمت میں ترقی  ِ 116 - کمزور بچے  ِ 117 - کاروبار میں ترقی  ِ 118 - آسیب سے نجات  ِ 119 - پڑھنے میں دل نہ لگنا  ِ 120 - عقیدہ کی کمزوری  ِ 121 - وسائل میں اضافہ  ِ 122 - سخت گیر حاکم کی تسخیر  ِ 123 - دشمن پر غلبہ  ِ 124 - سفر میں آسانی  ِ 125 - رضائے الٰہی  ِ 126 - حسب منشاء شادی  ِ 127 - استخارہ  ِ 128 - افلاس سے بچنے کیلئے  ِ 129 - رزق میں فراوانی  ِ 130 - دوران سفر آسانیاں  ِ 131 - عزت و مرتبہ میں اضافہ  ِ 132 - چوری اور ڈکیتی سے حفاظت  ِ 133 - سر میں درد  ِ 134 - زہریلے جانور کا کاٹنا  ِ 135 - صلح و صفائی کے لئے  ِ 136 - کشف القبور  ِ 137 - تجلی کا انکشاف  ِ 138 - مایوسی کا خاتمہ  ِ 139 - حاملہ کی حفاظت  ِ 140 - دودھ میں کمی  ِ 141 - اللہ کے دوست  ِ 142 - وسوسوں اور بُری عادتوں سے نجات  ِ 143 - وقت سے پہلے پیدائش  ِ 144 - بچوں کا گم ہو جانا  ِ 145 - شوہر کو راہ راست پر لانے کیلئے  ِ 146 - ہائی بلڈ پریشر کا علاج  ِ 147 - روشن ضمیر  ِ 148 - خوف و غم سے نجات  ِ 149 - توبہ کی قبولیت  ِ 150 - غیبی مدد  ِ 151 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 152 - اولاد نرینہ  ِ 153 - عزت و توقیر  ِ 154 - پُرکشش آنکھیں  ِ 155 - فرشتوں سے ہمکلامی  ِ 156 - ایّام کی خرابی  ِ 157 - بچوں کو نظر لگنا  ِ 158 - احساس برتری  ِ 159 - گناہوں سے نفرت  ِ 160 - غصہ کے وقت  ِ 161 - رخصتی کے وقت  ِ 162 - اپیل میں کامیابی  ِ 163 - حافظہ کمزور ہونا  ِ 164 - بچھڑے ہوئے رشتہ دار  ِ 165 - میاں بیوی میں اختلاف  ِ 166 - شادی میں رکاوٹ  ِ 167 - ایکسیڈنٹ سے حفاظت  ِ 168 - انوارِ الٰہی  ِ 169 - معرفت حق  ِ 170 - گھر میں خیر و برکت  ِ 171 - نیکی کا پیکر  ِ 172 - اچھی بیوی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message