صدقۂ جاریہ

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11732

مورخہ 9مئی 2001 ؁ء بروز بدھ

ہم جو بھی عمل کرتے ہیں وہ نیکی ہو یا برائی اس کی فلم بنتی رہتی ہے۔ کراماً کاتبین ہمارے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں (یعنی ویڈیوم فلم بنتی رہتی ہیں)۔

تمثال
لوح محفوظ پر فلم بنی ہوئی ہے، اس فلم میں تمام اعمال ریکارڈ ہیں، نیکی بھی اور برائی بھی۔ لوح محفوظ میں لکھا ہے کہ بندہ نماز پڑھے گا، روزہ رکھے گا۔ بندہ کبھی نماز پڑھتا ہے، کبھی نہیں پڑھتا، کبھی روزہ رکھتا ہے، کبھی نہیں رکھتا۔ کبھی حلال رزق کھا لیا، کبھی حرام۔ کبھی سچ بولا اور کبھی جھوٹ۔

مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ

’’طرز فکر سوچنے کا ایک انداز ہے۔ اگر طرز فکر مثبت نہیں ہے تو بندہ اپنی روح سے دور ہو جاتا ہے۔‘‘

حضرت عائشہؓ کے پاس ایک خاتون آئیں اور اپنی عبادت کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ وہ خاتون ساری رات عبادت کرتی ہیں اور دن میں روزے رکھتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ خوش ہوئیں، ان کی خاطر تواضع کی۔ جب وہ چلی گئیں تو یہ بات حضورﷺ کو بتائی۔
آپﷺ نے فرمایا۔ ’’عمل تھوڑا ہو لیکن مستقل ہو۔‘‘

ہم کوئی بھی کام اپنی سکت سے زیادہ کریں گے تو بیمار ہو جائیں گے۔ کھانا کھانا ایک روٹین ہے، کوئی زیادہ کھانا کھاتا ہے، کوئی کم کھاتا ہے۔ کھانا گنجائش سے زیادہ کھا لیا جائے تو طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے اور صحت خراب ہو جاتی ہے۔

مستقل عمل ہمیں لامحدودیت میں داخل کر دیتا ہے۔ اچھا عمل روح کو طاقت دیتا ہے۔ مثبت طرز فکر انسان کو روح سے قریب کرتی ہے۔

آپ کیا سمجھے مثبت طرز عمل کیا ہے اور منفی طرز عمل کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو کائنات کی خلافت عطا فرمائی تو فرشتوں کے سامنے آدم علیہ السلام کو پیش کیا۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ آدم فساد برپا کرے گا۔

اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو علم الاسماء سکھایا اور آدم علیہ السلام سے فرمایا۔۔۔

’’یہ علم فرشتوں کے سامنے بیان کرو۔‘‘(سورۃ البقرہ۔ آیت۳۱)

حضرت آدم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے علوم بیان کئے تو فرشتوں نے عرض کیا۔

’’ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ۔ آیت۳۲)

لیکن ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف بغاوت کی اور وہ راندۂ درگاہ ہو گیا۔ ابلیس نے کہا کہ۔۔۔
’’آدم مٹی سے تخلیق ہوا اور میری تخلیق آگ سے ہوئی ہے اور آدم کو سجدہ (آدم کی حکمرانی قبول نہیں کی) نہیں کیا۔‘‘(سورۃ الاعراف۔ آیت ۶۸)
حضرت آدم علیہ السلام اور راندۂ درگاہ شیطان۔۔۔یہ دو کردار ہوئے۔

۱۔ آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حکمرانی قبول کر کے عاجزی انکساری اور فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا۔

۲۔ شیطان نے حکم عدولی کی اور نافرمانی کا مرتکب ہوا۔ بلکہ یہی نہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے گستاخی کا مظاہرہ کیا۔

 

ایک کردار میں اطاعت اور فرمانبرداری ہے اور دوسرے کردار میں نافرمانی، گستاخی اور حکم عدولی ہے۔

اس سلسلے میں عقلی توجیہی یہ ہے کہ مٹی سے پھول، پھل اور درخت پیدا ہوتے ہیں۔ ترکاریاں سبزیاں اور بے شمار چیزیں جو انسانوں کی زندگی کے لئے ضروری ہیں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس آگ کا وصف یہ ہے کہ وہ جلا دیتی ہے۔

 

 
لیکچر17

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 279 تا 281

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message