مرشد اور مرید

مکمل کتاب : آوازِ دوست

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=6254

زندگی کے بے شمار رُخ ہیں اور زندگی کا ہر رُخ اپنے اندر کشش رکھتا ہے۔ شعوری زندگی میں رہتے ہوئے زندگی کے اس پار لاشعور میں آدمی جب جھانکتا ہے تو اس کے اُوپر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ یہ ساری دنیا گروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ہر گروہ کا اپنا ایک نظریہ ہے اور ہر گروہ اپنی مخصوص خواہشات کے تانے بانے میں خود اختیاری قیدی ہے۔ ایک جواری یہ جاننے کے باوجود کہ جُوا کھیلنا دولت کا ضیاع ہے، تنگ دستی میں بھی جُوا کھیلتا رہتا ہے۔ ایک شرابی اس بات سے با خبر ہوتا ہے کہ شراب اس کے پھیپھڑوں کوگھن بن کر چاٹ رہی ہے، پھر بھی شراب پینا نہیں چھوڑتا۔ شراب مصائب اورپریشانیوں سے نجات پانے کے لیئے پی جاتی ہے، مگر یہ کیسی نجات ہے کہ یہی نجات آدمی کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
مذہب کا پیروکار گروہ عقائد کی بھول بھلیوں میں سفر کرتا رہتا ہے۔ عقائد کی اس طو فانی دنیا میں بے شمار فرقے ہیں۔ ہر فرقہ خود کو ناجی اور دوسروں کو ناری سمجھتا ہے۔ لیکن جب کسی بھی فرقے کے کسی بھی فرد کو اندر سے ٹٹولا جاتا ہے تو اس کے اندر بے یقینی اور شک کا لاوا اُبلتا ہوا نظر آتا ہے۔ سترہ سال کی عمر سے اسّی سال تک عبادت و ریاضت کرنے والے کسی شخص سے جب آسائش(جنّت) اور آلام (دوزخ) کی زندگی کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ بے یقینی کی اس منزل میں ہوتا ہے جس منزل کو دوزخ کے علاوہ دوسرا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ مذہب انسان کو یقین کی دنیا کی ترغیب دیتا ہے۔ اور یقین کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک یقین مشاہدہ نہ بن جائے۔ مذہب افراط و تفریط، کبر ونخوت، احساسِ کمتری اور احساسِ برتری کے جذبات کی نفی کرتا ہے۔ اور مذہبی انسان پر یہ جذبات مسلّط رہتے ہیں۔ مذہب نوعِ انسانی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دیتا ہے اور مذہبی دانشور اپنی پوری توانائی اس کی مخالف سمت میں صرف کر دیتا ہے۔
صوفیوں، پیروں اور سجّادہ نشینوں کی دنیا عجیب طلسماتی دنیا ہے۔ زندگی کے بارے میں ان کے اپنے نظریات ہیں۔ اور اپنا ایک رُخ ہے۔ یہ گروہ کہتا ہے کہ مرشد کی اطاعت مرید پر لازم ہے۔ مرشد کے حکم کی تعمیل میں فرق اور امتیاز کرنا درست نہیں ہے کیوں کہ مُرشد خدا کا نمائندہ ہے۔ مُرشد کی اطاعت نہ ہونے سے رُوح کمزور ہو جاتی ہے۔ مُرشد کے سامنے مرید موم کی گڑیا ہے تا کہ وہ جدھر چاہے اُسے موڑ دے۔ بولنا، لکھنا، پڑھنا، چپ رہنا، کوئی کام کرنا یا نہ کرنا سب مرشد کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ مرید کو مرشد کے ہاتھوں میں ایسا ہونا چاہیئے جیسے بوڑھے اور ضعیف آدمی کے ہاتھ میں لاٹھی۔ ایک بے جان مادّی چیز جس کو جہاں مرشد چاہے اُٹھا کر رکھ دے۔ کہا جاتا ہے کہ مرشد اگر مرید کو حکم دے کہ کنوآں میں کود جا۔ مرید تعمیل حکم میں کنوآں میں کود گیا، مگر اُسے یہ خیال آ گیا کہ مرشد خود ہی بچا لے گا تو یہ پیر صاحب کی نظر میں حکم کی تعمیل نہیں ہوئی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ سب اسرار و رموز وہ لوگ بیان کرتے ہیں جن کی زندگی شک اور بے یقینی سے عبارت ہے۔
جب ہم زاہدانہ زندگی کو دیکھتے ہیں تو یہ باب کھلتا ہے کہ زاہدانہ زندگی دراصل جبلّت کے خلاف جہاد اور جبلّت کے منافی کردار ہے۔ یہ گروہ اس بات پر مُصر ہے، بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ اعلیٰ جذبات کے مقابلے میں ادنیٰ اور اسفل جذبات کو سوخت کر دیا جائے، خواہشات کو فنا کر دیا جائے، لباس ایسا زیبِ تن کیا جائے جو موٹا کھردرا، بھدّا اور بدصورت ہو۔ غذا ایسی کھائی جائے جو روکھی سوکھی ہو۔ زندگی کے شب و روز میں قنوطیت کا عمل دخل ہو۔ آدم کو بے نوا انسان بن کر زندہ رہنا چاہیئے۔ ظاہر ہے بے نوا انسان فقرو فاقے ہی میں زندگی بسر کرے گا۔ اور بھوک پیاس، گرمی و سردی کی مصیبت اور تکلیف اس کا سرمایۂ حیات بن جائے گا۔ خود ساختہ پُرمشقت زندگی کو وہ تسلیم و رضا کا نام دیتا ہے۔
قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں مذہب یہ ہے کہ آدمی کے اندر ایمان ہو۔ ایمان یُومنون بالغیب ہے۔ ایمان یقین ہے اور مشاہدے کے بغیر یقین کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یقین کی دنیا میں داخل ہو کر انسان یہ جان لیتا ہے کہ ساری انسانی برادری کا حاکمِ اعلیٰ اللہ ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ انسان متحد اور مضبُوط ہو کر اس کی رسّی کو تھامے رہیں۔ اور آپس میں تفرقہ نہ ڈایں۔ حاکمِ اعلیٰ اللہ کو جاننے اور پہچاننے والے اس کے دوست ہیں۔ اور دوست اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دوست دوست کو تکلیف نہیں پہنچاتا۔ اس لیئے اس کے باطن میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ وہ جنّتی ہے۔
قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں مُرید اور مُرشد کا رشتہ استاد اور شاگرد، اولاد اور باپ کا ہے۔ مُرید مُرشد کا محبوب ہوتا ہے۔ مُرشد مُرید کی افتادِ طبیعت کے مطابق تریت دیتا ہے۔ اس کی چھوٹی بڑی غلطیوں پر پردہ ڈالتا ہے، نشیب و فراز اور سفر کی صعوبتوں سے گزار کر اُسے اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں پر سکون زندگی اس کا احاطہ کر لیتی ہے۔
قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں زاہدانہ زندگی یہ نہیں ہے کہ آدمی خواہشات کو فنا کر کے خود فنا ہو جائے۔ آدمی اچھا لباس پہننا ترک کر دے۔ پھٹا پرانا اور پیوند لگا لباس پہننا ہی زندگی کا اعلیٰ معیار قرار دے لے تو دنیا کے سارے کارخانے اور تمام چھوٹی بڑی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی۔ اور لاکھوں کروڑوں لوگ بھوک زدہ ہو کر ہڈیوں کا پنجر بن جائیں گے۔
اللہ نے زمین کی کوکھ سے وسائل اس لیئے نہیں نکالے کہ ان کی بے قدری کی جائے۔ ان کو استعمال نہ کیا جائے۔ اگر روکھا سوکھا کھانا ہی زندگی کی معراج ہے تو بارشوں کی ضرورت نہیں باقی رہے گی۔ زمین بنجر بن جائے گی۔ زمین کی زیبائش کے لیئے اللہ نے رنگ رنگ کے پھولوں، پتّوں، درختوں، پھلوں، کوہساروں اورآبشاروں کو بنایا ہے۔
قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:
زاہد کو چاہیئے کہ اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کو خوش ہو کر استعمال کرے لیکن خود کو اس کا مالک نہ سمجھے۔ اللہ روکھی سوکھی دے تو اسے بھی خوش ہو کر کھائے اور اللہ مُرغ پلاؤ دے تو اُسے بھی خوش ہو کرکھائے۔ جب سب کچھ ہے تو اس سے پورا پورا فا ئدہ اٹھائے۔ دروبست میں اللہ کو اپنا کفیل سمجھے اور ہر حاصل میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنا رہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 238 تا 241

آوازِ دوست کے مضامین :

ِ 1 - مذہب اور ہماری نسل  ِ 2 - آتش بازی  ِ 3 - ماں  ِ 4 - امتحان  ِ 5 - بادشاہی  ِ 6 - امانت  ِ 7 - خود فراموشی  ِ 8 - دُعا  ِ 9 - مائیکرو فلم  ِ 10 - دولت کے پجاری  ِ 11 - ستائیس جنوری  ِ 12 - توانائی  ِ 13 - پرندے  ِ 14 - سکون  ِ 15 - آتش فشاں  ِ 16 - ایٹم بم  ِ 17 - من موہنی صورت  ِ 18 - ریشم کا کیڑا  ِ 19 - پَرواز  ِ 20 - روشنیوں کا اسراف  ِ 21 - مٹی کا شعور  ِ 22 - میٹھی نیند  ِ 23 - دادی اماں  ِ 24 - ننھی منی مخلوق  ِ 25 - اسرائیل  ِ 26 - کفران نعمت  ِ 27 - عورت  ِ 28 - لہریں  ِ 29 - قیامت  ِ 30 - محبوب  ِ 31 - اللہ میاں  ِ 32 - تاجُ الدّین بابا ؒ  ِ 33 - چڑیاگھر  ِ 34 - پیو ند کا ری  ِ 35 - روزہ  ِ 36 - غار حرا میں مراقبہ  ِ 37 - نماز  ِ 38 - وراثت  ِ 39 - خلا ئی تسخیر  ِ 40 - غلام قومیں  ِ 41 - عدم تحفظ کا احساس  ِ 42 - روشنی  ِ 43 - محبت کے گیت  ِ 44 - شاہکار تصویر  ِ 45 - تین دوست  ِ 46 - نورا نی چہرے  ِ 47 - آدم و حوا  ِ 48 - محا سبہ  ِ 49 - کیمرہ  ِ 50 - قلندر بابا اولیا ء ؒ  ِ 51 - رُوحانی آنکھ  ِ 52 - شعُوری دبستان  ِ 53 - مائی صاحبہؒ  ِ 54 - جاودانی زندگی  ِ 55 - ماضی اور مستقبل  ِ 56 - خاکی پنجرہ  ِ 57 - اسٹیم  ِ 58 - ایجادات  ِ 59 - بت پرستی  ِ 60 - ماورائی ڈوریاں  ِ 61 - مرکزی نقطہ  ِ 62 - پیاسی زمین  ِ 63 - وجدان  ِ 64 - سیلاب  ِ 65 - مرشد اور مرید  ِ 66 - راکھ کا ڈھیر  ِ 67 - اڑن کھٹولے
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)