تعلیم و تلقین

کتاب : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ

مصنف : سہیل احمد عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=14635

باباصاحب دو بنیادی باتوں پر زور دیتے تھے۔ ایک االلہ تعالیٰ سے تعلق اور دوسرا اخلاصِ عمل۔ باباصاحب کومردم آزاری اورظلم سخت ناپسند تھے۔

باباصاحبؒ کہتے تھے۔’’االلہ اللہ کرتے، اچھے رہتے۔‘‘ االلہ تعالیٰ سے رابطہ دین کی روح ہے۔ اورصلوٰۃ ہو یا ذکرِالٰہی سب اسی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ باباصاحبؒ کامنشاء یہ تھا کہ اللہ سے تعلق خاطر ویسا ہونا چاہئے جو ایک بندے اور خالق کے درمیان ضروری ہے۔

حاضرینِ دربار کے فکر وعمل کی خامی کو باباصاحبؒ نہایت لطیف پیرائے میں ظاہر کرتے تھے، اس طرح کہ وہ سمجھ بھی جائیں اوران کی پردہ پوشی بھی رہے۔ کسی بات کی تلقین فرماتے تو اکثر تمثیل زبان استعمال کرتے۔

خدائےرام نامی ایک سودخور واکی میں باباصاحب کے پاس آیا۔ تو باباصاحب نے ایک لکڑی اٹھائی اور مارتے ہوئے کہا۔’’بڑا ظالم ہے، مخلوق کو ستاتاہے۔‘‘پھر فرمایا۔’’سود لینا چھوڑدے۔‘‘ خدائےرام پر اتنا اثر ہوا کہ عمر بھر وہ بابا صاحب کے پاس رہا اور سودی کاروبار چھوڑ دیا۔

ایک پیرصاحب باباصاحب کے پاس آئے اور عرض کیا کہ حضور! دعا فرمائیں کہ مجھے روحانیت میں ترقی نصیب ہو۔

باباصاحب نے فرمایا۔’’کتّامارکر لاؤ،ہم دونوں کھائیں گے۔‘‘

باباصاحبؒ  کا اشارہ اس حدیث کی طرف تھا کہ دنیا مردارہے اور اس کے طالب کتّے ہیں۔

مولانایوسف شاہ صاحب کی ایک درویش سے راہ و رسم پیدا ہوگئی۔ اوررفتہ رفتہ تعلقات دوستی میں بدل گئی۔ وہ درویش کیمیا جانتے تھے۔ انہوں نے مولانا کو ترکیب بتادی۔ مولانا نے سوچا اگر باباصاحب اجازت دے دیں تو بلا محنت ومشقت کے بہت اچھا ذریعۂ آمدنی ہوجائے گا۔ باباصاحب کے پاس پہنچے تو باباصاحبؒ نے فرمایا۔’’غلاظت کھانا چاہتے ہو؟‘‘مولانا فوراً سنبھل گئے۔

ایک صاحب کو یہ زعم تھا کہ باباصاحب سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس لئے کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ باباصاحب نے ان سے کہا۔’’ ہم سے کم کسی کو نہیں سمجھتے۔‘‘

اکثر طوائفیں بھی حاضر ہوتی تھیں۔ لوگوں کو یہ بات عجیب دکھائی دیتی تھی لیکن باخبر لوگوں کو پتہ تھا کہ شاید ہی کوئی طوائف ہو جس کی حالت دربارمیں حاضر ہونے کے بعد بدل نہ گئی ہو۔ طوائفوں کو مختلف پیرائے میں حکم دیتے تھے۔ مثلاًفرماتے تھے۔ اماں، سواری کے لئے ایک گھوڑاپسند کر لو۔

ایک دفعہ باباتاج الدینؒ کے چند نام لیوا شکردرہ میں باباصاحبؒ کی جائے قیام سے کچھ فاصلے پر بیٹھے آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ ایک نے کہا ، میں تم سب لوگوں پر فوقیت رکھتاہوں اس لئے کہ میں ساری جائداد چھوڑ کر بابا صاحب کی خدمت میں آیا ہوں۔ دوسرے نے کہا، میری قربانی تم سے کم نہیں ہے۔ میں تو پوری دکان چھوڑکر حاضرہوا ہوں۔ عرض ہر شخص اپنی بڑائی جتارہاتھا۔ اسی لمحہ باباصاحب محل سے باہر نکل کر ان لوگوں کے پاس آئے اور یہ قرآنی آیت پڑھی:

ترجمہ: لوگ اسلام لانے کا آپ پر احسان دھرتے ہیں۔ کہہ دو اے نبیؐ! تم اپنے اسلام لانے کا احسان مجھ پر نہ رکھو۔ یہ تو اللہ کا احسان ہے تم پر کہ تم کو ایمان کی طرف رہنمائی فرمائی۔(پ ۳۶، ع۱۴)

مختصر یہ کہ جلالی وجمالی کیفیت میں اشاروں، کنایوں اور تمثیلی اندازِ بیان کے ذریعے حاضرین کو تلقین جاری رہتی اور بنیادی نکتہ یہی ہوتا کہ لوگ حرص وہوس سے آزاد ہوجائیں۔ اورکوئی ایسا کام نہ کریں جس سے کسی کو تکلیف پہنچے۔ کبھی کبھی تیزوتند لہجہ بھی اختیار کرلیتے۔ ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ بابا آپ لوگوں کوسخت وسست کیوں کہتے ہیں؟ جواباً فرمایا۔’’نہیں رے، میں توانہیں دعادیتاہوں۔‘‘

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 44 تا 46

سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ اقتباس  ِ 1 - روحانی انسان  ِ 2 - نام اور القاب  ِ 3 - خاندان  ِ 4 - پیدائش  ِ 5 - بچپن اورجوانی  ِ 6 - فوج میں شمولیت  ِ 7 - دو نوکریاں نہیں کرتے  ِ 8 - نسبت فیضان  ِ 9 - پاگل جھونپڑی  ِ 10 - شکردرہ میں قیام  ِ 11 - واکی میں قیام  ِ 12 - شکردرہ کو واپسی  ِ 13 - معمولات  ِ 14 - اندازِ گفتگو  ِ 15 - رحمت و شفقت  ِ 16 - تعلیم و تلقین  ِ 17 - کشف و کرامات  ِ 18 - آگ  ِ 19 - مقدمہ  ِ 20 - طمانچے  ِ 21 - پتّہ اور انجن  ِ 22 - سول سرجن  ِ 23 - قریب المرگ لڑکی  ِ 24 - اجنبی بیرسٹر  ِ 25 - دنیا سے رخصتی  ِ 26 - جبلِ عرفات  ِ 27 - بحالی کا حکم  ِ 28 - دیکھنے کی چیز  ِ 29 - لمبی نکو کرورے  ِ 30 - غیبی ہاتھ  ِ 31 - میڈیکل سرٹیفکیٹ  ِ 32 - مشک کی خوشبو  ِ 33 - شیرو  ِ 34 - سرکشن پرشاد کی حاضری  ِ 35 - لڈو اور اولاد  ِ 36 - سزائے موت  ِ 37 - دست گیر  ِ 38 - دوتھال میں سارا ہے  ِ 39 - بدکردار لڑکا  ِ 40 - اجمیر یہیں ہے  ِ 41 - یہ اچھا پڑھے گا  ِ 42 - بارش میں آگ  ِ 43 - چھوت چھات  ِ 45 - ایک آدمی دوجسم۔۔۔؟  ِ 46 - بڑے کھلاتے اچھے ہو جاتے  ِ 47 - معذور لڑکی  ِ 48 - کالے اور لال منہ کے بندر  ِ 49 - سونا بنانے کا نسخہ  ِ 50 - درشن دیوتا  ِ 51 - تحصیلدار  ِ 52 - محبوب کا دیدار  ِ 53 - پانچ جوتے  ِ 54 - بیگم صاحبہ بھوپال  ِ 55 - فاتحہ پڑھو  ِ 56 - ABDUS SAMAD SUSPENDED  ِ 57 - بدیسی مال  ِ 58 - آدھا دیوان  ِ 59 - کیوں دوڑتے ہو حضرت  ِ 60 - دال بھات  ِ 61 - اٹیک، فائر  ِ 62 - علی بردران اورگاندھی جی  ِ 63 - بے تیغ سپاہی  ِ 64 - ہندو مسلم فساد  ِ 65 - بھوت بنگلہ  ِ 66 - اللہ اللہ کر کے بیٹھ جاؤ  ِ 67 - شاعری  ِ 68 - وصال  ِ 69 - فیض اور فیض یافتگان  ِ 70 - حضرت انسان علی شاہ  ِ 71 - مریم بی اماں  ِ 72 - بابا قادر اولیاء  ِ 73 - حضرت مولانا محمد یوسف شاہ  ِ 74 - خواجہ علی امیرالدین  ِ 75 - حضرت قادر محی الدین  ِ 76 - مہاراجہ رگھو جی راؤ  ِ 77 - حضرت فتح محمد شاہ  ِ 78 - حضرت کملی والے شاہ  ِ 79 - حضرت رسول بابا  ِ 80 - حضرت مسکین شاہ  ِ 81 - حضرت اللہ کریم  ِ 82 - حضرت بابا عبدالرحمٰن  ِ 83 - حضرت بابا عبدالکریم  ِ 84 - حضرت حکیم نعیم الدین  ِ 85 - حضرت محمد عبدالعزیز عرف نانامیاں  ِ 86 - نیتا آنند بابا نیل کنٹھ راؤ  ِ 87 - سکّوبائی  ِ 88 - بی اماں صاحبہ  ِ 89 - حضرت دوّا بابا  ِ 90 - نانی صاحبہ  ِ 91 - حضرت محمد غوث بابا  ِ 92 - قاضی امجد علی  ِ 93 - حضرت فرید الدین کریم بابا  ِ 94 - قلندر بابا اولیاء  ِ 94.1 - سلسلۂ عظیمیہ  ِ 94.2 - لوح و قلم  ِ 94.3 - نقشے اور گراف  ِ 94.4 - رباعیات
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)