تصور کی صحیح تعریف

مکمل کتاب : ٹَیلی پَیتھی سیکھئے

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=45118

جمشید احمد و محمد صفدر، راولپنڈی
سوال: آپ ٹیلی پیتھی کی جو مشقیں تجویز کی ہیں ان میں تصور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تصور سے آپ کی کیا مراد ہے اور تصور کی صحیح تعریف کیاہے؟ کیا مشق کے دوران خود کو ترٖیبات دینا ہے کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ روشنی یا نور کا سمندر ہے اور ساری کائنات اس نور میں ڈوبی ہوئی ہے یا تصور سے کچھ اور مراد ہے؟
جواب: روزمرہ کا مشاہدہ یہ ہے کہ ہم جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وہ چیز یا اس کے اندر معنویت ہمارے اوپر آشکارا ہو جاتی ہے۔ کوئی چیز ہمارے سامنے ہے لیکن ذہنی طور پر ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو وہ چیز ہمارے لئے بسا اوقات کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہم گھر سے دفتر جانے کے لئے ایک راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جب ہم گھر سے روانہ ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن کی مرکزیت صرف دفتر ہوتا ہے یعنی وقتِ مقررہ پر دفتر پہنچا ہے اور وہاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ اب راستہ میں بے شمار مختلف النوع چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں اور انہیں ہم دیکھتے ہیں لیکن دفتر پہنچنے کے بعد کوئی صاحم اگر ہم سے سوال کریں کہ راستے میں آپ نے کیا کچھ دیکھا تو اس بات کا ہمارے پاس ایک ہی جواب ہو گا کہ ہم نے دھیان نہیں کیا حالانکہ چیزیں سب نظر کے سامنے سے گزریں لیکن چونکہ کسی بھی چیز میں ذہنی مرکزیت قائم نہیں تھی اس لئے حافظہ پر اس کا نقش مرتب نہ ہو سکا۔
قانون یہ بنا کہ جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وہ چیز اور اس چیز کے اندر معنویت ہمارے اوپر منکشف ہوتی ہے۔ ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں جو بہت دلچسپ ہے۔ دل چسپی کی بنا پر کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم نے اس کتا کا مطالعہ چار یا پانچ گھنٹے کیا ہے تو ہمیں یقین نہیں آتا لیکن چانکہ گھڑی ہمارے سامنے ہے اس لئے ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے بر عکس ایک ایسی کتا ب آپ پڑھتے ہیں جس کا مضمون آپ کی دلچسپی کے بر عکس ہے تو پانچ دس منٹ پڑھنے کے بعد ہی طبیعت پر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے اور بالآخر وہ کتاب چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مثال سے دوسرا قانون یہ بنا کہ ذہنی مرکزیت کے ساتھ ساتھ اگر دل چسپی بھی قائم ہو تو کام آسان ہو جاتا ہے۔ جہاں تک دل چسپی کا تعلق ہے اس کی حدود اگر متعین کی جائیں تو وہ دو رُخ پر قائم ہیں جن کو عرفِ عام میں ذوق و شوق کہا جاتا ہے یعنی ایک طرف کسی چیز کی معنویت کی تلاش کرنے جستجو ہے اور دوسری طرف اس جستجو کے نتیجے میں کوئی چیز حاصل کرنے کا شوق ہے۔
ذوق او رشوق کے ساتھ جب کوئی بندہ کسی راستہ کو اختیار کرتا ہے تو وہ راستہ دین ہو یا دنیا کا، اس کے نتائج مثبت مرتب ہوتے ہیں۔ ٹیلی پیتھی کی مشقوں میں تصور منشار یہی ہے کہ آدمی ذوق و شوق کے ساتھ ذہنی مرکزیت اور اس نتیجے میں باطنی علم حاصل کرے۔ چونکہ یہ علم کتابی علم نہیں ہے اس لئے اس علم کو سیکھنے کے لئے ایسے طریقے اختیار کرنا لازم ہیں جو مروجہ طریقوں سے بالا ہوں۔ رُوح نور ہے، روشنی ہے۔ رُوحانی علوم بھی نور ہیں، روشنی ہیں۔ نور یا لہروں کا عالم نور یا لہروں کے ذریعے ہی منتقل ہو سکتا ہے۔ ہم جب نور کا تصور کرتے ہیں تو نور کی ہریں یعنی علمِ روحنیت کی روشنیاں ہمارے ذوق و شوق کے بطابق ہمارے ہمارے اندر منتقل ہونے لگتی ہیں۔
تصور کی مشقوں سے بھر پور فوائد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صاحبِ مشق جب آنکھیں بند کر کے تصور کرے تو اُسے خود سے اور ماحول سے بے نیاز ہو جانا چاہیئے، اتنا بے نیاز کہ اس لے اوپر سے بتریج ٹائم اسپیس کی گرفت ٹوٹنے لگے۔ یعنی اس تصور میں اتنا انہماک ہو جائے کہ وقت گزرنے کا مطلق احساس نہ رہے۔ کتاب کا دل چسپ مضمون پڑھنے کی مثال پیش کی جا چکی ہے۔
تصور کے ضمن میں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر آپ نور کو تصور کر رہے ہیں تو آنکھیں بند کر کے کسی خاص قسم کی روشنی کو دیکھنے کی کاشش نہ کریں ۔ بلکہ صرف نور کی طرف دھیان قائم کریں ۔ نور جو کچھ بھی ہے اور جس طرح بھی ہے از خود آپ کے سامنے آئے گا۔ اصل تدعا کسی ایک طرف دھیان کر کے ذہنی یکسوئی حاصل کرنا اور منتشر خیال سے نجات پانا ہے۔ جس کے بعد باطنی علم کڑی در کڑی ذہن پر منکشف ہونے لگتا ہے۔ تصور کامطلب اس بات سے کافی حد تک پورا ہوتا ہے جس کو عرفِ عام میں ‘ بے خیال ہونا’ کہا جاتا ہے۔
ہم اگر کھلی یا بند آنکھوں سے کسی چیز کا تصور کرتے ہیں اوت تصور میں خیالی تصویر بنا کر اُسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ عمل ذہنی یکسوئی کے احاطے میں نہیں آتا۔ ذہنی یک سوئی سے مراد یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر دیکھنے اور سننے کے عمل سے بے خبر ہو جائے۔ قانون یہ ہے کہ آدمی کسی لمحے بھی حوس سے ماورا نہیں ہو سکتا۔ جب ہمارے اوپر شعوری حوس کا غلبہ نہیں رہتا تو میکانکی (AUTOMATIC) طور پر لاشعوری حوس متحرک ہو جاتے ہیں اور لا شعوری حواس سے متعارف ہونا ہی ماروائی علوم کا عرفان ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 133 تا 136

ٹَیلی پَیتھی سیکھئے کے مضامین :

ِ 0.1 - اِنتساب  ِ 1 - پیشِ لفظ، ٹیلی پیتھی سیکھئے  ِ 2 - ٹَیلی پَیتھی کیا ہے؟  ِ 3 - نظر کا قانون  ِ 4 - ٹائم اسپیس  ِ 5 - کہکشانی نظام  ِ 5.1 - حضرت سلیمانؑ کا دربار  ِ 5.2 - خیال کی قوت  ِ 6 - خیالات کے تبادلہ کا قانون  ِ 6.1 - ارتکازِ توجہ  ِ 7 - ٹیلی پیتھی کا پہلا سبق  ِ 8 - مٹھاس اور نمک  ِ 8.1 - آئینہ بینی  ِ 10 - ٹیلی پیتھی اور سانس کی مشقیں  ِ 11 - ٹیلی پیتھی کا دوسرا سبق  ِ 12 - فکرِ سلیم  ِ 13 - قبر میں پیر  ِ 13.1 - ایک انسان ہزار جسم  ِ 13.2 - شیر کی عقیدت  ِ 14 - لہروں میں ردوبدل کا قانون  ِ 15 - کیفیات و واردت سبق 2  ِ 16 - علم کی درجہ بندی  ِ 16.1 - شاہد اور مشہود  ِ 17 - دماغی کشمکش  ِ 18 - ٹیلی پیتھی کا تیسرا سبق  ِ 19 - سائنس کا عقیدہ  ِ 20 - کیفیات و واردات سبق 3  ِ 21 - باطنی آنکھ  ِ 21 - تصور کی صحیح تعریف  ِ 22 - ٹیلی پیتھی کا چوتھا سبق  ِ 23 - 126 عناصر  ِ 24 - کیفیات و واردات سبق 4  ِ 25 - عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے  ِ 26 - قانونِ فطرت  ِ 27 - ٹیلی پیتھی کا پانچواں سبق  ِ 28 - ٹیلی پیتھی کا چھٹا سبق  ِ 29 - قیدو بند کی حالت  ِ 30 - چھٹے سبق کے دوران مرتب ہونیوالی کیفیات  ِ 31 - ساتواں سبق  ِ 32 - ٹیلی پیتھی کے ذریعے تصرف کا طریقہ  ِ 33 - آٹھواں سبق  ِ 34 - دماغ ایک درخت  ِ 35 - رُوحانی انسان  ِ 36 - روحانیت اور استدراج
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)