Repetition – تکرار

کتاب : وقت؟

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=19795

دنیا کی عمر کے بارے میں اس قدر ترقی کے باوجود اب تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکی ہے……
کوئی کہتا ہے یہ دنیا اربوں سال پرانی ہے!……
کوئی کہتا ہے کہ ایک ایسا ڈھانچہ دریافت ہوا ہے جو کروڑوں سال پرانا ہے!……
کہیں سے آواز آتی ہے کہ دنیا لاکھوں سال پرانی ہے……
اور جب دنیا کی تاریخ زیر بحث آتی ہے تو اعلیٰ دماغ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ پانچ ہزار سال سے زیادہ قدیم نہیں……
لیکن پانچ ہزار سال کی یہ تاریخ بھی مکمل صورت میں کہیں محفوظ نظر نہیں آتی……
حد تو یہ ہے کہ اگر ہم دو ہزار سال سے زیادہ کی بات کرتے ہیں تو اس پر بھی ہمیں قبلِ مسیح کا حوالہ دینا پڑتا ہے……

جب ہم دنیا میں رائج مختلف نظریات پر غور کرتے ہیں تو ہر نظریہ کسی دوسرے نظریے سے دست و گریباں نظر آتا ہے…… ہزاروں برس کی تاریخ میں صرف چند ہی نام ایسے ملتے ہیں جو نظریات کے ستون سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہر نظریہ کچھ دور چل کر کسی دوسرے نظریہ کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر لیتا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ہر زمانے میں ایجادات ہوتی رہی ہیں اور انہی ایجادات کی بنیاد پر یہی کہا جاتا رہا ہے کہ دنیا نے بہت ’’ترقی‘‘ کر لی ہے…… لیکن پھر ایک دور ایسا آتا ہے کہ ’’ترقی‘‘ کی بنیاد بننے والی تمام ایجادات اس طرح کسی اَن دیکھے پردے میں چھپ جاتی ہیں کہ ان کا تذکرہ تو جاری رہتا ہے لیکن ان کا نام و نشان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا……
تفکر کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ترقی بھی Repetitionکے علاوہ کچھ نہیں۔

کسی زمانے میں اللہ تعالیٰ کا عرفان رکھنے والے ایک نوجوان کے پاس حضرت خضر علیہ السلام تشریف لایا کرتے تھے…… اس بات کا تذکرہ جب اس دور کے بادشاہ کے سامنے ہوا تو بادشاہ نے اس نوجوان عارف کو اپنے دربار میں طلب کر لیا…… اور اس سے تنہائی میں دریافت کیا کہ تمہارے پاس کیا واقعی حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاتے ہیں؟……
نوجوان عارف نے جواب دیا…… جی ہاں…… یہ درست ہے!……
بادشاہ نے اس نوجوان سے فرمائش کی کہ اب اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کی مجھ سے بھی ملاقات کرانا…… اس نوجوان نے بادشاہ کی بات مان لی…… پھر جب حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے تو اس نے سارا قصہ ان کے سامنے بیان کر دیا…… حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا…… چلو اس کے پاس چلتے ہیں……
چنانچہ دونوں بادشاہ کے محل میں پہنچے…… بادشاہ نے دریافت کیا…… کیا آپ ہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں؟……
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا…… ہاں میں ہی ہوں!……
بادشاہ نے عرض کیا…… آپ نے قرن ہا قرن کا زمانہ دیکھا ہے، ہمیں کوئی عجیب و غریب قصہ سنایئے!……
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا…… میں نے دنیا میں بہت عجیب و غریب باتیں دیکھی ہیں…… لیکن میں ان میں سے ایک تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں…… لو سنو!……
ایک مرتبہ میرا گزر…… ایک بہت وسیع و عریض، خوبصورت، خوشحال اور آباد شہر سے ہوا…… میں نے اس شہر کے باشندے سے پوچھا…… بھائی! یہ شہر کب سے آباد ہے؟……
اس نے کہا…… یہ شہر تو بہت پرانا ہے…… اس کی ابتدا کا نہ تو مجھے کوئی علم ہے نہ میرے آباؤ اجداد کو…… خدا ہی جانے کب سے یہ شہر یونہی آباد چلا آ رہا ہے……
یہ جواب سننے کے بعد میں نے وہاں اپنا کام مکمل کیا اور آگے روانہ ہو گیا…… پھر میرا اس جگہ سے پانچ سو سال بعد گزر ہوا…… اب وہاں شہر کا نام و نشان تک نہ تھا…… ہر طرف جنگل و بیابان تھا…… بہت تلاش بسیار کے بعد ایک آدمی ملا جو سوکھی لکڑیاں چن رہا تھا…… میں نے اس سے پوچھا…… اس جگہ پر آباد شہر کب برباد ہوا؟…… میری بات سن کر وہ ہنسنے لگا…… بولا…… میاں! دیوانے ہوئے ہو کیا؟…… جنگل میں شہر تلاش کرتے ہو…… یہاں کب شہر تھا؟…… اس علاقے میں تو مدتوں سے گھنا جنگل موجود ہے…… بلکہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں بھی اس جگہ جنگل ہی تھا……
یہ سننے کے بعد میں آگے بڑھ گیا…… اور پھر میرا اس مقام سے پانچ سو سال بعد گزر ہوا…… اب کیا دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑا دریا بہہ رہا ہے، دریا اتنا بڑا تھا کہ اس کا دوسرا کنارا نظر نہ آتا تھا…… کنارے پر چند مچھیرے جال ڈالنے کی تیاری کر رہے تھے…… میں نے ان سے پوچھا…… یہاں تو ایک گھنا جنگل تھا! وہ کب ختم ہوا اور دریا کب سے بہنے لگا؟…… وہ لوگ مجھے حیرت سے دیکھنے لگے…… ان میں سے ایک بولا…… صورت و شکل سے تو آپ معقول آدمی معلوم ہوتے ہیں لیکن عجیب سوال کر رہے ہیں…… یہاں تو ہمیشہ سے ہی دریا بہتا چلا آ رہا ہے……
میں نے پوچھا…… کیا یہاں پہلے جنگل نہیں تھا؟……
وہ کہنے لگے…… ہرگز نہیں!…… نہ ہم نے دیکھا نہ ہمارے بزرگوں نے اس بارے میں کچھ بتایا…… وہ بھی یہی کہتے تھے کہ یہاں ہمیشہ سے دریا بہہ رہا ہے……
پانچ سو سال بعد میرا اس خطے سے دوبارہ گزر ہوا…… اب وہاں لق و دق چٹیل میدان تھا…… ایک چرواہا مویشیوں کا ریوڑ ہانکتے ہوئے گزرا تو میں نے اس سے پوچھا…… بھائی! یہاں تند و تیز اور شوریدہ سر موجوں کے ساتھ ایک دریا بہتا تھا…… وہ کب خشک ہو گیا؟……
اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے میری عقل پر شبہ کر رہا ہو…… پھر بولا…… دریا؟ یہاں تو کبھی کوئی دریا نہ تھا…… ہمارے پرکھوں نے بھی کبھی کسی دریا کا ذکر نہیں کیا……
یہ سن کر میں وہاں سے آگے بڑھ گیا…… قدرت کی شان دیکھئے…… پانچ سو سال بعد پھر میرا اسی علاقے سے گزر ہوا…… اب دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا…… وہاں ایک عظیم الشان شہر آباد تھا…… یہ تو اس شہر سے بھی زیادہ خوبصورت وسیع و عریض اور خوشحال تھا جسے میں نے دو ہزار برس قبل دیکھا تھا……
میں نے حسب عادت ایک شخص سے پوچھا کہ یہ شہر کب سے آباد ہے؟…… اس نے کہا…… بزرگوار! یہ شہر بہت قدیم ہے…… یہ کب آباد ہوا؟ اس بارے میں حتمی طور پر ہمیں کچھ معلوم نہیں بلکہ ہماری پچھلی نسلیں بھی اس حوالے سے لا علم تھیں……
یہ قصہ سنا کر حضرت خضر علیہ السلام بادشاہ کے محل سے تشریف لے گئے……

یہ دنیا ایک طرف بقا ہے تو دوسری طرف فنا ہے…… ایک طرف فنا ہے تو دوسری طرف بقا ہے…… فنا و بقا کا یہ کھیل ریت کے گھروندے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا……
کہا جاتا ہے کہ دنیا سترہ بار ختم ہو کر دوبارہ آباد ہوئی ہے…… تاریخی شواہد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک معین وقت کے بعد (وہ معین وقت دس ہزار سال بھی ہو سکتا ہے) خشک زمین پر آباد دنیا تہہ آب آ جاتی ہے، شعور زمین کے اندر غاروں سے شروع ہوتا ہے اور بتدریج جوان ہوتا ہے…… اور جیسے جیسے شعور جوانی کی دہلیز پر قدم بڑھاتا ہے، انسان ترقی یافتہ کہلاتا ہے…… لیکن یہ بات ہر زمانے میں موجود رہتی ہے کہ انسان شعوری تقاضے پورے کرتا ہے……
شعوری تقاضے کس طرح پورے کرتا ہے؟…… یہ ’’کس طرح‘‘ ہی ارتقا ہے!……

کسی زمانے میں انسان آگ کا استعمال سیکھ کر ترقی کرتا ہے اور کبھی لوہے کی دریافت ترقی کا ذریعہ بنتی ہے اور ارتقا کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان توانائی کے علم سے واقف ہو جائے……
غاروں کی زندگی کا دور ہو، دھات کی دریافت کا زمانہ ہو، آگ سے واقفیت ہو یا انسانی ذہن توانائی کے فارمولوں سے واقف ہو جائے، بہرحال انسان گھٹتا، بڑھتا، مٹتا اور فنا ہوتا رہتا ہے…… ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ جو لوگوں سے خراج وصول کرتے تھے جب زیر زمین دفن ہو جاتے ہیں تو یہ لوگ جو خراج دیتے تھے اس زمین کو جس میں وہ دفن ہیں، پیروں سے روندتے پھرتے ہیں……
یہی وہ سربستہ راز ہے جس کو بتانے سمجھانے اور عام کرنے کیلئے قدرت روشن اور منور لوگوں کو دھرتی پر بھیجتی ہے اور دھرتی کے یہ روشن چراغ زمین پر بسنے والے لوگوں کو روشنی اور نور سے متعارف کراتے ہیں……

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 201 تا 204

وقت؟ کے مضامین :

ِ 0 - پیش لفظ  ِ 1 - مشفق استاد  ِ 2 - حاکم اعلیٰ  ِ 3 - اللہ تعالیٰ کی نعمتیں  ِ 4 - اولیاء اللہ کا مشن  ِ 5 - استغنیٰ  ِ 6 - اللہ تعالیٰ کی نشانیاں  ِ 7 - أول ما خلق الله نوري  ِ 8 - رسول اللہﷺ کی تعلیمات  ِ 9 - امام غزالیؒ  ِ 10 - روح  ِ 11 - اہلِ روحانیت  ِ 12 - روحانیت کا راز  ِ 13 - سسٹم  ِ 14 - ناسوتی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 15 - بہتر جہاں  ِ 16 - دماغ  ِ 17 - فکر کی گہرائی  ِ 18 - صبر  ِ 19 - غیب  ِ 20 - غیب کا زون، مظاہر کا زون  ِ 21 - شادی  ِ 22 - انکشافات  ِ 23 - اولاد کی تربیت  ِ 24 - چہرہ  ِ 25 - ریکارڈ  ِ 26 - قدریں  ِ 27 - باشعور انسان  ِ 28 - رنگ برنگ  ِ 29 - منصوبہ بندی  ِ 30 - کٹھن دور  ِ 31 - بے سکونی کا سبب  ِ 32 - قناعت اور اضطراب  ِ 33 - خوش کیسے رہیں؟  ِ 34 - پر سکون زندگی  ِ 35 - تغیر  ِ 36 - آواز کی آلودگی  ِ 37 - Repetition – تکرار  ِ 38 - منطقی عقل اور فلسفہ  ِ 39 - ایمان اور یقین  ِ 40 - دنیا فہم دانشور، دین فہم دانشور  ِ 41 - سات سال کا بچہ  ِ 42 - فقیر کی بات  ِ 43 - موت کی حقیقت  ِ 44 - تاریخ خود کو دہراتی ہے  ِ 45 - زلزلے اور آفات کی وجوہات  ِ 46 - یہ وقت بھی گزر جائے گا  ِ 47 - حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)