کُن فیَکون

مکمل کتاب : لوح و قلم

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاءؒ

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=2888

جب اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور لفظ کُن فرمایا، اس وقت اسمِ رحیم کی قوّتِ تصرف نے حرکت میں آکر کائنات کے تمام اَجزاء اور ذرّات کو شکل وصورت بخشی۔ جس وقت تک لفظ رحیم اسمِ اِطّلاقیہ کی حیثیت میں تھا اس وقت تک اس کی صفَت صرف علم کی حیثیت رکھتی تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے لفظ کُن فرمایا تو رحیم اسمِ اِطّلاقیہ سے تنزّل کر کے اسمِ عَینیہ کی حدوں میں داخل ہو گیا اور رحیم کی صفَت علم میں حرکت پیدا ہو گئی جس کے بعد حرکت کی صفَت کے تعلّق سے لفظ رحیم کا نام اسمِ عَینیہ قرار پایا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مَوجودات کو خطاب فرمایا۔

اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ

(پہچان لو، میں تمہارا رب ہوں)

روحوں نے جواباً کہا ۔۔۔۔۔۔ بَلٰی

(جی ہاں، ہم نے پہچان لیا)

جب روحوں نے رب ہونے کا اعتراف کر لیا تو اسمِ رحیم کی حیثیت اسمِ عَینیہ سے تنزّل کر کے اسمِ کَونیہ ہو گئی۔
تصوّف کی زبان میں اسمِ اِطّلاقیہ کی حدود صفَت تدلّٰی کہلاتی ہے۔ اسمِ عَینیہ کی صفَت اِبداء کہلاتی ہے او راسمِ کَونیہ کی صفَت خلق کہلاتی ہے۔ اسمِ کَونیہ کی صفَت کے مظہر کو تدبیر کہا جاتا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں عیسیٰ علیہ السّلام کے روح پھونکنے کا بیان کیا ہے وہاں اسمِ رحیم کی ان تینوں صفات کا اشارہ فرمایا ہے اور تیسری صفَت کے مظہر کو روح پھونکنے کا نام دیا ہے۔
یہاں پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کو ثابِتہ کی حیثیت میں اسمِ رحیم کی صفَت تدلّٰی حاصل ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اس وصف سے مردوں کو زندہ کرنے یا کسی شئے کو تخلیق کرنے کا کام سر انجام دے سکتا ہے۔
پھر اس ہی اسمِ رحیم کا تنزّل صفَت عَینیہ کی صورت میں اَعیان کے اندر موجود ہے جس کے تصرفات کی صلاحیّتیں انسان کو پوری طرح حاصل ہیں۔ اسمِ رحیم کی صفَت کَونیہ انسان کے جَویَّہ میں پیوست ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس صفَت کے استعمال کا حق بھی حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی مثال دے کر اس نعمت کی وضاحت کر دی ہے۔ اگر کوئی انسان اس صفَت کی صلاحیّت کو استعمال کرنا چاہے تو اسے اپنے ثابِتہ، اپنے اَعیان اور اپنے جَویَّہ میں مراقبہ کے ذریعے اس فکر کو مستحکم کرنا پڑے گا کہ میری ذات اسمِ رحیم کی صفات سے تعلّق رکھتی ہے۔ اس فکر کی مشق کے دوران میں وہ اس بات کا مشاہدہ کرے گا کہ اُس کے ثابِتہ، اُس کے اَعیان اور اُس کے جَویَّہ سے اسمِ رحیم کی صفَت روح بن کر اُس مُردہ میں منتقل ہو رہی ہے جس کو وہ زندہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مَوجودات کی جس قدر شکلیں اور صورتیں ہیں وہ سب کی سب اسمِ رحیم کی صفات کا نُوری مجموعہ ہیں۔ یہ مجموعہ انسان کی روح کو حاصل ہے۔ اس شکل میں انسان کی روح ایک حد میں صاحبِ تدلّٰی، ایک حد میں صاحبِ اِبداء اور ایک حد میں صاحبِ خلق ہے جس وقت وہ فکر کی پوری مشق حاصل کرنے کے بعد اسمِ رحیم کی اس صفَت کو خود سے الگ شکل و صورت دینے کا ارادہ کرے گا تو صفَت تدلّٰی کے تحت اس کا یہ اِختیار حرکت میں آئے گا۔ صفَت اِبداء کے تحت ہدایت حرکت میں آئے گی اور صفَت خلق کے تحت تکوین حرکت میں آئے گی۔ اور ان تینوں صفات کا مظہر اُس ذی روح کی شکل وصورت اِختیار کرے گا جس کو وُجود میں لانا مقصود ہے۔

ترکیب:

صفَت تدلّٰی (اِختیارِ الٰہیہ) (ثابِتہ) +صفَت اِبداءِ الٰہیہ (عین) (کسی چیز کی کامل شکل وصورت) + صفَت خلق الٰہیہ (جَویَّہ) (حرکات و سکنات زندگی)=مظہر (وُجودناسُوتی)
ہماری دنیا کے مشاہدات یہ ہیں کہ پہلے ہم کسی چیز کے متعلّق معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اگر کبھی اتفاقیہ ایسا ہوا ہے کہ ہمیں کسی چیز کے متعلّق کوئی معلومات نہیں اور وہ اچانک آنکھوں کے سامنے آ گئی ہے تو ہم اس چیز کو بالکل نہیں دیکھ سکتے۔

مثال نمبر 1:

لکڑی کے ایک فریم میں ایک تصویر لگا کر بہت شفاف آئینہ تصویر کی سطح پر رکھ دیا جائے اور کسی شخص کو فاصلے پر کھڑا کر کے امتحاناً یہ پوچھا جائے کہ بتاؤ تمہاری آنکھوں کے سامنے کیا ہے تو اس کی نگاہ صرف تصویر کو دیکھے گی۔ شفاف ہونے کی وجہ سے آئینہ کو نہیں دیکھ سکے گی۔ اگر اس شخص کو یہ بتا دیا جائے کہ آئینہ میں تصویر لگی ہوئی ہے تو پہلے اس کی نگاہ آئینہ کو دیکھے گی، پھر تصویر کو دیکھے گی۔ پہلی شکل میں اگرچہ دیکھنے والے کی نگاہ آئینہ میں سے گزر کر تصویر تک پہنچی تھی لیکن اس نے آئینہ کو محسوس نہیں کیا۔ البتہ معلومات ہونے کے بعد دوسری شکل میں کوئی شخص پہلے آئینہ کو دیکھتا ہے اور پھر تصویر کو۔ یہ مثال نگاہ کی ہے۔

مثال نمبر 2:

ہیروشیما کی ایک پہاڑی جو ایٹم بم سے فنا ہو چکی تھی، لوگوں کو دُور سے اپنی شکل وصورت میں نظر آتی تھی لیکن جب اس کو چھو کر دیکھا گیا تو دھوئیں کے اثرات بھی نہیں پائے گئے۔ اس تجربہ سے معلوم ہو گیا کہ صرف دیکھنے والوں کا علم نظر کا کام کر رہا تھا۔

مثال نمبر3:

عام مشاہدہ ہے کہ گونگے بہرے دیکھ تو سکتے ہیں لیکن نہ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں۔ نہ بولنا اور نہ سننا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا علم صرف نگاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، یعنی ان کی نگاہ علم کی قائم مقام تو بن جاتی ہے لیکن دیکھی ہوئی چیزوں کی تشریح نہیں کر سکتی۔ ان کی وہ صلاحیّتیں جو علم کو سننے اور بولنے کی شکل وصورت دیتی ہیں معدوم ہیں۔ اس لئے ان کا علم صرف نگاہ تک محدود رہتا ہے۔ یہاں سے علم کے بتدریج مختلف شکلیں اِختیار کرنے کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی ہزاروں مثالیں مل سکتی ہیں۔ چنانچہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو نگاہ صِفر کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا علم کو ہر صورت میں اوّلیت حاصل ہے اور باقی محسوسات کو ثانویّت۔

قانون:

ہر احساس خواہ بصر ہو، سمع ہو یا لمس ہو وہ علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ علم ہی اس کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر تمام احساسات نفی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر کسی چیز کا علم نہیں ہے تو نہ اس چیز کا دیکھنا ممکن ہے نہ سننا ممکن ہے۔ بالفاظ دیگر کسی چیز کا علم ہی اس کا وُجود ہے۔ اگر ہمیں کسی چیز کی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں تو ہمارے نزدیک وہ چیز معدوم ہے۔

قاعدہ:

جب علم ہر احساس کی بنیاد ہے تو علم ہی بصر ہے، علم ہی سمع ہے، علم ہی کلام ہے اور علم ہی لمس ہے یعنی کسی انسان کا تمام کردار صرف علم ہے۔

کُلیہ:

علم اورصرف علم ہی مَوجودات ہے۔ علم سے زیادہ مَوجودات کی کوئی حیثیت نہیں۔

حقیقت:

علم حقیقت ہے اور عدَم علم لاموجود ہے۔ اسماءِ صفات ہی مَوجودات ہیں۔ صفَت کی پہلی موجودگی کا نام اِطّلاق، دوسری موجودگی کا نام عین، تیسری موجودگی کا نام کَون ہے اور ان تینوں موجودگیوں کا نام مظہر یا وُجود ہے۔

تشریح:

علم اِطّلاق، علم عین اور علم کون کے یکجا ہونے کا نام وُجود یا مظہر ہے۔

بصر = اِطّلاق + عین + کَون = علم = وجود
سمع = اِطّلاق + عین + کَون = علم = وجود
کلام = اِطّلاق + عین + کَون = علم = وجود
شامّہ = اِطّلاق + عین + کَون = علم = وجود
لمس = اِطّلاق + عین + کَون = علم = وجود
بصر،سمع،کلام،شامّہ اور لمس = وُجود = علم

اوپر بیان کئے ہوئے حقائق کے تحت وُجود صرف اسماءِ الٰہیہ کی صفات کا عکس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ تعالیٰ کی صفَت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفَت اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کے تین عکس ہیں۔

① اِطّلاق
② عین، اور
③ کَون۔

ان تینوں عکسوں کا مجموعہ ہی مظہر یا وُجود ہے۔ دراصل کسی بھی وُجود یا مظہر کی بنیاد اسماءِ الٰہیہ کی صفات ہیں اور اسماءِ الٰہیہ کے چھ تنزّلات سے کائنات عالم وُجود میں آئی۔ اسم کا تنزّل صفَت، صفَت کا تنزّل علم۔ علم نے جب نزول کیا تو اس کے تین عکس وُجود میں آئے۔ اِطّلاق، عین اور کَون۔ ان تینوں عکسوں نے جب تنزّل کیا تو مظہر یا وُجود بن گیا۔ وُجود کی تشریح اوپر گزر چکی ہے اور یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وُجود صرف علم ہے۔ جب صفات کا عکس وُجود ہے تو صفات کا عکس ہی علم ہوا۔ کیونکہ اسم صفَت ہے، اس لئے اسم کا تعلّق براہِ راست علم سے ثابت ہو جاتا ہے۔ جب اسم تنزّل کرے گا تو علم بن جائے گا اور علم ہی اپنی شکل و صورت میں مظہرِ کَونیہ ہو گا۔ یہ وہی اسماء ہیں جن کا تذکرہ قرآنِ پاک میں ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 50 تا 56

لوح و قلم کے مضامین :

0.01 - انتساب 0.02 - عرضِ احوال 1 - بسمِ اللہِ الرّحمٰن الرّحیم 2 - عالمِ رُؤیا سے انسان کا تعلق 3 - رُؤیا کی صلاحیّتوں کے مَدارِج 4 - لوحِ اوّل یا لوحِ محفوظ 5 - لوحِ دوئم 6 - عالمِ جُو 7 - کثرت کا اَجمال 8 - ‘‘جُو’’ کا واسطہ 9 - احساس کی درجہ بندی 10 - وَحدتُ الوُجود اور وَحدتُ الشُہود 11 - روحِ اعظم، روحِ انسانی، روحِ حیوانی اور لطائفِ ستّہ 12 - اسماءِ الٰہیہ 13 - اسماءِ الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے 14 - خواب اور بیداری 15 - لوحِ محفوظ اور مراقبہ 16 - تدلّٰی 17 - کُن فیَکون 18 - علمِ لدُنّی 19 - ہر اسم تین تجلّیوں کا مجموعہ ہے 20 - اسمِ ذات 21 - روح کی مرکزیّتیں اور تحریکات 22 - لطیفۂِ نفسی کی حرکت 23 - باصرہ اور شُہود نفسی 24 - عملِ اِسترخاء 25 - علم ‘‘لا’’ اور علم ‘‘اِلّا’’ 26 - ‘‘لا’’ کا مراقبہ 27 - قوّتِ اَلقاء 28 - سالک مجذوب، مجذوب سالک 29 - نسبت کا بیان 30 - ٹائم اسپیس کا قانون 31 - زمانیت اور مکانیت کا راز 32 - کائنات کی ساخت 33 - نیابت کیا ہے؟ 34 - لوحِ محفوظ کا قانون 35 - اَنا یا انسانی ذہن کی ساخت 36 - علمُ الیقین، عینُ الیقین، حقُ الیقین 37 - تخلیق کا قانون 38 - انبیاء کے مقامات 39 - تخلیق کا فارمولا 40 - ماضی اور مستقبل 41 - زمان و مکان کی حقیقت 42 - اِدراک کیا ہے؟
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)