ہپناٹزم

کتاب : قدرت کی اسپیس

مصنف : حضور قلندر بابا اولیاٗ رحمتہ اللہ علیہ

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=25

حضرت جنید بغدادیؒ کے ایک مرید پر شیطان نے اس طرح حملہ کیا کہ ہر روز رات کے وقت ایک زرافہ لے کر اس کے گھر جاتا اور اس سے کہتا میں ایک فرشتہ ہوں تجھے جنت میں لے جانے آیا ہوں۔ زرافہ کی گردن میں جو رسی تھی اسے پکڑ کر ایک جگہ لے جاتا۔ وہ جگہ ایک کوڑے کا ڈھیر تھی، حقیقت میں شیطان مرید کو ہپناٹائز کرتا تھا۔ کوڑے کے ڈھیر کو جنت کہہ کر اسے خوش کرتا اور طرح طرح کے پھل، میوہ جات اسے کھلاتا۔ حقیقت میں زرافہ، زرافہ نہ تھا بلکہ گدھا تھا۔
ایک دن اس مرید نے حضرت جنید بغدادیؒ سے یہ بات بڑی خوشی خوشی گوش گزار کی تو اس پر حضرت جنید بغدادیؒ نے اس سے فرمایا کہ آج جب وہ (فرشتہ ۔ شیطان) آئے تو فلاں آیت پڑھنا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ عمل جنت میں پہنچنے کے بعد کرنا۔ وہ مرید جب جنت میں پہنچا اور اس نے وہ آیت پڑھی تو دیکھتا ہے کہ جس پر وہ بیٹھا ہے وہ گدھا ہے اور جس جنت میں وہ پہنچا ہے وہ کوڑے کا ڈھیر ہے۔ دراصل یہ صرف وہم کا کرشمہ تھا۔ اسے انگریزی میں (ILLUSION) بصری دھوکہ یا البتاس نظر کہتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ہپناٹزم کا رواج ہے لیکن ہر شخص ہپناٹائز نہیں ہوتا۔ مگر کچھ لوگ اس کے اثر میں آ جاتے ہیں اور یہاں تک ہپناٹائز ہو جاتے ہیں کہ ڈاکٹر مریض کا آپریشن کر لیتے ہیں۔ ہپناٹزم کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو چیز بتائی جائے وہی ’’معمول‘‘ کو تسلسل میں نظر آئے۔ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ عامل لوگ جب تماشہ دکھاتے ہیں تو معمول سے مختلف کام لیتے ہیں یعنی عامل کا ذہن اس وقت معمول کے اس گیٹ میں چلا جاتا ہے جن (GATES) کا رشتہ وہم سے ہے۔ (ایک GATE کے اطراف میں جو پانچ GATES ہیں ان کے مجموعے کو ایک ہی گیٹ مانا جائے گا)۔
قانون یہ ہے کہ پہلے وہم کا گیٹ کھلتا ہے لیکن دوسرا سوچ، تیسرا علم، چوتھا حرکت، پانچواں عمل اور چھٹا نتیجہ اور اس طرح پانچوں ( GATES) بند ہو جاتے ہیں۔ عامل کچھ اس طرح ذہن پر زور لگاتا ہے کہ پانچوں ( GATES) بند رہتے ہیں اور ایک گیٹ جو کہ وہم کا ہے کھلا رہتا ہے۔ وہم کے گیٹ کی فطرت (NATURE) ہے کہ جو کچھ کہا جائے وہی دکھاتا ہے اور جو کچھ وہ دیکھتا ہے دراصل وہ دماغ دیکھتا ہے۔ وہم کے گیٹ میں جو کچھ بات ڈالی جائے وہی آنکھوں سے نظر آئے گی۔ اس طرح ہپناٹزم ہوتا ہے۔ کسی بیمار کو ہپناٹائز کرنے والا عامل پہلے کسی چیز پر اسے یکسو کرتا ہے اور پھر (OPERATE) کر دیتا ہے۔
ہپناٹزم کرنے کے لئے محاورہ، عادت، مشق کرنی پڑتی ہے۔ تاش کے پتوں کو سامنے رکھ کر ان کو عامل بنائے اور خود معمول بن جائے۔ اگر وہ اکا ہو تو اسے بادشاہ کہے۔ جو بادشاہ دیکھ رہا ہے اس کا ذہن ایک طرف ہوتا ہے۔ وہ آنکھیں نہیں جھپکاتا اس وجہ سے اس کے حواس سکڑ جاتے ہیں اور گیٹ کلوز ہو جاتے ہیں۔ اگر اس کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اکا، اکا نہیں ہے بادشاہ ہے تو وہ بادشاہ ہی کو دیکھے گا۔
دوسری پریکٹس یہ کرے کہ ایک ایسی میز بنائے جس میں ڈھلان ہو۔ اس میز پر نمبر لکھے ہوئے گٹکے (پانسے) اس طرح پھینکے کہ اس کے ذہن میں ایک نمبر ہو۔ جب یہ پانسے ٹیبل پر پھینکے جائیں گے تو وہی نمبر دکھائیں گے جو عامل کے ذہن میں ہو گا لیکن یہ بات مشق سے حاصل ہو گی۔ پیراسائیکالوجی یا ہپناٹزم کی یہ دوسری مشق ہے۔

تیسری ورزش یہ کرے کہ ایک بچے کو معمول بنائے اور بچے کے اوپر اپنا ذہن مرکوز کرے۔ جب عامل کسی عورت کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے اس بچے سے کہے گا کہ تمہاری ماں جا رہی ہے تو وہ بچہ اس عورت کو اپنی ماں کی شکل میں دیکھے گا۔ دراصل ہپناٹزم اور پیراسائیکالوجی ایک ہی بات ہے۔
چوتھی مشق یہ کرے کہ کسی بڑے شخص کو معمول بنائے اور اس کے حواس اپنی گرفت میں لے اور اپنے ذہن کو اس کے وہم کے گیٹ میں داخل کر دے۔ اس طرح حواس کند ہو جائیں گے اور نتیجہ میں ذہن صرف ایک گیٹ کی طرف ہو گا اور اس گیٹ میں سارے حواس آ جائیں گے۔ اب معمول وہی کرے گا جو اسے کرنے کے لئے کہا جائے گا۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 24 تا 28

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message