ہم روشنی کھاتے ہیں

کتاب : پیرا سائیکالوجی

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : https://iseek.online/?p=7909

ہم جب بندے اور خالق کے درمیان تعلق کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں بہت زیادہ دوری محسوس ہوتی ہے۔ یہ دوری اس لئے ہے کہ مادی زندگی کا دارومدار پابند حواس پر ہے۔ جب پابند حواس پر بندہ تفکر کرتا ہے تو اس کی سوچ بھی پابند اور مقید رہتی ہے۔ پابند اور مقید سوچ کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان کی زندگی کا محور مادیّت ہے۔ آدمی کے ذہن کا ہر عمل مادّے کے خول میں بند ہے۔ مثلاً کھانا پینا، گھر بنانا، سردی گرمی سے بچاؤ کے لئے لباس اختراع کرنا، ایک خاندان میں رہنا پھر اس خاندان کو چھوٹے چھوٹے خاندانوں میں تقسیم کر دینا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان سب عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات بھی اظہر مِن الشّمس ہے کہ آدمی مادی زندگی کو اپنے اوپر کتنا مسلط کرے۔بالآخر اسے مادی زندگی چھوڑنی پڑتی ہے۔ آدمی کے اوپر جب موت وارِد ہو تو مادیّت سے اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ آدمی کا وجود جس کے سہارے آدمی اس دنیا میں زندگی کو چلاتا ہے اور جس میں آدمی کی تمام دلچسپیاں مرکُوز رہتی ہیں مٹی بن جاتا ہے۔
ایک آدمی دن بھر میں جو کچھ کھاتا پیتا رہتا ہے ان اشیاء کا اگر ڈھائی یا تین کلو وزن فی دن متعیّن کر لیا جائے تو اس حساب سے آدمی کا جسم نہیں بڑھتا۔ آدمی کا جسم اگر مادی غذاؤں سے پرورش پاتا ہے اور مادہ ہی اس کی زندگی کو نشوونما دیتا ہے تو تیس پینتیس سال کی عمر میں آدمی کا وزن کئی من ہونا چاہئے۔ جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ پس ثابت ہوا کہ آدمی جو کچھ کھاتا ہے وہ دراصل روشنیاں کھاتا ہے یعنی جس طرح آدمی کا مادی وجود یا گوشت پوست کا بنا ہوا آدمی روشنیوں کے اوپر زندہ ہے اسی طرح گیہوں میں بھی روشنیاں کام کر رہی ہیں۔
براہ راست طرز میں اس بات کو اس طرح کہا جائے گا کہ روشنی روشنی کو کھا رہی ہے۔ انسان کے اوپر روشنیوں کا بنا ہوا اصل انسان روشنیوں سے فیڈ (Feed) ہو رہا ہے اور روشنیوں سے ہی انرجی (Energy) حاصل کر رہا ہے۔ جس طرح ایک آدمی مرنے کے بعد مٹی کے ذرّات میں تبدیل ہو جاتا ہے اسی طرح گیہوں کا ایک دانہ بھی مٹی میں تبدیل ہو جاتا ہے لیکن گیہوں کا دانہ روشنیوں کے جس تانے بانے پر قائم ہے وہ روشنیاں موجود رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ٹن خوراک کھانے کے باوجود بھی وزن کئی ٹن نہیں ہوتا۔ روشنی کی معیّن مقدار کسی انسان، کسی حیوان، کسی درخت، کسی پرندے اور کسی گھر کے در و دیوار کی زندگی ہے۔
روشنیوں اور روشنی کے وصف کو تلاش کرنے کے لئے پہلا سبق اِرتکاز توجہ ہے، اِرتکاز توجہ کا مطلب یہ ہے کہ ذہن ہر طرف سے خالی اور یکسو ہو جائے۔ یکسوئی سے مراد دراصل بے خیال ہو جانا ہے۔ بے خیال ہونا کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہو۔
ہر آدمی کے اوپر چوبیس گھنٹے میں زیادہ نہیں تو چند منٹ کے لئے بے خیال ہونے کی کیفیّت ضرور طاری ہوتی ہے۔ اس کا دماغ تمام وسوسوں اور خیالات سے خالی ہو جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دماغ بند یا ماؤف ہو گیا ہے یا کہا جاتا ہے کہ دماغ خالی ہو گیا ہے۔ چونکہ ہم یکسوئی، بے خیالی اور اِرتکاز توجہ کی اس کیفیّت سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے ہم اس حالت کو بیماری سمجھتے ہیں۔
انسانی زندگی ہمہ وقت ہر آن ہر دن اور ہر شب دو رخوں پر چل رہی ہے۔ جب تک زندگی دو رخوں پر نہیں چلتی زندگی قائم نہیں رہتی۔ ایک رخ میں آدمی ذہنی مرکزیّت سے دور ہوتا ہے اور دوسرے رخ میں آدمی ذہنی مرکزیّت سے قریب ہوتا ہے۔ جب ذہنی مرکزیّت سے دور ہوتا ہے اس کے اوپر مادیّت کا غلبہ ہوتا ہے اور جب کوئی آدمی ذہنی مرکزیّت سے قریب ہوتا ہے اس کے اوپرروشنیوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں رخ ایک ساتھ سفر کر رہے ہیں اور الگ الگ بھی اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ساتھ سفر جاری رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان مادی حواس کے اندر رہتے ہوئے بھی روشنیوں کے حواس سے ہم رشتہ ہے اور روشنیوں کے حواس میں رہتے ہوئے بھی مادیّت سے ہم رشتہ ہے۔
الگ الگ سفر کرنے سے منشاء یہ ہے کہ آدمی کے اوپر مادیّت غالب آ جاتی ہے یا اس کے اوپر روشنی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ جس زندگی میں آدمی خالصتاً مادیّت میں سفر کرتا ہے وہ زندگی بیداری ہے اور جس زندگی میں آدمی کے اوپر مادیّت کا غلبہ ٹوٹ جاتا ہے اس زندگی کا نام نیند ہے۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ آدم زاد کو مادیّت کے غلبے سے آزاد کر کے روشنیوں کے اندر سفر کرنے کی دعوت دی جائے اس سفر کے لئے پہلا قدم یا پہلا عمل مراقبہ ہے جو انسان کو اس راستہ سے روشناس کرتا ہے۔ جو راستہ مادیّت کے غلبہ سے آزاد ہے۔
مراقبہ کے ذریعے آدمی اپنے ارادے اور اختیار سے اپنے اوپر ایسی کیفیات مرتّب کر لیتا ہے جن کیفیات میں مادّے کا غلبہ نہیں ہوتا۔ مثلاً جب آدمی سوتا ہے تو پہلا اسٹیج یہ ہے کہ آنکھوں کے اوپر ہلکا سا دباؤ محسوس ہوتا ہے پھر یہ دباؤ خُمار بن جاتا ہے۔ خُمار میں ذرا سی گہرائی پیدا ہوتی ہے تو حواس ٹوٹنے لگتے ہیں جب حواس کی شکست و ریخت شروع ہوتی ہے تو آنکھوں میں پتلیوں کی حرکت ساکت ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں پتلیوں کی حرکت کا ساکت ہونا اس بات کی علامت ہے کہ انسان بیداری کے حواس سے نکل کر نیند کے حواس میں منتقل ہو گیا ہے۔

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 91 تا 95

سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

    Your Name (required)

    Your Email (required)

    Subject (required)

    Category

    Your Message (required)