ہر مخلوق باشعور ہے

کتاب : آگہی

مصنف : خواجہ شمس الدۤین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=11720

مورخہ 15مارچ 2001 ؁ء بروز جمعرات

 

اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوقات پیدا کی ہیں، سب باشعور ہیں۔ ہر مخلوق خود کو پہچانتی ہے اور اپنی ذات سے متعلق جتنے کام ہیں ان کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نبادات، جمادات، حیوانات زمینی مخلوق ہیں اور ہر مخلوق جاندار ہے۔ اگر زمین بے جان ہوتی تو زمین کے اندر عجائبات نہیں ہوتے۔ زمین جانتی ہے کہ آم کی گٹھلی سے مجھے آم پیدا کرنا ہے۔ خشخاش سے چھوٹا بیج زمین میں ڈالتے ہیں تو زمین گولر کا درخت پیدا کرتی ہے۔ اگر زمین میں شعور نہ ہو تو زمین کے اندر جتنی تخلیق ہے اور جس قدر عجائبات ہیں وہ سب نہ ہوتے۔ زمین ماں ہے۔ زمین میں اگر عقل و شعور نہ ہو تو عجائبات کا وجود بھی نہیں ہوتا۔

تربوز کے بیج سے تربوز پیدا ہوتا ہے۔ جامن کی گٹھلی سے جامن پیدا ہوتا ہے۔ ہر بیج میں الگ صلاحیت ہے۔ آم کی گٹھلی میں بے شمار آم چھپے ہوئے ہیں اور گٹھلی میں آم کی شکل، آم کا رنگ، آم کا ذائقہ، آم کی خوشبو اور آم کی افادیت موجود ہے۔
آم کی اپنی خصوصیات ہیں۔ اس طرح انجیر کی اپنی شکل ہے، ذائقہ الگ ہے اور انجیر کی خصوصیات الگ ہیں۔ انجیر اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور ایسی تخلیق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم کھائی ہے۔ انسان کی صلاحیت اگر آسمانی رفعت میں گم ہو جائے اور شعور لاشعور کے تابع ہو جائے تو ادراک ہوتا ہے کہ فرشتے بھی باشعور ہیں جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے سب میں شعور ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔۔

’’میں نے سماوات سے، زمین سے اور پہاڑوں سے کہا کہ میری امانت اٹھا لو، پہاڑوں نے معذرت کی اور عرض کیا کہ ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘(سورۃ الاحزاب۔ آیت ۷۲)

سوال یہ ہے کہ بے شعور اور بے جان چیز کو مخاطب نہیں کیا جاتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا اس چیز کو تم اٹھا لو گے یا نہیں تو اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ وہ چیز باشعور اور بااختیار ہے۔ پہاڑ چونکہ باشعور ہیں، باصلاحیت ہیں اس لئے پہاڑوں میں معدنیات پیدا ہو رہی ہیں۔ کائنات میں ہر شئے شعور رکھتی ہے۔ اس بات سے سب واقف ہیں کہ پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ کائنات کی ہر شئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، پہاڑ بظاہر سخت اور خشک ہیں لیکن ان میں معدنیات بھری ہوئی ہیں۔

آیئے! ہم سب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کریں۔ (آمین)

 

 

 

 

لیکچر14

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 271 تا 272

آگہی کے مضامین :

ِ انتساب  ِ پیش لفظ  ِ 1 - روحانی اسکول میں تربیت  ِ 2 - با اختیار بے اختیار زندگی  ِ 3 - تین سال کا بچہ  ِ 4 - مرید کی تربیت  ِ 5 - دس سال۔۔۔؟  ِ 6 - قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ  ِ 7 - موت حفاظت کرتی ہے  ِ 8 - باہر نہیں ہم اندر دیکھتے ہیں  ِ 9 - اطلاع کہاں سے آتی ہے؟  ِ 10 - نیند اور شعور  ِ 11 - قانون  ِ 12 - لازمانیت اور زمانیت  ِ 13 - مثال  ِ 14 - وقت۔۔۔؟  ِ 15 - زمین پر پہلا انسان  ِ 16 - خالق اور مخلوق  ِ 17 - مٹی خلاء ہے۔۔۔  ِ 18 - عورت کے دو رُخ  ِ 19 - قانون  ِ 20 - ہابیل و قابیل  ِ 21 - آگ اور قربانی  ِ 22 - آدم زاد کی پہلی موت  ِ 23 - روشنی اور جسم  ِ 24 - مشاہداتی نظر  ِ 25 - نیند اور بیداری  ِ 26 - جسمِ مثالی  ِ 27 - گیارہ ہزار صلاحیتیں  ِ 28 - خواتین اور فرشتے  ِ 29 - روح کا لباس؟  ِ 30 - ملت حنیف  ِ 31 - بڑی بیگمؓ، چھوٹی بیگمؓ  ِ 32 - زم زم  ِ 33 - خواتین کے فرائض  ِ 34 - تیس سال پہلے  ِ 36 - کہکشانی نظام  ِ 37 - پانچ حواس  ِ 38 - قانون  ِ 39 - قدرِ مشترک  ِ 40 - قانون  ِ 41 - پچاس سال  ِ 42 - زندگی کا فلسفہ  ِ 43 - انسانی مشین  ِ 44 - راضی برضا  ِ 45 - زمانے کو بُرا نہ کہو، زمانہ اللہ تعالیٰ ہے(حدیث)  ِ 46 - مثال  ِ 47 - سائنس اور روحانیت  ِ 48 - مادی دنیا اور ماورائی دنیا  ِ 49 - چاند گاڑی  ِ 50 - تین ارب سال  ِ 51 - کائناتی نظام  ِ 52 - تخلیق کا قانون  ِ 53 - تکوین  ِ 54 - دو علوم۔۔۔  ِ 55 - قانون  ِ 56 - ذات کا عرفان  ِ 57 - روحانی شاگرد  ِ 58 - ذات کی نفی  ِ 59 - پانچ کھرب بائیس کروڑ!  ِ 60 - زندگی کا تجزیہ  ِ 61 - عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ  ِ 62 - دین فطرت  ِ 63 - عید  ِ 64 - ملائکہ اعلان کرتے ہیں  ِ 65 - بچے اور رسول اللہﷺ  ِ 66 - افکار کی دنیا  ِ 67 - مثال  ِ 68 - تحقیق و تلاش  ِ 69 - Kirlian Photography  ِ 70 - قرآن علوم کا سرچشمہ ہے  ِ 71 - روشنی سے علاج  ِ 72 - روشنی کا عمل  ِ 73 - چھ نقطے  ِ 74 - قانون  ِ 75 - امراض کا روحانی علاج  ِ 76 - مشق کا طریقہ  ِ 77 - نور کا دریا  ِ 78 - ہر مخلوق عقل مند ہے  ِ 79 - موازنہ  ِ 80 - حضرت جبرائیل ؑ  ِ 81 - ڈائری  ِ 82 - ماں کی محبت  ِ 83 - حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانیؒ  ِ 84 - اکیڈمی میں ورکشاپ  ِ 85 - زمین اور آسمان  ِ 86 - ورد اور وظائف  ِ 87 - آواز روشنی ہے  ِ 88 - مثال  ِ 89 - نگینوں سے علاج  ِ 90 - تقدیر کیا ہے؟  ِ 91 - مثال  ِ 92 - حضرت علیؓ کا ارشاد  ِ 93 - فرشتے، جنات اور آدم ؑ  ِ 94 - انسان اور موالید ثلاثہ  ِ 95 - سلطان  ِ 96 - مثال  ِ 97 - دو رخ  ِ 98 - سیاہ نقطہ  ِ 99 - قانون  ِ 100 - کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالی۔۔۔  ِ 101 - تین کمزوریاں  ِ 102 - عفو و درگذر  ِ 103 - عام معافی  ِ 104 - توازن  ِ 105 - شکر کیا ہے؟  ِ 106 - قافلہ سالار  ِ 107 - ٹیم ورک  ِ 108 - سلسلہ عظیمیہ کے ارکان کی ذمہ داری  ِ 109 - چھوٹوں کی اصلاح  ِ 110 - ایک نصیحت  ِ 111 - صبحِ بہاراں  ِ 112 - دنیا مسافر خانہ ہے  ِ 113 - روح کیا ہے؟  ِ 114 - سانس کی مشقیں  ِ 115 - من کی دنیا  ِ 116 - بے سکونی کیوں ہے؟  ِ 117 - غور و فکر  ِ 118 - روحانی علوم  ِ 119 - ہمارے بچے  ِ 120 - اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں  ِ 121 - اللہ ھُو  ِ 122 - اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگو  ِ 123 - قربت  ِ 124 - ہر مخلوق باشعور ہے  ِ 125 - کامیاب زندگی  ِ 126 - انا کی لہریں  ِ 127 - صدقۂ جاریہ  ِ 128 - ادراک یا حواس
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject

Category

Your Message