کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟

کتاب : اسم اعظم

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

مختصر لنک : http://iseek.online/?p=622

کن فیکون

سوال: قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق سے مخاطب ہو کر کہا، کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟ مخلوق نے اقرار کیا کہ بے شک آپ ہمارے رب ہیں۔ اس آیت کی روحانی تفسیر کیا ہے؟

جواب: جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میری عظمت اور میری ربوبیت اور میری خالقیت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جب یہ بات آئی کہ میری عظمت کا اظہار ہو تو یہ بات خود بخود سامنے آ جاتی ہے کہ عظمت کو پہچاننے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کو جاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کے علاوہ بھی کوئی ایسا ذہن ہے جو اللہ تعالیٰ کی صناعی کو سمجھ اور دیکھ سکے۔

اب یہ بات اس طرح سمجھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں پہچانا جاؤں۔ جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جو کچھ تھا یا ہے اس کی تخلیق کے لئے یہ ضروری تھا کہ کوئی ضابطہ و قاعدہ موجود ہو۔ اور ہر تخلیق کے جداگانہ فارمولے مرتب کئے جائیں۔ یہ ضابطے، قاعدے اور فارمولے بھی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں جو پروگرام تھا اس کو ’’کن‘‘ کہہ کر ظاہر فرمایا۔

جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’کُن‘‘ تو جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ذہن میں تھا وہ قاعدوں، ضابطوں، فارمولوں اور شکل و صورت کے ساتھ عالم وجود میں آ گیا جو کچھ عالم وجود میں آ گیا اس کا نام کائنات ہے۔ کائنات ایک ایسے خاندانوں کا نام ہے جس میں بے شمار نوعیں ایک کنبے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جیسے ہی کن فیکون بنا تمام نوعیں وجود میں آ گئیں۔

ان نوعوں میں جنات، فرشتے، انسان، جمادات و نباتات، حیوانات، زمینیں، سماوات اور بے شمار کہکشانی نظام ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ساری نوعیں ایک کنبے کی حیثیت سے قیام پذیر ہیں۔ کوئی نوع یہ نہیں جانتی کہ میں کیا ہوں، کون ہوں، میری تخلیق کا منشاء کیا ہے؟

تخلیق کے پہلے مرحلے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جب ان تمام نوعوں کو شعور بخشا تو نظر وجود میں آئی۔ جب اللہ نے کہا، میں ہوں تمہارا رب تو کائنات میں موجود تمام نوعیں اس آواز کی طرف متوجہ ہو گئیں اور نوعوں نے دیکھا کہ اللہ ہمارا رب ہے۔ قانون یہ ہے کہ شعور اس وقت متحرک ہوتا ہے جب صاحب شعور یہ جانتا ہو کہ میری اپنی ایک ہستی ہے اور میرے علاوہ دوسری ہستی بھی ہے۔

تخلیق کا دوسرا مرحلہ یہ بنا کہ کائنات نے جیسے ہی اللہ تعالیٰ کی آواز سنی اس کے اندر شعور کی دو صلاحیتیں پیدا ہو گئیں۔ ایک سننے کی صلاحیت، دوسری دیکھنے کی صلاحیت۔ مخلوق نے سننے اور دیکھنے کی صلاحیت کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھا تو شعور کے اندر تیسری صلاحیت ’سمجھنا‘ پیدا ہو گئی۔

سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے بعد چوتھی صلاحیت اپنے علاوہ دوسرے کو پہچاننے کی پیدا ہو گئی۔ پہچاننے کی صلاحیت کے بعد پانچویں صلاحیت یہ پیدا ہوئی کہ نوعوں نے خود کو پہچان لیا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ کسی عظیم اور بابرکت ہستی نے مجھے پیدا کیا ہے اور یہ ہستی اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے۔

کائنات نے اس بات کا اقرار کیا کہ ’’جی ہاں، ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں، آپ نے ہمیں پیدا کیا ہے، اس عالم میں کائنات (انسان) نے اللہ کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔

ٹیگ : الست بربکم،  کیا میں نہیں ہوں رب تمہارا، عالم ارواح، نوع، اپنی پہچان، عرفان نفس

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب میں ان صفحات (یا صفحہ) پر ملاحظہ فرمائیں: 92 تا 94

اسم اعظم کے مضامین :

ِ 1.1 - نظریہ رنگ و روشنی  ِ 1.2 - فوٹان اور الیکٹران  ِ 1.3 - کہکشانی نظام اور دو کھرب سورج  ِ 1.4 - دو پیروں اور چار پیروں سے چلنے والے جانور  ِ 1.5 - چہرہ میں فلم  ِ 5.8 - مراقبہ مرتبہ احسان اور روشنیوں کا مراقبہ  ِ 1.6 - آسمانی رنگ کیا ہے؟  ِ 1.7 - رنگوں کا فرق  ِ 1.8 - رنگوں کے خواص  ِ 2.1 - مرشد کامل سے بیعت ہونا  ِ 2.2 - مرشد کامل کی خصوصیات  ِ 2.3 - تصور سے کیا مراد ہے؟  ِ 2.4 - علمِ حصولی اور علمِ حضوری میں فرق  ِ 2.5 - اسم اعظم کیا ہے  ِ 2.6 - وظائف نمازِ عشا کے بعد کیوں کیئے جاتے ہیں  ِ 2.7 - روزہ روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے  ِ 2.8 - نام کا انسانی زندگی سے کیا رشتہ ہے اور نام مستقبل پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں؟  ِ 2.9 - جب ایک ہی جیسی اطلاعات سب کو ملتی ہیں تو مقدرات اور نظریات میں تضاد کیوں ہوتا ہے؟  ِ 3.1 - نماز اور مراقبہ  ِ 3.2 - ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟  ِ 3.3 - روح کا عرفان کیسے حاصل کیا جائے؟  ِ 3.4 - مخلوق کو کیوں پیدا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.5 - چھ دائرے کیا ہیں، تین پرت سے کیا مراد ہے؟  ِ 3.6 - روح انسانی سے آشنا ہونے کا طریقہ کیا ہے؟  ِ 3.7 - مراقبہ کیا ہے۔ مراقبہ کیسے کیا جائے؟  ِ 4.1 - تعارف سلسلہ عظیمیہ  ِ 4.2 - سلسلہ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد اور قواعد و ضوابط  ِ 5.1 - مراقبہ سے علاج  ِ 5.2 - مراقبہ کی تعریف  ِ 5.3 - مراقبہ کے فوائد اور مراقبہ کی اقسام  ِ 5.4 - مراقبہ کرنے کے آداب  ِ 5.5 - سانس کی مشق  ِ 5.6 - مراقبہ کس طرح کیا جائے۔ خیالات میں کشمکش  ِ 5.7 - تصورِ شیخ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے  ِ 5.9 - مراقبہ سے علاج  ِ 6.1 - سانس کی لہریں  ِ 6.2 - روحانی علم کو مخفی علم یا علم سینہ کہہ کر کیوں عام نہیں کیا گیا  ِ 6.3 - اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے اور توکل کرنے کے کیا معانی ہیں  ِ 6.4 - رحمانی طرز فکر کو اپنے اندر راسخ کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے  ِ 6.5 - واہمہ، خیال تصور اور احساس میں کیا فرق ہے؟  ِ 6.6 - ہمارا ماحول ہمیں کس حد تک متاثر کرتا ہے؟  ِ 7 - کیا نہیں ہوں میں رب تمہارا؟  ِ 7.2 - لوح اول اور لوح دوئم کیا ہیں  ِ 7.3 - علمِ حقیقت کیا ہے  ِ 7.4 - علمِ حصولی اور علم حضوری سے کیا مراد ہے  ِ 7.5 - روح کیا ہے  ِ 8 - انسان اور آدمی  ِ 9 - انسان اور لوحِ محفوظ  ِ 10.1 - احسن الخالقین  ِ 10.2 - روحانی شاگرد کو روحانی استاد کی طرز فکر کس طرح حاصل ہوتی ہے۔  ِ 10.3 - روحانی علوم حاصل کرنے میں زیادہ وقت کیوں لگ جاتا ہے؟  ِ 10.4 - تصورات جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں  ِ 10.5 - یادداشت کیوں کمزور ہو جاتی ہے؟  ِ 10.6 - تصور سے کیا مراد ہے  ِ 10.7 - کسی بزرگ کا قطب، غوث، ابدال یا کسی اور رتبہ پر فائز ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟  ِ 10.8 - تصور کیا ہے  ِ 10.9 - کرامت کی توجیہہ  ِ 10.10 - مختلف امراض کیوں پیدا ہوتے ہیں  ِ 11 - تصوف اور صحابہ کرام  ِ 12 - ایٹم بم  ِ 13 - نو کروڑ میل  ِ 14 - زمین ناراض ہے  ِ 15 - عقیدہ  ِ 16 - کیا آپ کو اپنا نام معلوم ہے  ِ 17 - عورت مرد کا لباس  ِ 18 - روشنی قید نہیں ہوتی
سارے دکھاو ↓

براہِ مہربانی اپنی رائے سے مطلع کریں۔

Your Name (required)

Your Email (required)

Subject (required)

Category

Your Message (required)